امنِ عالم (پناہ) کانفرنس!

مدیر محترم!
سلام مسنون
15؍دسمبر کو دہلی میں مولانا محمود مدنی صاحب کی جمعیۃ العلماء کی طرف سے ’امن عالم کانفرنس‘ کے انعقاد کی خبریں تسلسل سے آ رہی ہیں۔ مولانا نے کچھ عرصہ قبل انگلینڈ، کینیڈا کے دورہ سے واپس آتے ہی آناً فاناً ایک بین العقائد ڈائیلاگ کے مرکز کا قیام انگلینڈ سے ہی آئے ایک ’دانشور‘ سے کرایا تھا۔ پھر کچھ ماہ بعد دوبارہ انگلینڈ کے دورہ سے واپسی پر ’جمعیۃ یوتھ کلب‘ کا مشورہ سنایا گیا۔ ابھی مظفرنگر فسادات کے ابتدائی ایام میں بھی مولانا غالباً بلاد انگریز میں ہی تھے اور واپسی میں ’امن عالم کانفرنس‘ کی بشارت دی گئی ہے۔ دیوبند میں ہی کچھ سال قبل ایک کانفرنس دہشت گردی کے خلاف ہوئی تھی جس کی رپورٹنگ انگلش میڈیا نے اپنے حساب سے کی تھی جو منتظمین چاہتے تھے وہ نہیں رپورٹ کیا گیا تھا۔
’امن عالم‘ یا ’دہشت گردی‘ پر ہونے والی تمام مسلم کانفرنسیں مغربی، اسلام دشمنی، صیہونی/برہمنی مکر و فریب اور سازشوں کا معذرت خواہانہ جواب بھر بن کر رہ گئی ہیں۔ ’امن عالم‘ کو خطرہ کیا مسلمانوں سے ہے؟ مسلمانوں نے دنیا میں کن کن ممالک پر قبضہ کر رکھا ہے۔۔۔ اسرائیل، روس اور چین کی طرح؟ مسلمانوں نے کہاں کہاں غیر مسلموں کو ان کے گھروں سے نکالا ہے۔۔۔ میانمار، اسرائیل کی طرح؟ کتنے مسلمان ممالک ہتھیاروں کے عالمی مارکٹ میں ہتھیار بیچتے ہیں جس کو دنیا بھر کے ہتھیار اسمگلر خرید کر تمام غیر قانونی کام کرنے والوں کو فروخت کرتے ہیں؟ فلسطین پر قبضہ اور مسجد اقصیٰ پر قبضہ1967سے کیوں برقرار ہے؟
امن اور شانتی کے لیے قائم عالمی ادار ے جو مسلمان ممالک پر تو مہینوں اور دنوں میں کارروائیاں کر دیتے ہیں’سوڈان،افغانستان، عراق، مالی، لیبیا،وغیرہ وغیرہ‘ میں، لیکن وہ قبلہ اول پر 65سالوں سے کیوں خاموش ہیں؟ وہ میانمار میں مسلم قتل عام اور اخراج پر کیوں خاموش ہیں؟ بوسنیا سے انہوں نے پورے چار سال قتل، زنا، تشدد، نسلی تطہیر کا موقع کیوں دیا؟ اور پھر معاملہ بھی کس طرح سلجھایا گیا وہ دنیا میں ہونے والے معاہدوں کی تاریخ میں انوکھی مثال ہے۔ دنیا بھر کے ظالم یہ کیوں چاہتے ہیں کہ مسلمان دنیا بھر میں ان کے اوپر کیے جانے والے مظالم کے آگے سر تسلیم خم کردیں۔ دنیا کی ہر قوم کو آزادی، اپنے وسائل کے استعمال اور اپنا نظام حکومت طے کرنے کی آزادی ہے مسلمانوں کو کیوں نہیں ہے؟
اسی حکمراں یا نظام حکومت کو کیوں چلنے دیا جاتا ہے جو ان کی منشاپوری کرتا ہے؟ الجیریا میں اسلام پسندوں کو مغرب کی مرضی سے کچل دیا گیا، فلسطین میں حماس نے زیادہ ووٹ حاصل کیے مگر ان ظالموں نے ’فتح‘ کو نمائندہ بنا رکھا ہے۔ فلسطینی منتخب کرتا ہے حماس کو اور یہ انگریز اور امریکہ نمائندہ بناتا ہے محمود عباس جیسے غدار کو۔ مصر کی تازہ مثال سامنے ہے؛ جمہوریت کے دعویدارجنر لوں کی پشت پر اپنے حواریوں کی مدد سے کھڑے ہو کر ہزارہا بے گناہ بچوں، خواتین مرد اور عورتوں کو قتل و زخمی کرا چکے ہیں۔ ان کا ہر بڑا لیڈر وہاں کے دورے کرتا ہے وہاں کی ظالم فوجی حکومت کو بالواسطہ اربوں ڈالر دلاتا ہے۔ روزانہ بچے، خواتین قتل ہو رہے ہیں اور سب خاموش بیٹھے ہیں۔ اس کے برعکس کسی اسلام پسند حکمراں کے یہاں (ترکی) مظاہرین پر لاٹھی چارج یا پانی کی بوچھار پر ہی یورپین یونین کی انسانی ہمدردی کی رگ پھڑک اٹھتی ہے۔ تیونس میں بھی یہی حال ہے ننگے بدن مظاہرہ کرنے پر ایک بے شرم خاتون کو سزا دینے پر سارے مغرب کے پیٹ میں درد ہو گیا۔ اور اس نے سارے بے غیرت افراد کو منظم کرکے مختلف حیلوں بہانوں سے نہضۃ کے خلاف لگا دیا۔ جہاں ان کے منظور نظر غلام اور ظالم حکمراں ہیں وہ 50-60سال سے مظالم کی تاریخ رقم کر رہے ہیں وہاں نہیں پوچھا جاتا ہے کہ اپوزیشن کے کیا حقوق ہیں؟ اور انسانی مسائل حل ہوئے یا نہیں؟ مگر مصر اور تیونس میں آٹھ ماہ میں ہی ہنگامہ کرادیا جاتا ہے کہ بے روزگاری، مہنگائی بڑھ رہی ہے، خواتین پر ظلم ہو رہا ہے وغیر وغیرہ۔
جس طرح لاکھوں یورپی امریکی فوجی مسلم مماک کو پچھلے 20سالوں سے ظلم و ستم کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں کیا اسی طرح کسی مسلم ملک میں بھی غیر مسلموں پر ظلم ہو رہا ہے؟ اب اگر مسلم ممالک کے عوام اپنی آزادی اور حق کے لیے لڑتے ہیں تو اس سے امن عالم کو خطرہ ہے مگر جو ہزاروں کلومیٹر دور جار کر دوسروں پر بمباری کررہے ہیں و ہی مسلمانوں کو صوفی اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں تاکہ طاقت ان کے پاس رہے اور مسلمان بے دست و پا صوفی مجبور محض بنا رہے۔ اگر آپ کے پاس اپنی بات عوام کے سامنے رکھنے کے لیے میڈیا نہیں ہے، TVنہیں ہے سوشل میڈیا پر بھی آپ نہیں ہیں تو ظالموں کا کیا مقابلہ کریں گے؟ امن کا قیام عدل سے مشروط ہے۔ انصاف حاصل کرنے کے لیے طاقت (ہر طرح کی)عزم اور حوصلہ چاہیے وہ ہم حاصل نہیں کرتے تو انصاف اور امن کیونکر ممکن ہے۔ جب آپ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کے نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)فرمان پر عمل کرنے کی شرائط پوری نہیں کرتے تو امن اور انصاف کیونکر ممکن ہوگا؟؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *