غزل (بہ رنگ ِ اقبال) ؒ

تقاضے بہ سودائے جاں، اور بھی ہیں
مقالاتِ سود و زیاں، اور بھی ہیں

ہوئے جس سے بسمل، یہود و نصاریٰ
وہ تیر اپنے ترکش میں، ہاں! اور بھی ہیں

ابھی حرف و معنی کے دفتر کھلیں گے
مگر دل کے ذکر و بیاں، اور بھی ہیں

مجھے روز و شب کے اشاروں میں ڈھونڈو
کہ ہستی کے میری، نشاں اور بھی ہیں

فسوں تیرا ہے کہ مفاہیمِ الفت
عیاں چند لیکن، نہاں اور بھی ہیں

ابھی ہے جہانوں کی تسخیر باقی
ابھی تیرے آگے ، مکاں اور بھی ہیں

یہ چپکے سے اقبال، عاقبؔ سے بولے
ابھی دورِ تیغ و سناں، اور بھی ہیں

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *