مجھے ڈرہے دلِ زندہ کہ تو نہ مر جائے

غلبہ دین کی راہ میں جہاں ایک کارکن ِتحریک کو اپنے اندر بہت سی مثبت صفات پیدا کرنی ہوتی ہے وہیں بہت سی منفی عادات و اطوار کو اپنی زندگی سے خارج بھی کرنی پڑتی ہے۔اس راہ میں ثبات قدمی اور جہد مسلسل کا انحصار ایک مضبوط اور قوی دل پر ہے ۔زوال خلافت کے بعد تحریکات اسلامی نے اپنے کارکنان کی جو فکری تعلیم و تربیت کی اور اپنے متوسلین کو کفر و طاغوت کے مد مقابل کھڑا کرنے میں جن عوامل پر سب سے زیادہ زور دیا وہ دل کی زندگی ہے۔اس میدان میں خاص کامیابی الاخوان المسلمون کو ملی۔دنیا نے ابھی ابھی ان مضبوط قلوب کا مضبوط مظاہرہ اور فی سبیل اللہ ان کی ثبات قدمی کا عملی ثبوت بھی دیکھ لیا۔ لہٰذااصلاح قلب کا جوطریقہ اخوان المسلمون نے اختیار کیا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔دلوں کی تطہیر،قلوب کی زندگی ،ایمان کا گھٹنا بڑھنا،اس کے اثرات مومن کی داخلی وخارجی زندگی پرکیا ہوتے ہیں اور خصوصاً غلبہ دین کی راہ میں تازہ دل، جوان اور ولولوں سے پر قلوب کیا کارہائے نمایا انجام دیتے ہیں ؟اس باب میں اگر ہم کلام الٰہی اور رسول پاک ﷺ کے مبارک ارشادات کی طرف رخ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ و رسول اللہ ﷺ کی اکثر تعلیمات اصلاح قلب سے تعلق رکھتی ہیں۔
٭ مومنین کو متنبہ کیا گیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد سے غافل نہ جائیں ورنہ بنی اسرائیل کی طرح ہوجائیںگے۔
٭اَلَمْ یَأْ نِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلاَ یَکُونُوْا کَالْذَّیِنَ اُوْتُوْا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ ط وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ(حدید:۱۶)
’’کیا ابھی وقت نہیں آیا اہل ایمان کے لیے کہ جھک جائیں ان کے دل یاد الٰہی کے لیے اور اس سچے کلام کے لیے جو اترا ہے اور نہ بن جائیں ان لوگوں کی طرح جنہیں کتاب دی گئی اس سے پہلے پس لمبی مدت گزر گئی ان پر تو سخت ہوگئے ان کے دل اور ایک کثیر تعداد ان میں سے نافرمان بن گئی۔‘‘
٭ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ایل ایمان کو تا دم حیات ہدایت پر قائم رہنے اورزیغ ِ قلب سے بچنے کے لیے دعا سکھائی گئی۔
٭رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ(عمران:۸)
اسی سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی وہ مشہور حدیث آتی ہے جس میں آپﷺ نے قلب کی بدلتی صورت حال،اس کی زندگی و موت،اسباب اور اس کا علاج بیان فرمایا ہے:
٭قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:’’اِنَّ ھٰذِہِ الْقُلُوبُ تَصْدَأُ کَماَ یَصْدَأُ الْحَدِیْدُ اِذَا اَصَابَہُ الْمَاءُ،قِیْلَ یٰا رَسُولُ اللّٰہِ وَمَا جَلاَئُھا؟قَالَ کَثْرَۃُ ذِکْرِ الْمَوْتِ وَ تَلاَوَۃِ الْقُرْآنِ۔(مشکوۃ،ابن عمرؓ)
حضرت ابن عمرؓ نبی ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:’’یہ دل ہیں، ان کو ایسے ہی زنگ لگتا ہے جیسے لوہے پر پانی گرنے سے اسے زنگ لگ جاتا ہے ۔‘‘پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا علاج کیا ہے؟آپﷺ نے فرمایا:’’موت کا کثرت سے ذکر اور کثرت سے تلاوت قرآن ۔‘‘
اسی طرح کچھ مقامات ،مجالس اور اوقات ایسے ہوتے ہیں جہاں حضور قلبی کو تلاش کیا جانا چاہیے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اس جانب توجہ دلائی ہے:
٭اُطْلُبْ قَلْبَکَ فِی ثَلاَ ثَۃِ مَوَاطِنٍ،
۱)عِنْدَ سَمَاعِ الْقُرْآنِ
۲)وَ فِی مَجَالِسِ الذِّکْرِ
۳)وَ فِی اَوْقَاتِ الْخَلْوَۃِ،
فَأِنْ لَّمْ تَجِدْہُ فِی ھٰذِہِ الْمَوَاطِنِ ،فَاسْأَلِ اللّٰہَ اَنْ یَمُنُّ عَلَیْکَ بِقَلْبٍ ،فَأِ نَّہُ لاَ قَلْبَ لَکَ(عبد اللہ بن مسعودؓ،زاد راہ)
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تین مقامات پر اپنے دل کو تلاش کرو۔
۱)سماعت قرآن کے وقت
۲)ذکر کی مجالس میں
۳)اور تنہائی کے اوقات میں۔
اگر تم ان جگہوں پر دل کو حاضر نہ پائو تو اللہ سے دل مانگو کیوں کہ تمہارے پاس دل نہیں ہے۔‘‘
٭ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یقول:اَلْحَلاَلُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَ بَیْنَھُمَا مُشَبَّھَاتٌ لاَ یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقیٰ الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لدِیْنِہِ وَ عِرْضِہِ وَ مَنْ وَقَعَ فِی الشُّبْھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکَ اَنْ یُوَاقِعَہُ اَلاَ وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلاَ اِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِی اَرْضِہِ مَحَارِمُہُ اَلاَ وَ اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ اَلاَ وَھِیَ الْقَلْبُ(بخاری،کتاب الایمان)
’’بے شک حلال واضح اور صاف ہے اور بے شک حرام بھی واضح اور صاف ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ والی چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔جس نے اپنے آپ کو شبہ والی چیزوں سے بچایا اس نے اپنے دین کو اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا۔اور جو مشتبہ چیزوں کے اندر پڑ گیا تو پھر وہ حرام میں پڑ گیا۔جس طرح کہ کوئی چَرانے والا بادشاہ کی مخصوص چراگاہ کے گرد جائے اور قریب ہے کہ وہ اسی چرا گاہ کے اندر داخل ہوکر چرانا شروع کردے۔اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چرا گاہ ہوتی ہے اور اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ اللہ کی چرا گاہ وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام کیا ہے ۔اور اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے ۔اگر وہ سدھر جائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور اچھی طرح سن لو اور جان لو کہ یہ قلب ہے۔‘‘
اس حدیث کو محدثین اور علماء کرام نے بہت عظیم الشان حدیث قرار دیا ہے بلکہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اسلام کا مدار اس حدیث پر ہے ،یا یہ کہ یہ ان تین چار احادیث میں سے ہے جن پر پورے اسلام کی بنیاد ہے۔
٭زیغِ قلب کے اسباب:
۱)تکبر و غرور
٭کَذَالِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبٍ مُتَکَبَّرٍ جَبَّارٍ(غافر:۳۵)
’’اسی طرح اللہ جابر اور متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘
۲)کتمان شہادت:
٭وَلاَ تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ وَ مَنْ یَکْتُمْھَا فَأِنَّہُ آثِمٌ قَلْبُہُ(بقرہ:۲۸۳)
’’اور تم گواہی نہ چھپائو اور جو شخص گواہی چھپائے گا اور بے شک اس کا دل گناہ گار ہے۔‘‘
۳)ذکر اللہ سےغافل لوگوں کی اطاعت :
٭وَلاَ تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ھَوَاہُ(کھف:۲۸)
’’اور اس کی اطاعت نہ کریں جس کا دل ہم نے اپنی ذکر سے غافل کردیا اور اس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔‘‘
یہ آیت امیہ بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی ،اس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپﷺ ان درویشوں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیں اور اہل مکہ کے سرداروں کو اپنا ہم نشین بنائیں۔اسی سیرت میں ایک اور واقعہ ملتا ہے کہ ایک دن عینیہ بن حسن گرمی میںنبی کریمﷺ کے پاس آیا جب کہ آپ ﷺ کے پاس حضرت سلمان فارسیؓ موجود تھے جنہوں نے اون کا جبہ پہن رکھا تھا جس سے پسینہ کی بو آرہی تھی ،عینیہ نے کہا اے محمدﷺ!جب ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو یہ اور اس جیسے فقراء کو اپنے پاس سے اٹھادیا کرو تاکہ یہ ہمیں اذیت نہ دیں اور جب ہم نکل جائیں تو تم اپنا معاملہ بہتر جانتے ہو۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر در منثور،جلد۴)
خواہشات کی اتباع:
٭ اَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہُ ھَوَاہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمْعِہِ وَ قَلْبِہِ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہِ غِشٰوَۃً ط فَمَنْ یَھْدِیْہِ مِنْ بَعْدِ اللّٰہِ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ(جاثیۃ:۲۳)
’’کیا پھر آپ نے اسے دیکھا جس نے اپنے خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟اور اللہ نے اسے گمراہ کردیا جب کہ اسے (حق کا )علم تھا اور اس کے کانوں اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا پھر کون ہے جو اسے اللہ کے بعد ہدایت دے ؟کیا پھر تم نصیحت نہیں پکڑتے؟‘‘
امام ابن جریر ؒنے حضرت قتادہؓ کے حوالہ سے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ کسی چیز کی خواہش نہیں کرتا مگر اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں رکھتا۔(در منثورآیت ذیل) یعنی جانتے بوجھتے ناک ،کان اور بصارت کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کرنے سے ان اعضاء پر مہرلگادی جاتی ہے۔
خرابی دل کی دیگر وجوہات:
بنی اسرائیل نے قربانی گائے پر لیت و لعل کیاتب ان کی اس حالت پر قرآن مجید نے یوں تبصرہ کیا۔
٭ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَھِیَ کَالْحِجَارَۃِاَوْ اَشَدَّ قَسْوَۃًط (بقرہ:۷۴)
’’پھر اس کے بعد ان کے دل سخت ہو گئے پتھر کی طرح یا اس سے بھی زیادہ شدید ۔‘‘
٭لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطاَنُ فِتْنَۃًلِّلَّذِیْنَ فِی قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ وَ الْقَاسِیَۃُ قُلُوْبُھُمْ ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیْدٍ(حج:۵۳)
’’تاکہ اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسے کو بیمار دل اور سنگ دل لوگوں کے لیے فتنہ بنا دے اور بے شک ظالم تو دور کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
٭ اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہُ لِلْاِسْلاَمِ فَھُوَ عَلٰی نُوِرِ مِن رَّبِّہِ ط فَوَیْلٌ لِّلْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُھِمْ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ اُوْلٰئِکَ فِی ضَلاَلٍ مُبِیْنٍ(زمر:۲۲)
’’کیا پھر جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہے۔ چنانچہ ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاد کے معاملے میں سخت ہیں وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔‘‘
٭ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ یٰاقَوْمِی لِمَا تُؤْذُوْنَنِی وَقَدْ تَعْلَمُوْنَ اَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ(صف:۵)
’’اور جب موسی ؑ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم !تم مجھے کیوںایذا دیتے ہو؟حالانکہ تم جانتے ہو کہ بلا شبہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے،اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔‘‘
٭ نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃ۰اَلَّتِی تَطَّلِعُ عَلٰی الْاَفْئِدَۃِ ۰اِنَّھَا عَلَیْھِمْ مُوْ صَدَۃ۰فِی عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃ۰(الھمزہ:۶تا۹)
’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔جو دلوں تک پہنچے گی ۔بے شک وہ (آگ)ان پر (ہر طرف سے)بند کردی جائے گی۔لمبے لمبے ستونوں میں۔‘‘
٭ حضرت زید ابن ثابتؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ :۔۔۔۔۔۔۔’’جو شخص دنیا کو اپنا نصب العین بنائے گا،اللہ اس کے دل سے اطمینان و سکون چھین لے گا اور ہر وقت مال جمع کرنے کی حرص اور احتیاج کا شکار ہوگا ،لیکن دنیا کا اتنا ہی حصہ اسے ملے گا جتنا اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہوگا۔اور جن لوگوں کا نصب العین آخرت ہوگی،اللہ تعالیٰ ان کو قلبی سکون و اطمینان نصیب فرمائے گا اور مال کی حرص سے ان کے قلب کو محفوظ رکھے گا اور دنیا کا جتنا حصہ ان کے مقدر میں ہوگا وہ لازما ً ملے گا۔‘‘(ترغیب و ترہیب)
٭ کبھی کبھی دل پتھرا جاتا ہے،اس پر خوف الٰہی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔قلوب کی یہ حالت سخت دل والوں سے زیادہ قرب و تعلق کی وجہ سے ہوتی ہے،ان لوگوں کی ساری توجہ دنیا پر ہوتی ہے۔اس لیے ان کے دل پر دنیاکا غلاف چڑھ جاتا ہے ۔
٭ دنیاوی مال و اسباب کی کمی پر غمگین ہونے سے دل تاریک ہوتا ہے۔
٭ ’’جس کے دل میں ذرا بھر غرور ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *