اسلام کی نئی فتنہ انگیز تشریحات

گوبیلزؔ نے تو کہا تھا کہ جھوٹ کو اتنا بولو کہ وہ سچ محسوس ہونے لگے۔ اسی طرح امریکی پروفیسر اور دفاعی تجزیہ نگار سیموئیل ہنٹنگٹن Sammuel Huntingtonنے سب سے پہلے جدید تاریخ میں نام نہاد ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح گھڑ کر اتنی کثرت سے استعمال کری کہ وہ سازشی اصطلاح اب حقیقت لگنے لگی ہے۔ ملت کے زعما پریشان ہیں۔ امام کعبہ، امام خطیب مسجد نمرہ سے لے کر دنیا بھر کے ائمہ، علماء اور اسلامی دانشور اپنے اپنے تئیں اس داغ کو دھونے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں کمال ہنر کہ جس طرح تین ٹھگوں نے ایک دیہاتی سے بکری کے بچہ کو ٹھگنے کے لیے ایک نے بکری کو کتا بتایا، ایک نے گدھا اور ایک نے لومڑی تو بیچارے نے آخر پریشان ہو کر بکری کو تقریبا مفت میں ہی ٹھگوں کو دے دیا۔ وہی حال امت کے علما اور مخلص مگر ضروری علم اور ایمانی جرات سے خالی دانشوروں کا ہے کہ اسلام دشمنوں کے مسلسل پروپگنڈہ سے دباؤ میں آکر طرح طرح کے فضول،غیر مفید اور مضر ایمان اقدامات کر رہے ہیں۔ اسلام دشمنوں نے روس کے زوال کے بعد ایک دشمن کی تلاش میں اسلام کو موزوں تر پایا جیسا کہ کلدیپ نیر نے خود اپنی کانوں سنی مارگریٹ تھی چربرطانوی پرائم منسٹر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ہمارا اگلا دشمن اسلام ہے۔ امت مسلمہ کی سخت جانی اور ایمانی حرارت کا ذائقہ یہ دشمنان اسلام پہلے بھی تاریخ میں چکھ چکے ہیں۔ اس لیے اس بار پچھلے تمام تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک کثیر الجہت حملہ امت مسلمہ پر بولا گیا جس میں فوج کے ساتھ میڈیا، تعلیم، تفریح تمام محاذ ایک ساتھ کھول دیے گئے۔ آئندہ سطروں میں اس حملہ کے ایک بڑے محاذ’مسلمانوں کے اندرونی اختلاف‘ کو شدید ترین بتا کر فروغ دینے پر کہا گیا ہے۔ اور اسی ضمن میں اسلام کی طرح طرح کی تفسیریں ایجاد کی گئی ہیں۔ صوفی، سنی، وہابی، گنگا جمنی رواداری اور نہ جانے کون کون سے برانڈ ایجاد کیے گئے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اسلام کی جو عام سمجھ پچھلے 1450سالوں سے امت میں اللہ اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت کے تصور کے تحت موجود ہے اس کے بجائے انسانی زندگی کو ٹکڑوں میں بانٹ کر غلامی کو بھی ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔ مسجد اور قبرستان میں غلامی کسی اور کی، بازار میں کسی اور کی، عدالت میں کسی اور کی اور پارلیمنٹ میں کسی اور کی۔ ایک طرف سے ملت اسلامیہ کو عسکری(ملٹری)، تہذیبی، عملی، میڈیا کی یلغار پر رکھا گیا، فوجیوں کو مسلم ممالک میں تعینات کرانے کی سازش(کویت،عراق، الجزائر،افغانستان، مصر) کی گئی، دوسری طرف اس یلغار اور وسائل کی لوٹ مار اور اپنی موجودگی کو مستقل بنانے کے لیے ذہنوں کو پراگندہ اور منتشر کرنے کی مہم بھی بڑے پیمانہ پر چھیڑی گئی۔ جس کو دماغ و ذہن کی جنگ war of hearts & mindsکہا گیا۔ اس جنگ کے تحت قرآن کی بنیادی تعلیمات میں ہی من مانی ہیراپھیری کر دگی گئی اور اسلام کا وہ برانڈ پیش کیا جا رہا ہے جو اللہ کے باغیوں، ظالموں، انسانوں کو اپنا غلام بنانے والوں، یہودی نظام کی پرورش کرنے والوں اور زنا و بے حیائی کو فروغ دینے والوں کے آگے سر جھکائے ہاتھ باندھے کھڑا رہے۔ اور اسی برانڈ کو آج مختلف حیلوں بہانوں سے امت میں رائج کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ حالات کا دباؤ اتنا زبردست ہے کہ ملت کے علما و ائمہ کی خاصی بڑی موثر تعداد بھی مرعوب ہو کر اسی راہ فرار یالقاء کی طرف بھاگ رہی ہے جدھر اسلام دشمن شکاریوں نے ہانکا لگا کر راستہ خالی چھوڑا ہوا ہے۔ یورپی ممالک میں جرمنی میں چار ایسے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں اسلامیات کے اساتذہ اور ائمہ کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اور کیا سکھایا جاتا ہے اس کا ایک نمونہ حاضر ہے: ایک مرکز کے ذمہ دار 42سالہ مہندس خورشید بتاتے ہیں کہ ’انسان کو مذہب سمجھنے کے لیے اپنی عقل استعمال کرنی چاہیے۔ دینیات کا کام عقلی بنیادوں پر مذہب کی بنیاد کو واضح کرنا ہے۔ یہاں معاملہ سوچے سمجھے بغیر کسی چیز کو یہ کہہ کر قبول کر لینے کا نہیں ہے کہ میں تو ایسے ہی کروں گا کیونکہ کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کوئی چیز کیوں لکھی ہے؟ خدا انسان سے کیا چاہتا ہے؟ زندگی کے ساتھ مذہب کا تعلق کیا ہے؟‘یعنی ایمان بالغیب اور کتاب کسوٹی نہیں ہے بلکہ عقل کسوٹی ہوگئی اس کے آگے کیا ہوگا سب کو معلوم ہے۔ اس پروگرام میں جرمن حکومت 20ملین یورو خرچ کر رہی ہے۔ ان مراکز کے نصاب کے بنانے میں وہاں کی اسلامی تنظیموں کا کوئی تعاون نہیں لیا گیا ہے۔ جب کہ مسیحیوں کے لیے ایسے پروگرام کے نصاب کی تیاری میں کلیسائی تنظیموں سے مشورے لیے جاتے ہیں۔(عزیز الہند، دہلی2/12/12)
برطانیہ میں افغانستان کے اندر جنگ لڑ چکے لی رگبی کے قتل کے بعد کیمرون بہت طیش میں ہیں۔ ہاں انہیں تب طیش نہیں آتا جب ان کے فوجی لوگوں کو قتل کرکے ان کےسروں پر پیشاب کرنے کی فلم بنا کر انٹرنیٹ پر لگا دیتے ہیں اور نہ تب طیش آتا ہے جب ان کے فوجی بے قصور افغانیوں کو شہید کرکے ان کے جسم کے اعضا، انگلیاں وغیرہ بطور یادگار ساتھ لے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھی مساجد، مدارس اور اسلامک کمیونٹی سنٹرز کی تطہیر کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ان مقامات کو سڑاند کا مرکز بتایا ہے۔ اور ان مراکز پر زبردست دباؤ کے حربے اپنائے جا رہے ہیں، ائمہ اور مقررین کو ڈرا دھمکا کر حقائق سے روشناس کرانے اور حق کی تبلیغ سے دور رکھنے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔ لی رگبی کے قتل کے بعد قائم کی گئی ٹاسک فورس نے جو سفارشات کی ہیں اس میں یہ سب رہنما خطوط شامل ہیں(یعنی ہر جگہ اپنی جارحانہ، ظالمانہ، اسلام دشمنانہ رویہ پر نظر ثانی کرنے کے بجائے اس کے رد عمل کواسلام سے جوڑ کر ’اسلام کی اصلاح‘ کی آڑ میں ملت میں فکری گمراہی کو پروان چڑھانے کا ماسٹر پلان تیار ہو گیا ہے)(تلخیص عزیز الہند،8/12/13)
وطن عزیز ہندوستان میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کا کام زوروں پر چل رہا ہے۔ ایک تنظیم کو اس معاملہ میں کافی متحرک پایا گیا ہے جو کہ ہندوستان کی تمام مسلم نمائندہ تنظیموں کے عہدہ داروں کو سعودی/وہابی بتا کر انتہائی سازشی انداز میں مسائل کا ٹھیکرا غیر ملکی حکومت کے سر پھوڑنا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم ملکی وسائل میں حصہ داری لینے کی بات کرتی ہے مگر مثال دیتی ہےپرسنل لا بورڈ، وقف بورڈ، حج کمیٹیوں کی۔ حالانکہ یہ تو قوم کی دولت اور قوم کی امانت ہے جو حکومت کی سرپرستی میں برباد کی جار ہی ہے۔ ہر حکومت بلا استثناء اپنے عہدیداروں کو حکومتی ریوڑیاں بانٹنے کے بجائےمُسردوں کی ہڈیاں اور حاجیو کی گاڑھی کمائی کا پیسہ دے دیتی ہیں کہ انہیں میں سےتیل نکالو۔ کیا مایاوتی کی حکومت میں وقف کے ذمہ دار بھی سعودی/وہابی تھے؟ انہوں نے کیا ترقیاتی کام وقف کے لیے کیے تھے؟ ایک بیان میں عہدیدار فرماتے ہیں’کچھ غیر ملکی امداد یافتہ افراد اور ادارے ٹوپی اور ڈاڑھی کی چلمن(سنت رسولؐ کو چلمن بتانے کی جسارت) سے ہمارے ملک کی سالمیت پر حملہ آور ہو کر اس کی تمدنی اور تہذیبی یکجہتی اور امن و آشتی میں نقب زنی کرکے ماحول کشیدہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ملک کی جتنی بھی وقف املاک ہیں وہ سب سنی صوفی مسلمانوں کے ذریعہ وقف کی گئی ہیں۔ باقی اسلام ماننے کا دعوی کرنے والے تمام فرقہ ایصالِ ثواب کے مخالف ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سنی صوفی مسلمانوں کو نظر انداز کرکے ریاستی اور مرکزی سرکاروں نے مسلم وقف سے متعلق معاملات کو ان افراد و تنظیموں کو سونپ دیا ہے جو 80 فیصد سنی صوفی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی‘۔
(حالات وطن، دہلی،25/11/13)
مزید پروپگنڈہ ملاحظہ فرمائیں: ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سعودی شہنشاہیت کے اشاروں پر نہیں حل ہوں گے۔ سعودی شہنشاہیت کی اپنی مجبوریاں ہیں کہ اپنے اپنے ایجنٹ ہندوستان میں اہم عہدوں پر مسلط کرنے پڑ رہے ہیں۔ مگر ہماری حکومتوں کی کیا مجبوریاں ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو ہم پر تھوپے ہوئے ہیں جن کی وفاداریاں ملت سے کم اور شہنشاہیت سے زیادہ ہیں۔(حالات وطن،9/12/13) کیا یہ پراسرار امر نہیں ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کا ٹھیکرا ایک غیر ملکی حکومت کے سر پھوڑا جائے؟ کیا وقف بورڈ اور حج کمیٹیوں میںایسےنام نہاد صوفی سنی کہلانے والے عناصر کی تقرری سے مسلمانوں کے تحفظ، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، تہذیبی یلغار کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ان تمام مسائل کے لیے غیر ملکی حکومت کیسے ذمہ دار ہو گئی؟ غالباً اس سازشی گروہ کو معلوم نہیں کہ جس وقت بابری مسجد شہید کی گئی اس وقت دہلی کی حکومت کے سب سے قریبی مشیر یہی صوفی سنی علما تھے؟ اس وقت مرکز میں وزیر بھی اسی فکر کے تھے اور آج بھی محترم کے رحمن خاں، محترم غلام نبی آزاد، محترم احمد پٹیل سب کے سب طاقتور ترین سیاسی لوگ کس ذہن کے ہیں؟ مولانا توقیر رضا خاں صاحب کس فکر کے حامل ہیں؟ کیا یہ سب وہابی سعودی ذہنوں کے ہیں؟ سعودی حکومت کی کمزوریاں، بزدلی اور شہنشاہیت غلط ہیں مگر اس کا ہندوستانی مسلمانوں کے وسائل کی حصہ داری میں کمی سے کیا تعلق ہے؟ ایک اہم بات یہ ہے کہ ان صوفی اور سنی زعما کو امریکہ، یورپ، اسرائیل اور روس کے اسلام دشمن کارنامے اور ہندوستان کے حالات بلکہ ہر مسلم ملک کے معاملات میں دخل دینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ ممالک اپنے یہاں اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹونوں اور فلم بنانے والوں پر اور بابری مسجد شہید کرنے والوں کے عقیدہ پر حملہ نہیں کرتے۔
ان حالات میں ضروری ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق مضبوط کرکے ملت کو فکری اور عقیدہ کے انتشار سے محفوظ رکھنے کی مہم چلائی جائے۔ نہ کہ ملت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کی مدد کرکے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب کو دعوت دی جائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *