تیونس کیا اسلام کی مخالفت میں جمہوریت قتل کر دی جائے گی؟

تحریک نہضت تیونس کے سربراہ الشیخ راشد الغنوشی دار الحکومت کے اہم میدان ’قصبہ‘ میںملین مارچ سے خطاب کر رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے کہا کہ :’’ہاں، اپوزیشن کوہماری حکومت گرانے کاپوراحق حاصل ہے۔‘‘ تو چند لمحے کی حیرت کے بعد پورا مجمع نعروں سے گونج اٹھا۔ شور تھما تو انہوں نے اپنا جملہ دہراتے ہوئے کہا:’’ہاں، اپوزیشن کو ہماری حکومت گرانے کا پورا حق حاصل ہے لیکن دیکھو قرآن کیا فرماتا ہے:’واتوا البیوت من ابوابہا(البقرۃ:۲:۱۸۹)’’گھروں میں ان کے دروازوں کے راستے آیا کرو۔‘‘ حکومت میں آنے کادروازہ، انتخابات ہیں۔ہم نے طویل جدوجہد اور لا تعداد قربانیوں کے بعد جابر ڈکٹیٹر سے نجات حاصل کی۔ پھر انتخابات میں عوام نے ہم پر اظہار اعتماد کیا۔ اب بھی اگر کوئی تبدیلی چاہتا ہے، تو انتخابات ہی راستہ ہے۔ تیونسی عوام اب دوبارہ کسی مہم جو کو امن وآزادی کی یہ راہ کھوٹی نہیں کرنے دیں گے۔ مجمع ایک بار پھر پر جوش نعروں سے گونج اٹھا۔
مصر میں جمہوریت پر فوجی ڈاکا زنی کے بعد اب تیونس میں بھی اپوزیشن کوہلہ شیری دی جا رہی ہے۔ عرب سرمایہ،مغربی سرپرستی میں سازشیں اور ماردھاڑ پر مبنی تحریک ایک ایسے وقت حکومت گرانے کی کوششیں کر رہی ہے کہ جب ٹھیک دو سال قبل(۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۱ء) کو منتخب ہونے والی دستور سازاسمبلی کی مدت ختم ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ تیونسی عوام کو ۵۴ سالہ ڈکٹیٹرشپ سے جنوری ۲۰۱۱ء میں نجات حاصل ہوئی تھی۔ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو دستور ساز اسمبلی کے انتخابات میں اسلامی تحریک’ تحریک نہضت‘ سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے منتخب ہوئی۔ اسے ۲۱۷ کے ایوان میں ۸۹ نشستیں حاصل ہوئیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والی بائیں بازو کی پارٹی ’حزب الموتمر‘ کو ۲۹، ایک تیسری پارٹی کو ۲۶ اور چوتھے نمبرپر آنے والی ’جزب التکتل‘ کو ۲۰ نشستیں ملیں۔ تحریک نہضت نے تنہا حکومت بنانے کے بجائے ایک قومی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اس میں کامیابی نہ ہونے پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جلا وطن رہنما منصف المرزوقی کی ’حزب الموتمر‘ اور چوتھے نمبر پر آنے والی پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل پائی۔ المرزوقی کو صدر مملکت اور التکتل کے سربراہ مصطفی بن جعفر کو اسپیکر بنا دیا گیا۔ دستور ساز اسمبلی نے دستور وضع کرنا، اور حکومت نے کرپشن کے خاتمے اور عوامی مسائل حل کرنے کی کچھ نہ کچھ مساعی شروع کر دیں۔ لیکن مصر کی طرح یہاں بھی اندرونی اور بیرونی خفیہ ہاتھوں نے مستقل اور مسلسل بحران کھڑے کیے۔ اب ، جب کہ اسمبلی کی مدت تقریبا چھ ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے،اور دستور کی ایک آدھ شق کے علاوہ باقی سب پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، اپوزیشن نے وہ تمام ہتھکنڈے آزمانا شروع کردیے ہیں جن کانتیجہ تباہی اور خوں ریزی کے علاوہ کچھ نہیںہوتا۔
چندماہ پہلے بائیں بازو کے ایک اپوزیشن لیڈر شکری بلعید کو تقل کرکے احتجاج کی آگ بھڑکا دی گئی۔ حکومت نے مذاکرات کیے۔ اپوزیشن کے مطالبات مانتے ہوئے اپنے وزیر اعظم، وزرائے داخلہ، خارجہ اور انصاف کو تبدیل کر دیا۔ عوام کو امید ہوئی کہ بحران ختم ہوا، اب حکومت اصل کام پر توجہ دے سکے گی۔آگ قدرے ٹھنڈی ہونے لگی تو ۲۵ جولائی کو ایک اور اپوزیشن لیڈر، رکن اسمبلی محمد البراہمی کو قتل کر دیا گیا۔ ساتھ ہی تقریباً ۶۰ ؍ارکان پر مشتمل اپوزیشن نے اسمبلی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے، اسمبلی کی عمارت کے باہر دھرنا دے دیا۔ ۲۱ سے ۲۴؍اگست تک بھرپور عوامی احتجاج کی کال دی گئی۔ مطالبہ پھر یہی تھا کہ حکومت ختم کی جائے اور اسمبلی کالعدم قرار دی جائے۔ کچھ افراد ملک کی انتظامی عدالت میں بھی چلے گئے کہ جس طرح مصر کی دستوری عدالت نے اسمبلی توڑی تھی، یہاں بھی توڑ دی جائے۔
تحریک نہضت اور حکومت نے صبر وحکمت سے کام لیتے ہوئے اپوزیشن کو پھر سے مذاکرات کی دعوت دی، اوریہ تجویز پیش کی کہ ملک میں جمہوریت کا سفرجاری رکھنے کے لیے اگر اپوزیشن چاہے تو اس کے مطالبات پر عوامی ریفرنڈم کروالیا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن نے انکار کر دیا۔شاید اس لیے کہ اسے عوام میں اپنی حیثیت بخوبی معلوم ہے؟ وہ چاہتی ہے کہ ریفرنڈم یا منصفانہ عام انتخابات کے بجائے مار دھاڑ، خون خرابے ،ٹارگٹ کلنگ، نام نہاد عدالتوں،اندرونی خفیہ ہاتھوں اور بیرونی آقاؤں کے سرمایے اور سر پرستی کے ذریعہ منتخب حکومت ختم کر دی جائے۔ پھر عبوری حکومت کے ذریعہ اپنی مرضی کے انتخابات کروائے جائیں۔ اس تناظر میں آئندہ چند ہفتے تیونس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کریں گے۔
اس نازک موڑ پر تحریک نہضت نے ایک بار پھر مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ یہ تک تسلیم کر لیا کہ اگر حکومت گرانا ہی چاہتے ہو تو خود حکومت چھوڑ دیتے ہیں۔ تمام پارٹیاں مل کر عبوری قومی حکومت تشکیل دے لیں۔ قومی الیکشن کمیشن تشکیل دے دیں اور فوری طور پر عام انتخابات کروالیں۔ حالیہ مذاکرات میں ایک طرف تحریک نہضت کی قیادت میں حکمران اتحاد ہے اور دوسری طرف مزدوروں اور حقوق انسانی کے نام پر قائم چار این جی اوز ہیں۔ بن علی کی باقیات اور بیرونی آقا انہی غیر سرکاری تنظیموں پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے ابھی تک ان عرب ممالک میں سیاسی جماعتیں مضبوط و منظم نہیں ہو سکیں۔ تیونس میں سیاسی جماعتیں بنانے کی آزادی دی جا چکی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کی تشکیل مضحکہ خیر صورت اختیار کر چکی ہے۔ تقریبا اڑھائی سال کے عرصہ میں ۱۴۰ سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہوئیں۔ ان میں سے کوئی بھی حقیقی عوامی تائید نہیں رکھتی۔ میدان میں اگر کوئی حقیقی قوت باقی ہے تو اللہ کی توفیق سے وہی اسلامی تحریکیں ہیں جنہیں نصف صدی تک کچلنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ اپوزیشن نے مذاکرات کی میز پر تو حکومت سے اتفاق کر لیا۔ لیکن پھر اپنے اندرونی اختلافات کے باعث تاحال قومی حکومت اور قومی الیکشن کمیشن تشکیل نہیں دے سکی۔ تحریک نہضت نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ حکومت ایک امانت ہے کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ پر، مستقبل کا واضح نقشۂ کار طے کیے بغیر ملک کو مزید بحرانوں کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ ہاں اگرامانت سنبھالنے کا متبادل انتظام ہو جائے تو حکومت میں ایک دن زیادہ نہیں رہنا چاہیں گے۔
سازشی عناصر اب بھی باز نہیں آئے، ایک بار پھر خوںریزی کا سہارا لے رہے ہیں۔ پہلے ایک چوکی پر حملہ کرکے چھ فوجی شہید کر دیے گئے، پھر پولیس کے دو سپاہی شہید کر دیے گئے۔ عید الاضحی کے بعد قتل ہونے والے ان پولیس والوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے صدر مملکت، وزیر اعظم اور اسپیکر یعنی حکومت کے تینوں ستون پولیس ہیڈکوارٹر پہنچے، لیکن ان کے خلاف مسلسل ۲۰ منٹ تک نعرہ بازی کرکے انہیں نماز جنازہ ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ البتہ وزیر داخلہ نماز میں بھی شریک رہا اور تدفین میں بھی۔ واضح رہے کہ یہ وہی وزیر داخلہ ہے جو شکری بلعید کے قتل کے بعد ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں لائے گئے تھے۔(نہ جانے اکثر مسلمان ممالک میں وزرائے داخلہ پر ایک بڑا سوالیہ نشان کیوں لگ جاتا ہے!) ماحول میں ابھی ان دو سپاہیوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی حدت باقی تھی، اسی دوران حکومت اپوزیشن مذاکرات بھی چل رہے تھے، ۲۳؍اکتوبر کی شام وزیر اعظم علی العریض ان مذاکرات کے نتائج کا اعلان کرنے کے لیے پریس کانفرنس کرنے والے تھے کہ ہر طرف بریکنگ نیوز چلنے لگی:’’سیدی بوزید‘‘ میں چھ مزید پولیس والے قتل کر دیے گئے۔ ’سیدی بوزید‘ ہی وہ قصبہ ہے جہاں بوعزیزی نامی نوجوان پر پولیس تشدد کے خلاف احتجاج ہوا، جو بعد ازاں پوری عرب بہار کا نقطۂ آغاز بن گیا تھا۔ یہ سب قتل و غارت تحریک نہضت کی حکومت کو ناکام بنانے اور گرانے کے لیے کی جار ہی ہے۔ قاتلوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اسلامی تحریک ناکام ہو گئی ہے۔ حکومت چلانا اس کے بس کی بات نہیں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ صدر مرسی ہوں یا تیونسی حکومت، دونوں پر کسی طرح کے جرم کا الزام نہیں ہے۔ دونوں جمہوریت کا دوام واستحکام چاہتے ہیں۔ دونوں نے ملک میںکرپشن کے خاتمے اور تعمیر و ترقی کا آغاز کیا۔ دونوں نے خواتین اور اقلیتوں کو ان کا اعلی مقام عطا کیا۔ تیونس میں تو ۴۹ خواتین ارکان پارلیمنٹ میں سے ۴۳ کا تعلق تحریک نہضت سے ہے۔ دونوں نے ترجیحات کا درست تعین کرتے ہوئے جبر و تشدد پر مشتمل پالیسیاں اپنانے کے بجائے اصلاح و سدھار کے دور رس اقدامات پر توجہ دی۔ ایسا دستور اور قوانین وضع کیے کہ جن پر عمل درآمد از خود ملک و قوم کو خوش حالی اور دو جہاں کی کامیابی سے ہمکنار کر دیتا۔ یہی اخلاص و عمل ان کا قصور ثابت کیا جارہا ہے۔ خود قتل و غارت اور فتنہ وفساد کے مرتکب ان پرناکام ومفلوج ہونے کا الزام تھونپ رہے ہیں۔
مصر ہو یا تیونس، لیکن مخالفین کے یہ اوچھے ہتھکنڈے انہی پر الٹ رہے ہیں۔ مصر میں بھی تمام تر سروے رپورٹس بتا رہی ہیں کہ حکومت کے خاتمے کے بعد اخوان کی مقبولیت میں مزیداضافہ ہوا ہے۔ مغربی اور صیہونی اخبارات تک بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ فوجی انقلاب ناکام ہوگیا۔ ہزاروں بے گناہ قتل کر دیے جانے کے باوجود فوج مخالف مظاہرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ خونی جنرل سیسی کا تشخص سنوارنے اور اس کا قتدار بچانے کے لیے ابلاغیاتی جنگ عروج پر ہے۔ جنرل سیسی کو صدارتی امیدوار بنانے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ نعرہ لگایا جا رہا ہے: کمل جمیلک ’’اپنی حسن کارکردگی مکمل کیجئے‘‘، گویاشہریوں کا قتل کوئی احسان ہے۔ لیکن عوام نے اپنے لہجہ میں جواب دیا ہے:’’السیسی بیہیس، عایز یبقی ریس‘‘(سیسی پاگل پن کا شکار ہو گیا ہے،صدر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔) عوام ہی نہیں بیرونی دنیا سے بھی صدر مرسی کی تائید کے نئے زاویے سامنے آرہے ہیں۔ برازیل کی خاتون صدر ڈیلما روزیف نے انکشاف کیا ہے کہ مصر اور برازیل کے مابین ایسے کئی اہم ترین معاہدے طے پا چکے تھے کہ جن سے دونوں ملکوں اور ان کے عوام بے پناہ فوائد حاصل کر سکتے تھے۔ مصر اور برازیل ترکی کے تعاون سے کئی بڑے زرعی اور صنعتی منصوبوں کا آغاز کرنے والے تھے جن میں جدید ترین طیارے اور متوسط طبقے کی گاڑیاں بنانے کے منصوبے بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ برازیل آج بھی صدر مرسی ہی کو مصر کا اصل اور حقیقی سربراہ قرار دیتا ہے۔ اس نے ۲۰۱۴ء میں برازیل میں ہونے والے فٹ بال ورگڈ کپ کا افتتاح کرنے کی دعوت بھی حال ہی میں صدر مرسی کے نام بھیجی ہے۔ جنرل سیسی یا اس کے کسی گماشتے کے نام نہیں۔
مصرمیں فوجی انقلاب کا سامنا کرنے والی فقید المثال عوامی تحریک نے تیونس میں تبدیلی کی خواہاں طاقتوں کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ اس لیے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ وہاں فی الحال مصر جیسے کسی ایسے فوجی انقلاب کاخطرہ مول نہیں لیں گی جسے عوام مسترد کردیں اور تیونس بھی مصر کی طرح مسلسل انتشار کا شکارہوجائے۔ تیونس میں کسی انتشار اور اسلامی تحریک کی قیادت میں عوامی احتجاجی تحریک سے یورپ بھی خوف زدہ ہے۔ کیونکہ بحیرۂ روم کے دوسرے کنارے پر واقع تمام یورپی ممالک،شمالی مغربی افریقہ میں پیدا ہونے والی اضطراب کی ہر لہر سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ اگر چہ تیونس کی ڈکٹیٹرشپ مصری فرعونوں سے بھی بدتر تھی، لیکن وہاں کے عوام اور فوج مصری عوام اور فوج سے قدرے مختلف ہیں۔ مصر میں ہمیشہ فوج ہی برسراقتدار رہی ہے، جب کہ تیونس میں فوج نے کبھی بھی اقتدار نہیں سنبھالا۔ مصری عوام میںتعلیم کا تناسب ۷۱ فیصد ہے اور ان میں سختی کا رحجان نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔ تیونس میں تعلیم کا تناسب ۸۱ فیصد ہے اور عوام مجموعی طور پر مہذب اور شائستہ ہیں۔ مصر اور تیونس میں ایک اہم بنیادی فرق ان کاجغرافیائی محل وقوع بھی ہے۔ سرزمین فلسطین پر قابض صیہونی کا پڑوسی ہونا کسی خوفناک عذاب سے کم نہیں ہے۔ ناجائز صیہونی ریاست کے بانیوں نے اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی کی بنیاد ہی پڑوسی ممالک کواپنا دست نگر اور کمزور رکھنا قرار دیا تھا۔ مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک کا مستحکم اور مضبوط ہوناصیہونی ریاست میں خطرات کی گھنٹیاں بجا دیتا ہے۔
جنرل سیسی کے بدترین خونی انقلاب پر بغلیں بجانے والے صیہونی ذمہ داران، اخوان کی کامیابی کے پہلے روز ہی سے یہ جان چکے تھے کہ یہ بے نفس لوگ مصر کو ایک ناقابل شکست فلاحی ریاست بنا دیں گے۔ اس لیے انہو ں نے کئی ممالک کے ساتھ مل کر مصر سے جمہوریت کے خاتمے کی جدوجہد شروع کر دی۔ لیکن مصر میں جاری شاندار عوامی تحریک کے بعد،اسلام مخالف عناصر دوہری پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔ اگر اسلامی تحریکیں برسراقتدار رہتی ہیں تو اس سے مسلم ممالک بھی مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں اور اسلامی تحریکیں بھی۔ اور اگر عوام کی منتخب کردہ حکومتیں گرانے کے لیے مصر والا راستہ اختیار کرتے ہیں تو یہ کارگر ثابت نہیں ہورہا۔ اسلام مخالف عناصر کے لیے مثالی صورت حال تو مصر جیسا خونی فوجی انقلاب یا بشار جیسے درندے کے ہاتھوں ملک و قوم کی تباہی و بربادی ہی ہے، لیکن وہ ان تمام ہتھکنڈوں کے کڑوے پھل چکھ کر بدمزا بھی ہو چکے ہیں۔ یہ سازشی عناصر اپنی فتنہ جوئی تو کرتے ہی رہیں گے لیکن حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کر سکیں گے۔
عین ممکن ہے کہ تیونس میں تحریک نہضت کی حکومت آئندہ چند ہفتوں میںختم ہو جائے، لیکن بالآخر وہاں بھی انتخابات ہونا ہیں۔ منصافانہ انتخابات جب بھی ہوئے ہیں وہاں ایک مستحکم اور خداخوف حکومت قائم ہونے کے امکانات روشن تر ہوں گے،ان شاء اللہ۔ آئیے معروف امریکی دانشور نوم چومسکی کے الفاظ بھی پڑھ لیجئے، انہوں نے یہ گفتگو امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کی:
’’اب تمام ترحالات وواقعات کا رخ ایک ہی جانب ہے اور وہ ہے مصر میں ایک جائز اور منتخب حکومت کی واپسی۔ صدر مرسی کی واپسی ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ اب تمام تر کوششوں اور مذاکرات کا اصل محور یہ ہے کہ قتل عام کرنے والے جرنیلوں میں سے کس کس کو اور کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ مجھے میرے ذمہ دار امریکی دوست طعنہ دیتے ہیں کہ تم مرسی کو پسند کرتے ہو۔ میں جواب دیتا ہوں، ہاں میں ایک منتخب صدر کو پسند کرتا ہوں جس کے دامن پر کرپشن کا کوئی ادنی سا داغ بھی نہیں۔ میں اخوانی نہیں ہوں بلکہ میں تو مسلمان بھی نہیں ہوں لیکن مجھے ان لوگوں سے نفرت ہے جن کے قول و فعل میں تضاد ہو۔ مجھے جنرل سیسی کے حامی اور معروف مصری صحافی حسنین ہیکل کافون آیا کہ میں کس طرح اتنے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ صدر مرسی واپس آئیں گے؟ میں نے کہا کہ اخوان کو وزارت عظمیٰ تک کی پیش کش تو آپ لوگ اب بھی کر رہے ہیں جسے وہ مسترد کرتے ہوئے میدان میںڈٹے ہوئے ہیں۔ پھر اس کے بعد کون سا عہدہ رہ جاتا ہے؟ میری نظر میں اس وقت مصر میں صدارت کا عہدہ خالی ہے اور ایک حقیقی منتخب صدر کی واپسی تک خالی رہے گا خواہ فوج ہزاروں نہیںلاکھوں شہریوں کو بھی قتل کر ڈالے۔ میں اس سے پہلے بھی کئی امورکے بارے میںاپنی رائے دے چکا ہوں،جو ا لحمد للہ درست ثابت ہوئی۔ اب میں اسی ہال میں کہ جس میں صدر مرسی خود پڑھاتے رہے ہیں، کہہ رہا ہوں کہ مصری صدر محمد مرسی ایک لیڈر کی حیثیت سے واپس آئے گا اورمصرپہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ملک کی حیثیت سے ابھرے گا۔
۱۰ کروڑ آبادی کاملک بچانے کے لیے، رابعہ میدان میں دی جانے والی اخوان کی قربانیاں، عوام کی طرف سے ادا کی جانے والی آزادی کی قیمت ہے۔عوامت کی یہ تحریک بہر صورت کامیاب ہوگی اور اگر میری یہ بات غلط ثابت ہوئی تو آپ مجھ سے میری اس باتکا حساب لے سکتے ہیں۔‘‘
مصرکے بارے میں امریکی دانش ور کا تازہ خطاب پڑھتے ہوئے جرــات مند اور انصاف پسند تحریک نہضت کا ترانہ پوری قوت سے کانوں میں گونج رہاہے، کہ جسے سب کارکنان بآواز بلند پڑھتے ہیں تو ہوائیں اور فضائیں بھی دم سادھ کرہمہ تن گوش ہوجاتی ہیں:
فِی حِمَاکَ رَبَّنَا فِی سَبِیْلِ دِیْنِنَا
لَا یَروعُنَا الفَنَا فَتَوَلَّ نَصْرَنَا
وَاہْدِنَا اِلٰی السَّنَنْ
تیری پناہ میں اے ہمارے پروردگار، تیرے دین کی خاطر نکلے ہیں۔ ہمیں فنا کاکوئی خوف ن ہیں، تو ہماری نصرت کا ذمہ لے لے۔ ہمیں راہ(فتوحات) دکھا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *