حقیقتِ ابدی ہے مقام شبیری

یہ حسنِ اتفاق ہے کہ ہندوستان کے تین مختلف مذاہب ہندومت، جین مت اور اسلام کے ماننے والوں نے اس بارنئے سال کی ابتداء ایک ساتھ کی لیکن فکری سطح پر اسلامی سال کی معنویت دنیا بھرکے سالِ نوسے مختلف اور منفرد ہے۔ ہجری تقویم کا اختتام حضرتِ ابرا ہیم ؑ خلیل اللہ اور ان کے فرزند اسماعیل ؑذبیح اللہ کی قربانی پر ہوتا ہے تو اس کی ابتداء حضوراکرمؐ کی ہجرتِ مدینہ اور آپؐ کے پیارے نواسے حضرت حسین ؓ کی عظیم شہادت سے ہوتا ہے۔ امامِ حسین ؓ نے فنا کی تاریک وادیوں سے حیاتِ ابدی کے نور کو برآمد کیااور صبر ورضا کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئےبقول حفیظ میرٹھی ؎
مقامِ روحِ شہید اعظم، کمال صبر و رضا سے پوچھیں
فنا سے پوچھیں، بقا سے پوچھیں، خودی سے پوچھیں، خدا سے پوچھیں
نہ جانے دنیا نے سانس لینے کو زندگی کیوں سمجھ لیا ہے
حیات کیا ہے یہ جینے والے، شہیدِ کرب و بلا سے پوچھیں
مکہ مکرمہ کے اندر ہجرت نبویؐ سے قبل جبر و استبداد کی جو فضا تھی اسی طرح کے ماحول میں حضرت حسین ؓ نے مدینہ منورہ سے مکہ اور وہاں سےکوفہ کی جانب رختِ سفر باندھا ۔ان دونوں ہجرتوں کے درمیان پائی جانے والی مشابہت کا غمازامام حسینؓ کا وہ خطبہ ہے جسےمولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تصنیف شہادت امام حسینؓ میں نقل کیا ہے۔ دوران سفرحضرت حسینؓ ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:معاملہ کی جو صورت ہوگئی ہے تم دیکھ رہے ہو۔ دنیا نے اپنا رنگ بدل دیا ، منہ پھیر لیا ،نیکی سے خالی ہوگئی۔ذرا تلچھٹ باقی ہے۔ حقیر سی زندگی رہ گئی ہے ۔ہولناکی نے احاطہ کرلیا ہے۔ افسوس تم دیکھتے نہیں کہ حق پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔باطل پر اعلانیہ عمل کیا جارہا ہےکوئی نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑ ے۔ وقت آگیا ہے کہ مومن حق کی رائے میں لقائے الٰہی کی خواہش کرے ۔میں شہادت کی موت چاہتا ہوں۔ ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا بجائے خود ایک جرم ہے۔یہ خطبہ اس حقیقت کا اعلان کررہا ہے کہ ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مالِ غنیمت نہ کشورکشائی
شہادت وعزیمت کی جس روایت کو امامِ حسین نے آگے بڑھایا وہ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں زندہ و تابندہ رہی اور آج بھی اس کا چراغ روشن ہے ۔ اس سال۱۷ رمضان یعنی یوم الفرقان کے دن مصر کےمیدان رابعہ العدویہ میں معصوم مظاہرین کاناحق خون بہانے والے یزیدِ وقت کاصدر محمد مورسی اوردیگر اخوانی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کرنے کی خاطر یکم محرم کی تاریخ کا انتخاب کرنا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ داستانِ حرم اور واقعاتِ کربلا کا تسلسل ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال کے بقول ؎
غریب و سادہ و رنگیںہے داستان حرم نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیلؑ
اس شعر میں پہلے مصرعہ کےتین الفاظ داستان حرم کی صفات کے مظہر ہیں اوردوسرا مصرعہ ابتدا ء و انتہا کا احاطہ کرتا ہے۔ اردو زبان میں لفظِ غریب مسکین کے معنیٰ میں مستعمل ہے لیکن یہاں اس کا مفہوم ’تعجب خیز یا منفرد‘ہے جو عجیب کے ساتھ غریب کے استعمال سے نکلتاہے۔ عربی زبان میں غریب لفظ اجنبی کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ مشہور حدیث ہے ’’اسلام غربت کی حالت میں شروع ہوا ہے اور پھر ایک زمانہ آئے گا جب وہ ویسا ہی ہوجائے گا۔ تو جو لوگ اس کی غربت(اس کا ساتھ نبھائیں گے) وہ لائقِ ستائش و بشارت ہیں۔‘‘(مسلم)اس ارشادِ نبویؐ میں غریب سے مراددین اسلام کا اجنبی اور غیرمانوس ہوجانا ہے اوریہاں ان سعید نفوس کو خوش خبری دی گئی ہے جو اسلام کی ’’غربت‘‘ یعنی اجنبیت(میں بھی اس کے غلبہ کی) سعی کریں گے۔ ان میں سے دوعظیم المرتبت شخصیات کی جانب مذکورہ شعر کے دوسرے مصرعے میں اشارہ کیا گیاہے ۔ علامت کےطور پرحضرت اسماعیلؑ اور حضرت حسین ؓ کی قربانیوں کا ذکر ِمبارک ان دشوار گزار گھاٹیوںسے روشناس کراتاہے کہ جن سے گزر کر دین حق کاقافلۂ سخت جاں اپنے منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہوتا ہے ۔
داستانِ حرم کی دیگر دو صفات یعنی سادگی و رنگینی بظاہر ایک دوسرے سے متضاد معلوم ہوتی ہیں ۔ عام طور پر سادہ چیز رنگین نہیں ہوتی لیکن یہاں سادہ سے اس کا سہل اور آسان ہونا مراد ہے۔ ابہام کے عیب سے پاک ہونے کے سبب اس داستان کی ترسیل ہر خاص و عام کے قلب و ذہن تک باآسانی ہوجاتی ہے ۔لیکن یہ کوئی خشک وبے رنگ حکایت نہیں ہے کہ جس کو دلچسپی کے ساتھ سننا یا پڑھنامحال ہو یا ایک بار سن لینے کے بعد انسان کی طبیعت سیر ہوجائے ۔اس کے اندر شامل شہادت کے لہو نے اسےسب رنگ بنا دیا ہے۔ جس طرح شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اسی طرح ان کا ذکرِ خیرصدا بہار ہوتا ہے ۔آسمان دنیا کی قوس قزح شہیدانِ اسلام کے نور سے مزیّن ہے۔ اسی لئے حکیم الامت نے داستانِ حرم کو نہ صرف سادہ بلکہ رنگین قرار دیا اور مزیدفرمایا :
صدق خلیل بھی ہے عشق ،صبرحسین بھی ہے عشق معرکۂ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق
علامہ اقبال نےصدق و صبر کو بدروحنین سے جوڑکر یہ بات واضح کردی کہ دین اسلام میں انفرادی و اجتماعی قربانیاں یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ امام حسینؓ کے سامنے خلافت راشدہ کی جگہ ملوکیت سر ابھار رہی تھی اور اس کے دوررس نتائج اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داری کا اظہار آپؓ نے سفرِکربلا کے دوران ایک اور خطبے میں فرمایاجس کااقتباس ہے:’’اے لوگو!رسول اللہﷺ نے فرمایا جوکوئی ایسے حاکم کو دیکھے گا جو ظلم کرتا ہے، خدا کی قائم کی ہوئی حدیں توڑتا ہے، عہدالٰہی شکست کرتا ہے اور دیکھنے والا دیکھنے پر بھی نہ تو اپنے فعل سے اس کی مخالفت کرتا ہے نہ اپنے قول سے ۔ سوخدا ایسے لوگوں کو اچھا ٹھکانہ نہیں بخشے گا ۔ دیکھو یہ لوگ شیطان کے پیرو بن گئے ہیں۔ رحمٰن سے سرکش ہوگئے ہیں۔ فساد ظاہر ہے۔ حدود الٰہی معطل ہیں۔ مالِ غنیمت پر ناجائز قبضہ ہے۔ خدا کے حلال کو حرام اور اور حرام کو حلال ٹھہرایا جارہا ہے۔ میں ان کی سرکشی کو حق و عدل سے بدل دینے کا سب سے زیادہ مستحق ہوں‘‘۔ ایسے لوگ جو کربلا کے واقعہ کو محض سیاسی قراردے کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ سیاست بھی دین اسلام کا ایک اہم شعبہ ہے ۔بقول حفیظ میرٹھی؎
شاہی کھڑی ہوئی تھی خلافت کے موڑ پر برحق تھی برمحل تھی بغاوت حسین کی
للّٰہیت سے بال برابر نہیں ہٹی انسانیت نواز سیاست حسین کی
امام حسین ؓ نے جو راستہ اختیار کیا تھا وہ اس کے انجام سے پوری طرح باخبر تھے اس لئے جب دشمن قریب آگیا تو آپؓ نے اونٹنی پر سوارہوکربلند آواز سے خطبہ دیا:لوگو! میری بات سنو، جلدی نہ کرو۔ اگر میرا عذر معقول ہو اور تم اسے قبول کرسکواور میرے ساتھ انصاف کرو ،تو یہ تمہارے لئے خوش نصیبی کا باعث ہوگا۔ اور تم میری مخالفت سے بازآجاؤگے۔لیکن اگر سننے کے بعد بھی تم میرا عذر قبول نہ کرو اور انصاف کرنے سے انکار کردو تو مجھے کسی بات سے انکار نہیں ہے۔ تم اور تمہارے ساتھی ایکا کرلو اور مجھ پر ٹوٹ پڑو ۔ مجھے ذرا مہلت نہ دو ۔ میرا اعتماد ہر حال میں پروردگارعالم پر ہے اور وہ نیکوکاروں کا حامی ہے۔ سنگین ترین حالات میں حضرت حسین ؓ نے پاک پروردگار کی رضاجوئی کیلئےجس فدا کاری کا مظاہرہ فرمایا اس کو مجید امجد نے یوں بیان کیا کہ ؎
سلام ان پہ تہہ تیغ بھی جنہوں نے کہا جو تیرا حکم ،جو تیری رضا ، جو تو چاہے
میدانِ کربلا میں اپنا سرکٹا کر حضرت حسین ؓ نے یہ ثابت کردیا کہ ’’طاقت حق نہیں بلکہ حق طاقت ہے‘‘جو لوگ اپنی طاقت و اقتدار کے زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خدائے برحق سے سرکشی کرنے لگتے ہیں انہیں میدانِ محشر سے متعلق حضور اکرمؐ کا فرمان یاد رکھنا چاہئےصحیح مسلم کی حدیث ہے سیدنا ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ لے گا اور ان کو داہنے ہاتھ میں لے کر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زور والے؟ کہاں ہیں غرور والے؟ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زور والے؟ کہاں ہیں بڑائی کرنے والے؟‘‘امام حسینؓ نے اپنے عمل سے اس بات کی تردید کردی اقتدار بزوربیعت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ برضا و رغبت بیعت اقتدار کا سرچشمہ ہے ۔اس طرح کا اقتدارعارضی نہیں بلکہ ابدی ہوتا ہے بقول شاعر ؎
ہردور کے یزید سے کہہ دو یہ اے حفیظؔ تھی ہے ، رہے گی دل پہ حکومت حسین کی
عصرِ حاضر کو آزادی، اظہار رائے اور شورائیت کا دور کہا جاتا ہے اور ان خوبیوں کو مختلف باطل نظریات کا مرہونِ منت سمجھا جاتا ہے حالانکہ ان اقدارکا حقیقی علمبردار صرف اور صرف دین اسلام ہے۔ عالم انسانیت پر یہ اللہ رب العزت کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے انبیائے کرام پر وہ دین نازل فرمایا جس کے ذریعہ بنی نوعِ انسانی ان عقائدو نظریات سے روشناس ہوئی لیکن شیطانِ لعین اپنے شاگردوں کی مدد سے انہیں پامال کرنے کی سعی مسلسل میں لگا رہتا ہے اور اس کے مقابلے میں حق کے علمبردار انہیں بحال کرنے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں ۔ اس کشمکش میں حضرت حسین ؓ کی سیرت پاک حق کے علمبرداروں کی خاطر مشعلِ راہ کا کام کرتی ہے بقول حفیظ میرٹھی ؎
وہ مرکز طالبان صادق وہ مشعل رہبران کامل کہاں ہے مردانِ حق کی منزل ،حسین کے نقش پا سے پوچھیں
زمانہ گواہ ہے کہ کائناتِ ہستی میں بہترین انسانوں یعنی انبیاو رسل نے بھی جب عین ہدایتِ الٰہی کی روشنی میں کلمۂ حق بلند کیا تو انہیں مزاحمت سے سابقہ پیش آیا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو کبھی بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا گیا بلکہ اس کارِخیرکے کرنے والے ابتلاء و آزمائش سے گزارے گئے۔عدل و انصاف کے قائم کرنے والوں کی ظلم و جبر سے پنجہ آزمائی ایک فطری امرہے۔ جن لوگوں نے اپنے بیدار ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انسانی مساوات کا نعرہ بلند کیا ان کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہر دور میں کی گئی یہاں تک کہ انہیں صٖفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی شرارت بھی کی گئی لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جن لوگوں نے حق کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا وہ سر بلند ہوگئے اور ان کے مخالفین کا نام و نشان وقت کے ساتھ مٹ گیا۔ حضرت حسینؓ کی شہادت پرعرفان صدیقی یہ شعر اس حقیقت کی دلیل ہے ؎
سنو کہ بول رہا ہے وہ سر اُتارا ہوا ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
امام حسین ؓ نے عزم و استقلال اور شجاعت وبہادری کا وہ نمونہ پیش فرمایا کہ ان کے بعد اس راہ پر چلنے والوں کے دل سے باطل کے جاہ و جلال کا رعب ہمیشہ کیلئے مٹ گیا۔ راہِ خدا میں اپنا سب کچھ لٹا دینے کو حق کے متوالے اپنے لئے سب سے بڑی سعادت سمجھنے لگے ۔ آج بھی شرق و غرب کے اندر امت مسلمہ جن شدید مصائب سے گذر رہی ہے اور اس کے باوجود اس نے جس طرح سے اسلام کا علم بلند رکھا ہے یہ اپنی مثال آپ ہے ۔ دنیا بھر کی تحریکات اسلامی آئے دن پیش آنے والی نت نئی ابتلاءو آزمائش کے باوجود بغیر کسی خوف و مایوسی کےجواپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہےاس کے پسِ پشت رسمِ شبیری کی حوصلہ افزائی کارفرما ہےاس لئے کہ بقول افتخار عارف ؎
حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
اس شعر کی عملی تفسیر رمضان مبارک کے اندر میدان رابعہ عدویہ میں نظر آئی ۔وہاں شہید ہونے والے مجاہدین اسلام کے درمیان اخوانی رہنما محمدبیلتاگی کی جواں سال بیٹی اسماء بھی تھی جس نے اپنی جان عزیز کا نذرانہ پیش کرکے کربلا کی روایت کوزندہ کیا ۔ محمد بیلتاگی نےاپنی شہید بیٹی کے نام ایک ایمان افروز خط میں لکھا کہ :میں تمہیں الوداع نہیں کہتا بلکہ بیٹی ہم پھر ملیں گے۔ وہ لکھتے ہیں میں نے دوروز قبل ایک خواب دیکھا جس میں اسماء نہایت خوشنما لباس پہن کر میرے پاس آئی ۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا آج تمہاری شب عروسی ہے ؟اسماءنے جواب دیا یہ دوپہر ہے۔ دودن بعد دوپہر کے وقت اس نےجامِ شہادت نوش کیا۔محمد بیلتاگی نے لکھا کہ میری بیٹی نے مجھ سے شکایت کی تھی کہ آپ ہمارے لئے وقت نہیں نکالتے جب آپ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں تب بھی مصروف رہتے ہیں۔بیلتاگی اعتراف کرتے ہیں کہ اسماء کی شکایت درست تھی اور لکھتے ہیں میں تمہارے لئے وقت نہیں نکال سکا لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم بہت جلد حضور اکرمؐ اور ان کے صحابہ کی معیت میں جنت کے اندر ملیں گے اوروہاں ایک دوسرے کے ساتھ بہترین وقت گزاریں گے ۔عصر حاضر میں اسماء کی شہادت گواہی دے رہی ہے کہ ؎
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
یہ اسی طرح کا خواب ہے جیسا کہ حضرتِ ابراہیم ؑ نے دیکھا تھا اور جس پر اللہ رب العزت کا ارشاد ہے’’اے ابراہیم تم نے اپنا خواب سچا کردکھایا ہم اپنے بندوں کو ایسا ہی بدلا دیتے ہیں سلام ہو ابراہیم ؑ پر‘‘امام حسینؓ کے بھی ایک خواب کا ذکر مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کیا ہے وہ لکھتے ہیں دوران سفر حضرت حسینؓ کو قصر بن مقاتل نامی مقام پر اونگھ آگئی ۔ جاگنے کے بعدآپؓ نے چونک کر بآواز بلند تین مرتبہکہا ’’انا لللہ و انا الیہ راجعون ۔ الحمدلللہ رب العٰلمین ‘‘ آپؓ کے صاحبزادے علی نے عرض کیا: یہ ’’انا لللہ اور الحمد لللہ ‘‘ کیوں فرمایا؟ آپؓ نے جواب دیا:جانِ پدر! ابھی اونگھ گیا تھا ۔خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سوار کہتا ہوا چلا جارہا ہے۔ لوگ چلتے ہیں، موت ان کے ساتھ چلتی ہے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ہماری موت کی خبر ہے جو ہمیں سنائی جارہی ہے۔ علی نے کہا :خدا آپ کو روزبد نہ دکھائے!کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایابےشک ہم حق پر ہیں اس پر وہ (علی) کہہ اٹھے:اگر ہم حق پر ہیں تو موت کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہ وہی علی الاکبر تھے جو میدانِ کربلا میں شہید ہوئے۔ وہ موت کی حقیقت سے واقف تھے اس لئے ان کے دل میں موت کا کوئی خوف نہیں تھا بقول اقبال ؎
خودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقامِ حیات کہ عشق موت سے کرتا ہے امتحانِ ثبات

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *