شرک کا تہذیبی اوتار

دیوالی کے مشرکانہ تہوار کی صبح کی خبریں دو طرح کی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں۔ ایک خبر تو یہ تھی کہ پٹاخوں اور صوتی آلودگی نے دہلی کو کہرزدہ کر دیا۔ اور دوسری خبر جو بہت اہتمام سے دی گئی تھی (NDTV INDIA)پر، وہ یہ تھی کہ بنارس میں دیوالی کے موقعہ سے کچھ مسلم عورتوں نے دیوی کی پوجا اور آرتی کی۔ ویڈیو میں چند مسلم عورتوںکو جو باقاعدہ برقعہ میں ملبوس تھیں، کسی مورتی کی آرتی اتارتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ساتھ میںکچھ ہندو خواتین بھی شامل تھیں۔
اس سے پہلے دشہرہ اور گنیش کے تہوار کے موقعہ سے مسلسل پانچ دنوں تک ہندی اخبارات نے مختلف جگہوں پر دُرگا اور گنیش کی مورتیوں کے آگے ٹوپی پہنے لوگوں کو پوجا کرتے ہوئے؛ سوہارد اور شانتی کی پرارتھنا کرتے ہوئے دکھایا تھا۔
آپسی بھائی چارے، محبت اور یگانگت کی یہ وہ گنگا جمنی تہذیب ہے جس کو بہت منظم انداز میںمیڈیا کے ذریعہ عقیدۂ توحید کو مٹانے کی ایک گھناؤنی سازش کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کچھ نوجوانوں کےمظلومانہ یا مجنونانہ رد عمل کو لے کر قرآن و حدیث سے چن چن کر آیتیں نکالتے اور گنگا او رجمنا کا پانی پی پی کر ان ’ بہکے‘ ہوئےنوجوانوں کو کوستے ہیں ان کی زبانیں اس صریح شرک اور کفر پر بالکل گنگ ہو جاتی ہیں؛ کسی اخبار میں اس کی مذمت شائع نہیں ہوتی؛ کسی پرچے میں اس پر مقالہ نہیں لکھا جاتا۔ گویا مسلمانوں کا وہ طرز عمل جو باطل کو ناگوار ہو، خواہ قرآن و حدیث نے اس کی اجازت دی ہو، اس کی مذمت میں تو وہ خود قرآن و حدیث سے دلیل لائیں گے تاکہ طاغوت وقت کو راضی کر سکیں۔ لیکن مسلمانوں کا ایسا طرز عمل جو صریحاً کفر ہے او ر خلافِ اسلام ہےمگر طاغوت اس کو promoteکرتا ہے تو دین کے یہ ٹھیکیدار کان دبا کر آنکھیں موند لیں گے او ران کی زبانیں ایسی ہو جائیں گی جیسے پیدائشی گونگے ہوں۔
اسلام کے نزدیک شرک سب سے بڑا گناہ بلکہ سب سے بڑا ظلم ہے۔ ان الشرک لظلم عظیم۔ اور مورتی پوجا تو اس قدر گھناؤنا اور انسانیت سوز عمل ہے کہ اہل اسلام کی قربت کے نتیجہ میں خود ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ مورتی پوجا کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ بلکہ ویدوں اور پرانوں سے انہوں نے ایسی دلیلیں پیش کیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ خود ہندو مذہب میں بھی مورتی پوجا ایک گندہ عمل ہے۔ لیکن برا ہو غلامی کا کہ یہ قوموں کے ضمیر بدل دیتی ہے اور ناخوب بھی بتدریج خوب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی مثال قرآن میں بنی اسرائیل کے واقعات کے ذریعہ بیان کی گئی ہے۔ برسوں کی جد وجہد، کھلی نشانیوں اور کھلی آنکھوں سمندر کا سینہ چیر کر فرعون کے جبر سے نجات پانے والی قوم، جس نے اپنی نجات کے ساتھ ساتھ ظالم و مشرک فرعون اور اس کی فوج کو اپنی آنکھوں سے غرق دریا ہوتے دیکھا تھا، صدیوں کی غلامی نے اس کے تہذیبی زاویے کو اتنا بگاڑ دکر رکھ دیا تھا کہ ابھی نجات سے چند قدم دور چلے تھے کہ مطالبہ کر ڈالا’قالوا یا موسی اجعل لنا الہا کما لہم آلہۃ۔ اے موسی! ان کے بتوں کی طرح ہمیں بھی ایک بت لا کر دے دو۔ عقل حیران ہے کہ کوئی قوم اس قدر عظیم نشانیوں اور شہادتوں کے حامل اللہ کےرسول سے اس قدر بیہودہ مطالبہ کیسے کر سکتی ہے۔ جب کہ وہ جانتی بھی ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور انہیں کے سامنے موسی علیہ السلام نے فرعون کو شرک کا طریقہ چھوڑنے اور اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی دعوت دی تھی۔ تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے اسی ذہنیت کو پیدا کرنے کے لیے نذبح ابناء ہم ونستحی نساء ہم(بیٹوں کو مارنے اور بیٹیوں کو زندہ رکھنے) کی پالیسی اختیار کی تھی۔کیونکہ عورتیں مقابلہ آرائی کے بجائے سپر اندازی کو ترجیح دیتی ہیں اور غالب قوت سے مرعوب ہو کر اپنے کو اسی کےسانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ صدیوں کی غلامی نے بنی اسرائیل کے اندر وہ زہریلے اثرات چھوڑے تھے جس نے اللہ اور رسول پر ایمان کے باوجود بت تراشی کا مطالبہ کر ڈالا اور فتح مبین کی بشارت کے باوجود بزدلی و کم ہمتی اور ناشکری و بے وفائی کی تاریخ یہ کہہ کر رقم کر دی :اذہب انت وربک فقاتلاانا ہہنا قاعدون
ظاہر ہے اسلام بت شکنی کے لیے آیا ہے۔ اس کی آیات بھی اس پر دلیل ہیں اور اس کی شخصیات بھی اس پر دلیل ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی بت شکن تھے اور حضور اکرم ﷺتو تاریخ میں سب سے بڑے بت شکن کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ فتح مکہ کے موقعہ پر آپؐ نے اپنے دست مبارک میں کمان لےکر اس کی ضرب سےبتوں کو توڑا تھا اور جاء الحق و زہق الباطل ان الباطل کان زہوقا کا انقلابی نعرہ دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ آپؐ کی اتباع میں آپؐ کے اصحابؓ نے سرزمین حجاز سے چھوٹے سے لے کر بڑے بت سبھوں کو زمین دوز کر دیا تھا۔ اور یہ سنت ابراہیمی و مصطفوی آج بھی جگہ جگہ جلوہ گر ہوتی دکھائی دیتی ہے اور طالبانِ حق کے ذریعہ اللہ تعالی اس سنت کی تجدید کا انتظام کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حضور اکرمؐ نے اپنی امت کو خبر دار کر دیا تھا کہ تم میں سے کچھ لوگ بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلیں گے یہاں تک کہ اگر وہ ایک گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو یہ بھی ان کے اتباع میں اسی بل میں گھسنے سے باز نہ آئیں گے۔
چنانچہ بنی اسرائیل کے بت تراشی کے مطالبہ پر حضرت موسی علیہ السلام نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور فرمایا(انکم کنتم قوما تجھلون)تم انتہائی جاہل لوگ ہو۔ پھر موسی علیہ السلام نے ان کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلائیں جس کا انکار تو کافر بھی نہیں کر سکتا۔ مگر کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ اللہ کی نعمتوں سے مالامال ہونے کے باوجود موقعہ ملتے ہی بنی اسرائیل کے شر پسندوں نے پھر اپنا پھن اٹھایا۔ موسیؑ جب کوہ طور پر اللہ سے ملاقات کو گئے تو پیچھے سامری نے زیورات پگھلا کر ایک بچھڑا بنایا اور غلامانہ ذہنیت کی حامل بنی اسرائیل کے ایک بڑے طبقے نے اس بچھڑے کو موسیؑ کا خدا سمجھ کر عقیدت سے پوجا کی۔ موسیؑ کو اللہ تعالی نے اس کی اطلاع دی۔ وہ مرد غیور غیض و غضب سے بھرے ہوئے غصہ میں اپنی قوم کے پاس پلٹے۔ سامری کو ایسی بد دعا دی کہ وہ سسک سسک کر جنگلوں میں بھٹکتا ہوا راندۂ درگاہ ہوا۔ بچھڑے کو جلا کر راکھ کر دیا اور سمندر میں اس کی راکھ بہا دی اور پھر بنی اسرائیل کو اکٹھا کر کے آپؑ نے یہ ربانی فیصلہ نافذکیا کہ جن جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ان کو ان کے رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل کیا جائے۔ چنانچہ صبح سے شام تک قتل ہوتے رہے۔ ستر ہزار سے زائد بنی اسرائیل اپنے احباب کے ہاتھوں ہی قتل ہوئے۔ یہاں تک کہ رب العالمین ارحم الراحمین نے فرشتوں کو بھیج کر اس قتل عام کو رکوایا اور معافی کا اعلان کیا۔
یہ پورا واقعہ کسی قصہ گوئی کے لیے نہیں ہے، نہ ہی اس سے کوئی کند ذہن یہ مطلب نکالے کہ بنی اسرائیل پر غلامی کے اثرات تھے او رہم پر بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتے۔ اوراگر اس استدلال میں ذرہ برابر بھی دم ہوتا تو اللہ تعالی ان کے قتل کا حکم نہ دیتے۔ اگر بنی اسرائیل کی روش پر چل کر بت پرستی کا اتنا ہی شوق ہے تو توبہ کے لیے اپنی گردن کٹوانے کی بھی تیاری ہے کیا؟ صرف ایک بار بچھڑے کو پوجنے کی اتنی سخت سزا ہے تو ان لوگوں کا کیا ہوگا جن کے دلوں میں بت بیٹھ گئے ہیں۔ واشربوا فی قلوبہم العجل
دنیا میں بنی اسرائیل کے بت پرستوں (حالانکہ وہ ایک بار کا ہی واقعہ تھا) کی توبہ قتل کے ذریعہ قبول کی گئی۔ گویا وہ تائب ہوئے تھے۔ ولما سقط فی ایدیہم و راو انہم قد ضلوا قالوا لئن لم یرحمنا ربنا ویغفر لنا ذنوبنا لنکونن من الخسرین۔۔۔الخ موسیؑ کی واپسی سے پہلے ہی اپنے گناہ کا انہیں احساس ہو چکا تھا(وراو انہم قد ضلوا) اور موسیؑ کی تفتیش پر جب سامری نے عذر گناہ بدتر از گناہ (فقبضت قبضۃ من اثر الرسول)پیش کیا اور اظہار شرمندگی کے بجائے شیطانی حجت پر اتر آیا تو اسے قتل کرنے کے بجائے آپؑ نے اسے بد دعا دی او رکہا (۔۔۔ان تقول لا مساس) چنانچہ ایک خارش زدہ کتے سے بھی زیادہ بری موت مرا ،جنگل میں ویرانی میں تنہائی میں۔ اور آخرت میں وہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا۔ جہاں پینے کو سڑا ہوا خون اور پیپ ملے گا یا ایسا گرم پانی جو آنتوں کو بھی کاٹ کر رکھ دے گا۔ وہاں وہ موت کو پکارے گا مگر موت نہ آئے گی۔ جب جب اس کی جلد جل جائے گی اللہ تعالی دوسری جلد چڑھا دے گا تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتا رہے۔
موت کی سزا کا نفاد تو ان لوگوں پر ہوا تھا جنہوں نے توبہ کر لی تھی اور معافی مانگ لی تھی۔انہیں اس شرط پر معافی دی گئی کہ انہیں ان کے رشتہ دار قتل کریں گے۔ اور قتل ہونے والوں میں سے کسی نے بھی اپنے دفاع کی کوشش بھی نہیںکی۔ گردنیں جھک گئیں۔خوب تلواریں چلیں۔ میدان جنگ کا سماں پیدا ہو گیا۔ عورتیں بلکتیں رہیں بچے سسکتے رہے۔ اس کی توجیہ بس یہی کی جا سکتی ہے کہ ایمان لانے کےبعد بت پرستی شرک کی اتنی بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہے گویا وہ افراد معاشرے کے لیے کینسر بن جاتے ہیں اور اس کا واحد حل یہ قرار پاتا ہے کہ اس کینسر زدہ حصہ کو موت کی شکل میں کاٹ کر پھینک دیا جائے تاکہ باقی ماندہ معاشرے کو موت کے منھ میں جانے سے بچایاجا سکے۔ اللہ رب العالمین ارحم الرحمین کا معاملہ اس رحم دل اور انسانیت نواز ڈاکٹر سے بہت ارفع ہے جو جسم کے دیگر حصوں کو بچانے کے لیے مریض کی ٹانگ یا اس کا سڑا ہوا حصہ کاٹ کر الگ کر دیتا ہے۔
ہندوستان یا بھارت آج دنیا میں بت پرستی کا سب سے بڑا اڈا ہے۔ نہ صرف یہاں بت پرستی ہوتی ہے بلکہ بہت ہی منطم انداز میں ٹیکس دہندگان کے سرمایہ سے بت پرستی کو پروموٹ کیا(پھیلایا) جا رہا ہے۔ سونیا گاندھی عیسائی ہونے کے باوجود گنگا اسنان سے لے کر مورتی پوجا اور دشہرہ دیوالی تک پورے اتساہ (ذوق و شوق)سے منا رہی ہیں بلکہ پچھلے دنوں تو ڈیوڈ کیمرون وزیر اعظم برطانیہ کی ایک تصویر اخبار(انڈین اکسپریس) میں چھپی جس میں وہ برطانیہ کے ایک سوامی نارائن مندر میں ہندؤوں کے ساتھ کھڑے ہو کر مورتی کی آرتی اتارتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ چونکہ مذہبی حیثیت سے بت پرستی کی ترویج مشکل ہے۔ اس لیے اب اس کو ایک تہذیبی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جیسے کوئی امریکہ جا کر کاؤبوئے ہیٹ پہن لے، یا جاپان جا کر وہاں کا مقامی لباس زیب تن کر لے یا ہندوستان آکر ماتھے پر بندیا یا مورتی کی آرتی اتار لے۔ یا کم از کم اپنی ہی آرتی اتروالے۔
جارحانہ قوم پرستی اور تہذیبی یلغار کی یہ جوبوچھار اتنی تند و تیز ہے کہ خود ہندوستان کا غیر مسلم طبقہ بھی اس کی آنچ محسوس کرنے لگا ہے۔ ابھی پرسوں ہی ایک خبر اخبارات کی زینت بنی جس میں میزورم کے ایک وزیر نے ماتھے پر تلک لگا کر پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس پر دیگر افرادنے سخت تنقید کی جس کے بعد مذکورہ وزیر نے یہ کہہ کر دفاع کی کوشش کی کہ میں نے پریس کانفرنس کے بعد ہی تلک پونچھ دیا تھا لیکن جن لوگوں کے ماتھے پر بے گناہوں کا خون لگا ہے وہ ان دھبوں کو کیسے پونچھیں گے۔
سکھوں کے ہاں گرونانک کی تصویر کو عام کرکے ،مسلمانوں کے ایک طبقہ میں ہرے دوشالے میں شیرڈی والے سائیں بابا کو مقبول بناکر،کروڑوں کے صرفہ سے بت پرستی کو عام کرنے کی یہ کوشش کئی دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اور اس میں زیادہ تر قوم پرستی او رتہذیبی اقدار کی اصطلاحات کا استعمال کیا گیا ہے۔
راقم الحروف اس وقت دنگ رہ گیا جب اس کےایک استاد نے ایک شعری نشست کا افتتاح شمع جلا کر کیا۔ حالانکہ وہ پکے موحد ہیں۔ میں نے جب اعتراض کیا تو ان کا کہنا تھا: بیٹے!یہ ایک علامتی چیز ہے۔ میں نے عرض کیا: غیر مسلم دیا جلا کر افتتاح کرتے ہیں۔ جواب ملا: ہم نے شمع جلائی ہے۔ میں نے کہا :نکلی تو دونوں میں سے آگ ہی ہے۔ اور دیا در اصل اگنی دیوتا ہی کو representکرتا ہے۔ دئیے اور شمع میں الفاظ کا فرق ہے۔ اصل مقصد تقریب کا مذہبی افتتاح ہے جس میں اگنی دیوتا کو پرکٹ کرکے مذہبی تبرک مقصود ہے۔ اس سے زیادہ شرم کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ نعت نبیؐ کی محفل کا آغاز شمع جلا کر کیا جائے۔ لیکن پردھان منتری سے لے کر ایک معمولی تھانہ دار تک دیا جلا کر افتتاح کرتے ہیں۔ چونکہ دئیے میں کھلی مشابہت ہے اس لیے شمع کی آڑ لی گئی۔ مگر مقصد غالب تہذیب کی نقالی ہے وگر نہ سنت نبوی میں تو شمع جلانے کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ کمال کی بات تویہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیںجو دوکان ومکان میں خیر وبرکت کے لیے قرآن خوانی کو بدعت قرار دیتے ہیں مگر نشست کا آغاز شمع جلا کر کرتے ہیں۔
شادی بیاہ میں بِندی اور سندور لگانا عام سی بات ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ دین دار گھرانے کی عورتیں تک اس کی قباحت کو سمجھ نہیں پا رہی ہیں۔ نہ ہی ان کے مرد اس پر ٹوکنے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ شرک کا یہ سیلاب ایک معمولی تار کے ذریعہ ہمارے گھر میں گھس رہا ہے۔ تقریبا ہر چینل پر چلنے والے سیریل ،جس کا مشاہدہ پورا خاندان کرتا ہے، وہ کھلے عام شرک کو promoteکر رہا ہے۔ ہر قدم پر ایک رسم ہے۔ جس میں پوجا، تلک، پرساد، پیر چھونا، آرتی اتارنا اس قدر عام ہے کہ دین سے بے زار لوگ ہی نہیں، دیندار لوگ تک اس کی قباحت کو بھولتے جا رہے ہیں۔
ایک بار ایک دوست کے سسر نے راقم الحروف کو بارہ بنکی کے پولس کوارٹر میں سلا دیا۔ وہیں ایک شیو کی مورتی رکھی تھی۔ مجھےبڑی گھن آئی۔ کیونکہ وہ ایک مورتی تھی اور شیو کا جو کردار ہندو شاستر میں ملتا ہے وہ ایک اگھوری کا ہے جس کو سن کر مجھے گِھن آتی ہے۔ میںنے جھٹ تہمد نکالی کر اس مورتی پر ڈال دی۔ اتنے میں میزبان سسر آئے اور مورتی پر پڑی تہمد کو دیکھ کر مجھے بہت ڈانٹا اور فرمایا کیا یہ مورتی تم کو کھا جائے گی۔ ان کی مروت میں خاموش رہا۔ مگر رات بھر نیند نہیں آئی اور صبح ہوتے ہی اپنے دوست یا سسر سے ملے بغیر بھاگ نکلا۔ مگر آج گھر میں ٹی وی ہے۔ کبھی بھی کوئی بھی مورتی آ ٹپکتی ہے اور دل میں کراہت ختم تو نہیںہوتی لیکن نالے پر رہ کر نالے سے مانوس ہو جانے کے بعد ڈر ہے کہ کہیں دل اس سے بھی مانوس نہ ہوجائے۔نعوذ باللہ
یہ وہ زہر ہے جو پیڑھیوں میں نقصان پہونچاتا ہے۔ آج ہم کراہت سے قبول کر رہے ہیں۔ اگلی نسلیں صراحت سے قبول کر سکتی ہیں۔ بلکہ معاملہ اس سے آگے بڑھ چکا ہے۔ اور اگر اب بھی ملت کی قیادت نے اس کا شعور و احساس نہیں کیا تو خود اپنے ہاتھوں ورنہ بدست دیگراں ہمارا قتل عام کیا جائے گا(کیونکہ اجتماعی بت پرستی کی یہی سزا ہے) اور چونکہ اس میں شعوری توبہ شامل نہیں ہوئی اس لیے یہ قتل بھی توبہ کے لیے کارآمد نہیں ہوگا۔ اور آخرت کا عذاب تو بڑا ہی بھیانک ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *