لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ

آج امت مسلمہ تاریخ کے بد ترین دور سے گذر رہی ہے۔ غلبہ و اقتدار اس کے ہاتھوں سے جا چکا، محکومی و محرومی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ ہر چند اس کے پاس کتاب اللہ و سنت رسول اللہ موجود ہے۔ امت کا سواد اعظم یقین رکھتا ہے کہ زمین کے وارث اللہ کے نیک بندے ہی ہوں گے۔ قرآن میں غلبہ کے اصول واضح طور پر موجود ہیں، احادیث میں غلبہ کی بشارتیں موجود ہیں، ضرورت ہے کہ انہیں اصولوں کو بروئے کار لاکر غلبہ ٔ اسلام کیلئے کوشش کی جائے۔
کرۂ ارض کے سارے انسانوں کیلئے اسلام سر تاسر ہدایت ہے، دین رحمت ہے، دین فطرت ہے اور اللہ کے نزدیک محبوب و مطلوب ہے۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسلام۔۔ یہ سارے ادیان پر غالب ہونے کے لئے ہے، بلا شبہ دین اسلام غلبہ چاہتا ہے۔ بغیر غلبہ و اقتدار کے اسلام ادھورا ہے۔
دین کا لفظ عربی زبان میں مختلف مفہومات کا حامل ہے۔
ایک مفہوم ہے غلبہ و اقتدار، مالکانہ و حاکمانہ تصرف، دوسروں پر فیصلے نافذ کرنا، لسان العرب میں ہے دَانَ النَّاس اَیْ قَھَرَہُمْ عَلَی الطَّاعَۃ۔ الدَّیَّان۔ القاضی۔ الحکم۔ القھار۔
دوسرا مفہوم اطاعت و فرماں برداری۔ لسان العرب میں ہے اَلدِّیْن۔ الطَّاعَۃ
تیسرا مفہوم وہ عادت و طریقہ جس کی انسان پیروی کرے۔ اَلدِّیْن العَادَۃْ۔ الشَّان
مطلق دین کی جامع تعریف مولانا مودودیؒ نے ان الفاظ میں کی ہے۔
’دین کے معنیٰ اس طرز عمل اور اس رویہ کے ہیں جو کسی کی بالاتری تسلیم اور کسی کی اطاعت قبول کرکے انسان اختیار کرے۔ ‘ (تلخیص تفہیم القرآن سورہ زمر، حاشیہ ۲)
دین کی تعریف ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے ان الفاظ میں کی ہے۔ ’ ایک پورا نظام زندگی اور مکمل ضابطہ حیات جس میں کسی ایک ہستی یا ادارے کو مطاع، مقنن اور حاکم مطلق مان کر اس کے جزا کی امید اور سزا کے خوف سے اس کے عطا کردہ قانون اور ضابطہ کے مطابق اس ہستی یا ادارے کی کامل اطاعت کرتے ہوئے زندگی بسر کی جائے۔ (مطالبات دین صفحہ نمبر ۷۷)
واضح رہے کہ ہر دین اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ قائم ہو۔۔ غالب ہو۔۔ بادشاہ کا دین قائم و نافذ ہو تو دین الملک کہلائے گا۔ اسی طرح دین اللہ قائم اس وقت سمجھا جائے گا جب حقیقت میں وہ نظام قائم ہو جس میں اللہ ہی کو حاکم مطلق مانا گیا ہو اور مطاع مطلق اللہ ہی کو تسلیم کی گیا ہو اور عملاً صورت حال یہ ہو کہ اللہ کا کلمہ سب سے اونچا ہو جائے۔
الدین کی تشریح اقامت دین کا معنیٰ و مفہوم کی مزید وضاحت کے لئے ہم سورۃ الشوریٰ آیت نمبر ۱۳ کی تشریح میں مولانا مودودی ؒ کی تشریحات سے استفادہ کرتے ہیں۔
شرع لکم من الدین۔۔ ان اقیم الدین ولا تتفرقوا فیہ۔(۱۳ سورۃ شوریٰ)
’من الدین کا ترجمہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث ؒ نے ’از آئین ‘ کیا ہے، یعنی اللہ نے جو تشریع فرمائی ہے اسکی نوعیت آئین کی ہے۔ دراصل دین کے معنیٰ ہی کسی کی سیادت و حاکمیت تسلیم کرکے اس کے احکام کی اطاعت کرنے کے ہیں۔ اور جب یہ لفظ طریقہ کے معنیٰ میں بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ طریقہ ہوتا ہے جسے آدمی واجب الاتباع اور جس کے مقرر کرنے والے کو مطاع مانے۔ اس بنا پر اللہ کے مقرر کئے ہوئے اس طریقہ کو دین کی نوعیت رکھنے والی تشریع کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ بندوں کیلئے ان کے مالک کا واجب الاطاعت قانون ہے۔
اَقِیْمُو الدِّیْن۔ اس کا ترجمہ شاہ ولی اللہ ؒ نے ’قائم کنید دین ‘ کیا ہے۔ اور شاہ رفیع الدین ؒاور شاہ عبد القادر ؒ نے قائم رکھو دین کو، ترجمہ کیا ہے۔ یہ دونوں ترجمے درست ہیں، اقامت کا مطلب قائم کرنے کے بھی ہیں اور قائم کررکھنے کے بھی، انبیاء ان دونوں کاموں پر مامور تھے۔
دین کو قائم کرنے سے کیا مراد ؟ اور خود دین سے کیا مراد ہے ؟
جو چیز مادی نہیں معنوی ہوتی ہے، جب اس کے لئے قائم کرنے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد اس چیز کی محض تبلیغ کرنا نہیں بلکہ اس پر کما حقہ عمل در آمد کرنا، اسے رواج دینا، اسے عملاً نافذکرنا ہوتا ہے۔
دین سے کیا مراد ہے جب ہم قرآن مجید کا تتبع کر تے ہیں تو اس میں جن چیزوں کو دین میں شمار کیا گیا ہے اس میں حسب ذیل چیزیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔
وَمَا اُمِرُو اِلَّا لِیَعْبُدُو اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَ یُقِیمُوالصّلٰوۃَ وَیُوتُو الزَّکٰوۃٰ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃْ۔ ( البینۃ آیت ۵) ’اور ان کو حکم نہیں دیا گیا مگر اس بات کا کہ یکسو ہو کر اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں زکوٰۃ دیں یہی راست رو ملت کا دین ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ اس دین میں شامل ہیں حالانکہ ان دونوں کے احکام مختلف شریعتوں میں مختلف رہے ہیں، لیکن اختلاف ِ شرعی کے باوجود اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کو دین میں شمار کر رہا ہے۔
حُرِّمَت عَلَیْکُمُ المَیْتَۃُ وَالدَّمُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (المائدۃ ۳۰)
تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پرذبح کیا گیا ہو اور وہ جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر یا بلندی سے گر کر یا ٹکر کھا کر مرا ہو۔۔۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا۔ ‘ اس سے معلوم ہو ا کہ یہ سب احکام شریعت بھی دین ہی ہیں۔
قَاتِلُوا الَّذِیْنَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ ( سورۃ التوبۃ ۲۹)
’جنگ کرو ان لوگوں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔‘ معلوم ہوا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ حلال و حرام کے ان احکام کو ماننا اور ان کی پابندی کرنا بھی دین ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے دئیے ہیں۔
اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُواکُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائۃَ جَلْدَۃٍ وَّ لا تَاخُذْ کُمْ بِھِماَ رَأفَۃٌ فِی دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُو مِنُونَ بِا اللّٰہِ وَالْیَومِ الآخِرِ۔ (النور ۲)
’ زانیہ مرد اورعورت دونوںمیں سے ہر ایک کو ۱۰۰ کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو، اگر تم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ ‘
یہ تو وہ نمونے ہیں جن میں شریعت کے احکام کو بالفاظِ صریح دین سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن گناہوں پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی دھمکی دی ہے مثلا ً زنا، سود خوری، قتلِ مومن، یتیم کا مال کھانا، باطل طریقوں سے لوگوں کے مال لینا اور جن جرائم کو خدا کے عذاب کا موجب قرار دیا گیا ہے مثلاً قوم لوط (سدومی) اور لین دین میں قوم شعیب کا رویہ ان کا سد باب لازماً دین میں ہی شمار ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ دین اگر جہنم اور عذاب الٰہی سے بچانے کیلئے نہیں آیا ہے تو اور کس چیزکیلئے آیا ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ دین کے مفہوم میں شریعت بھی شامل ہے اور اقامت دین سے مراد پورے نظام ِ شریعت کا قیام و نفاذ ہے۔ امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی ہے وہ اس دور کیلئے دین ہے اور اس کو قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے۔ (تلخیص تفہیم القرآن سورۃ الشوریٰ ۱۳)
بعض لوگ دین کو مذہب کا ہم معنیٰ سمجھنے لگتے ہیں یہ تصور درست نہیں ہے۔ اسلام مذہب نہیں بلکہ دین ہے۔ دین و مذہب کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد ؒ لکھتے ہیں ’ مذہب کے لفظ سے جو تصور ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ چند مابعد الطبیات عقائد کو مان لیا جائے اور ان عقائد کے تحت چند مراسم عبودیت کی انجام دہی اور چند معاشرتی رسوم کی پابندی کر لی جائے تو مذہب کا تقاضہ پورا ہو گیا، مذاہب کا تعلق واقعۃ ً اانسان کی شخصی، ذاتی، نجی زندگی ہی سے ہے۔ اس معنیٰ میں اسلام مذہب ہی نہیں اور یہی و جہ ہے کہ دین اسلام کی تعبیر کیلئے لفظ مذہب نہ کہیں قرآن مجید میں وارد ہوا ہے اور نہ ہی ذخیرۂ احادیث میں کہیں استعمال ہوا ہے، بلکہ ہر جگہ اصل اصطلاح دین ہی استعمال ہوئی ہے۔ ‘ (مطالبات دین صفحہ ۷۹)
ہماری زبان کی اصطلاح ’نظامِ حیات ‘ ہے جو ادائیگی مفہوم کے اعتبار سے قریب ترین ہے۔
دین اسلام کا سلطنت و حکومت سے گہرا تعلق ہے۔ اس کی بڑے ہی پیارے انداز میں تشریح علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے کی ہے۔ علامہ رقمطراز ہیں ’ اس دین کی جامعیت کی تشریح مختلف پہلوؤں سے کی گئی ہے، ان ہی میں سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ سلطنت اور دین کا معتدل مجموعہ ہے۔ وہ ایسی سلطنت ہے جو ہمہ تن دین ہے یا ایسا دین ہے جو سر تاپا سلطنت ہے۔ مگر سلطنت الٰہی اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس سلطنت الٰہی میں قیصر کا وجود نہیں اس میں ایک ہی اعلیٰ حاکم و آمر مانا گیا ہے، وہ حاکم علی الاطلاق اور شہنشاہ قادر مطلق اللہ تعالیٰ ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے، حکم اسی کا ہے، فرمان صرف اسی کا صادر ہوتا ہے اور دوسرے مجازی حاکمو ںاور آمروں کا حکم اسی وقت مانا جاتا ہے جب وہ عین حکم الٰہی ہو یا اس پر مبنی ہو اور کم از کم اس کے مخالف نہ ہو۔۔۔۔ خدا کیلئے اور خدا کی خوشنودی کے حصول کیلئے سیاست و سلطنت سے متعلق جو کام بھی حسب حکم الٰہی کیا جائے وہ دین ہے۔ امام کی امامت، خلیفہ کی خلافت، راعی کی رعیت، والی کی ولایت، امیر کی امارت، حاکم کی حکومت، رعایا کی نگرانی، قاضی کی داد گری، عمال کا عمل، سپاہی کا قتال، مجاہد کا جہاد، محاصل کی ادائیگی، امراء کی واجبی اطاعت غرض سلطنت کے تمام متعلقہ شعبوں سے متعلق جو کام بھی حسب احکام الٰہی اللہ کیلئے کیا جائے وہ سب دین اور اطاعت اور موجب قربت ہے۔ ‘ (نقوش کا رسولﷺ نمبر ج ۲صفحہ ۳۴۳)
محمدﷺ کی بعثت غلبہ دین کیلئے تھی
محمدﷺ کی بعثت اسی مقصد سے ہوئی تھی کی وہ دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دیں۔ اس کی صراحت سورۃ التوبۃ آیت نمبر ۳۳، سورۃ الفتح آیت نمبر ۲۸، سورۃالصف آیت نمبر ۹ میں ہے۔
ھُوَ الّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُولَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِیْن کُلِّہ وَلَوکَرِہَ الْمُشْرِکُوْن۔ (سورۃ توبۃ ۳۳)
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
لِیُظْھِرَہٗ۔ اظہار کا معنیٰ غالب کر دینا۔۔ ظہر کہتے ہیں پیٹھ کو اور ظاہر استعارۃً غالب کے معنیٰ میں مستعمل ہے، فَاصبَحُوا ظاَہِریْن پس وہی ہوئے غالب .
اظہار باب افعال سے مصدر ہے اس میں فعل متعدی کا مفہوم پیدا ہوگیا، یعنی غالب کر دینا، ظاہر کردینا۔
گویا بات بالکل سیدھی ہے کہ دین اصلاً اللہ کا ہے اور اس کو غالب کرنا ہی فرض منصبی ہے۔
اس آیت میں رسول کی بعثت کی غرض یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اور دین حق کو وہ خدا کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام طریقوں اور نظاموں پر غالب کردے۔
’رسولوں کی بعثت کبھی اس غرض کیلئے نہیں ہوئی کہ جو نظام زندگی لے کر وہ آیا ہے وہ کسی دوسرے نظام زندگی کا تابع بن کر اور مغلوب بن کر اس کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں میں سمٹ کر رہے۔ بلکہ وہ بادشاہ ِارض و سماء کا نمائندہ بن کر آتا ہے اور اپنے بادشاہ کے نظام حق کو غالب دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا نظام زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے خدائی نظام کی بخشی ہوئی گنجائشوں میں سمٹ کر رہنا چاہیے، جیسا کہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمیوں کا نظام ِ زندگی رہتا ہے۔ (تلخیص تفہیم القرآن سورۃ توبۃ آیت ۳۳)
ھُوَالّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُولَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِیْن کُلِّہِ وَ کَفَی بِاللّٰہِ شَھِیْداً۔ (الفتح ۲۸)
وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو پوری جنس ِدین پر غالب کر دے۔ اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔
’یہاں جو بات اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ محمدﷺ کی بعثت کا مقصد محض اس دین کی تبلیغ نہ تھا بلکہ اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام نظامات ِ زندگی پر غالب کر دینا تھا ‘(تلخیص تفہیم القرآن سورۃ فتح حاشیہ ۵۱)
ھُوَ الّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُولَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِیْن کُلِّہ وَلَوکَرِہَ الْمُشْرِکُوْن۔ (سورۃ صف آیۃ ۹) وہی توہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
مشرکین کو ناگوار ہو ’ یعنی ان لوگوں کو جو اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگیاں ملاتے ہیں اور اللہ کے دین میں دوسرے دینوں کی آمیزش کرتے ہیں؛ جو اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ پورا کا پورا نظام زندگی صرف ایک خدائی اطاعت و ہدایت پر قائم ہو؛ جنہیں اس بات پر اسرا ر ہے کہ جس جس معبود کی چاہیں گے بندگی کریں گے، ایسے سب لوگوں کے علی الرغم یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کا رسول ان کے ساتھ مصالحت کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس لئے بھیجا گیا ہے کہ جو ہدایت اور دین حق وہ اللہ کی طرف سے لایا ہے اسے پورے دین یعنی نظام زندگی کے ہر شعبے پر غالب کر دے، یہ کام اسے بہرحال کر کے رہنا ہے۔ کافر اور مشرک مان لیں تو اور نہ مانیں تو اور مزاحمت میں ایڑی سے چوٹی کا زور لگادیں تو، رسول کا یہ مشن ہر حالت میں پورا ہو کر رہے گا۔ (تلخیص تفہیم القرآن سورۃ صف ۹)
سورۃ التوبۃ اور سورۃ الصف کی آیتوں کا آخری ٹکڑا وَلَوکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنہے اور سورۃ الفتح کی آیت کا آخری ٹکڑا وَ کَفَی بِااللّٰہِ شَھِیْداً ہے، ان دونوں آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دین حق کا غلبہ مشرکوں اور کافروں کو خواہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو ہم نے اپنے رسولوں کو اسی مقصد سے بھیجا ہے، اور سورۃ الفتح کا آخری ٹکڑا یہ بتاتا ہے کہ بعثت محمدیﷺ کی اس غرض و غایت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اب اگر تمام دنیا ملکر بھی یہ کہے کہ محمدﷺ کی بعثت کا مقصد یہ نہیں تھا تو اسکی بات نہیں مانی جائیگی۔۔
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب حجۃ اللہ البالغۃ میں اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام انبیاء کرام کو اقامت دین کیلئے ہی مبعوث فرماتا رہا ہے اور اس میں سیدنا محمدﷺ کو بھی اسی لئے مبعوث فرمایا تھا کہ وہ دین حق کو باطل ادیان پر غالب کردے۔
(حجۃ اللہ البالغۃبحوالہ اقامت دین فرض ہے۔ ص ۱۸)
بعض لوگ غلبۂ دین کی جد و جہد سے جان بچانا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ اس آیت میں کہا گیا وہ حضورﷺ کے ساتھ ہی ختم گیا۔ اس ذہنیت کا جواب دیتے ہوئے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ’ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق آںحضرتﷺ پر نازل فرمایا اور آپﷺ نے صحابہ کرام کو اس کی تبلیغ کی، صحابہؓ نے آپؐ کے مقصد و مراد کو اچھی طرح سمجھا اور پھر اسے تابعین تک پہنچایا، اسی طرح عہد بہ عہد وہ مقصد منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس لئے کہ ارادۂ الٰہی محض یہ نہ تھا کہ صرف آں حضرتﷺ کو تعلیم دے دی جائے، اور نہ یہ تھا کہ سننے والے مقصد تبلیغ سمجھیں یا نہ سمجھیں آپﷺ عہدۂ تبلیغ سے عہدہ برآ ہو جائیں، بلکہ مراد دین حق کا ظہور اور غلبہ ہے، قرناً بعد قرنٍ یعنی ایک زمانے کے بعد دوسرے زمانے میں اور پھر تیسرے میں اور اسی طرح‘(ازالۃ الخفاء ج ۱، ص ۴۶)
غلبۂ دین کے تعلق سے قرآنی آیات۔۔۔ جس میں تمام رسولوں سے غلبہ کا وعدہ کیا گیا ہے
لَقَدْ سَبَقَت کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَoاِنَّھُمْ لَھُمُ المَنْصُورُن وَاِنَّ جُنْدَنَا لَھُمُ الْغَٰلِبُونْ (الصافات ۱۷۳۔۱۷۴)
اور اپنے بندوں یعنی رسولوں کے حق میں ہمارا فیصلہ پہلے ہی صادر ہو چکا ہے، بلا شبہ یہ و ہی لوگ ہیں جن کی مدد کی جائے گی اور بلا شبہ ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا۔
تمام رسولوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ باطل پرستوںکے مقابلے ان کی مدد کرے گا
کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌo(المجادلۃ ۲۱)
’اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے یقینا میں اور میرے رسول ہی غالب ہو کر رہیں گے، بلا شبہ اللہ قوی اور زبردست ہے۔ ‘
امت مسلمہ سے وعدہ ہے:
وَلَا تَھِنُوْ وَلَا تَحزَنُو او اَنتُمُ الاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُومِنِیْنَ (آل عمران ۱۳۹)
دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی سر بلند رہوگے اگر تم مومن ہو۔
وَمَنْ یَتَوَ لَّ اللّٰہ وَرَسُولَہُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوافَاِنَّ حِزْبَ اللّہِ ہُمُ الْغَالِبُوْنَ (المائدۃ ۵۶)
اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی رفاقت اختیار کرے گا تو اسے معلوم ہو کہ اللہ ہی کی جماعت غالب ہونے والی ہے۔
غلبۂ دین اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کریں ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے کے لوگوں کو بنا چکا ہے، وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُم الَّذِی ارتَضیٰ لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّن بَعْدِ خَوفِہِم اَمْناً ط اور ان کے لئے اس دین کو استحکام بخشے گا جسے اللہ نے ان کے حق میں پسند فرمایا ہے اور ان کی حالت خوف کو حالت امن سے بدل دے گا۔
غلبۂ دین کی بشارت والی حدیث
مسند احمد بن حنبل ؒ میں حضرت مقدادؓ بن اسود سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کُل روئے ارضی پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا، نہ اونٹ کے بالوں کے کمبلوں سے بنا ہوا خیمہ، جس میں اللہ کلمہ ٔ اسلام کو داخل نہ کر دے، خواہ کسی عزت کے مستحق کے اعزاز کے ساتھ اور خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کے ذریعہ یعنی یا تو اللہ انہیں عزت دے گا اور اہل اسلام میں شامل کر دے گا اور یا تو مغلوب کر دے گا۔ چنانچہ وہ اسلام کی بالا دستی قبول کر لیں گے، حضرت مقدادؓ فرماتے ہیں کہ اس پر میں نے اپنے دل میں کہا کہ تب وہ بات پوری ہوگی جو سورۃ انفال کی آیت نمبر ۳۹ میں وارد ہوئی ہے۔ کہ دین کل کا کل اللہ ہی کیلئے ہو جائے گا۔ (رواہ احمد فی المسند)
اظہار دین ضروری کیوں ؟
دین کا غلبہ اس لئے ضروری ہے کہ بغیر غلبہ کے دین کے ایک بڑے حصہ پر عمل ممکن ہی نہیں، غلبے کے بغیر دین کا وجود ہی بے معنیٰ ہے۔ جس طرح جمہوریت یا بادشاہت، ڈکٹیٹر شپ یا کیپٹلزم اورکمیونزم یا سوشیلزم کسی خطہ زمین پر بہ یک وقت قائم نہیں رہ سکتے اسی طرح دو دین بھی کسی جگہ ہم پلہ نہیں رہ سکتے اور ان کے مابین مفاہمت کی کوئی صورت اس کے سوا موجود نہیں ہے کہ ان میں سے ایک تو دین کی حیثیت میں رہے اور دوسرا سمٹ اور سکڑ کر مذہب کی حیثیت اختیار کرکے مغلوب ہو کر رہنے پر راضی ہوجائے۔ جس طرح غلبۂ اسلام کی صورت میں عیسائیت، یہودیت ایسے تمام یُعْطُو الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْن۔ یا غلبۂ انگریز کے زمانے میں اسلام ایک مذہب کی صورت اختیار کرکے زندہ رہا جسے علامہ اقبال ؒ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
یا جس طرح آج دین جمہور یت (۴۹؍عقلمندوں پر ۵۱؍بیوقوفوں کی بالا دستی کا نام جمہوریت ہے )کے غلبہ کی صورت میں اسلام کو سمٹا، سکڑا ہوا ہم دیکھ رہے ہیں، اس دین جمہوریت نے شراب، سور، سود، زنا اور شرکیہ اعمال و افعال کو حلال کر رکھا ہے، اسلام اور مسلمانوں پر نت نئے بہانوں سے حصار تنگ کیا جا رہا ہے، اور غلبۂ دین کے لئے کوشاں افراد و جماعت کو پابند سلاسل اور غیر قانونی قرار دے رہا ہے۔ مسلمان جان، مال، آبرو، شعائر اللہ کی پامالی کھلی آنکھوں دیکھنے اور برداشت کرنے پر مجبور سراپا ’صاغرون ‘بنے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال نے بڑے ہی تند لہجہ میں کہا ہے کہ
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے ایک جوئے کم آب اور آزادی میں بحر ِ بیکراں ہے زندگی
مسلمان اس مغلوبیت اور محکومی میں رہتے رہتے اسی غلامی پستی و مظلومی میں آہستہ آہستہ عافیت محسوس کرنے لگا ہے، اور اسی پستی کے گن گانے لگا ہے، خود کو مطمئن کرنے کے لئے اس نے تاویلات کا سہارا لے رکھا ہے، کبھی وہ ملک کی شرعی حیثیت من چاہے انداز میں متعین کرتا ہے، تو کبھی فقہ الاقلیات جیسی چیزیں وضع کرنے لگتا ہے۔
ایسی محکومی میں صاغرون نے قرآن کو صرف تلاوت کیلئے خاص کر رکھا ہے، کفر سے مراد مکہ کے کافر، مشرکین سے مراد مشرکین مکہ، یہ آیت قتال غزوۂ بدر کے تناظر میں، یہ آیت جہاد مدینہ کے خاص تناظر میں ہے، گویا آج کے حالات میں قرآن سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی۔ العیاذ باللہ
تھا جو ناخوب بتدریج و ہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
امت مسلمہ کا مقصد وجود اظہار دین کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دینا
نبیﷺ کی بعثت کا مقصد بلا شبہ اظہار دین ہے تو امت مسلمہ کا فریضہ ٔحیات بھی اظہار دین ہی ہے، وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَافَّۃً لِلِنَّاسِ بشِیْراًوَّ نذِیْراً (سورۃ سبا، آیت ۲۸) ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر تمام انسانوں کے لئے بشیر و نذیر بنا کر۔
اس آیت کی روشنی میں یہ بات واضح ہو تی ہے کہ امت مسلمہ کی ذمہ داری صرف یہی نہیں ہے کہ خود کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامے رہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ پوری نوع انسانی تک رسالتِ محمدیﷺ کے پیغام کو پہنچانے کا حق ادا کرے اور پورے کرۂ ارضی پر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دے، کہ یہی نبی اکرمﷺ کی بعثت کا مقصد تھا، اسے اللہ پاک نے قرآن پاک میں تین مقامات پر صراحتاً بیان فرمادیا۔ (سورۃ صف ۹، سورۃ توبہ ۳۳، سورۃ فتح آیت نمبر ۲۸)اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کو امت وسط بھی قرار دیا گیا ہے، جس کا فرض پوری نوع انسانی پر اللہ اور رسول اللہﷺ کی جانب سے شہادت حق کا فریضہ ادا کرنا ہے۔ ’ اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت (بہترین امت) بنایا تاکہ تم گواہ ہو جاؤ لوگوں پر اور رسول گواہ ہو جائیں تم پر۔ ‘ (البقرۃ ۱۴۳)
اور ’خیر امت ‘ یعنی بہترین امت کا خطاب بھی دیا گیا جو پوری نوع انسانی کیلئے برپا کی گئی ہے۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَت لِلنَّاسِ تَأ مُرُوْنَ بِا الْمعْرُوفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرْ وَ تُوْ مِنُونَ بِااللّٰہِ۔ (آلِ عمران ۱۱۰)
’تم وہ بہترین امت ہو جسے نوعِ انسانی کیلئے برپا کیاگیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہو۔ ‘
صحابہ کرامؓ جو آپﷺ کے حقیقی جا ں نشین تھے، تبلیغ دین، شہادت حق، اقامت دین اور اظہار دین کا فریضہ ادا کرتے رہے۔۔ ختم نبوت و رسالت کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو کام آنحضرتﷺ نے کیا اب آپ کے بعد وہ سب کا سب امت مسلمہ کے ذمہ ہے۔ یہ سارے فرائض اب ان لوگوں پر عائد ہوتے ہیں جوآپﷺ کا امتی ہونے کو باعث سعادت جانتے ہیں۔
اظہار دین کیلئے اٹھنا ہی اصل تقاضا ئے دین ہے
علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے اس پیغام کو بڑے ہی دل نشین انداز میں بیان کیا ہے، ’ ایک مدت سے علماء کی گوشہ گیری اور صوفیہ کی خانقاہ نشینی نے عوام کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ قیام سلطنت اور امور سلطنت میں دخل و تدبیر دنیا کا کام ہے، جس سے اہل علم اور اہل اتقاکو کنارہ کش رہنا چاہئے۔ حافظ شیرازی کا یہ مشہور شعر اسی تصور کا غماز ہے ؎
گدائے گوشہ نشینی تو حافظ مخروش رموز مملکت خویش خسرواںدانند(اے حافظ تو گدائے گوشہ نشین ہے، زیادہ شور و غل مت کر اپنی مملکت کے رموز اسرار بادشاہ ہی جانتے ہیں، تم کو ان سے کیا سروکار )
لیکن اسلام اس خسروی کا قائل نہیں ہے اس کی نگاہ میں سلطنت احکام الٰہی کی تبلیغ، تنفیذ اور اجراء کیلئے ہے، یہ عین دین ہے، اسلام میں جس قتال و جہاد کی دعوت برملا دی گئی ہے اور جس پر اخروی نعمتوں کے بڑے بڑے وعدے اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں اور جس سے داعیِ اسلامﷺ کی حیات مقدس اور حضرات خلفاء راشدین اور صحابہ ٔ کرامؓ کی زندگیاں سرتاپاما مور ہیں یہی سبب ہے کہ حضرات صحابہؓ جہاد و قتال فی سبیل اللہ، انصاف، اقامت دین، تنفیذ حکم، امر بالمعروف و النھی عن المنکر کے تمام کاروبار کو جس کا بڑا حصہ امامت و خلافت اور اس کے ماتحت شعبوں اور صیغوں سے متعلق ہے عام عبادات و اعمال صالحہ سے کم اہم نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اس تصور و عقیدے کی بنیاد پر کہ اقامت دین کی راہ میں خون شہادت کا ایک قطرہ بھی مومن کے اعمال نامے اور گناہوں کے دفتر کو دم کے دم میں دھو دیتا ہے ‘ (نقوش کا سیرت رسولﷺ نمبر جلد ۲، صفحہ ۳۵۱)
دین حق کا قیام مشرکین پر بھاری ہے
مشرکین نہیں چاہتے کہ اللہ کا دین قائم ہو، غالب و نافذ ہو کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَاتَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ۔ اے نبیﷺ مشرکوں پر یہ بات بہت بھاری ہے جس کی آپؐ انہیں دعوت دے رہے ہیں۔
مشرکین کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس لا الہ الا اللہ کی ضرب ان کے مفادات پر کہا ںکہاں پڑے گی، ایک سادہ لوح مسلمان کے علم میں شاید یہ بات نہ ہو کہ توحید کی ضرب کہاں کہاں پڑ رہی ہے، لیکن مشرکین اس سے اچھی طرح واقف ہیں اسی لئے یہ دعوت ان پر بہت بھاری ہے، اور وہ ٹھنڈے پیٹوں یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے کہ اللہ کا دین قائم اور غالب ہو۔
آج کے اَ ئمۃ المشرکین، آج کے طواغیت بھی اسی قدر خائف ہیں کہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں اسلام غالب نہ ہو جائے، اگر اسلام غالب ہوگا تو دنیا کے انسان اسلام کی برکتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں گے تو پھر ان کی چودھراہٹ، سود اور ظلم پر مبنی معیشت، کفر کی تہذیبی سڑاندھ کی طرف کون متوجہ ہوگا، دنیا اگر اسلام کی برکتیں دیکھ لے گی تو پھر ان کی ننگی بھوکی تہذیب کا کیا ہوگا، اسلام کے ماننے والے اگر ایک امیر کے ماتحت ہو کر مضبوط ہو جائیں تو پھر یہ لوٹ کھسوٹ کی کالا بازاری کیسے باقی رکھ پائیں گے، مسلمان خواہ اسلامی خلافت، غلبہ ٔ اسلام، حکومت الٰہیہ کو بھول چکے ہوں، لیکن ابلیس اور اس کے مشیر نہیں بھول سکتے، ابلیس نے اپنے مشیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ؎
ہے اگر مجھ کو کوئی خطرہ تو اس امت سے ہے جسکی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
جانتا ہے جس پہ روشن باطن ایام ہے مزدوکیت فتنہ ٔ فردا نہیں، اسلام ہے
اظہار ِ دین کی عملی راہیں
(سورۃ بقرۃ ۲۴۶ تا ۲۵۲) قصۂ طالوتؑ و جالوت کے مطالعہ سے اظہارِ دین کی عملی راہیں کھلتی ہیں، اس قصہ میں سبق ہے ان کیلئے جو امت مسلمہ کی موجودہ حالت میں تبدیلی چاہتے ہیں، جو ذلت کو عزت، شکست کو فتح میں بدلنے کیلئے جدوجہد کر ہے ہیں، جہاد و قتال، معرکہ آرائی اور دشمن کی طاقت سے خوف نہ کھانے کے اسباق ہیں، الغرض یہ قصہ گوناگوں اسباق اور نصائح سے لبریز ہے، جو ہر دور میں امت مسلمہ کیلئے قیمتی ہے۔اس میں قائد اور امیر کیلئے سبق ہے امیر کو چاہیے کہ
وہ گروہوں اور جماعتوں کی دلیری اور جوش و خروش کا امتحان لے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان میں کھرے اور کھوٹے کتنے ہیں۔ اس قصے میں بڑی وضاحت سے ہے کہ جب جنگ کیلئے حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک بڑی تعداد پیٹھ پھیر کر بھاگ گئی، صرف ایک قلیل تعداد ہی باقی رہی۔
فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَولَّوا اِلَّا قَلِیْلاً مِنھُمْ۔ (البقرۃ ۲۴۶)
اس میں سے ایک بڑی تعداد اگلے امتحان میں فیل ہو گئی۔ قَا لَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَھرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّی۔ (البقرۃ ۲۴۹) حضرت طالوتؑ جب لشکر لے کر چلے تو کہا کہ ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے جو اس کا پانی پیے گا وہ میرا ساتھی نہیں، میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ’ حضرت طالوت کو معلوم تھا کہ اس قوم کے اندر اخلاقی انضباط بہت کم رہ گیا ہے اس لئے انہوں نے کارآمد اور ناکارہ لوگوں کو ممیز کرنے کیلئے یہ آزمائش تجویز کی۔ ظاہر ہے جو لوگ تھوڑی دیر کیلئے اپنی پیاس تک نہ ضبط کر سکیں ان پر کیا بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ اس دشمن کے مقابلہ میں پامردی دکھائیںگے جس سے وہ پہلے ہی شکست کھا چکے ہیں۔ ‘ (تلخیص تفہیم القرآن حاشیہ سورۃ بقرۃ )
o اس باقی ماندہ لشکر سے بھی ایک حصہ یہ کہہ کر حوصلہ ہار بیٹھا کہ لَا طَاقََۃَ لَنَاالْیَومَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُودِہٖ۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ آج تو ہم میں طاقت نہیں ہے کہ جالوت اور اس کے لشکر سے لڑیں۔
o ایک مختصر مگر چیدہ گروہ ثابت قدم رہا اور اللہ کے بھروسے ڈٹ گیا کَم مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰابِرِیْن۔ (البقرۃ ۲۴۹) مڈبھیڑ کے وقت وہی گروہ اللہ سے دعا کرتا ہے رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْراً وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَاعَلَیْ الْقَوْمِ الْکَافِرِیْن۔ (البقرۃ ۲۵۰) اے پروردگار ہمیں صبر دے، ثابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔ ’ان اہل ایمان نے عین معرکہ آرائی کے وقت بارگاہِ الٰہی میں صبر و ثبات اور کفر کے مقابلے میں ایمان کی فتح و کامیابی کی دعا مانگی، گویا مادی اسباب کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ نصرت الٰہی کیلئے ایسے مواقع پر بطور خاص طلبگار رہیں۔ ‘(تشریح مولانا جونا گڈھی )
اس واقعہ میں قائد کی دوسری اہم خوبی یہ بیان کی گئی ہے:
وَزَادَہٗ بَسطَۃً فِی العِلْمِ وَ الْجِسْمِ۔ (البقرۃ ۲۴۷)
’ اور اللہ نے اسے علمی اور جسمانی برتری عطا فرمائی ہے، یعنی علم اور جسم کی کشادگی عطا فرمائی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ مامورین کی خوبیاں بھی نکھر کر سامنے آئیں ہیں، یعنی وہ مختصر گروہ جو باطل کےبالمقابل ڈٹا رہا اور با لآخر فتح یاب رہا وہ پورا گروہ حسب ذیل خوبیوں سے مالامال تھا۔
٭ وہ تمام خدا شناس تھے۔ ٭ دعا والحاح وزاری ان کی مستقل صفت تھی۔
٭ان کے اندر اخلاص تھا۔ ٭ جذبہ سمع و طاعت تھا
٭ صبر کا مادہ تھا ٭ ان کے اندر ثبات و استقامت کا جوہر تھا کہ دشمن کی کثیر تعداد سے خائف نہیں ہوئے۔
جب مجاہد صبر و ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے تبھی نصرت خدا وندی حاصل ہوتی ہے۔
اظہارِ دین کے لئے ضرورت ہے
اظہار ِ دین کے لئے پہلی ضرورت ہے کہ ایسے افراد کی بڑی تعداد ہو جن کے اندر خداشناسی، دعا و الحاح وزاری، اخلاص، سمع و طاعت، صبر و استقامت ہو اسی کے ساتھ ساتھ ان کے اندر مزید خوبیاں ہوں جسے اللہ پاک نے سورہ مائدہ میں بیان فرمایا ہے۔
یُحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّونَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُوْمِنِیْن اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْن یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَایَخَافُوْنَ لَومَۃَ لَائِمٍ; (المائدہ ۵۴) ’ جو اللہ کو محبوب ہوں گے اوراللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنین پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جد وجہد کریں گے اور کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
ان اعلیٰ صفات کے حامل افراد کی جماعت تیار کرنا اشد ضروری ہے۔ ایسے افراد کی جماعت تیار کرنا اظہار دین کے لئے خشت ِ اول ہے۔
غلبہ و تمکن کیلئے اتحاد امت نا گزیر
امت مسلمہ کی عظیم اکثریت غلبہ ٔ دین کی خواہاں اور متمنی ہے، لیکن واضح رہے کہ اس کے لئے امت کا اتحاد ضروری ہے۔ اور یہ کتاب و سنت سے چمٹنے کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوگا۔ آپﷺ نے خطبہ ٔ حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگوں میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جن پر اگر تم مضبوطی سے جمے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
(مسلم شریف)
امت کے مابین اتحاد اور مضبوطی پیدا کرنے کیلئے جذبہ اخوت کو پروان چڑھایا جائے۔ اخوت عطیہ الٰہی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو نوازتا ہے، فرمانِ الٰہی ہے ’اور اگر وہ آپ ؐ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ ؐ کیلئے اللہ کافی ہے، وہی ہے جس نے اپنی مدد سے مومنین کے ذریعہ آپ ؐ کو قوت بخشی اوران کے دلوں کو باہم جوڑ دیا، اگر آپ ؐ زمین میں جو کچھ ہے خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دلوں کو آپس میں نہ جوڑ سکتے، مگر اللہ نے ان کے دل جوڑ دئیے۔ یقینا وہ زور آور اور حکمت والا ہے۔ (الانفال ۶۲۔۶۳) اس اتحاد و یکجہتی اور باہمی اخوت کے بغیر غلبہ ٔ دین کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
اظہارِ دین کے لئے مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہے
اظہار دین کا یہ کام ٹھوس حکمت عملی اور مضبوط منصوبہ بندی کا متقاضی ہے، ہمیں غلبہ ٔ دین کے لئے بطور خاص نبوی ؐ حکمت عملی کو ہمہ وقت، ہر آن پیش نظر رکھنا ہوگا۔ آپ ؐ کی زندگی کے ہر گوشہ میں عمدہ پلاننگ و مضبوط ترتیب نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے ہجرت کیلئے جو منصوبہ بندی کی وہ انتہائی ٹھوس اور جامع تھی، آپﷺ نے جائے ہجرت کا انتخاب کیا، وہاں کے حالات کا باریکی سے جائزہ لیا، زمین کو ہموار کرنے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی، سفر ہجرت کو خفیہ رکھا، رازداری برتی، حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ کو دشمن کی نقل و حرکت اور تازہ اطلاعات فراہم کرنے کی خدمات پر مامور کیا، حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ مکہ سے غارِ ثور تک کھانے پینے کا سامان لے آتیں اور غلام عامر بن فہیرا کا بکریاں اس انداز سے لے جانا کہ قدموں کے نشانات مٹ جائیں صحرائی راستوں کے ماہر عبد اللہ بن اریقط کا انتخاب بطور گائڈ کے کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ منصوبہ بندی کتنی ٹھوس تھی، زمین میں اللہ کے دین کا غلبہ انتہائی اہم تر ذمہ داری ہے، یہ کام الل ٹپ یا رد عمل کے طور پر نہ ہو بلکہ منصوبہ بند طریقے سے ہو۔
مکہ میں آپ ؐ نے رازداری کے ساتھ اپنے متبعین کی ایمانی و اخلاقی تربیت کرنے اور انہیں اگلے مرحلہ کیلئے تیار کرنے کیلئے دارِ ارقم بن ابی الارقم کا انتخاب کیا، یہ گھر کئی وجوہ سے اہم تھا۔
(۱) حضرت ارقمؓ کے بارے میں لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ وہ ایمان لا چکے ہیںاس لئے کفار کے حاشیہ ٔخیال میں بھی یہ نہ تھا کہ ان کے گھر میں محمدﷺ کا اجتماع ہوتا ہوگا۔ (۲) حضرت ارقمؓ بن ابی الارقم کا تعلق قبیلہ بنی مخزوم سے تھا، اور یہ قبیلہ بنی ہاشم کا حریف اور اس کے خلاف بر سر جنگ رہتا تھا، اس لئے یہ کفار کیلئے ناقبل یقین رہتا تھا کہ آپﷺ جو بنو ہاشم سے ہیں بھلا اپنے دشمن قبیلے کے اندر کیسے کام کریں گے۔ (۳) حضرت ارقمؓ جب ایمان لائے تھے تو ان کی عمر ابھی ۱۶؍ سال تھی، بالکل نو عمر تھے، اس لئے اس کمسن شخص کی طرف کسی کی نگاہ نہ جاتی تھی۔
ہمیں اظہار دین کیلئے منصوبہ بندی، افراد کی تربیت کیلئے دارِ ارقمؓ کی انتخاب کی حکمت عملی کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔
غایت درجہ احتیاط ضروری
اظہار دین کے عملی پہلووں پر غور و خوض اور عمل کیلئے غایت درجہ احتیاط کی ضرورت ہے، اس احتیاط کو بھی اسوہ رسول ؐ کی روشنی میں ہی برتنا ہوگا۔ نبی ؐ نے فتح مکہ کیلئے کوچ کرنے سے قبل اپنی اصل مہم پر پردہ ڈالنے کیلئے ابو قتادہ بن ربعی کو آٹھ افراد کے ایک دستہ کا سردار بناکر ’ بطن اضم‘ بھیجا تاکہ لوگ سمجھیں کہ رسول اللہﷺ کا قصد اسی جانب ہے۔ آج یہ احتیاط اس لئے بھی ضروری ہے کہ تحریکات اسلامی یہودیوں کے پھینکے گئے Transparencyشفا فیت کے جال میں پھنس کر غیر نبوی منہج اپنانے کی وجہ سے روز بروز غلبۂ دین کی کوششوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
رازداری شرط
اہم اور عظیم کاموں کیلئے کس درجہ رازداری کی ضرورت ہوتی ہے اس کو ہم نبیﷺ کے اس اسوہ کی روشنی میں غور کریں اور سوچیں۔
’سن ۲؍ہجری میں رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہؓ بن جحش کو ۱۲؍مہاجر صحابہؓ کے ہمراہ روانہ کیا اور آپ کو ایک مہر بند خط عطا فرمایا اور حکم دیا کہ جب تک۲؍دن کا سفر طے نہ کر لو اور فلاں مقام تک نہ پہنچ جاؤ اس خط کو نہ کھولنا، چنانچہ جب حضرت عبد اللہ اس جگہ پہنچ گئے اور خط کھولا تو اس میں تحریر تھا ’ جب تم میرا یہ خط پڑھنا تو اللہ کا نام لیکر آگے بڑھنا مگر اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے کیلئے مجبور نہ کرنا، جو لوگ تمہارے ساتھ ہولیں انہیں لے کر آگے بڑھنا، یہاں تک کہ جب تم وادی نخلہ پہنچ جانا تو وہاں چھپ کر قافلۂ قریش کے حالات معلوم کرنا اور اس سے ہمیں باخبر کرنا۔
(سنن البیہقی ۹؍۱۲)
اس پورے واقعہ کو بار بار پڑھیں اور رازداری کے ہر پہلوکو ذہن نشین کریں اگر ہمیں واقعتاً اظہارِ دین کا فریضہ انجام دینا ہے۔
اظہار دین کیلئے اعداد قو ت شرط ہے:
دین حق کے غلبہ کیلئے ہر طرح کی قوت درکار ہے، قرآن مجید میں امت کو نہایت اہتمام کے ساتھ اختیار اسباب کو لازم فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ دین حق کے غلبہ کا ذریعہ وہ تمام قسم کی طاقتیں ہیں جن تک رسائی ضروری ہے، اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فراہمی قوت، اور تیاری ساز و سامان کا حکم دیا ہے۔ ’ اور ان کے مقابلے کیلئے جس حد تک تم سے ہو سکے (جنگی) طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار کرو، جس کے ذریعہ تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں پر رعب طاری کر سکو اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور تم جو راہِ خدا میں خرچ کروگے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں لوٹایا جائے گا، اور تمہاری ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ ‘ (الانفال ۶۰)
اعداد کے معنیٰ ہیں مستقبل کیلئے کوئی چیز تیار کرنا۔
مَااسْتَطَعْتُمْ …جس قدر تم سے ہو سکے یعنی اپنی سکت و مقدرت کی آخری حد مراد ہے۔
قُوَّۃ …… سے مراد ساز و سامان ہے جو حصول قوت کا ذریعہ ہو۔
نبیﷺ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا کہ سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، آپ ؐ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ (مسلم کتاب الجہاد)
’صاحب ظلال لکھتے ہیں کہ اسلام اعداد و قوت کا حکم دیتا ہے، جس میں طاقت کی سبھی اقسام اوراس کے جملہ اسباب و وسائل شامل ہیں اور اسلام کیلئے یہ طاقت و قوت ناگزیر ہے، تاکہ اس کی مدد سے روئے زمین کے انسانوں کو آزادی دلانے کیلئے پیش قدمی کر سکے۔ ‘ (فی ظلال القرآن)
’آج مسلمانوں کیلئے نہایت ضروری ہے کہ وہ قوت کے تمام اسباب و وسائل حاصل کریں، کیونکہ ان کا سامنا ایک ایسے عالمی نظام اور ان بین الاقوامی طاقتوں سے ہے جو صرف طاقت کی زبان جانتی ہیں، اس لئے ان پر لازم ہے کہ وہ لوہے کا مقابلہ لوہے سے کریں، آندھی کے سامنے طوفان بن کر کھڑے ہوں، کفر اور اہل کفر کے خلاف اپنی پوری طاقت سے نبر د آزما ہوں، آج انسان نے جو جو ہتھیار ایجاد کیے ہیں اور اس کی رسائی جن جنگی ساز و سامان تک ہوئی ہے وہ سب ان کے ہاتھوں میں ہوں، اور اس باب میں وہ ذرا بھی کوتاہی و سستی نہ دکھائیں۔ ‘(ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین لابی الحسن علی الندوی ۲۲۵، فتح و غلبے کا قرآنی تصور جلد دوم ص ۱۲۰)
استاد محمد الغزالی ؒ فرماتے ہیں ’امت مسلمہ کو جو اسلامی انقلاب مطلوب ہے وہ بغیر جہاد اور بغیر مجاہد گروہ تیار کیے برپا نہیں ہو سکتا، اس لئے کہ انقلاب کا کام سخت دشوار اور صبر آزما ہے، آج دنیا میں زمامِ اقتدار پر جن ظاہری اور مخفی طاقتوں کا قبضہ ہے وہ نہایت ہی شریر اور بد باطن ہیں، جنہیں دشمنانِ اسلام نے عرصہ پہلے اسی مقصد کیلئے تیار کیا تھا۔ یہ طاقتیں شب و روز مختلف وسائل اور ہتھکنڈوں سے اسلام کی آواز دبانے کیلئے سرگرم عمل ہیں، ان کو مٹانا اور ان کی جگہ اسلام کو لے آنا آسان کام نہیں ہے، یہ آخری سانس تک اپنے مورچوں پر جمی رہیں گی، اس لئے سب سے پہلے ضرورت ہے جہادی ٹریننگ کی، جس سے ان مجاہدین کی کھیپ تیار ہو سکے، جنہیں موت سے اسی طرح پیار ہو جس طرح لوگوں کو زندگی پیاری ہوتی ہے، جو شب و روز اسلام اور اسلامی مسائل کے تئیں فکر مند ہوں اور ان کی زندگی اسی کیلئے وقف ہو، ایک ٹھوس اور مضبوط بنیاد کی تعمیر ازحد لازم ہے جو اسی زبردست کشمکش آرائی میں چٹان کی طرح ثابت قدم ہوں، سازشوں کا مقابلہ کر سکیں، تمام محاذوں اور میدانوں پر جانیں لڑائے اور غلبہ ٔ دین حق کی قیمت اپنے شہید فرزندوں کے لہو سے ادا کرے۔ ‘ (فتح و غلبے کا قرآنی تصور ص ۱۲۱، جلد دوم)
واضح رہے کہ بغیر اعداد قوت کے ارھاب نہیں ہو سکتا، بغیر ارھاب کے کھلے دشمن اور ڈھکے چھپے دشمن سر اٹھانے لگیں گے اور اظہار دین کی راہ کھوٹی ہو جائے گی۔
دعوت الی اللہ
معاشرے سے منکرات کے خاتمے اور معروفات کے فروغ کی بھرپور کوشش کے ساتھ، پوری حکمت و ہمت کے ساتھ دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینا ضروری ہے، ’اے نبی ؐ اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہتر ہو‘ (النحل ۱۲۵) مذکورہ آیت سے دعوت دین کی فرضیت اور دعوت کے پراز حکمت طریقے بتائے گئے ہیں جنکی پابندی لازم ہے، جب تک ہم حکمت، مواعظ حسنہ، مجادلہ حسن کے ذریعہ دعوت حق کی تبلیغ کا فریضہ انجام نہیں دیں گے، کامیابی کے راستے نہیں کھلیں گے۔
واضح رہے کہ دعوت حق کیلئے طاقت کی بڑی اہمیت ہے۔ داعیان ِ حق کے پاس اس قدر طاقت ہو جو لوگ عقیدۂ اسلام کو اختیار کرنا چاہیں تو ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اور جب وہ حلقہ بگوش اسلام ہوں تو ان پر ظلم نہ کیا جا سکے اور جبر وقہر کرکے انہیں پھر سے گمراہ نہ کیا جا سکے۔
اعدائے اسلام پر طاقت کا ایسا رعب جم جائے کہ وہ اسلام کی حرمتوں پر دست درازی کا سوچ بھی نہ سکیں۔ اور ان پر ایسی ہیبت طاری ہو کہ تبلیغ دین کی راہ میں روڑے اٹکانے کا کسی کے اندر یارا نہ ہو۔
جذبہ ٔ جہاد اور شوقِ شہادت مطلوب ہے
اس کے بغیر دین کے غالب کرنے کا خواب محض خواب ہوگا، ہمیں ہر حال میں پوری امت کے اندر اس جذبے کی آبیاری کرنی ہے، بطور خاص ملکی تناظر میں اپنی جان، مال، آبرو کی حفاظت کیلئے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا ہے کہ ہم درندوں کے ہاتھوں پامالی سے محفوظ رہ سکیں۔ آج ایک المیہ ہے کہ انسانی شکل کے بھیڑیے مسلمانوں پر ایک بارگی حملہ آور ہوتے ہیں ؛ کوسی کلاں، متھرا، ایستھان، پرتاپ گڑھ، فیض آبادکے مضافات، مظفر نگر کے دیہات و شاملی کے کمزور و بے بس مسلمان پر ظالم لاٹھی ڈنڈا لے کر حملہ آور ہوتے ہیں اور مسلمان بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، بھاگتے بھاگتے جان و مال اور آبرو کی پامالی ہوتی ہے …… واضح رہے کہ جب تک یہ امت اللہ کے سہارے قرآنی اصولوں کی روشنی میں قوت حاصل نہیں کرے گی حالت نہیں بدلے گی۔ جان لیں کہ دفاع ہر حال میں فرض ہے۔ ہمیں دفاع کی تیاری بہر حال کرنی چاہیے، تاکہ عزت کی زندگی اور عزت کی موت نصیب ہو، اسی صورت میں غلبہ ٔ دین اور اس کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کا داعیہ پیدا ہوگا۔
غلبۂ دین کیلئے امت کا بیدار ہونا ضروری ہے
اللہ کا شکر ہے کہ امت کا سواد اعظم اس دین کا غلبہ چاہتا ہے، عوام کے دل میں اسلام کو غالب دیکھنے کی خواہش اور آرزو ہے، امت اسی جذبہ کے تحت دینی جماعتوں اور تنظیموں کا تعاون کرتی ہے، وہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ تمام دین کا کام کر رہے ہیں، انہیں کے کاموں کی برکت کی وجہ سے دوبارہ اسلام کو غلبہ نصیب ہوگا۔ ہمیں امت کے اس جذبہ کی قدر کرتے ہوئے اظہار ِ دین کی فکر و سوچ کو نکھار کر پیش کرنا ہے، تاکہ امت جان لے کہ کون لوگ غلبہ دین کیلئے کوشاں اور مخلص ہیں، ہمیں یہ بتانا ہوگا کہ نماز روزہ، قربانی، حج ہی مکمل دین نہیں ہے بغیر غلبہ کے اسلام ادھورا ہے۔
کچھ لوگ امت کو یہ باور کرانے میں لگے ہیں کہ غلبۂ دین سے مراد اسلام کا فکری غلبہ ہے جو ہو چکا، اس غلبہ سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے۔
کچھ لوگ امت کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ اسلام کا حکومت و سلطنت سے تعلق نہیں ہے، ایسے گروہ سے وابستہ افراد کے نہ تو دل میں خواہش ہے اور نہ کوشش۔ ایک گروہ امت کو یہ سمجھاتا ہے کہ غلبہ دین تو اللہ کا وعدہ ہے اسے اللہ ہی پورا کرے گا، ہمیں اس کیلئے کوئی کوشش نہیں کرنی ہے۔
عجب تماشہ ہے کہ اللہ نے روزی دینے کا بھی وعدہ دے رکھا ہے لیکن دو وقت کی روٹی کیلئے انسان معاشی حیوان بن جاتا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ بغیر کوشش کے روٹی نہیں ملے گی…… تو بھلا سوچئے کہ حکومت وخلافت بغیر کوشش کئے کیسے مل جائے گی۔
جو لوگ اسلام کے فکری غلبہ کے مدعی ہیں اور اطمینان کی سانس لیتے ہیں کہ غلبہ ٔ دین سے مراد اسلام کا فکری غلبہ ہے اور یہ غلبہ ہو چکا، غور کرنے کی بات ہے کہ اسلام دین ہے اور مکمل اسلام پر عمل کیلئے غلبہ شرط ہے، آخر حدود اسلام اور قوانین اسلام کا نفاذ بغیر غلبہ کے کیسے ممکن ہے، کسی چور کا ہاتھ کاٹنا، کسی زانی محصن کو سنگسار کرنا، کسی شرابی پر کوڑےبرسانا، کیا یہ سب کچھ محض فکری غلبے سے ممکن ہے ؟ بغیر غلبہ کے مکمل اسلام پر عمل ممکن نہیں۔ امت مسلمہ کو کرب و اضطراب ہونا چاہیےکہ اسلام کے بڑے حصہ پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس اطمینان پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ چلو اتنے اسلام پر عمل کرنے سے چھٹی ملی، مزید نفس کو گمراہ کرنے کیلئے کہہ دیا گیا کہ اس سے اسلام کا فکری غلبہ مراد ہے اور وہ ہوگیا ؎
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
امت کے پاس Think Tank (تحقیقی و تجزیاتی ادارہ ) ہونا چاہیے
یہودیوں نے لمبے غور و خوض کے بعد اپنے پروٹوکولز مدون کر رکھے ہیں، عیسائیوں نے بھی باضابطہ اعلیٰ دماغوں کو فارغ کرکے غور و خوض اور باریک بینی سے حالا ت کا مطالعہ کرنے کیلئے فارغ کر رکھا ہے، امت مسلمہ کو بھی اظہار دین آج کے حالات میں غلبہ کیسے ؟ یا خلافت کا قیام کیسے ؟ جیسے اہم موضوعات پر اعلیٰ دماغوں کو باقاعدگی سے فارغ کرنا چاہیے تاکہ وہ امت کے زوال کے اسباب کا باریکی سے جائزہ لیں، اور دوبارہ سے اسلام کو غالب کرنے کیلئے راستے، شکلیں اور تدابیر ڈھونڈھیں، اور لائحۂ عمل پیش کریں…… نیز امت کے خلاف یہود و نصاریٰ، اور مشرکین کی جانب سے ہونے والی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو سمجھیں اور نتائج فکر امت کے سامنے پیش کرتے رہیں تاکہ ان سازشوں کو ناکام بنا یا جا سکے، اور امت کے افراد کی تربیت کیلئے فکری غذا ملتی رہے۔
اظہار دین کیلئے ’عیون ‘ ضروری ہیں
عربی میں ’عین‘ کے معنی آنکھ اس کی جمع ’عیون ‘ ہے، اور عیون کے معنیٰ جاسوس کے ہیں۔ جاسوس لفظ بھی عربی ہے، لیکن رسولﷺ نے ان صحابہ کو جو جاسوسی کی خدمات پر مامور تھے ان کیلئے ’عیون ‘لفظ کا استعمال کیا ہے، اس لفظ میں بہرحال یہ مفہوم پوشیدہ ہے کہ ایک جاسوس فرد واحد ہونے کے باوجود بھی وہ ’عیون ‘ ہے آنکھیں ہے، گویا کہ وہ پورے قوم کی آنکھ ہوتا ہے۔
عیون خفیہ طور پر کام کرتے تھے، دشمن کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے ’ تمام مسلم مہمات میں چاہے وہ سرایا ہوں یا غزوات جاسوسوں نے کام کیا تھا اور بڑی حد تک ان کی وجہ سے اسلامی افواج کو کامیابی ملی تھی ‘ (نقوش کا سیرت نمبر، جلد ۳، ص ۵۷۶)
رسولﷺ کے ممتاز ترین ’عیون ‘ میں حضرت امر بن امیہ ضمریؓ، بسبس بن عمر جہنیؓ، بریدہ بن حصیب اسلمیؓ اور حذیفہ بن یمان مذحجیؓ بہت اہم تھے، ان سب نے عظیم ترین خدمات اور شاندار کارنامے انجام دے کر مسلم مہموں کی کامیابی کی راہیں کھولیں۔ آپﷺ نے جن جن لوگوں سے جاسوسی کی خدمات لیں، ان کی تعداد ۱۷؍تک پہنچتی ہے، جس میں سے پانچ ابتدائی دور کے مسلمان تھے، اور پانچ آخری مکی دور کے مسلمان تھے اور بقیہ حضرات نے صلح حدیبیہ سے قبل اسلام قبول کر لیا تھا، ان ’عیون ‘ کے ناموں کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
(۱) حضرت بسبسؓ بن عمر، (۲) حضرت عدیؓ بن ابی زغباء (۳) حضرت عمار بن یاسرؓ (۴) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ(۵) حضرت انسؓ بن فضالہ (۶) حضرت مونسؓ بن فضالہ(۷) حضرت حبابؓ بن منذر (۸) حضرت علیؓ بن ابی طالب (۹) حضرت امیہؓ بن خولید (۱۰) حضرت عمرؓ بن امیہ (۱۱) حضرت بریدہؓ بن حصیب(۱۲) حضرت خواتؓ بن جبیر (۱۳) حضرت حذیفہؓ بن یمان (۱۴) حضرت زبیرؓ بن عوام(۱۵) حضرت بسرؓ بن سفیان (۱۶) حضرت انسؓ بن ابی مرسد (۱۷) حضرت عبد اللہؓ بن ابی حدر۔ (نقوش کا رسولﷺ نمبر جلد ۱۲، ص ۲۰)
آپﷺ ’عیون ‘ کے ذریعہ دشمن کی نقل و حرکت، ان کی سازشوں اورقوت کا اندازہ پہلے سے کر لیا کرتے تھے۔ آپ ؐ نے شام سے آنے والے قافلہ کی تفصیلات اور مکہ سے آنے والے لشکر کی تفصیلات انہیں ذرائع سے حاصل کی تھیں۔ غزوہ احد کے موقع پر آپﷺ کے دونوں ’عیون ‘ انسؓ اور مونسؓ نے دشمن کی فوجوں میں گھس کر ’وادی الولا ‘ کے مقام تک دشمن کی فوج میں رہ کر سفر کیا اور ساری تفصیلات لے کر رسو ل اللہﷺ کو پہلے ہی باخبر کر دیا، الغرض ان جاسوسوں سے آپ ؐ نے تمام مہمات میں فائدہ اٹھایا۔ آج اظہار دین کے لئے عملاً کوشاں مخلص گروہ کیلئے لازم ہے کہ وہ اس اہم شعبہ کی باضابطہ ترتیب و تنظیم کیلئے سوچے۔ بغیر اس کے اظہار دین کا عمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام کو غالب کرنے کی کوشش میں سرگرداں رکھے اور اپنی مددونصرت سے نواز دے۔
ضرورت ہے کہ امت مسلمہ اپنے فرض منصبی کو پہچانے اور ایک عزم نو کے ساتھ کمر بستہ ہو جائے تاکہ بعثت محمدیﷺ کا مقصد بتمام و کمال پورا ہو اور پورے کرۂ ارض پر دین اسلام کا پرچم لہرا اٹھے۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام ِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائیگی
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن مامور ہوگا نغمۂ توحید سے
ان شاء اللہ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *