بلاتبصرہ

مسلم دنیا کی اکثریت شرعی قوانین کے حق میں
اسلامی ملکوں میں عوام کی اکثریت شریعت کا نفاد چاہتی ہے: امریکی تھنک ٹینک
نیویارک(رائٹر)مسلم دنیا کی اکثریت چاہتی ہے کہ ان کے ملکوں میں اسلامی قانون اور شرعی اخلاقی ضابطے نافذ ہوں تاہم کئی ضابطوں کے نفاذ پر ان لوگوں کے درمیان اختلاف بھی ہے۔ یہ بات ایک نئے وسیع سروے سے سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن کے پی ای ڈبلیو فورم نے یہ سروے کیا ہے، اس میں بیشتر لوگوں نے خودکش بمباری کو مسترد کیا ہے تاہم فلسطینی علاقوں میں 40فیصد ،افغانستان میں39فیصد، مصر میں29فیصد اور بنگلہ دیش میں 26فیصد نے اس کی حمایت کی۔ تین چوتھائی لوگوں نے کہا کہ اسقاط حمل اخلاقا غلط ہے۔ 80فیصد سے زیادہ لوگوں نے ہم جنسی اور غیر ازدواجی تعلقات کو مسترد کیا۔
مغربی ایشیا، شمالی افریقہ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے تین چوتھائی لوگ چاہتے ہیں کہ طلاق اور جائیداد کے تنازعات جیسے خاندانی امور کا فیصلہ شرعی عدالتیں کریں۔ تاہم چوروں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا پر اسلامی دنیا بٹی ہوئی ہے تاہم جنوبی ایشیا کے تین چوتھائی مسلمانوں نے ان سزاؤں کو حق بجانب ٹھہرایا۔ ان سخت سزاؤں کی وجہ سے کئی غیر مسلم ممالک میں شریعت غیر مقبول ہے۔ بعض تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ انقلابی مسلم شریعت کو مغربی معاشرے پر تھوپنا چاہتے ہیں مگر اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تمام مسلم ممالک میں لوگوں کی رائے یکساں نہیں ہے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان شریعت کے ہر پہلو سے برابر مطمئن بھی نہیں ہیں۔ اکثر کا خیال ہے کہ اسے غیر مسلموں پر نافذنہیں کرنا چاہیے۔
راشٹریہ سہارا 02/5/13

سعودی عرب اور ایران میں خواتین سفارتکار ہی بھیجی جائیں : شیریں عبادی
نوبل انعام سے سرفراز انسانی حقوق کی وکیل شیریں عبادی کا کہنا ہے کہ یوروپین ممالک کو اپنی خواتین سفیروں کو ہی سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک میں بھیجنا چاہیے جہاں کی سرکار اور حکمراں عورتوں کے ساتھ ہر میدان میں امتیازی سلوک برتتے ہیں۔یہ تجویز 14 اور 15 نومبر کو عورتوں کے حقوق پر ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں انہوں نے پیش کی۔
شیریں عبادی نے کئی خاص کارکنوں کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر لوگوں سے مدد مانگی ہے تاکہ وہ ان عورتوں کی مددو حمایت کرسکیں جو ایران، افغانستان،سعودی عرب جیسے ممالک میں رہتی ہیں جہاں مردوزن میں فرق کیا جاتا ہے اور عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے۔
یہ کانفرنس عورتوں کو ووٹ دینے کا حق ملنے کے دن کی برسی کے موقعہ سے کی گئی تھی جس کو نوروے کی سرکار کے ساتھ مل کر فورم فور ویمن اینڈ ڈولپمینٹ اور پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے منعقد کیا تھا۔
(انڈین اکسپریس، 20نومبر 2013ء)

سیریا میں مجاہدین کا سب سے بڑا اتحاد قائم
بیروت: چھ سب سے بڑی اسلامی مجاہدین کی تنظیموں نے شام میں ایک نئے اسلامی اتحاد کا اعلان جمعہ کوکیا ہے۔پچھلے ڈھائی سال سے جاری جدوجہد میں اب تک کا یہ سب سے بڑا اتحاد قائم ہوا ہے جس کے ذریعہ بشار الاسد حکومت کو مضبوط ٹکر دی جاسکے گی۔
)انڈین اکسپریس، 22نومبر 2013ء)

اسرو کا بالاجی سے آشیرواد لینا ضعیف الاعتقادی: راؤ
بنگلورو(ایجنسیاں) ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز’بھارت رتن’ کے لئے منتخب معروف سائنسداں پروفیسر سی این آر راؤ نے ”اسرو’ کو ضعیف الاعتقاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خلائی مشن سے پہلے اسرو ISROکا تروپتی کے بالاجی کا آشیرواد لینا ضعیف الاعتقادی ہے اور میرا اس پر یقین نہیں ہے۔ سی این آر راؤسے پوچھا گیا کہ شری ہری کوٹہ خلائی مرکز سے کوئی بھی سٹیلائٹ لانچ کرنے سے پہلے اسرو کے ذریعہ اس سیٹلائٹ کا چھوٹا سا ماڈل ترومالا مندر میں بھگوان بالاجی کے چرنوں میں رکھنے کو کیا وہ ضعیف الاعتقادی مانتے ہیں؟ اس پر انہوں نے ”ہاں ”میں جواب دیا۔بنگلورو پریس کلب کی جانب سے منعقد ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ میں ضعیف الاعتقادنہیں ہوں۔ میں جیوتش شاسترا میں بھی یقین نہیں رکھتا۔
(راشٹریہ سہارا، 25نومبر)

اعتراض کے بعد لاش قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن ہوئی
گورکھپور: (ایس این بی) کیاعجب قصہ ہے کہ جو بھی اراضی ہے اسے متنازعہ بنادو اوران فریق خاص کا حصہ (طے) کردو۔ کچھ ایسا ہی فارمولہ ان دنوں بہرائچ میں اپنایا جارہا ہے۔ اس کا آغاز دسویں محرم کو امام چوک سے متصل اراضی پر تعزیہ رکھنے سے پیداہوئے تنازعہ سے شروع ہوا تھا۔ ماحول گرم ہوگیا پھرکسی طرح انتظامیہ نے لوگوں کو سمجھا بجھا کر حالات کو قابومیں کیا۔ مگر بدھ کے روز ایک بار پھرقبرستان کے قریب ایک اراضی میں ایک بچی کو دفن کئے جانے پر بہرائچ میں شرپسندوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اشتعال انگیز نعرہ بازی شروع کردی اور بتایا کہ جس اراضی پر بچی کو دفن کیا گیا ہے وہ متنازعہ ہے۔ جس کے بعد دباؤ میں آکر انتظامیہ نے دوسرے فریق کواس بات پر راضی کیا کہ بچی کی لاش نکال کر دوسری جگہ دفن کردی جائے۔ پھر سے ایک بار تنازعہ کو ٹالتے ہوئے مخصوص فرقے نے ایسا ہی کیاتب جاکر کسی طرح حالات معمول پر لوٹے مگر کشیدگی برقرار رہی۔اور قصبہ میں پولیس فورس تعینات کردی گئی۔
(روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو، 22نومبر 2013ء(

انگولا میں اسلام پر پابندی
براعظم افریقہ میں عیسائی اکثریت والے ملک نے مسجدوں کو منہدم کرنا شروع کردیا، دیگر مساجد کو مقفل کرنے کا حکم، انگولا اسلام اور مسلمانوں پر پابندی لگانے والا پہلا ملک
ساؤ پاؤلو(ایجنسی): براعظم افریقہ میں عیسائی اکثریت ملک انگولا نے اسلام پر پابندی عائد کردی ہے۔اور اس نے مسجدوں کو منہدم کرنا شروع کردیاہے۔ متعدد خبر رساں ایجنسیوں نے انگولا کے افسران کے حوالہ سے یہ اطلاع دی ہے کہ ملک نے انتہا پسندی پر قابو پانے کی غرض سے اسلام پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اور مسجدوں کو منہدم کرنا شروع کردیا ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ انگولا کی وزارتِ خارجہ برائے انصاف اور انسانی حقوق نے اسلام کو ملک میں قانونی قرار دیے جانے کو منظوری نہیں دی ہےاور مسجدوں کو اگلے نوٹس تک مقفل رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ آخر انگولا میں اسلام کو غیر قانونی قرار دئے جانے کی ضرورت کیوں ہے جبکہ دہائیوں سے یہاں اپنی موجودگی رکھتا ہے۔ آن لائن ویب ویب سائٹ اسلام نیٹ نے اطلاع دی ہے کہ افریقہ کی خبر رساں ایکوفین نے یہ رپورٹ شائع کی کہ انگولا دنیا میں اسلام اور مسلمانوں پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا ہےاور ساتھ ہی اس نے مسجدوں کو منہدم کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ انگولا کے صدر ایڈوارڈ کے بیان کو بھی شائع کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسلام پر پابندی ملک میں اسلامی اثرات کا قطعی خاتمہ ثابت ہوگی۔انگولا میں اسلام پر پابندی سے پتہ چلتا ہے کہ عیسائی حکومت نے انتہا پسندی کو ختم کرنے کے نام پر انتہا پسند عیسائیوں کو خوش کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ انگولا عیسائی اکثریتی ملک ہے جس کی آبادی 16 ملین ہے۔ اس ملک میں تقریباً 80 سے 90 ہزار مسلمان رہتے ہیں۔
انگولا میں اسلام مخالف قدم پر دنیا بھر میں غم غصہ کو دیکھتے ہوئے امریکہ میں انگولا کے سفیر نے خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انگولا میں اسلام پر پابندی کی خبروں کی تردید کرتے ہیں کیوں کہ انگولا تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ حالانکہ حکومت انگولا کی جانب سے ابھی باضابطہ طور پر اس طرح کا کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے اور نہ ہی حکومت نے یا متعلقہ وزارت نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ مختلف مقامات سے احتجاج اور مظاہروں کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اسی کو دیکھتے ہوئے انگولا کے سفیر برائے امریکہ نے خبروں کی تردید کی ہے، اگرچہ انگولا حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی تردید نہیں آنے کی وجہ سے مسلمانوں میں زبردست غم وغصہ پایا جارہا ہے۔
(اردو روزنامہ انقلاب 26و27نومبر 2013ء)

۔۔۔۔اورجوان کے سینوں میں چھپا ہے وہ (بغض)
سعودی حکومت کے ذریعہ سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کو ٹھکرادینے کے اعلان سے مشرق وسطی میں طاقت کے توازن کی نئی گروہ بندیاں سامنے آرہی ہیں۔ گو کہ سعودی وزراتِ خارجہ نے سلامتی کونسل کے ذریعہ شام میں فیصلہ کن اقدامات نہ کرنے کو اس عمل کا جواز بنایا ہے مگر دراصل اس کے پیچھے امریکہ کا شام پر حملہ نہ کرنے اور ایران سے تعلق بڑھانا ہی اسکی اصل وجوہ ہیں۔ امریکہ نے جب سےشیل گیس کی شکل میں توانائی کا نیا ذریعہ ایجاد کر لیا ہے ، وہ اب توانائی کے لئے سعودی دباؤ سےآزا د ہے۔ اب وہ مغربی ایشیا کے شیعہ سنی تنازعہ سے زیادہ اعتدال کے ساتھ نمٹ سکتا ہے۔ اب ایران سعودی تیل کی بھرپائی کر سکتا ہے اگر سعودی عرب تیل کو (ایک ہتھیار کے طور پر)استعمال کرتا ہے ۔ اگر القاعدہ اور ان سے منسلک جماعتیں امریکہ کی خاص توجہ کا مرکز ہیں تو اب وہ ریاض پر اس پٹروڈالر انتہا پسندی کو روکنے کے لئے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے جو کہ بنیادی طور سے ایک سنی انتہا پسندی کا معاملہ ہے۔ اس درمیان امریکہ اور ایران کے اچھے رشتے علاقائی سلامتی کے لئے بھی بہتر ثابت ہوں گے۔ خصوصاً 2014ء میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کے حالات میں ایران افغانستان میں استحکام کا اہم ذریعہ ہو سکتا ہےجس سے امریکہ اور بھارت دونوں کا فائدہ ہوگا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان نیو کلیر معاملہ پر بات چیت میں امریکہ کو تعطل ختم کرکے مغربی ایشیا میں ایک تاریخی تبدیلی کا آغاز کرنا چاہیے۔ اس معاملہ(ایران اور امریکہ نیوکلیر تعطل ختم کرنے) میں بھارت کا اہم رول ہوسکتا ہے۔جیسا کہ پاکستان نے امریکہ -چین تعلقات کے لئے نکسنؔ-ماؤؔ ملاقات میں رول ادا کیا تھا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *