سدومیت کو قانونی درجہ دینا گویا زمین کی گردش کو اُلٹ دینا ہے

دفعہ 377کو نظر انداز کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے غیر ملکی آقاؤں کی ایماء پر جو گھناؤنا فیصلہ دیا تھا، اسے سپریم کورٹ نے ردکر دیا۔ ہر طرف سے سپریم کورٹ پر تعریف کے ڈونگرے برسنے لگے،حالانکہ اس سے قبل ہائي کورٹ کی مذمت کرنے کی کوئی ہمت نہ کرسکا۔ نیز سپریم کورٹ کایہ فیصلہ بدرجہ مجبوری ہی تھا، اوراس نے واضح بھی کردیا کہ سدومیت کو قانونی بنانے کے لیے قانون بنایا جائے،جس سے واضح ہےکہ دستوری بندشوں کی وجہ سے ہی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا، ورنہ جنسی آوارگی، بغیر شادی کے ساتھ رہنا وغیرہ وغیرہ غیر فطری عمل کو سب سے زیادہ شہ اسی نے دی،اورایک داشتہ کو بیوی کا درجہ دلانے میں کوئي کسر نہیں چھوڑی۔ دراصل مبارک باد کا حقدار تو وہ بہادر شخص ہے جس نے فیصلے کے مضمرات کو محسوس کرکے اس کے خلاف عرضی دائر کی، اور سپریم کورٹ کو ہائي کورٹ کا فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا۔ ذیل میں اس قابل قدر شخصیت جناب سریش کمار کو شل کے انٹرویو کا ترجمہ دیا جارہا ہے جو انہوں نے The Hinduکی رپورٹر سنگیتا بروآ کو دیاتھا، نازؔفاؤنڈیشن کی عرضی اور ہائي کورٹ کے فیصلے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے این جی اوز NGOsاور اعلی عدالتوں کے ذریعہ ہندوستان میں مذہبی اقدار کو نشانہ بنایا جارہاہے۔
سوال:آپ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیوں کیا؟
جواب:میرے پیش نظر کئي باتیں تھیں، سب سے پہلی بات تویہ تھی کہ یہ مسئلہ ہائي کورٹ کے دائرۂ اختیار سے باہر تھا، دستور میں کسی بھی ترمیم کا حق صرف پارلیامنٹ کو ہے عدالتوں کو نہیں۔ دوسری بات یہ کہ نازؔ فاؤنڈیشن نے بہت ہی خاموشی سے میڈیا اور عوام سے چھپا کر عرضی داخل کی تھی اور خاموشی سے یہ فیصلہ حاصل کرلیا تھا(اس لیے اس کو طشت ازبام کرنا ضروری تھا)،تیسرے یہ کہ اس عدالتی فیصلے کی تنقیص اس لیے بھی ضروری تھی کہ یہ ایک خالص مذہبی معاملہ ہے، ہم جنس پرستی کو قانونی طور سے درست قرار دئے جانے کے بعد مندرو ںاور گرودواروں میں مخنث جوڑے شادیوں کے لیے پہنچنے لگے تھے۔ اس پر بندش لگانا ضروری تھا کیونکہ ہر مذہب میں شادی کی کچھ بنیادی رسوم و شرائط ہیں۔ ملک کے ہر مذہب میں شادی کو ایک مقدس الہامی حیثیت حاصل ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہبی بنیادوں پر 32گزیٹیڈ چھٹیاں اور80صوبائي سطح کی چھٹیاں منائی جاتی ہیں، وہاں مذہب کو نظر انداز کرکے قانون سازی کیسے کی جاسکتی ہے!
سوال:کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنسی ایک غیر فطری عمل ہے؟
جواب:یقیناً! یہ بالکل غیر فطری ہے،ہم جنس پر ست(سدومی) ماں باپ کیسے بن سکتے ہیں؟یا تو وہ کسی کو متبنی(Adopt)بنائيں گےیا پھر کرایہ پر کوکھ(Surrcogacy)حاصل کریں گے، اس صورت میں بچے کے یا تو دو باپ ہونگے یا دومائیں، ایک چھوٹے سے گروہ(کی خواہش کی تکمیل)کے لیے ہم سماج کی قیمتی اقدار کو کیسے نقصان پہونچنے دے سکتے ہیں،ان کے بچوں کو اقدار کے نام پر کیا ملےگا (جبکہ خود ان کی حیثیت مجروح ہوگی)۔
سوال:اس معاملہ میں دیگر کون سی باتیں آپ کے لیے تشویش کا باعث ہیں؟
جواب:میں نے عدالت سے درخواست کی کہ آپ کچھ اہم معاملات کی طرف توجہ فرمائيں، مثلاً (اگر ہم جنسی جائز کردی گئی)تو طلبہ وطالبات کے ہاسٹل میں کیا صورت حال پیدا ہوجائے گی؟ کس طرح سے امیر لوگ اپنے نوکروں کا استحصال کریں گے؟کوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔ ان کو کون کنٹرول کرےگا؟ اس معاملہ کا راست تعلق ملکی سالمیت سے بھی ہے۔ لاکھوں جوان اور فوجی ہماری سرحدوں اور حساس مقامات کی حفاظت کی خاطر اپنے خاندان سے دور دراز مقامات پر رہتے ہیں، اگر دفعہ377ختم کردی گئ تو اپنی بیویوں کی عدم موجودگی میں ایک دوسرے کی رضامندی سے جنسی عمل اختیار کریں گے، اس کا انجام کیا ہوگا۔۔۔ ہم جنگ ہار جائيں گے۔
سوال: (مگر) یہ قانون تو برطانوی استعمار کے زمانہ میں بنا تھا، ان سے پہلے ہمارے ہاں (ہندو تہذیب میں)ہم جنسی کے لیے توسع پایا جاتا تھا؟
جواب:جی ہاں، لوگ مجھے بار بار ٹوکتے ہیں کہ یہ کام استرا اور کھجورا ہو کی سر زمین ہے، لیکن اگر آپ گہرائي سے ہندوازم کا مطالعہ کریں(تو معلوم ہوگا)کہ کام استرا جنسی عمل اور جنسیت کے تعلق سے مشورہ پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ یہ مردو عورت کے درمیان جنسی عمل کو مربوط کرنے کے لئے ہے۔ کام استرا میں آپ کو ہم جنسی کی حمایت میں کہیں پر کچھ بھی نہیں ملے گا، بلکہ سچائي تویہ ہےکہ انہوں نے اس پر سخت تنقید کی ہے،ان کے نزدیک زن وشو کا جسمانی تعلق ایک مذہبی فریضہ ہے جس کے ذریعہ نسل انسانی کو جاری رکھا جاسکے، اور انہوں نے محض ایسے طریقے بتائيں ہیں جس کو اختیار کرکے ایک صحت مند اور توانا بچہ کی تخم ریزی وآبیاری کی جاسکے۔
سوال: سو سے زیادہ ممالک نے ہم جنسی(سدومیت)کو قانونی درجہ عطا کردیا ہے،اس سلسلے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب:وہ سب چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں،جن میں سے کئي کی آبادی تو بمشکل 50لاکھ ہے، جن میں سے اکثر یورپی ممالک پر منحصر ہیں۔یہ بات کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی بڑی اکثریت اس کی مخالف ہے۔پوری مسلم دنیا، سری لنکا،چین اور ہندوستان ہی کو دیکھ لیجئے۔ یہ ایک بہت ہی بڑا جغرافیائی خطہ ہے(اورآبادی بھی گھنی ہے)۔جیسے ہی سپریم کورٹ نے ہائي کورٹ کے فیصلہ کو رد کیا،آسٹریلیا نے اپنے یہاں ہم جنسوں کی شادی پر پابندی لگادی۔
سوال:خبیث مرض ایڈز کےخاتمہ کےلیےکو شاں لوگوں کاکہنا ہے کہ سدومیت کو غیر قانونی قرار دینے سے وہ زیر زمین چلےجائيں گے اور پھراس کےخطرات کا مقابلہ کرنا اور بھی مشکل ہوجائے گا؟
جواب:سدومیت اور ہم جنسی کے نتیجہ میں ایڈز کا شکار ہونے والے مریض 25٪ فیصد ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جو درحقیقت ایڈز جیسے مہلک مرض کا سبب ہیں، ان کے حقوق کو بچانے کی خاطر ہم پورے سماج کو جہنم میں نہیں جھوک سکتے۔
سوال:مخنث ہمیشہ سے ہی ہمارے سماج کا ایک حصہ ہیں،کیا ان کے حقوق سلب نہیں ہوں گے؟
جواب:حقوق کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی آتی ہیں، حقوق لامحدود نہیں ہوسکتے، قید سے مشروط ہوتے ہیں۔جسم کا پچھلا حصہ جسم کے فضلات کو نکال پھینکنے کے لیے تخلیق کیاگيا ہے، اس کی مثال گندی ہوا باہر پھینکنے والے پنکھے(Exhaust Fan)کی سی ہے، اگر آپ اس کو الٹا چلادیں تو گندی ہوا اندر بھر جائے گی۔سدومیت کو رواج دینا ایسا ہی ہے جیسے کہ کرۂ ارض کی گردش کو الٹا کر دیا جائے۔(سارا نظام درہم برہم ہوجائے)۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *