کیا پتھری بلؔ بھارت کو سنگسار کرتا رہے گا؟

اننت ناگ ضلع کے پتھری بل میں کئے گئے انکائونٹر اور پھر اس پر کی گئی لیپا پوتی نے کشمیر کی تاریخ میں ہندوستان کے ریکارڈ پر ایک اور کالے داغ کا اضافہ کر دیا ۔ احتساب آئین کے سلسلہ میں جو قانونی سوالات اس سے کھڑے ہوئے اس نے یقینا پورے ملک کو متاثر کیا۔یہ سوالات بھارت کے آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے اس حصہ کو کہ جسے ـ ’’ناقابل ترمیم ‘‘تسلیم کیا جاتا ہے بہت گہرائی سے چھو گئے۔
ممتاز قانون داں اے وی ڈائسی نے ایک صدی پہلے برطانیہ کے لئے لکھا تھاــ’’ہمارے لئے ہرسرکاری حاکم پھر چاہے وہ وزیر اعظم ہو، ٹیکس کلیکٹر ہو یا کانسٹبل ہو ، کسی بھی دوسرے شہری کی طرح ایک کام کے لئے برابر ذمہ دار ہے۔اور اس کے لئے کسی قانونی جواز کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قانون کی تاریخ ایسے مقدمات سے پر ہے جن میں سرکاری حکام کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور انہیں’’ ان کاموں لئے کہ جو انہوں نے سرکاری کردار میں رہتے ہوئے لیکن اپنی قانونی حدود سے باہر جاکر انجام دیے تھے ‘‘سزا کامستحق قرار دیا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہاــ’’ایک گورنر،ریاستی سکریٹری،فوجی افسر اور تمام ماتحت اہلکار اگرچہ اپنے اعلی سرکاری حکام کے حکم کو ہی کیوں نہ ناٖفذ کرتے ہوں ،وہ کسی بھی ایسے کام کے کہ جس کی قانونی اجازت نہ ہوایک عام شہری کی ہی طرح برابر ذمہ دار ہیں ۔
قانونی ضابطہ برائے جرم کی دفعہ ۱۹۷ ((Section 197 of CrPC
لیکن جب بھارت میں برطانیہ نے اپنے آئین کے نفاذ کا اعلان کیا تو اپنے اہلکاروں کی حفاظت کے واسطہ ان بنیادی حدود ہی کو اس قانون میں شامل نہیں کیا۔دفعہ ۱۹۷ کہتی ہے کہ اگر کسی سرکاری اہلکار پر مبینہ طور پر کسی جرم کا الزام عائد کیا جاتا ہے ’’جبکہ وہ اپنی سرکاری ڈیوٹی انجام دے رہا تھا‘‘توکوئی بھی عدالت مرکزی یا ریاستی سرکار کی منظوری کے بغیر اس کے جرم کے بارے میں کوئی بھی چارہ جوئی شروع نہیں کرے گی۔
سرکاری حکام کو دیے گئے تحفظات نہ صرف ۱۹۷۳ کی سی۔آر۔پی۔سی میں کی گئی نظر ثانی کے بعد بھی اپنی جگہ پر قائم رہے بلکہ بعد میں بننے والے ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین کو بنیاد بھی انہوں نے ہی فراہم کی۔
۳۰ جنوری ۲۰۱۳ء؁ کو جسٹس (ر)جے۔ایس۔ورما نے کہا ۔کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ آخر ایک جنسی زودوکوب جیسا عمل سرکاری حکام کے کام کی کارکردگی کے ساتھ کس طرح منسلک کیا جاسکتا ہے تو اسے دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔وہ مزید کہتے ہیں ـ’’ہمارا صرف یہ موقف ہے کہ ایسے معاملوں میں عدالت کو قانونی کارروائی کے لئے کسی بھی طرح کی منظوری لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول ان بے رحم قاتلوں پر لاگو نہیں ہوتا جنہوں نے اس فرضی انکائونٹر کو انجام دیا۔ایک آرٹی آئی کے جواب میں ایڈیشنل سکریٹری(ہوم) نے تسلیم کیا،’’کہ کشمیر میں پچھلے ۲۰ سال سے آفسپا کے تحت اس طرح کی کوئی بھی منظوری نہ تو وزارت دفاع اور نہ ہی وزارت داخلہ نے دی ہے‘‘۔ اوراس میں کوئی تعجب بھی نہیں کیونکہ کشمیر میں اس طرح سزا سے مستثنی رکھنے کا ایک کلچر سا غالب ہے۔۱۴ جون ۲۰۱۰ء؁ کے ہندو کے ایڈیٹوریل نے اس قسم کے مجرموں کی نشاندہی کی ہے۔
پتھری بل انکائونٹر انجام دینے والوں کی مکمل حقائق کے ساتھ یقینا یہ ایک مناسب تفصیل ہے۔اننت ناگ ضلع کے چھتی سنگھ پورہ گائوں میں ۳۶ سکھوں کو اسی دن قتل کیا گیا جس دن بل کلنٹن ہندوستان کے دورہ پر تشریف لارہے تھے۔جس کے بعد پورے علاقہ کی تلاشی لینے کے دوران راشٹریہ رائفلز کے سات جوانوں نے پتھری بل گائوں میں پانچ افراد کو دہشت گرد ہونے کا الزام لگاکرایک انکائونٹر میں قتل کردیا ۔ میجر امیت سکسینا نے اس کارروائی کی ایک ایف آئی آر بھی کرائی اور ضبط شدہ اسلحہ کا بیورا بھی پیش کیا ،کہ جس میں ان پانچوں کے پاس بھاری اسلحہ بارود کے علاوہ ’اے کے۴۷‘ ہونے کی بات بھی کہی گئی تھی ۔
حالانکہ لوکل پولیس اس بات کو دوہراتی رہی ہے کہ آرمی مبینہ طور پر دہشت گرودوں سے ضبط شدہ اسلحہ اب تک اسکے سپرد نہیں کر پائی ہے،حالانکہ یہ ثبوت کے غائب کرنے جیسا ایک قانونی جرم بھی ہے ۔
اس واقعہ سے مچے شوروغل کے بعد سی بی آئی نے اس کی جانچ شروع کی اور اور سیشن کورٹ میں اس کے جعلی انکاونٹر ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک چارج شیٹ داخل کی ۔ جس میں کرنل اجے سکسینا،میجر برجیندر پرتاپ سنگھ،میجر سوربھ شرما،صوبیدار ادریس خان اور راشٹریہ رائفلز کے کچھ اور جوانوں کو موجب الزام قرار دیتے ہوئے ان پر بے گناہوں کے قتل کی سازش رچنے کا الزام عائد کیاگیا۔اس میں بتا یاگیا کہ میجر امیت سکسینا نے نہ صرف ایک جھوٹا ضبط شدہ اسلحہ کا بیورہ تیار کیا بلکہ ایک جھوٹی رپورٹ بھی لوکل پولیس اسٹیشن میں تحریر کرائی کہ جس میں پانچ مقامی شہریوں کو غیر ملکی دہشت گرد بتا یا گیا،انہوں نے اپنے اعلی افسران کو بھی جھوٹی معلومات فراہم کی۔
جیسا کہ امید تھی افسران نے اس کے خلاف لام بندی شروع کردی کہ آفسپا ایکٹ کی دفعہ سات (کہ جو سی آر پی سی ۱۹۷ سے متاثر ہے)کے تحت کسی سرکاری افسر کے خلاف کوئی بھی مقدمہ اُس وقت تک شروع نہیں کیا جاسکتا جب تک مرکزی حکومت سے اس کی پیشگی منظوری نہ لے لی گئی ہو،جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو اس نے فیصلہ سنایا ۔’’دفعہ ۷ کو آزادانہ طور پر لاگو کیا جانا چاہئے‘‘۔اس کا مطلب صاف تھا کہ اسے حکام کے حق میں لاگو کیا جانا چاہئے۔
سرکاری ذمہ داری((Official Duty
دفعہ ۱۹۷ دراصل ان تمام ذمہ دار سرکاری ملازمین کو اس ممکنہ پریشان کن کارروائی ’’ جس کا ان پر الزام عائد کیا گیا ہو‘‘، اس سے بچانے کی ایک کوشش ہے۔ان کو دیے گئے ان تحفظات کی کچھ خاص حدیں ہیںاور یہ تحفظ ان کے لئے اس وقت ہی موجود ہے جب ان کے ذریعہ کیا گیا مبینہ غلطی کسی بھی طور پر ان کی سرکاری ذمہ داری کے ساتھ منسلک ہو ،نہ کہ یہ ان کے لئے گناہوں کے چھپانے کی چادر ہے کہ جس کے نیچے وہ سارے جرم کرسکیں۔یہاں جملہ ’’سرکاری ذمہ داری ‘‘کا مطلب کوئی’ کام یا خطا‘ کسی سرکاری اہلکار کے ذریعہ اپنی ڈیوٹی کے دوران کسی ذمہ داری کو ادا کرتے وقت ہونے والی خطا ہے۔اب کوئی بتائے کہ ایک جعلی انکائونٹر کایا جان بوجھ کر قتل کرنے کا اسـ’’ سرکاری ذمہ داری‘‘ کے ساتھ بھی کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟
اس صدی میں اورخاص طور پر جب سے سی آر پی سی عمل میں آئی ہے،قانون کا ایک ایسا پریشان کن ڈھانچہ تشکیل پاگیا ہے جس میں کسی شفافیت یا استحکام کی کوئی امید نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے پاس(عدالتی فعالیت کے جذبہ کے تمام دعووں کے ساتھ) دو واضح اختیارات تھے۔ایک تو یہ کہ وہ دفعہ ۱۹۷ اور اس جیسی آفسپا اوردیگر قوانین میں موجود دفعات کو ختم کردے جو خود اپنی فطرت میں قانون کی دفعہ مساوات (دفعہ ۱۴)یا دفعہ ذاتی آزادی(دفعہ ۱۹)کے خلاف ہے ۔ یا دوسرا اختیار تھا کہ اس کے معنی ہی کو محدود کردیا جائے۔
۱۹۴۹ ء؁میں پرائوی کونسل لندن نے معافی کی خواستگارہوتے ہوئے یہ فیصلہ دیاتھا کہ،عزت مآب جیوری نے بھارت میں موجود حالات کے بارے میں پیش کی گئی دلیل کی معقولیت کو قبول کرتے ہوئے جو کہا ہے کہ سرکاری حکام کی قانونی کارروائی سے تحفظ کے لئے ایک بڑے پیمانہ پر اقدام ضروری ہے، یہ بات سرکاری اہلکار وںکے سارے معاملوں پر لاگو نہیں ہوسکتی ،وہ سارے کام جو اس کے سرکاری دائرہ کار سے باہر ہیں ان پر یہ حکم لاگو نہیں کیا جاسکتا۔جس طریقہ سے جج کا کسی معاملہ میں رشوت لینا اس کے سرکاری دائرہ کار میں نہیں سمجھا جا سکتا یا کسی ڈاکٹر کے کسی مریض کا آپریشن کرتے وقت اس کی جیب کاٹنا اس کی سرکاری ذمہ داری نہیں سمجھی جاسکتی اسی طریقہ سے ہر سرکاری اہلکار کے کسی بھی ناجائز کام کو اس کی سرکاری ڈیوٹی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ساٹھ سال بعد بھی کیا سپریم کورٹ یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ نو آبادیاتی دور کے حالات اب بھی موجود ہیں ۔۱۹۵۹ ء؁میں پانچ ججوں کی ایک بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ’’کچھ جرم( جیسا کہ رشوت لینا) ایسے بھی ہیں کہ جن کو کسی بھی حال میں سرکاری ڈیوٹی نہیں مانا جاسکتا‘‘ ۔۔
اب سوال یہ ہے کہ یہاں سرکاری ذمہ داری سے باہر جاکر کام کرنے کی بات کو صرف ایک غلط قدم سمجھا جائے یا ریپ،قتل اور رشوت کی طرح اس کو بھی جرم مانا جائے ۔اس سلسلہ میں متضاد فیصلے آئے۔۱۹۹۴ ء؁میں سپریم کورٹ نے پولیس کے ذریعہ ایک ملزم کی بے جا پٹائی کے بعد اپنے ایک فیصلہ میں کہا ’’پولیس کا کسی بھی آدمی کو بے جا مارنا ،پیٹنا قانون کی کسی بھی دفعہ سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔اس قسم کے دفعات کی کسی بھی قانون میں کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی کسی عقل کے معیار پر اس کو درست ثابت کیا جاسکتا ہے‘‘۔لیکن کیرالا کے ایک سابق منسٹر مسٹر پلائی کے سلسلہ میں بالکل اس کے برعکس فیصلہ دیکھنے میں آیا۔
یقینا’’سرکاری ذمہ داری‘‘ اس کو تو کہا جاسکتا ہے کہ جس میں حکومت نے باضابطہ طور پر ایک سرکاری اہلکار کو اس کی ذمہ داری دی ہواور یہ سارا عمل حکومت ہی کی دیکھ ریکھ میں انجام پارہا ہو ہو۔جبکہ سپریم کورٹ نے پتھری بل انکائونٹر کیس میں کوئی بھی تجزیہ کیے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنا دیا اور پیشگی اجازت ضروری ہونے کی کوئی باضابطہ دلیل بھی نہیں دی۔سوائے اس کے کہ ’’یہ کیس بھی پچھلے دو کیس کی طرح ہی ہے اور ان پر اس جرم کے مقدمہ کے لئے پیشگی اجازت ضروری ہے جبکہ فوجی عدالت چاہے تو مقدمہ کی سماعت کرسکتی ہے‘‘ ۔
فوجی عدالت نے مقدمہ کی کارروائی شروع کی اور متاثرین کے خاندان کو ان کے گھروں سے ۳۰۰ میل دور ’۱۶ کارپس‘کے صدر دفتر جموں طلب کیا۔عوامی مظاہروں کے رد عمل میں اس کیس کو آونتی پورہ منتقل کردیا گیا۔ جہاں گواہوں نے سیکوریٹی کیمپ میں داخل ہونے کو لے کر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔’۱۵ کارپس‘ نے اپنے افسران کا پرزور دفاع کیا جبکہ اس کی بہن’ ۱۶ کارپس‘ کا متاثرین کو ایک منصفانہ سماعت کا دعوی رہا۔
بہرحال پیشگی اجازت کے قانون کا بھوت قاتلوں کی حفاظت کے لئے اب بھی موجود ہے۔ اس کے لئے سپریم کورٹ کا شکریہ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *