مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مغربی دنیا

مغربی دنیا خود کو مہذب اور عقل پرست کہتی ہے لیکن اس نے تاریخ کے ہر دور میں خود کو تہذیب اور عقل کا دشمن ثابت کیا ہے۔ مغربی دنیا کی تاریخ کا یہ پہلو مسلمانوں کے ساتھ تعلق کے طویل سفر میں زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے۔
اسلام ہمیشہ سے ایک ایسا مذہب تھا جو عیسائیت کے بنیادی تصورات کے قریب تر تھا۔ مثلاً مسلمان خدا اور آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔ وہ حضرت ابراہیمؑ کو اپنا جدِّ امجد مانتے تھے۔ مسلمان حضرت عیسیٰؑ کو جلیل القدر انبیاء میں شمار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ایک ایسی کتاب تھی جس میں کوئی سورۂ خدیجہ، سورۂ عائشہ اور سورۂ فاطمہ تو نہ تھی البتہ سورۂ مریم ضرور تھی۔ لیکن اس کے باوجود عیسائیوں نے اسلام کو آسمانی مذہب، قرآن کو الہامی کتاب اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تسلیم کرکے نہ دیا۔ بلکہ اس کے برعکس وہ مسلمانوں کے دشمن بن کر ابھرے۔ مسلمانوں کی عظیم اکثریت نے صلیبی جنگوں کا ذکر تو سنا ہے مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ صلیبی جنگوں کی ابتدا کیسے ہوئی تھی؟ صلیبی جنگوں کے آغاز کا سبب کوئی اور نہیں عیسائیوں کی سب سے مقدس ہستی پوپ تھی۔ سن 1095 میں اربن دوئم پوپ کے منصب پر فائز تھا اور اُس نے ایک تقریر میں فرمایا کہ نعوذ باللہ اسلام ایک شیطانی مذہب ہے اور میرے دل میں یہ بات گویا القا کی گئی ہے کہ عیسائی اس شیطانی مذہب اور اس کے ماننے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ اس کام کے لیے پوپ نے پورے یورپ کو ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کی تلقین کی اور سن 1099 میں عملاً ایسا ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی صلیبی جنگوں کی ابتدا ہوگئی اور صلیبی افواج نے دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کے قبلہ اوّل یعنی بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس پر قبضہ کرلیا۔ صلیبی جنگیں کم و بیش دو سو سال جاری رہیں اور بالآخر سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں عیسائیوں کی بدترین شکست پر منتج ہوئیں۔ تجزیہ کیا جائے تو صلیبی جنگوں کی پشت پر نہ تہذیب کھڑی نظر آتی ہے اور نہ عقل۔ ان کی پشت پر اندھی نفرت اور بلاجواز انتقام کا جذبہ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
نوآبادیاتی دور کے آغاز کا عہد مغرب میں فلسفے اور سائنس کے عروج کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں کوئی نائن الیون رونما نہیں ہوا تھا، مسلمانوں نے لندن یا پیرس کو نشانہ نہیں بنایا تھا، لیکن یورپ کی تمام اہم طاقتیں اپنے جغرافیے سے نکلیں اور انہوں نے بہتر اسلحے کے زور پر کم و بیش پورے عالم اسلام پر قبضہ کر لیا۔ برصغیر میں تو یہ تماشا بھی ہوا کہ انگریز تاجر بن کر آئے اور سازشوں کے ذریعے ملک کے حکمران بن گئے۔ اس نوآبادیاتی دور کی پشت پر بھی نہ تہذیب موجود تھی نہ عقل، لیکن کہا یہی گیا کہ سفید فام اقوام غیرمہذب قوموں کو مہذب بنانے نکلی ہیں۔ حالانکہ یورپی اقوام نے ڈیڑھ سو سال تک تواتر کے ساتھ ثابت کیا کہ ان کا اصل مسئلہ نئی منڈیوں کی تلاش اور اپنے صنعتی نظام کے لیے مفت خام مال کی فراہمی تھی۔ لیکن یورپی اقوام نے خود کو قبضے اور خام مال کی لوٹ مار تک محدود نہ رکھا۔ انہوں نے اسلام پر حملے کیے، اسلامی تہذیب کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، انہوں نے قرآن پر اعتراضات کیے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِطیبہ کو نشانہ بنایا، انہوں نے اسلامی علوم و فنون کی جڑیں کاٹیں۔آج یورپی دانش ور نوآبادیاتی دور کا دفاع تو نہیں کرپاتے مگر وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ یورپی اقوام نے مسلم ملکوں کو جدید بنایا، انہیں ریل اور ڈاک تار کا نظام دیا… اور وہ غلط نہیں کہتے۔ لیکن یورپی اقوام نے نوآبادیوں کو ریل کا تحفہ دیا تو اس کی بنیادی غرض یہ تھی کہ لوٹا ہوا خام مال تیزی کے ساتھ بندرگاہوں تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے ڈاک تار کا نظام متعارف کرایا تو اس لیے کہ ان کے مقبوضہ علاقوں میں برق رفتار اطلاعات کا نظام مستحکم ہوجائے تاکہ انہیں اپنا قبضہ برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے میں مدد ملے۔
اہم بات یہ ہے کہ اہلِ مغرب کو اپنے اس ماضی کی کوئی بات یاد نہیں اور وہ آج بھی نہ صرف یہ کہ تہذیب اور عقل و شعور کا پرچم لیے کھڑے ہیں بلکہ وہ پوری مسلم دنیا کو آئے دن لیکچر پلاتے رہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ مسلم ملکوں میں اقلیتوں کی صورت حال کتنی مخدوش ہے۔ افغانستان میں اگر ایک افغان باشندہ عیسائی ہوا تو پوری مغربی دنیا اُس کی پشت پر کھڑی ہوگئی، یہاں تک کہ پوپ بینی ڈکٹ شش دہم نے بھی اس کی حمایت میں بیان جاری کرنا ضروری سمجھا۔ مغربی دنیا کو اعتراض ہے کہ پاکستان میں تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کا قانون کیوں موجود ہے! اس قانون کے تحت آسیہ نام کی ایک عیسائی عورت گرفتار ہوئی تو اہلِ مغرب نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ کہا گیا کہ عیسائیوں کو تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے قانون کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے۔ امریکہ ہر سال انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ مرتب کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ مسلم دنیا میں انسانی حقوق بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کی صورت حال کتنی مخدوش ہے، لیکن خود مغربی ملکوں میں مسلم اقلیت کے ساتھ جو ہولناک امتیازی سلوک ہورہا ہے وہ کسی مغربی حکومت کو نظر نہیں آتا۔
اِس وقت یورپ میں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے۔ یہ آبادی ڈھائی سے تین فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، چنانچہ 2020ء میں یہ آبادی پانچ کروڑ اور 2050ء میں 10 کروڑ سے متجاوز ہو گی۔ اتنی بڑی آبادی اہلِ مغرب کے منہ میں چھچھوندر بن کر رہ گئی ہے۔ یعنی اہلِ مغرب نہ مسلمانوں کو نگل پا رہے ہیں نہ اگل پا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ مسلمانوں پر تقریبا ًٹوٹ پڑے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ اسلام اور دہشت گردی کو ہم معنی قرار دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو انتہا پسند، جنونی اور دہشت پسند باور کرایا جارہا ہے۔ فرانس سمیت یورپ کے کئی ملکوں میں پردے کو غیر قانونی قرار دے کر ’’جرم‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ پردہ کرنے والی خواتین، یہاں تک کہ اسکارف اوڑھنے والی خواتین کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے۔ وہ بازاروں میں نکلتی ہیں تو ان پر تھوکا جاتا ہے، ان پر تحقیر آمیز فقرے اچھالے جاتے ہیں، یہاں تک کہ مسلم خواتین پر حملے کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی دنیا کے کئی ملکوں میں مساجد غیرمحفوظ ہوگئی ہیں۔ ان پر تواتر کے ساتھ حملے ہو رہے ہیں، انہیں نذرِ آتش کیا جارہا ہے، ان میں خنزیر کا گوشت پھینکا جارہا ہے، مسلمانوں کو مساجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، کہا جارہا ہے کہ پہلے ہی بہت مساجد موجود ہیں۔ اگر مساجد بن رہی ہیں تو ان کے مینار اونچے کرنے کی اجازت نہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ مساجد کے بلند میناروں سے سیکولر ملکوں کا ’’افق‘‘ مشرف بہ اسلام یا “Islamize” ہوتا نظر آتا ہے۔ تقریباً تمام مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ مغرب کے خفیہ ادارے مسلمانوں کو اپنا ایجنٹ بننے اور دوسرے مسلمانوں کی جاسوسی کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے ٹیلی فونز اور کمپیوٹرز کی نگرانی کی جارہی ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی مجموعی آبادی کا دس فیصد ہے مگر اس آبادی میں بے روزگاری کی شرح قومی شرح سے دوگنی ہے۔ فرانس کے تعلیم یافتہ مسلمان نوکری کے لیے درخواست دیتے ہیں، لیکن اُن کے نام کے ساتھ اسلام لگا دیکھتے ہی ان کی درخواست ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جاتی ہے۔ مسلمان فرانس کے بڑے شہروں کے “Posh” علاقوں میں مکانات نہیں خرید سکتے۔ چنانچہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت شہروں کے مضافات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی دس فیصد ہے مگر ملک کے سیاسی نظام میں ان کی نمائندگی اعشاریہ ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ یورپ کے کم وبیش تمام ملکوں میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور یورپ کے تمام ملکوں میں سامنے آنے والے رائے عامہ کے جائزے بتا رہے ہیں کہ یورپی ملکوں کی اکثریت یورپ میں مسلمانوں کی موجودگی کو ایک خطرہ سمجھتی ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں نے ڈیڑھ سو سال تک یورپی طاقتوں کے تسلط کا بوجھ اٹھایا۔ گزشتہ ساٹھ ستّر سال سے وہ مغرب کی سیاسی، معاشی، عسکری اور تہذیبی بالادستی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ مگر یورپ اور امریکہ کی آبادی کو جمع کرلیا جائے تو مغرب کی 80 کروڑ آبادی چار ساڑھے چار کروڑ مسلمانوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔ لیکن مغربی ممالک میں مسلمانوں کی حالت ِزار ہمیں مغرب کے بارے میں کیا بتا رہی ہے؟
مغربی دنیا خود کو سیکولر کہتی ہے اور سیکولرازم کی تعریف ہی یہ ہے کہ ریاست مذہب کے معاملے میں غیرجانب دار ہوتی ہے۔ مگر پوری مغربی دنیا میں ریاست مذہبی معاملات میں ’’جانب دار‘‘ بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مسلم خواتین کے مذہبی تشخص اور مساجد کے ڈیزائن تک پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہ سیکولر رویہ ہے نہ عیسائیت کی تعلیم ایسا کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اہلِ مغرب نہ عیسائی ہیں نہ حقیقی معنوں میں سیکولر ہیں، بلکہ وہ صرف نسل پرست، طاقت پرست اور اسلام دشمن ہیں۔
مغربی دنیا خود کو تکثیر پسند یا Pluralist کہتی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ انسانی معاشروں کو زیادہ سے زیادہ کثیر الثقافت یا Multicultural ہونا چاہیے۔ مغربی دنیا اس سلسلے میں آئے دن عالم اسلام کو لیکچر پلانے میں لگی رہتی ہے مگر وہ اپنے درمیان اسلامی ثقافت اور اس کے مظاہر کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مغرب حقیقی معنوں میں تکثیر پسند اور ثقافتوں کے گلدستے کو سراہنے والا بھی نہیں ہے۔
مغربی ممالک ساری دنیا کو برداشت یا Tolerence کا درس دیتے رہتے ہیں لیکن اہلِ مغرب مسلمانوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر جو کچھ کر رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ عدم برداشت یا Intolerence تو کسی میں بھی نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ عدم برداشت اس حال میں سامنے آرہی ہے کہ مغرب تہذیبی، معاشی، سیاسی اور عسکری طور پر بالادست ہے۔ طاقت اور عروج کے زمانے میں مغرب کی عدم برداشت کا یہ عالم ہے تو نہ جانے کمزوری اور زوال کے عہد میں اس کی عدم برداشت کا کیا عالم ہوگا!
مغربی دنیا آزادی اور مساوات کی بڑی علَم بردار ہے، مگر وہ اپنے یہاں موجود مسلمانوں کو بتا رہی ہے کہ وہ صرف اس کے غلام بن کر رہنے میں آزاد ہیں۔ وہ اپنے مذہب، اپنی تہذیب، اپنی تاریخ، اپنے تصورِ انسان، اپنے تصورِ زندگی اور اپنی اقدار پر اصرار کریں گے تو مغرب ان کو باغی سمجھے گا اور اپنے معاشروں میں ان کا رہنا دوبھر کردے گا۔ جہاں تک مساوات کا تعلق ہے تو مغرب نے مسلمانوں کے سلسلے میں برابری کیا عدم برابری کی بھی کوئی حد تک مقرر نہیں کی ہوئی ہے۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کو ایک عجیب وغریب نتیجے تک پہنچا رہی ہے اور وہ یہ کہ مغرب خود کو طاقت ور کہتا ہے اور بظاہر وہ طاقت ور نظر بھی آتا ہے، مگر مسلمانوں کے سلسلے میں اُس کے رویّے سے اُس کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری ظاہر ہورہی ہے۔ اس کمزوری کی نوعیت اخلاقی بھی ہے، تہذیبی بھی… سیاسی بھی ہے اور ذہنی و نفسیاتی بھی۔ اس کے برعکس مسلمان بظاہر کمزور ہیں مگر مغرب ان کے سلسلے میں جتنے ہاتھ پائوں مار رہا ہے اس سے مسلمانوں کی طاقت کا اظہار ہورہا ہے۔ یہ طاقت مذہبی بھی ہے، اخلاقی بھی… تہذیبی بھی ہے اور سماجی بھی… نفسیاتی بھی ہے اور ذہنی و جسمانی بھی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *