امتِ مسلمہ موجودہ صورتِ حال اور اصلاح کی تدابیر

رسول ﷺ کا ظہور اس وقت ہوا جب پوری دنیا تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔خود عرب پوری طرح برائیوں میں غرق تھے ۔ایسے حالات میں اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو دنیا میں انسانوں کی رشد و ہدایت کے لئے رحمۃللعالمین بنا کر بھیجا یہ چھٹی صدی کا آخری زمانہ تھا۔ آپﷺ نے ۲۳ سال کی قلیل مدت میں ایک عظیم انقلاب برپا کر دیااور ایک ایسی امت کووجود بخشا جس کو’’ امت مسلمہ‘‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔اس امت کے بارے میں کہا گیا کہ تمہیں ’’امت سابقہ ‘‘ یعنی بنو اسرائیل کی جگہ پر لایا گیا ہے اور تمہارے بعد اب اس سرزمین پر کوئی دوسری امت برپا نہیں کی جائے گی۔ اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مشن کو لے کر آگے بڑھو ۔ اس پر خود بھی عمل کرو اور پوری دنیا میں اسکو عام کرو۔قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے { کنتم خیر امۃاخرجت للناس تأمرون بالمعروف و تنہون عن المنکرو تومنون باللہ } آل عمران:۱۱۰(اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے میدان میں لایا گیا ہے ۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو)
اس آیتِ کریمہ میں امت مسلمہ کا نصب العین صاف الفاظ میں ذکر کر دیا گیا ہے ۔قرآن میں ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اگر تم نے اس کا حق نہیں ادا کیا تو اللہ تعالی تم کو ہٹا کر دوسرے کو لے آئے گاجیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے{ و ان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ،ثم لا یکونوا امثالکم } سورۃ محمد:۳۸ (اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گااور وہ تم جیسے نہ ہوں گے)
اس کامشاہدہ ہم تاریخ کے ذریعہ کر چکے ہیں۔بارہویں صدی کے وسط تک امت مسلمہ کی قیادت عربوں کے ہاتھوں میں تھی۔ پھر جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو بھلا دیا تو اللہ تعالی نے ان سے قیادت چھین لی اور ۱۲۵۰؁ ء میں عذاب الہی کا پہلا کوڑا مسلمانوں پر تاتاریوں کے ہاتھوں پڑا اور لاکھوں مسلمان قتل ہوئے ۔تاتاریوں نے مسلمانوں کے سر کاٹ کر ان کے مینار بنائے اور اس پر تاتاری سرداروں نے بیٹھ کر شراب نوشی کی۔مسلمانوں کی ذلت و مسکنت کا یہ عالم تھا کہ ایک تاتاری کئی مسلمانوں کو ایک جگہ گھیر لیتا اور کہتا تھا کہ یہیں کھڑے رہو، میں ابھی تلوار گھر سے لے کرآتاہوں ۔اس کے خوف سے مسلمان وہیں کھڑے رہتے تھے ۔ وہ تلوار لے کر آتا تھا اور سب کو قتل کر دیتا تھا۔
اس طرح عرب قوم سے امت مسلمہ کی قیادت ہمیشہ کیلئے چھن گئی۔(آج ۵۳ سے زائد اسلامی تو نہیں کہا جا سکتا البتہ مسلم ممالک ہیں مگران کی حیثیت صفر ہے۔ان کے پاس دولت ضرور ہے، مگر عزت نہیںہے)
پھر ایک معجزہ رونما ہوتا ہے ۔ جن ہاتھوں سے ملت کا زوال ہوا تھا انہیں ہاتھوں سے اس کا دوبارہ احیاء ہوا۔ تاتاری اسلام لے آئے مگر پھر مسلمانوں کی کوئی ایک مرکزی حکومت نہ بن سکی اور مختلف جگہوں پر تاتاریوں نے حکومت قائم کی۔ اس طرح مسلمانوں کا دوبارہ عروج شروع ہوااور امت مسلمہ کی قیادت عربوں سے ترکوں میں منتقل ہو گئی اورایک عثمان ترک نے خلافتِ ترک قائم کی جو کہ تقریباً ~۴۰۰ برس قائم رہی ۔ اس دوران مسلمانوں کے قدم مشرقی یورپ تک پہنچ گئے۔پھر رفتہ رفتہ ان میں بھی بگاڑ آنا شروع ہوا جس کے نتیجے میں ان کا زوال ہونے لگا اور۱۹۲۴؁ء میں ترک خلافت کا خاتمہ ہو گیا اوراسکے ساتھ ہی مسلمانوں کا زوال ہو گیااور یورپ کا عروج شروع ہوا۔
قوموں کا عروج و زوال کیوں ہوتا ہے؟؟یاامتِ مسلمہ کا زوال کیوں ہوتا چلا گیا؟؟
جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قدرت قوموں کے عروج وزوال کے قوانین کے اطلاق میں قوموں کے درمیان فرق نہیں کرتی ہے جو قوانین یہود و نصاری کے لئے ہیں وہی امتِ مسلمہ کیلئے ہے۔ قرآن کریم میں بیان کردہ قوانین اٹل ہیں جن میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی ہے۔ ان کو ’’سنۃاللہ ‘‘ کہا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے { و لن تجد لسنۃاللہ تبدیلا } سورۃ احزاب:۶۲(اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے)
قانونِ خداوندی یہ ہے کہ اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا ہے اور حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہود و نصاری ہوں ۔البتہ انھیں سنبھلنے کا موقع ضرور دیتا ہے مگر اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہے۔امتِ مسلمہ سے پہلے بنو اسرائیل تھے ۔ یہ بھی ایک عظیم امت تھی ۔یہ حضرت موسیؑ کے امتی تھے اور تورات انکی کتابِ الہی تھی۔اللہ تعالی نے ان کو سارے جہاں پر فوقیت دی تھی۔جب تک یہ لوگ اللہ اور اسکے رسول کے احکام پر عمل کرتے رہے ہر جگہ سرخرو اور کامیاب رہے۔مگر جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات سے غافل ہوگئے تو اللہ تعالی نے ان کو کبھی یونانیوں تو کبھی رومیوں اورکبھی ہٹلر کے ہاتھوں تباہ و بربادکیا۔باوجود اس کے کہ ان کو گمان تھا کہ ہم تو اللہ تعالی کے برگزیدہ بندوں میں سے ہیں اس لئے وہ ہمارے ساتھ خصوصی معاملہ کرے گامگر اللہ تعالی نے ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے انکو تباہ و برباد کر دیا اور ان کی جگہ امتِ مسلمہ کو لے آیا۔
بدقسمتی سے امتِ مسلمہ کا بھی وہی حال ہورہا ہے جو ان سے پہلے بنو اسرائیل کا ہوا تھا ہرچند کہ ابھی ہمیں موقع ملا ہوا ہے۔چنانچہ ہر بڑا ’’صدمہ‘‘ چاہے وہ عالمی سطح پر ہو یا ملکی سطح پر ،سقوطِ بغدادہو یا سقوطِ اندلس یا خلافتِ ترک کا خاتمہ ہویا مسئلہ فلسطین یاچیچنیا،بوسینیا،افغانستان اور عراق میںیا خود ہمارے ہندوستان میں مسلم مخالف فسادات ہوں یا بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوں ۔یہ سب امتِ مسلمہ کوبیدار کرنے اورانھیں خوابِ غفلت سے جگانے کیلئے رونما ہورہا ہے۔یہ تمام قرائن و شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہم مسلمانوں سے ہرگز راضی نہیں ہے اور اسی وجہ سے امتِ مسلمہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہو رہی ہے ۔دوسری قوموں سے نصیحت اور عبرت نہ حاصل کرنے کی وجہ سے قدرت ایسے ہی عذاب نازل کیا کرتی ہے۔ضروری نہیں ہے کہ آسمان سے پتھر برسیں یا زمین الٹ جائے اور خوفناک چنگھاڑ سنائی دے۔یہ عذاب کبھی تاتاریوں تو کبھی عیسائیوں ،ہلاکو خان ،چنگیز خاں ،تیمور خاں ،اور نادر شاہ کے حملوں کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے اور اب امریکہ اور اسرائیل کی شکل میں مسلط ہے۔قدرت اسی طرح ایک غالب طاقت کو دوسری طاقت سے دفع کیا کرتی ہے۔اور سزا اور عقوبت کیلئے ظالم بادشاہوں کو مسلط کر دیتی ہے۔
آج ہم پر ہر جگہ کیوں ظلم و ستم ہو رہا ہے؟؟امریکہ و اسرائیل ہم پر کیوں ٹوٹے پڑ رہے ہیں؟؟اس لیے کہ ہم نے اللہ اور اسکے رسول کے احکام کی نافرمانی کی ہے اور کرتے جا رہے ہیں ۔جس قوم کو اللہ اپنی کتاب اور شریعت دے تووہ قوم زمین پر نمائندہ بن جاتی ہے اب اگر اس نے دی ہوئی کتاب و شریعت پر عمل کیا تو اللہ کی رحمت برسے گی اور وہ مزید دے گااور اگر نافرمانی کی تو اس کی حالت کافروں سے بھی بدتر ہوگی۔اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے { لئن شکرتم لأزیدنکم و لئن کفرتم ان عذابی لشدید } سورۃ ابراہیم:۷ (اگر تم شکر گذار بنو گے تو میں تمکو اور زیادہ دوں گا اور اگر تم کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے)
قرآن کا پیمانہ ہمارے سامنے ہے اس سے ہم خود کو پرکھ سکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔آج ہمارے اندر ’’ایمان‘‘ کمزور ہے ۔مغرب کی تہذیب و فلسفہ نے ہمارے ایمان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔ہم صرف ’’مسلمان‘‘ بن کر رہ گئے ہیں جو ایک نسلی عقیدے کے طور پر ہم کو ہمارے والدین سے ملتا ہے۔ ورنہ کیا ہم واقعی اللہ پر یقین رکھتے ہیں؟؟کیا رسول کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں ؟؟مجموعی طور پرہمارا جواب نفی میں ہی ہوگا۔
ہمارے اندر سے ایمان کا خاتمہ کیوں ہوا؟؟اس کا جواب ہے قرآن کریم سے دوری کی وجہ سے۔ اب قرآنی آیات کا استعمال زیادہ تر عملیات، ٹونے ،ٹوٹکے اور ثواب پہنچانے کی نیت سے کیا جا رہا ہے۔اس میں مسلمانوں کی اکثریت ملوث ہے۔ عام طبقہ قرآن کو بس ثواب کی نیت سے پڑھ رہا ہے۔اور اس کی وجہ عربی زبان سے ناواقفیت بیان کی جاتی ہے حالاں کہ یہی لوگ انگریزی زبان میں نہ صرف ماہر ہیں بلکہ اس میں انگریزوں کو بھی پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ساری مجبوری ــ’’عربی‘‘ میں آجاتی ہے۔ اور عربی کے لیے نہ تو وقت ہی ہے اور نہ ہی شوق ۔اب تو قرآن کریم کا دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے آسانی سے پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے مگر آج بھی بہت سے مذہبی حلقوںمیں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے اور ترجمہ سے پڑھنے کو غلط سمجھا جاتا ہے۔اب چونکہ عربی ہماری مادری زبان ہے نہیں تو جب تک ہم عربی زبان نہیں سیکھیں گے یاترجمہ سے نہیں پڑھیں گے تو ہمیں پتا کیسے چلے گا کہ قرآن کریم ہم سے کیاکہہ رہا ہے اور کیا چاہتا ہے؟ ہمارے ـعلمائے کرام کا ایک بڑا طبقہ قرآن کریم کو بحثوں کا عنوان بنائے ہوئے ہے ۔ان کاسارا زور بحث و مباحثہ،ترکیبیں ،گرامر و قواعد وغیرہ بیان کرنے میں صرف ہو رہا ہے۔یہ بھی ضروری ہے مگر اسی کو کُل مان لینا صحیح نہیں ہے۔مطلوب قرآنی تعلیمات پر خود بھی عمل کرنا ہے اور دوسروں تک پہنچانا ہے۔قرآن کریم سے ہی ایمان پیدا ہوتا ہے اسی کی بدولت صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں نے دنیا ایک بڑے حصے پر اسلامی حکومت قائم کر دی تھی اوراسی سے اسلام کا دوبارہ احیاء ہوگا۔ان شاء اللہ
قرآن و سنت سے دوری کے نتیجے میں امتِ مسلمہ میں جہاں ایک طرف اتحاد و اتفاق کا خاتمہ ہو گیاتو وہیں دوسری طرف بہت سی برائیاں مثلا شرک و بدعات ،آپسی خانہ جنگی ،مسلکی اختلافات، سودخوری، زکوۃ خوری،شراب خوری اور زنا وغیرہ ان میں پیدا ہو گئیں۔اس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے بنو اسرائیل کی طرح ہم پر بھی ذلت و مسکنت تھوپ دی۔ چنانچہ آج ہماری تعداد ایک ارب سے بھی زیادہ ہے مگر نہ ہمارا کوئی مقام ہے نہ کوئی حیثیت۔خود ہندوستان میں ہم مسلمان بیس کروڑ سے زیادہ ہیں مگر ہماری کوئی عزت نہیں ہے۔ ہمیںمختلف فسادات میں تباہ و برباد کیا جا رہا ہے ،بے گناہ نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جا رہا ہے ۔مساجد ایک ایک کر کے شہید کی جا رہی ہیں ۔آج ہماراایمان ،قرآن،مساجد،گھراور عزت و ناموس سب خطرے میں ہیں مگرہم کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔
’’اکثریتی طبقہ‘‘ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے اور اس کام کیلئے ان میں پورا ’’اتحاد و اتفاق‘‘ ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری ’مذہبی قیادت ‘ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے ،آپس میں لڑنے جھگڑنے اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو مسلکی اختلافات کی بِنا پر کافر قرار دینے میں مصروف ہے اور یہ اختلافات رفع یدین ،آمین بالجہر، امکانِ نظیر ،مسئلہ امکانِ کذب ،رویتِ ہلال وغیرہ جیسے معمولی مسائل پر ہیں ، جب کہ شرک و بدعات ،سود خوری، زکوۃ خوری،رشوت خوری،بینک سے لون لینے اور انشورنس وغیرہ جیسے ’گناہ کبیرہ‘ میں سب شامل ہیں۔ ان معاملات میںان کے درمیان لڑائیاں نہیں ہوتیں۔ یعنی ’’مچھر چھانتے ہیں اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہیں‘‘۔
شاید اسی وجہ سے ’گری راج کشور‘ نے رام لیلا گرائونڈ میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ اے بدعقیدہ، بدکردار اور گناہگار مسلمانو ! تم اپنے مذہب کی صبح و شام تذلیل کرتے رہتے ہو لیکن اگر ہمت ہے تو ہمارے مذہب کی بے عزتی کر کے دکھائو۔۔۔
دوسرے مذاہب کی بے عزتی کرنا تو خیر اسلام میں منع ہے مگر اس سے اتنا تو صاف ہو گیا کہ ہندئوں کو بھی مسلمانوں کی گمراہی کا احساس ہے اور انھیں بھی اس کا علم ہے۔
آج ہم مسلمانوں میں سب سے بڑی کمی ’اتحاد ‘ کی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالی کاارشادہے۔{ و اعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا } آلِ عمران :۱۰۳(تم سب ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور تفرقہ میں مت پڑو)
لیکن اس آیت کے برعکس سب سے زیادہ اختلافات ہم مسلمانوں ہی میں ہیں۔اتحاد و اتفاق کی بات تو سب کرتے ہیں مگر یہ صرف کتابوں ،اخباروں اور جلسوں ہی تک محدود رہتا ہے ۔عملًا کوئی نہیں چاہتا ہے اور چاہیں گے بھی کیسے ؟اس کے لیے ’’ذاتی مفادات‘‘ قربان کرنے پڑیں گے ۔اور سب کو اپنی ’’گدی‘‘ پیاری ہے۔ ساری جماعتیں اور تنظیمیں خود کو صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھتی ہیں ۔اسلیے صرف زبانی اتحاد کی قوالی گاتے رہو۔
فسادات میں ان نام نہاد ’’ تنظیموں ،جماعتوں ‘‘ کا کیا رول ہوتا ہے؟؟ سوائے اس کے کہ اخبارات میں ’بیانات‘ چھپ جاتے ہیںاور ’میمورینڈم‘ دے دیا جاتاہے ۔کچھ ’وفود‘ وزیر اعلی اور وزیر اعظم سے مل آتے ہیں اور بہت ہواتو ’’ڈی ایم یا کمشنر‘‘ کو معطل کرادیتے ہیں ۔فسادزدہ علاقوں کی تھوڑی بہت مدد کر دی جاتی ہے ۔۔اللہ اللہ خیر صلا۔اب پھر اگلے فسادات کا انتظار کرو۔۔پھر یہی کہانی دہرانے کا موقع ملے گا۔ احتجاج بھی کیا جاتا ہے تو الگ الگ’’ تنظیموں اور جماعتوں‘‘ کے بینر تلے الگ الگ دن ۔ کروڑوں کی تعداد میں مسلمان ہندوستان میں ہیں مگر فسادات کے خلاف احتجاج کا موقع ہو یا بے گناہوں کی گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ ہو،احتجاج کرنے والوں کی تعداد ہزار دو ہزار تک نہیں پہنچ سکتی۔کیا خاک اثر ہو گا حکومت پر؟؟اگر ہزار دو ہزار بھی ایک ساتھ احتجاج کریں تو حکومت مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائے گی۔
ابھی دسمبر میں دہلی میں ـ’دامنی‘ کا شرمناک واقعہ ہوا تھا جس کی وجہ سے پورے ہندوستان کیاپوری دنیا میں ہنگامہ ہو گیا ہے جو ابھی بھی جاری ہے ۔اسی دوران ہماری مذہبی اور ملی قیادت نے ایک اہم سوال اپنی دانست میں اٹھایا تھا کہ گجرات فسادات اور دوسرے مختلف فسادات کے دوران مسلمان عورتوںاور لڑکیوں کی عصمت دری کے وقت حکومت کیا کر رہی تھی ؟اس وقت وہ کہاں تھی اور کیوں نہیں جاگی تھی؟؟حکومت تو اپنی ہی جگہ پر تھی مگر سوال یہ ہے کہ مسلمان اس وقت کہاں تھے ؟؟اور کتنے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا؟؟دامنی کے واقعہ میں بھی حکو مت ۳ دن بعد جاگی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری ’بیان بازیاں‘ صرف اخباروں اور تقریروں تک ہی محدود رہتی ہے۔احتجاج بھی بہت معمولی انداز میں اور بغیر کسی اتحاد و اتفاق کے ہوا کرتا ہے تو ظاہر ہے اس کا ’رزلٹ ‘بھی معمولی ہی ملے گا۔
اندرا گاندھی نے اپنے دور میں’ آندھراپردیش‘ اور’ کشمیر‘ کی ریاست کو ایک ساتھ تحلیل کیا تھا۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی ’’راما رائو‘‘ تھے اور کشمیر کے وزیر اعلی’’ فاروق عبد اللہ‘‘ ۔ اس وقت آندھراپردیش سے ۲ لاکھ لوگوں نے دہلی پہنچ کر اندراگاندھی کے بنگلہ کا گھیرائو کر لیا اور اس وقت تک نہیں ہٹے جب تک اپنی مانگیں پوری نہ کروالی۔اور دوسری طرف کشمیری مسلمان ’’اللہ کی جیسی مرضی‘‘ کہہ کر مطمئن ہو گئے۔۔۔
ابھی تقریباایک سال پہلے راجستھان کے کسان اپنے مطالبہ کولے کرراجستھان سے دہلی تک پیدل ننگے پیر مارچ کرنے نکلے تھے جس کی دھمک دہلی تک سنائی دی تھی اور حکومت کو انکے مطالبات تسلیم کرنے پڑے۔ ادھر ہمارے قائدین اور رہنما صرف زبانی بیانات کے ذریعہ ہی سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔آپ اردو کے اخبارات اٹھا کے دیکھ لیں ۔۔آج سے ۱۰ سال پہلے کے فسادات کے بیانات اور آج کے فسادات کے بیانات میں کوئی فرق نہیں ملے گا۔وہی سالوں سے چلے آرہے بیانات پڑھنے کو ملیں گے کہ۔۔۔قصورواروں کو سخت سزا دی جائے۔۔۔حکومت کو اسکی قیمت چکانی پڑے گی۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔
زوال کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم مسلمان آگے ہیں تو صرف فیشن ،بے پردگی اور فحاشی اور عریانیت میں ۔ہمارے ہندوستان میں تو کوئی ’’مصطفی کمال پاشا‘‘ یا ــ’’جمال عبد الناصر ‘‘ پیدا نہیں ہوااور نہ ہی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی قانون ’پردہ ‘کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔یورپ کے بعض ممالک میںحجاب ممنوع ہے تب بھی وہاں کی خواتین فائن دیکر ،عدالتوں کے ذریعے مقدمہ جیت کر حجاب لگا رہی ہیںاور ایک بہن تو اسی کی وجہ سے شہید کر دی گئی۔مگر ہمارے ہندوستان میں تو اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہے پھر کیوں ہماری مائیں،بہوئیں اور بہنیں ’’پردہ‘‘ اتار رہی ہیں؟؟اخلاقی زوال کا یہ حال ہے کہ ’بالی ووڈ‘میں مسلمانوں کا سکہ چل رہا ہے اور اس پر فخریہ مضامین بھی لکھے جاتے ہیں ۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب عموما ًمسلمان خواتین پہلے برقعہ پھر دوپٹہ پھر کپڑے کی چند دھجیاںاور اب تو وہ بھی غائب ہے۔اب ایسے ایسے تنگ و چست کپڑے مسلمان گھروں میں استعمال ہو رہے ہیںجن کو دیکھ کے علامہ اقبالؒ نے کہا تھا۔۔
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
تعلیم اورسائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں ہماری نمائندگی آٹے میںنمک کے برابر ہے۔اسلامی تعلیم میں بھی’ مسلکی‘تعلیمات عموما مدرسوں میں دی جاتی ہے اور دوسرے مسلک کے عالم سے مناظرہ اور بحث کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔دوسرے مذہبی فرقہ کے عقائد و نظریات پر اعتراضات بتائے جاتے ہیں اور جب یہ علمائے کرام یا مولوی حضرات’تیار‘ ہو کر باہر آتے ہیں تو ہر طرف ان مسائل کی خلاف ورزی ہوتی رہتی ہے لھذا وہ ’شریعت‘ کوخطرے میں دیکھ کر میدان میں کود پڑتے ہیںاور جلسوں،پروگراموں اور خطبوں میں ’مسلک‘ کو موضوع بنا کر دھواںدار تقریریں کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیںاس طرح مسلکی اختلافات کو جنم دیتے ہیں۔گجرات فسادات سے سبق لینے کے بجائے فسادات کے بعد گجرات کی’ مسجد غریب نواز ‘پر یہ بورڈ ضرور لگادیا گیاکہ ’’وہابی ،دیوبندی، اور جماعتیوں کو اس مسجد میں داخل ہو نے کی اجازت نہیں ہے ‘‘۔اسلام تو یہ تعلیمات نہیں دیتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ بھی بنو اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔انھیں بھی یہ زعم ہو گیا ہے کہ ہم توحضرت محمدﷺکی امت ہیں ۔ہم تو اللہ کی منتخب کردہ امت سے ہیں ۔ہمارے ساتھ خصوصی معاملہ کیا جائے گا ۔ہمیں کہاں جہنم کی آگ چھوئے گی اور ڈالے بھی گئے تو چنددن کیلئے۔ پھر تو جنت ہی ہمارا ٹھکانہ ہے۔اس سوچ کی وجہ سے اسلام ا ب ہماری زندگی میں صرف نماز،روزہ،زکوۃ،حج اور شادی بیاہ اور کفن دفن کی کچھ رسموں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے اور دین کو ہم نے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا ہے یعنی اپنی مرضی کی کچھ چیزوں کو لے لیا ہے اورکچھ چیزوں کو جو ہماری مرضی کے خلاف تھیںانھیں چھوڑ دیا ہے۔جب کہ قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے{ یا ایھا الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ } سورۃ بقرۃ:۲۰۸(ائے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ)
مگر ہم نے اسلام کو کھیل سمجھ لیا ہے ۔جب جی چاہتا ہے اسلام پر عمل کرتے ہیں اور جب دل کرتا ہے چھوڑ دیتے ہیں ۔پچھلی قوموں کی طرح ہم نے شریعت میں طرح طرح کی بدعات و خرافات شامل کر دی ہیںاور تقریبا ہر وہ رسم جو ’’ ہندو مذہب‘‘ میں ہے اس کو ہم نے ’اسلامی شکل ‘ دے کر جائز قرار دے دیا ہے ۔عید میلادالنبی،ماہ محرم ،صفر ،شب برأت ، شادی بیاہ اور وفات پر منائی جانے والی رسمیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔چنانچہ ہماری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے آج ہم پر اللہ تعالی کا عذاب مختلف شکلوں میں نازل ہو رہا ہے۔یہ عذاب ۲ طرح کے ہیں ۔
1۔عمومی عذاب: یہ’’ ذلت و مسکنت ،کمزوری اور کم ہمتی ‘‘کی شکل میں اللہ تعالی نے پوری امتِ مسلمہ پر ایسے ہی چسپاں کر دیا ہے جیسے بنو اسرائیل پر انکی بد اعمالیوں کے نتیجے میں مسلط کیا تھا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشادِ باری ہے{ و ضربت علیھم الذلۃو المسکنۃ وباء و بغضب من اللہ } سورۃ بقرۃ:۶۱(آخرکار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بدحالی ان پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے )
۲۔ قتل و غارت گری : مسلمانوں کا خون اب سب سے سستا ہو گیا ہے ۔مختلف بہانوں سے انھیں قتل کیا جا رہا ہے اور یہ ملکی اور عالمی دونوں سطح پر ہو رہا ہے ۔جہاں عالمی سطح پر چیچینیا،بوسینیا،افغانستان، عراق، فلسطین ،لیبیا اور شام وغیرہ میں ہورہاہے وہیں ملکی سطح پر ہندوستان میں مختلف جگہوں پر فسادات کے ذریعہ مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور ہماری بزدلی اور کم ہمتی کا یہ عالم ہے کہ فسادات کے دوران بھی جان بچا کر بھاگتے اور دشمنوں کے سامنے گڑگڑاتے اور زندگی کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ۔اس وقت تو کم از کم فسادزدہ علاقے والوں پر’’ اپنا ڈیفنس‘‘ فرض ہو جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ آپﷺ کی حدیث کے مطابق ہمارے دلوں میں ’’وہن‘‘ نے قبضہ کر لیا ہے یعنی دنیا سے محبت اور موت سے کراہیت۔چنانچہ ہم موت سے گھبراتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فسادات کے دوران گاجر مولی کی طرح کاٹ دیئے جاتے ہیںاور ڈیفینس کے لیے بھی کوئی تیاری نہیں کرتے ہیں ۔جب ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیںجہاں کبھی بھی فساد ہو سکتا ہے تو ہمیں خاص طور پر’ نوجوانوں‘ کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے اور’ خواتین‘ کو بھی کم از کم بھاگنے دوڑنے کی عادت رہنی چاہیے۔فسادات میں مرد حضرات انہیں کی وجہ سے بے بس ہو جاتے ہیں۔ہمارے بعض’ مسلمان بھائیوں‘ نے حضرت عائشہؓ اور دوسری صحابیات کے جنگوں میں زخمیوں کوپانی پلانے اور مرہم پٹی کرنے کو دلیل بنا کرعورتوں کیلئے چہرا کھولنے اور باہر گھومتے رہنے کے ’جواز‘ کا پہلو تو نکال لیامگر کاش کہ اس پر بھی نظر رکھتے کہ یہ صحابیات اپنے ڈیفنس کیلئے بھی تیار رہتی تھیں۔حضرت صفیہؓ نے ایک یہودی کو جو قلعہ میں سن گن لینے آیا تھا، اس کا قتل کر کے اورسر کاٹ کے پھینک دیا تھا۔حضرت خولہؓ اور حضرت عمارہؓ نے ضرورت پڑنے پر جنگ میں مردوں کے شانہ بشانہ تلوار چلائی۔اس میںبھی ہماری مسلم عورتوں کے لیے سبق ہے کیونکہ آج فسادات میں عورتوں کا سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔کم ازکم بھاگنے دوڑنے کی عادت ڈالیں مگر اس کے لیے نہ تو ان کے پاس وقت ہے اور نہ وہ اس کی ضرورت سمجھتی ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں طرح کے عذاب امتِ مسلمہ پر انہی کی بد اعمالیوںکی وجہ سے نازل ہو رہے ہیں کیونکہ قوم اور امت کا معاملہ دنیا ہی میں ہوا کرتا ہے۔امتِ مسلمہ بحیثیت ِ قوم یا امت کے آخرت میں نہیں پیش ہو گی ۔وہاں تو سب کو انفرادی طور سے حساب دینا ہے۔اجتماعی طور سے ہمارا حساب کتاب اسی دنیا میں ہونا ہے اور قانونِ الہی ہے کہ امت کے گناہوں کو کبھی معاف نہیں کیا جاتا ہے۔ الا یہ کہ صدقِ دل سے توبہ کر لیں۔ بقول علامہ اقبالؒ
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
نہیں کرتی کبھی ملت کے گناہوں کو معاف
ہمارے ملکمیں مسلمانوں کو اس وقت دو بڑے مسائل درپیش ہیں ۔پہلا مسلمانوں کے دہشت گرد ہونے کا جھوٹا الزام اور دوسرا فسادات کے ذریعہ ہر لحاظ سے انہیں تباہ و برباد کیا جانا۔دہشت گرد کون ہیں ساری دنیا جانتی ہے۔اب تو سرکاری طور پر بھی وزیر داخلہ’ سشیل کمار شندے ‘نے تسلیم کر لیاہے اور جتنے بھی مسلمان دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہوئے سب کے سب بے گناہ ثابت ہوتے جا رہے ہیں ۔مگر گرفتاریوں میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے اور نہ ان لوگوں کے نظریے میں کوئی تبدیلی آرہی ہے ۔ کہیں یہ عذابِ الہی تو نہیں جو ہماری بداعمالیوں کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ہم پر مسلط کر دیا ہے ؟یہ غور کرنے کی بات ہے ۔ظاہر ہے کہ ہم پر’’ قومِ عاد و ثمود ‘‘والا عذاب تو آنے سے رہا، کیونکہ یہ عذاب تو اس قوم پر آتا ہے جو اپنے رسول کا بالکلیہ انکار کردے۔
اس لیے ہمیں دوسروں کو کوسنے اور الزام دینے سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہو گی اور اگر عذابِ الہی سے بچنا ہے تو ہمیں توبہ کرنی ہوگی اور یہ توبہ حقیقی اور سچی ہو اور اپنے سابقہ اعمال پر واقعی ندامت ہو اور آئندہ کیلئے عزمِ مصمم ہو کہ اب اس گناہ کا ارتکاب دوبارہ نہیں ہوگا اور عملا اس گناہ کو ترک کر دیا جائے اور اگر کسی کی حق تلفی کی ہے تو اس سے معافی مانگیں اور اس کی تلافی کریں ورنہ قیامت کے دن مظلوم کی برائیاں ظالم کو دے دی جائیں گی اور ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی۔اور توبہ کی ابتدااپنے آپ سے ہواور پھر اپنے گھر والوں سے ۔ تب جا کر معاشرے سے جن جن جگہوں پر بس چلے ہر اس چیز کو نکال باہر کریں جو قرآن و حدیث یا شریعت کے خلاف ہو ۔ورنہ بیٹھے بیٹھے’’ استغفراللہ استغفر اللہ‘‘ کا ورد کرتے رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔کیونکہ قرآن کریم میں ارشادِ باری ہے { یا ایھا الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون ۔کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون } سورۃ الصف :۲،۳(اے لوگوجو ایمان لائے ہو ،تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں)
ہم میں سے اکثر کا یہ حال ہے کہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے غافل ہیں ۔ ہم ’ملت‘ کے درد سے کراہتے رہتے ہیں اور ہماری ہر ’کراہ‘ ایک مضمون کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔اور اصلاحی مضامین کی جھڑی لگ جاتی ہے ۔اردو کے اخبارات اورمیگزین سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ’’ مصلحین ‘‘ تو بہت ہیں مگر ’’اصلاح‘‘ کہاں ہے؟؟قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں{ أتامرون الناس بالبر و تنسون انفسکم } سورۃ بقرۃ:۴۴ (تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کیلئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟)
خود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا یہ اسوہ رہا ہے کہ انھوں نے پہلے خود عمل کیا پھر دوسروں کو تلقین کی۔حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ! قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسکو جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اسکی انتڑیاں نکل پڑیں گی اور وہ ان انتڑیوں کے گرد اس طرح سے گھومے گا جیسے چکی کا گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے ۔جہنمی اس کے گرد جمع ہو جائیں گے اور پوچھیں گے اے فلاں ! تم کو کیا ہوا ؟ تم تو اچھی باتوں کا حکم دیتے تھے اور بری باتوں سے روکتے تھے ؟وہ جواب دے گا کہ ہاں میںاچھی باتوں کا حکم دیتا تھا مگر اس پر خود عمل نہیں کرتا تھا اور بری باتوں سے روکتا تھا ،مگر خود اس میں مبتلا تھا ۔(صحیح بخاری)
باوجود اتنی سخت وعید کے ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے کو مکمل صحیح سمجھتے ہیں اور دوسروں کواپنی تحریروں،تقریروں،خطبوں اور مختلف جلسوں میں وعظ و نصیحت کرتے رہتے ہیں اور بہت سی باتیں ایسی کہتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے اور اپنے لیے مختلف تاویلوں کا سہارا لیتے ہیں۔
انفرادی توبہ خواہ کتنے ہی خلوص سے کیوں نہ کی جائے لیکن اگر ملت کی مجموعی حالت تبدیل نہ ہو تو و ہ مجموعی طور پر عذابِ خداوندی کی مستحق ہو جاتی ہے اور پھر اجتماعی عذاب گناہگاروں اور بے گناہوں دونوں پر آتا ہے ایسے ہی جیسے گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے ۔قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے{ واتقوا فتنتہ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصتہ واعلموا ان اللہ شدیدالعقاب } سورۃ انفال:۲۵(اور بچو اس فتنے سے جسکی شامت مخصوص طور پر انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو اور جان لو اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے)
تاریخ ہمیں بار بار متنبہ کر رہی ہے۔عہدعباسی سے لیکر خلافتِ ترک تک کتنی بار مسلمانوں کا مختلف لوگوں کے ذریعے قتل عام ہوا تو کیا اس زمانے کے مسلمانوں نے اللہ تعالی سے مدد نہیں مانگی ہو گی؟؟ دعائیں نہیں کی ہوں گی؟؟ مگر کیوں دعائیں قبول نہیں ہوئی؟دعائیں ضرور مانگیں گئی ہوں گی لیکن جب امت کے اجتماعی ضمیر کی موت ہو جائے اور وہ قرآن و حدیث سے مجموعی طور سے بھٹک جائے تب دعائوں کا مستجاب ہونا محال ہو جاتا ہے اور امت کا محاسبہ شروع ہو جاتا ہے ۔ اس وقت صرف وہی لوگ نجات پاتے ہیں جو بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔جیسا کہ اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے حضرت جبرئیلؑ کو حکم دیا کہ فلاں شہر کو شہر والوں سمیت الٹ دو۔حضرت جبرئیلؑ نے کہا کہ ائے میرے رب! اس شہر میں آپ کا فلاں بندہ بھی ہے جس نے ایک لمحہ بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی تو اللہ تعالی نے فرمایا : تم اس شہر کو اس شخص سمیت سارے شہر والوں پر الٹ دو کیونکہ شہروالوں کو میری نافرمانی کرتا ہوا دیکھ کر اس شخص کے چہرے کا رنگ ایک گھڑی کے لیے بھی نہیں بدلا۔(مشکاۃ المصابیح)
ہم سب کواپنی اپنی ذمے داری کو سمجھنا ہوگا اورا س پر خود بھی عمل کرنا ہوگا اور دوسروں تک بھی پہونچانا ہوگا تبھی ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے گی۔اللہ تعالی سے دعا ہے ہم سب کو اسکی توفیق دے۔۔۔ا ٓمین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *