لادینی سیاست کے کڑوے کسیلے پھل

مظفر نگر فساد کے بعد وہاں جانے کی توفیق نہ تو نریندر مودی کو ہوئی اور نہ مایا وتی کو ۔وزیر اعظم منموہن سنگھ،سونیا گاندھی اور ان کے فرزندِ ارجمند راہل گاندھی نےبڑے طمطراق کے ساتھ ۱۷ ستمبر کو فسادزدہ علاقوں کا دورہ کیا اور جن متاثرین سے ملاقات کی ان میں سے ایک کتبہ کا رہنے والاجمیل احمد بھی تھا ۔ جب جمیل احمد نے اپنی داستانِ الم سنائی کہ کس طرح رات کے آخری پہر انہیں جان بچا کر فرار ہونا پڑا تو راہل کی آنکھیں نمناک ہو گئیں ۔ یہ دیکھ کر بسی کلاں کے پناہ گزین کیمپ میں رہنے والے جمیل احمد اور اس کے ساتھیوں کے اندر امید کی کرن جاگی ۔ انہوں نے سوچا کہ شاید اب ان کی بازآبادکاری کیلئے کوئی ٹھوس اقدام کیا جائیگا ۔ لیکن اس دورے کے چالیس دن بعد بھی کوئی مددتو نہیں آئی لیکن ان بے یارو مددگار لوگوں کو جن کے پیٹ میں نہ دانہ ہے اور نہ سونے کیلئے بسترذرائع ابلاغ سےفون آنے لگے اور دریافت کیا جانے لگا کہ کیا وہ پاکستانی آئی ایس آئی سے رابطے میں ہے ۔ مظلومین کے زخموں پریہ نمک راہل گاندھی کا تحفہ تھا ۔وہ لوگ جن کیلئے فون کا کنکشن رکھنا مشکل ہے سوچنے لگے ہیں کہ آنے والے راہل گاندھی اور اخباری نمائندوں سے بہترتو نہ آنے والے نریندرمودی اور مایاوتی ہیں ۔
راہل گاندھی نے اپنے بچکانہ بیان سے پھر ایک بار ثابت کردیا کہ اگر کل کو نریندر مودی خدانخواستہ اقتدار میں آجاتا ہے تو وہ چمتکار اس کی کسی قابلیت کے باعث نہیں بلکہ راہل بابا کی حماقتوں کے سبب ہوگا۔نریندر مودی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ جب اس کی وزارتِ اعلیٰ کے دن بھرے تو اڈوانی جی اپنی سیاسی مدتِ عمر پوری کرکے کنارے ہوگئے نیز ان کے سامنے کانگریس نے نہایت ناتجربہ کار حریف کی صورت میں راہل گاندھی کو اتاردیا۔ نرسمھا راؤ کی شکست کے بعدسونیا گاندھی کو کانگریس پارٹی نہایت خستہ حالت میں ملی تھی لیکن سونیا نے جستہ جستہ اس کی حالت سدھار دی ۔ ؁۲۰۰۴ میں کانگریس کو مرتے پڑتے سب سے بڑی پارٹی بنا دیا اور کسی طرح علاقائی جماعتوں کو راضی کرکے منموہن سنگھ کی قیادت میں متحدہ ترقی پذیر محاذ کی حکومت قائم کردی۔ پانچ سال بعد ؁۲۰۰۹ جب کانگریس کو اچھی خاصی کامیابی مل گئی تو لوگوں کو توقع تھی کہ اب ایک مناسب شگون دیکھ کر راہل کی تاجپوشی کردی جائیگی لیکن سونیا سے زیادہ راہل کو کون جان سکتا تھا ؟اس لئے پورے پانچ سال گزر گئے لیکن وہ ایسی جرأت نہیں کرسکیں اور اب راہل آئے دن یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ ماں کے اندیشے صد فیصد درست تھے۔
راہل گاندھی کے ناعاقبت اندیش بیان کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ پہلی مرتبہ نریندر مودی کی زبان پر مظفر نگر کا نام آیا ورنہ تو یہ عالم تھا کہ شوچالیہ سے لے کر دیوالیہ تک سارے مسائل پر گفتگو کرنے والے مودی کی زبان اس بابت گنگ تھی ۔ کسی کو اس سے شکایت بھی نہیں تھی اس لئے کہ لوگ سوچ رہے تھے کہ اگر وہ بولے گا بھی تو اپنی سابقہ روایت کے مطابق یہی بولے گا کہ پناہ گزین کیمپوں کو بند کردیا جانا چاہئے اس لئے کہ وہ بچے پیدا کرنے والی صنعت بن گئے ہیں۔ لیکن راہل گاندھی نے اس قدر انوکھا بیان دیا کہ اسکے جواب میں نریندر مودی مسلمانوں کی حمایت میں کرنے کا نادر موقع ہاتھ آگیا ۔ مودی کے مطابق راہل نے اس بیان کے ذریعہ مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے ۔ اس لئے یا تو وہ اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کرے یا معافی مانگے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری دنیا سے پھٹکار سننے کے بعد جس شخص نے گجرات کے فساد کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معافی نہیں مانگی وہ معافی کا مطالبہ کررہا ہے۔ ویسے کوئی بعید نہیں کہ راہل گاندھی بھی اسی طرح اپنے دکھ کا اظہار کردے جیسا کہ مودی نے ٹائم میگزین کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرنادانستہ طور پر بھی آپ کی گاڑی کے نیچے کوئی کتے کا پلاّ آجائے تو دکھ ہوتا ہی ہے ۔ احمقانہ سطح پر راہل گاندھی یقیناً نریندر مودی سے فائق ہے ۔
راہل گاندھی کے اس بیان کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان سیاسی بساط کے مرکز میں آگئے اور بازی کچھ اس طرح سے سجی کے ایک جانب ان کی مخالفت میں ایک دوسرے کے کٹر مخالف نریندر مودی اور اعظم خان تھے تو دوسری طرف ان کی حمایت میں ایک دوسرے کے ازلی دشمن آرایس ایس اور مولانا ارشد مدنی ۔ راہل کے اس بیان کو آرایس ایس کے ترجمان نے نہ صرف سراہا بلکہ نریندر مودی کےردعمل سےبرأت کا اعلان بھی کیا ۔ ایسے میں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ؁۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی تقریباً ۱۵ فیصد ہے جبکہ ایوان زیریں میں مسلم نمائندگی کا تناسب ۵ء۵ فیصد یعنی ۵۴۳ میں ۳۰ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان سکھوں کی طرح کسی ایک بڑی ریاست کے اندر کثیر تعداد میں نہیں بستے بلکہ ہندوستان کے طول وعرض میں مختلف پھیلے ہوئے ہیں۔جزیرہ لکشدیپ یا وادیٔ کشمیر کے علاوہ کسی بھی ریاست میں ان کی اکثریت نہیں ہے ۔ کل آبادی سے موازنہ کیا جائے تو آسام میں ان کی آبادی سب سے زیادہ۹ء۳۰ فیصد ہیں اس کے بعد بنگال میں ۲ء۲۵ فیصد،کیرالا ۷ء۲۴ فیصد، اتر پردیش میں ۵ء۱۸ فیصد اور بہار میں ۵ء۱۶ فیصد مسلمان بستے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے چونکہ کشمیر اور آسام قلیل آبادی والی ریاستیں ہیں اسلئے کم تناسب کے باوجود سب سے زیادہ یعنی مسلمانوں کی اپنی آبادی کا ۲۲فیصد صرف اتر پردیش میں رہائش پذیر ہے پھر اس کے بعد بہار ، بنگال اور مہاراشٹر کا نمبر آتا ہے جہاں پر ہر ایک صوبے میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڈ سے زیادہ ہے۔
صوبائی سطح سے اتر کر ضلعی سطح پر دیکھا جائے تو منظر نامہ کچھ اس طرح سے ہے کہ کل ۵۹۳ ضلعوں میں سے صرف ۲۰ کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ۹ تو ایسے ہیں جہاں مسلم آبادی ۷۵ فیصد سے تجاوز کرتی ہے۔ان میں سے ۸ جموں کشمیر اور ایک لکش دیپ ہے۔باقی ۱۱ضلعوں کے اندر آبادی ۵۰ سے ۷۵ فیصد کے درمیان ہے۔ اس طرح کے ۶اضلاع آسام میں دو جموں کشمیر میں اور ایک ایک بنگال ، بہار اور کیرالا میں ہے ۔ ایسے ضلع جہاں مسلمانوں کی آبادی ۲۵ سے ۵۰ فیصد کے بیچ ہے۳۸ ہیں ۔اتر پردیش میں ان کی تعداد ۱۲ ، بنگال میں ۵ کیرالا میں ۵،آسام میں ۴، بہار میں ۳،جھارکھنڈ میں ۲، دہلی میں ۲ اور ایک ایک جموں کشمیر،اترانچل و پانڈیچری میں ہے۔ ان کے علاوہ ۱۸۲ ضلعوں میں ۱۰ تا ۲۵ فیصد مسلم آبادی ہے اس طرح کل ۲۴۰ ضلعوں میں مسلم آبادی ۱۰ فیصد یا اس سے زیادہ ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی کا ۸۲ فیصد ان علاقوں میں اضلاع میں گزر بسر کرتا ہے۔باقی ۱۸ فیصدمسلمان دیگر۷۷ ضلعوں میں منتشر ہیں اور۱۹۵ ضلع ایسے ہیں جہاں مسلمان نہیں کے برابر ہیں۔
انتخابی نقطۂ نظر سے لوک سبھا یعنی ایوانِ زیریں کی ۳۵ نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلم رائے دہندگان ۳۰ فیصد یا اس سے زیادہ ہیں۔ ۲۰ سے ۳۰ فیصد رائے دہندگان ۳۸ حلقۂ انتخاب میں ہیں اور ۱۱تا ۲۰ فیصد ووٹرس ۱۴۵ نشستوں میں موجود ہیں اس طرح مجموعی طور پر ۲۱۸ انتخابی نتائج پر مسلمان اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ماضی کاتجربہ یہ ہے مؤخرالذکر ۱۱ تا ۲۰ فیصد والے علاقوں سے ہی اکثر مسلم نمائندہ منتخب ہوتا اس لئے کہ کثیر آبادی والےعلاقوں میں اکثر کئی مسلم امیدواروں کے درمیان ان کا ووٹ تقسیم ہوجاتا ہے اور بی جے پی تک کو کامیابی مل جاتی ہے۔ ان علاقوں میں ہندورائے دہندگان کسی ایک امیدوار کے پیچھے متحد ہوکر اسے کامیاب کردیتے ہیں۔ اس طرح کے حلقہ ہائے انتخاب اترپردیش کے۸۰ میں سے۵۴ ہیں۔بہار میں ۲۹ اور بنگال میں ۲۸، کرناٹک میں ۱۵،کیرالا میں ۱۴ ،مہاراشٹر میں ۱۳ ،آندھرا پردیش میں ۱۲، آسام میں ۹ نیز گجرات و راجھستان ہرایک میں ۶ ہیں۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ اترپردیش میں سماجوادی، بہوجن سماج اور کانگریس پارٹیاں کیوں مسلمانوں کی خوشامد کرتی ہیں اور بہار میں نتیش نے کس لئے نریندر مودی سے ہاتھ ملانے کے بجائے بی جے پی سے تعلقات منقطع کرلئے ۔بی جے پی کی مرکز میں بننے والی دونوں حکومتیں اتر پردیش اور بہار میں ان کس کو ملنے والی زبردست کامیابی کی بدولت تھیں۔
اترپردیش جہاں مسلمانوں کی سب سے کثیر آبادی ہےسیاسی صورتحال اس طرح سے ہے کہ تقریباً چوبیس حلقۂ انتخاب میں مسلمان رائے دہندگان ۲۰ فیصد یا اس سے زیادہ ہیں۔ مٖغربی یوپی کے اندر بریلی، بدایوں، پیلی بھیت ، رام پور،سنبھل ، امروہہ، میرٹھ، سہارنپور،بجنور،مرادآباد اورفسادزدہ مظفرپور کا شماران علاقوں میں ہوتا ہے۔ مشرق کی جانب نکل جائیں تو اعظم گڑھ،بہرائچ،گونڈہ، بستی،وارانسی،ڈومریا گنج اور بلرام پور میں مسلمان معتبدہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ؁۲۰۰۹ کے اندر ان میں سے کچھ مثلاًاعظم گڑھ سے بی جےپی کا امیدوار کامیاب ہوگیا ۔ اس بار مسلمانوں سے کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے توقعات باندھ رکھی ہیں لیکن مودی کی امیدواری نے مسلمانوں کو فکرمند کردیا ہے اور وہ اپنے ووٹ کی تقسیم کو لے کر پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔ بریلی سےجہاں مسلمان ۳۴ فیصد ہیں ؁۱۹۹۱ کے بعد بی جے پی نے لگاتار پانچ مرتبہ کامیابی درج کروائی لیکن ؁۲۰۰۹ میں مسلمان اس کو ہرانے میں کامیاب ہوئے۔
اترپردیش کی حد تک انتخابی صورتحال مرکز سے مختلف ہے ۔ یہاں پر ؁۲۰۰۹ کے انتخابات میں مسلمانوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ اپنے حق رائے دہندگی کا استعمال کیا اور سماجوادی پارٹی کو غیر متوقع کامیابی سے نواز دیا۔ ایک اندازے کے مطابق ۸۰ فیصد مسلمانوں نے ملائم کی سائیکل پر مہر ثبت کی۔اترپردیش کے سیاسی افق پر مسلمانوں کی حالت بتدریج بہتری کی جانب گامزن رہی ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی تعداد ۴۲۵ ممبران والی اسمبلی میں صرف ۲۵ تھی ۶ یعنی فیصد سے کم لیکن اب یہ تعداد ۴۰۹ میں ۶۸تک پہنچ چکی ہے گویا ۱۷ فیصد جبکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں ان کی آبادی ۱۸ فیصد ہے۔ یہ اضافہ بتدریج ہوا ہے ؁۱۹۹۶ میں مسلم نمائندگی ۳۳ پر پہنچی اس کے بعد ؁۲۰۰۲ میں ۴۷ اور ؁۲۰۰۶ میں ۵۶ مسلمان انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے ودھان سبھا میں براجمان ہوئے۔ موجودہ ۶۸ نمائندوں میں سےحزب اقتدار سماجوادی میں ان کی تعداد ۴۲ ہے ۔ اس طرح گویا اقتدار میں وہ شریک ہیں۔ اس کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعت بی ایس پی کے۱۶ مسلمان ایم ایل اے ہیں ۔ کانگریس اور پیس پارٹی کے بھی چار چار نمائندے ایوان میں تشریف رکھتے ہیں۔ قومی ایکتا دل اور اتحاد ملت کےدودو ارکان اسمبلی میں موجود ہیں ۔اس غیر معمولی انتخابی کامیابی کے باوجود اترپردیش میں ایسا فساد رونما ہوا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اترپردیش میں فرقہ وارانہ فسادات تو ہوتے رہے لیکن تقسیم ہند کے وقت اور نہ اس کے بعد کبھی فسادادت کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کیلئے ایسے بڑےریلیف کیمپ لگانے کی نوبت آئی اورنہ ان میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو پناہ گزین ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔
امت میں ان لوگوں کیلئے جو انتخابی کامیابی کو امن و سلامتی کا ضامن سمجھتے ہیں ان انتخابی نتائج میں نشانِ عبرت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی بہترین کارکردگی بھی خاطر خواہ نتائج برآمدکرنے میں ناکام رہی ۔ اس موقع پر ایک دلیل یہ سامنے آ سکتی ہے کہ مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر غیروں پر اعتبار کیا اور جو نااہل ثابت ہوئے یا ان لوگوں نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ لوگ یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ اس حالتِ زار کی اصل وجہ ہے ہمارےنمائندوں کی اکثریت کاان جماعتوں سے تعلق رکھناہے جن کی باگ ڈور مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔لیکن اس خوش فہمی کے خلاف آسام کے بوڈو فسادات گواہ بن کر کھڑے ہوئے ہیں ۔ وہاں مسلمانوں کی اپنی جماعت یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے غیرمعمولی کامیابی حاصل کی اور سب سے بڑی حزب اختلاف جماعت بن کر ابھری اس کے باوجودمسلمان نہ صرف قتل وغارتگری کا شکار ہوئےبلکہ انہیں بھی بڑے پیمانے پر اپنے نقلِ مکانی کرکے پناہ گزین کیمپوں کا رخ کرنا پڑا۔ یہ واقعات نام نہاد جمہوری نظام کے چنگیزی چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس باطل نظامِ سیاست میں نہ اقلیتوں کی کثیر آبادی ان کے کسی کام آتی ہے اور نہ ان کی بہترین انتخابی حکمتِ عملی ان کو کوئی خاص فائدہ پہنچاتی ہے ۔ ایسے میں کچھ ترمیم کے ساتھ حفیظ میرٹھی کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ ؎
یہ بھی تو سوچئے کہ سیاست کے کھیل میں
دنیا نے ہم سے کیا لیا ، دنیا نے کیا دیا
مذکورہ مسائل کا تعلق اسلامی سیاست سے نہیں بلکہ مسلم سیاست سے ہے۔ جب سے مسلمانوں کے اندر دین و دنیا کی تفریق نے راہ پائی ان کی سیاست بھی دودھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ مسلم رہنماؤں اور عوام کا ایک بڑا طبقہ خود بھی اسلامی سیاست کے رموزو نکات سے ناواقف ہے مگر جولوگ اس کا شعور رکھتے ہیں وہ بھی بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہم سیاسی لوگوں کا نہیں بلکہ دینی تحریک کا کام ہے۔ ہم تو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے سیاست کے میدان میں آئے ہیں۔ ایسا کہنا نہ صرف سہولت بلکہ مجبوری ہے۔ موجودہ نظام جمہوریت کا جبر کسی ایسی جماعت کو جو یہاں پر رائج لادینی سیاسی نظام کو بدلنے کا عزم لے کر میدانِ سیاست میں داخل ہو اس وقت تک دستار نہیں باندھتا جب تک کہ وہ سیکولرزم کا کلمہ نہ پڑھ لے۔ وہ سیاسی جماعتوں کے دستور میں سیکولرزم کی شق پہلے دیکھتا ہے اور رجسٹریشن اس کےبعد میں کرتا ہے اس طرح نظام کی تبدیلی کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والوں کو پہلے ہی مرحلے میں بڑی آسانی سے بدل دیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کی فلاح بہبود کی خاطرجو سیاست گزشتہ ۶۵ سالوں میں کی گئی ہے اس کے نتائج بھی لرزہ خیز ہیں۔
ماہانہ اخراجات کو معیار زندگی کی کسوٹی مانا جاتا ہے۔ایک جائزے کے مطابق قومی سطح پرمسلمان روزآنہ اوسطاً ۷ء۳۲ روپئے خرچ کرتا ہے جبکہ ہندو ۵ء۳۷ روپئے، عیسائی ۴ء۵۱ روپئے اور سکھ ۳ء۵۵روپئے۔ اس طرح گویا ایک سکھ گھر انےکے اوسط ماہانہ اخراجات اگر ۱۶۵۹ روپئےہیں تو مسلمان خاندان کے ۹۸۰ روپئے۔ تعلیم کے شعبے میں اگر بنگال کی مثال لیں جہاں ایک چوتھائی آبادی مسلمان ہےتو شہروں کے اندر۱۰۰۰ہندوطلباء میں سے ۳۰ پوسٹ گریجویشن کیلئے جاتے ہیں جبکہ طالبات ان سےدو زیادہ ہیں اس کے برعکس صرف ۱۰ مسلم طلبہ اور دو طالبات اعلیٰ تعلیم کیلئے یونیوسٹی میں پہنچ پاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں یہ فرق نہیں پایا جاتا ۱۰۰۰ میں سے پانچ مسلم وغیرمسلم طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔ پروفیسر عبدالصالح کے مطابق معاشی ابتری کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی جانبداری ہے۔ تعلیمی قابلیت کے مطابق انہیں ملازمت نہیں مل پاتی۔ ایسا نہ صرف شہروں میں ہوتا ہے بلکہ قومی دیہی لازمی روزگار یوجنا کے تحت بھی مسلمانوں کو ان کےجائزحق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں مسلمان نہ ہی اسلامی سیاسی نظام کو متبادل کے طور پیش کر تے ہیں اور نہ ملت کی فلاح و بہبود کا کوئی اہم ہدف حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرپاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ انتخابی سیاست مسلمان رائے دہندگان کئی جماعتوں کو اقتدار سے ہمکنار اور کئی کو اقتدر سے محروم کردیتےہیں لیکن خود انہیں کیا ملتا ہے؟ پناہ گزین کیمپوں میں ذرائع ابلاغ سے ایسے ٹیلی فون جن میں خیریت و عافیت کے بجائے یہ دریافت کیا جاتاہوکہ کیا وہ آئی ایس آئی سے رابطے میں ہیں ؟ کیایہ سوال انتخابی لادینی سیاست سے وابستہ امت کی خوش فہمیوں کے ازالے کیلئے کافی نہیں ہے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *