ہند امریکہ تعلقات جس کو گلے لگایا گلا کاٹنے لگا

نیویارک میں مقیم ہندوستانی قونصل جنرل دیو یانی کھوبرا گڑے کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی نے پھر ایک بار ثابت کردیا کہ جو لوگ اپنے آپ کو امریکہ کا دوست اور ہمنوا سمجھتے ہیں ان کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہوتا ہے؟ اس کی وجہ ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی جو اس بات کو نہیں جانتے کہ امریکہ بہادر کسی کو اپنا دوست نہیں سمجھتا۔ وہ ساری دنیا کو دو طبقات میں تقسیم کرتا ہے ایک تو دشمن اور دوسرے غلام۔ اسی لئے جارج ڈبلیوبش نے کہا تھا کہ ’یا ہمارے ساتھ یا اُن کے ساتھ‘ یہاں اُن سے مراد دشمن ہے۔ اب جو لوگ اس خوف سے امریکہ کی ہمنوائی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ کہیں ہمارے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک نہ کیا جائے ان کو غلام سمجھنا غلط بھی نہیں معلوم ہوتا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی شریف النفس اور باوقار ملک امریکی استعمار کے ساتھ کسی سیاسی یا دعوتی مصلحت کے پیشِ نظر دور سے دعا سلام رکھ لے تو اور بات ہے لیکن برضا و رغبت اسے اپنا رفیق و دمساز نہیں بناسکتا۔ امریکی رعونت کے باوجوداس سے قربت ورفاقت بغرض ِ خوف و طمع ہوتی ہے امریکہ ایسے ممالک کے ساتھ جیسا چاہتا ہے سلوک کرتا ہے۔
دیویانی کھوبرا گڑے کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ ایک سفارتکار کے ساتھ اس طرح کا سلوک مناسب نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ سفارتکار نہیں بلکہ ایک عام خاتون ہوتیں تب بھی ان کے ساتھ یہ بدسلوکی ہر گز ہر گز جائز نہیں تھی۔ دیویانی ویسے تو نائب قونصل جنرل کے عہدے پر فائز ہیں لیکن جب انہیں سرِ بازار رسوا کیا گیا اس وقت وہ قونصل جنرل کی غیر موجودگی میں قائم مقام کے طور پرقونصل جنرل کی ذمہ داری ادا کررہی تھیں۔ جنوبی نیویارک کے ہندوستانی نژاد اٹارنی پریت بھرارا نے دیویانی پرالزام لگایا کہ انہوں نے اپنے گھریلو ملازم سنگیتا رچرڈکے ویزے کی درخواست میں غلط بیانی سے کام لیا ہے اور کماحقہ اجرت ادا کرنے میں کوتاہی کی جو فریب کاری کے زمرے میں آتا ہے اور اس جرم کی سزا پانچ سے دس سال تک ہوسکتی ہے۔
سرکاری وکیل بھرارا نے گیارہ صفحات پر مشتمل فوجداری شکایت پیش کی جس میں سنگیتا رچرڈ کا نام نہیں لیا گیا مگر یہ الزام لگایا گیا کہ گھریلوملازمہ کو ۷۵ء۹ ڈالر فی گھنٹہ کے بجائے صرف ۳۱ء۳ ڈالر فی گھنٹہ کے نرخ پر ادائیگی کی گئی۔ سفارتکاروں کو گھریلو ملازم لانے کیلئے ویزہ دیا جاتا ہے مگر ان پر لازم ہے کہ وہ اس علاقہ میں مروجہ قانون کے مطابق کم ازکم اجرت سے زیادہ معاوضہ اپنے ملازمین کو دیں اوراس کا ثبوت انتظامیہ کو پیش کریں۔ شکایت کے مطابق ویزہ کی درخواست میں غلط بیانی کم اجرت دینے کی غرض سے کی گئی۔ اس طرح کی فریب دہی اور استحصال ناقابلِ برداشت ہے۔
دیویانی کے ساتھ جو اہانت آمیز سلوک امریکی انتظامیہ نے کیا اس کی روشنی میں انسانی حقوق کے ان منافقانہ بلند بانگ دعووں کی قلعی اپنے آپ کھل جاتی ہے۔ امریکی مارشل سروس کی ترجمان نے کہا کہ دیویانی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی بلکہ وہی سب کیا گیا جو عام قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں نشہ خور مجرمین کے ساتھ کیوں رکھا گیا تو نکی کریڈٹ کا کہنا تھا کہ دیویانی کو خواتین قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ ایسے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ وہ عام سلوک کیسا ہے ؟جو جمہوریت کے سرخیل امریکہ میں گرفتار شدگان کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ان کی تفتیش کیسے کی جاتی ہے؟یو ایس مارشلس کو بذریعہ قانون گرفتار شدگان کی جامہ تلاشی، انہیں جکڑ کر رکھنے اور ان کا ڈی این اے ٹسٹ لینے کےاختیارات سے نوازہ گیا ہے۔
جامہ تلاشی کے چار مراحل ہیں۔ جسم پر کپڑوں کے اوپر سے ہاتھ پھیرنا۔ حراست کے اندر تلاشی، برہنہ یا نیم برہنہ کرکے جانچ پڑتال اور جسم کے تمام ہی ظاہر و پوشیدہ دریچوں میں جھانک کر دیکھنا۔ مؤخرالذکر تلاشی ان لوگوں کیلئے کی جاتی ہے جن کے بارے میں شبہ ہو کہ انہوں نے اسلحہ چھپا رکھا ہے یا منشیات کو اسمگل کرنے کی خاطر نگل لیا ہے۔ ویسے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے مطابق انسانی جسم کے اندر جھانک کر دیکھنے کا مقصد نگلے گئے منشیات کا پتہ لگانا نہیں ہے اس لئے اس تفتیش کے نتیجے میں اس کا پتہ نہیں چل سکتا، یہ تو بس مہاجرین کو ذلیل و رسوا کرنے کا ایک حربہ ہے۔ اگر معدے میں چھپی کسی شہ کا پتہ لگانا ہو تو ایکس رے کیا جانا چاہئے جو قدرے مہذب طریقہ کار ہے۔ دیویانی کے بارےمیں چونکہ اسلحہ و منشیات دونوں شبہات خارج از امکان ہیں اس لئے انہیں اس ہزیمت سے گذارنے کا سرے سے کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ برہنہ تفتیش کی جو تفصیلات اس قانون کے تحت درج کی گئی ہیں انہیں پڑھنے کے بعد انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ تاریخِ انسانی میں کبھی بھی اولادِ آدم کو اس طرح کی ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس طرح کی رسوائی کوامریکہ میں قانوناً مباح قرار دے دیا گیا ہے۔
گرفتار شدگان کو جکڑ کر رکھنے کے معاملے میں قانون کے رکھوالوں کو اجازت ہے کہ وہ حراست کے دوران قیدیوں کونہ صرف ہتھکڑیاں لگائیں بلکہ ان کو کمر میں زنجیر ڈال کر باندھیں اور ان کے پیروں میں بیڑیاں بھی ڈالیں بلکہ اگر کسی پر نظر عنایت زیادہ ہو تو اسے مقفل کرکے یا پنجرے میں بند کرکے بھی عدالت یا جیل میں منتقل کرنے کا اختیار ہے۔ ان تینوں اذیتوں سے دیویانی کو گذارنا امریکی مارشلس کا حق ہے اورلادین طرزِ حکومت اسےحق بجانب قرار دیتی ہے۔ ڈی این ٹسٹ کیلئے خون، تھوک اور سریا شرم گاہ کے بال لئے جاتے ہیں۔ ڈی این اے ٹسٹ کیلئے ضروری اوزار ایف بی آئی کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں۔ اگر کوئی ملزم اس معاملے میں مزاحمت کرے تو پولس کوحسبِ ضرورت طاقت کے استعمال کی اجازت ہے۔ ان تفصیلات کو پڑھنے کے بعد کیا کوئی ذی عقل انسان امریکی معاشرے کو مہذب انسانی سماج کہہ سکتا ہے۔ اس طرح کا سلوک تو جنگل کے اندر وحشی درندے بھی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں کرتے۔
اس موقع پر یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ آخر دیویانی کے خلاف الزام کی حقیقت کیاہے؟ دیویانی پر اس کے گھر میں کام کرنے والی ایک ہندوستانی ملازمہ سنگیتا رچرڈ نے کم تنخواہ دینے کا الزام لگایا تھا۔ سنگیتا گذشتہ جون سے فرار ہے۔ دہلی کی عدالت نے ماہِ ستمبر میں اس پر اپنی ملازمت کی شرائط سے متعلق دیویانی کے خلاف کسی بھی بیرونِ ہند کارروائی پر روک لگا رکھی ہے۔ اس کے بعد امریکی حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ سنگیتا کا پتہ لگائے اور اس کو گرفتار کرنے میں تعاون کرے۔ سنگیتا کے خلاف جنوبی دہلی کی عدالت نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ ۳۸۷،۴۲۰ اور ۱۲۰ب کے تحت گرفتاری کا وارنٹ جاری کررکھا ہے۔ اب بجائے اس کے کہ امریکی انتظامیہ سنگیتا کو گرفتار کرکے ہندوستانی عدالت میں پہنچاتی اس نے خود دیویانی کو گرفتار کرکے امریکی عدالت میں حاضر کردیا۔
دیویانی کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا ؟اگر کوئی جاننا چاہتا ہے تو اسے پتہ لگانا پڑے گا کہ آخر یہ سنگیتا رچرڈ کون ہے؟ اور اس پر امریکہ بہادر کی نظرِ عنایت کیوں ہے؟ سنگیتا فی الحال امریکہ کے اندر ایک غیر قانونی مہاجر ہے۔ پانچ جولائی کو اس کا حکومتِ ہند کی جانب سے جاری کردہ خصوصی پاسپورٹ منسوخ کیا جاچکا ہے۔ آٹھ جولائی کوسنگیتا نے اپنے نامعلوم وکیل کے ذریعہ دیویانی سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر اس کو ۱۰ ہزار ڈالر کے ساتھ عام پاسپورٹ مہیا کردیا جائےتو وہ اپنی شکایت واپس لے سکتی ہے۔ دیویانی نے اس کی دھمکی میں آنے کے بجائے دہلی کی عدالت سے رجوع کیااور سنگیتا کے خلاف وارنٹ جاری کروا لیا۔ اس بیچ سنگیتا غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم رہی اور اس کا بال بیکا نہ ہوا۔ دہلی عدالت کے فیصلے سے امریکی سفارت خانے میں ملازم سنگیتا کا باپ گھبرا گیا۔ اس نے سنگیتا کے شوہر اور دو بچوں کیلئے ویزہ مہیا کروایا اور ۱۰ دسمبر کے دن جیسے ہی ویزہ لگا وہ تینوں امریکہ روانہ ہوگئے۔ اس کے صرف دو دن بعد دیویانی کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ان تفصیلات کی روشنی میں سنگیتا کے بارے میں یہ شکوک و شبہات کہ وہ امریکی جاسوس تھی اور ہندوستانی سفارتکاروں کی نگرانی کررہی تھی قرین قیاس معلوم ہوتے ہیں۔ ایک غیر قانونی طور پر رہائش پذیرمہاجر خاتون پر حکومتِ امریکہ کے نظرِ کرم کا کوئی جواز بظاہر نظر نہیں آتا۔ سنگیتا کی حمایت میں حکومت امریکہ اس قدر آگے نکل گئی کہ اس نےحکومتِ ہند کے اعتماد کو پارہ پارہ کردیا۔
دیویانی کے وکیل دانیال ارشاک کے مطابق اس طرح کے معاملے انہیں بھری سڑک پر گرفتار کرنے کے بجائے باعزت طریقہ پر انتظامیہ کے سامنے اپنے وکیل کے ساتھ حاضر ہوکر صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے تھا۔ دانیال نے سفارتی تحفظ کی جو دلیل پیش کی ہے اس کو معروف ہندوستانی وکیل روی بترا تسلیم نہیں کرتے۔ان کے مطابق اس مسئلہ کو سفارتی سطح پر حل کیا جانا چاہئے۔ اگر کسی سفارتکار سے کوئی جرم سرزد ہوجائے تو انہیں گرفتار کرنے کے بجائے ملک سے نکلنے کیلئے کہہ دیا جاتا ہے۔امریکی ودیگر سفارتکار بیرونِ ملک قحبہ گری میں ملوث پائے جاتے ہیںجو قانوناً جرم ہے لیکن نہ ان پر الزامات لگتے ہیں اور نہ انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔ روی بترا نے پاکستان کے اندر سفاک قاتل ریمنڈ ڈیوس کی مثال بھی پیش کی جسے دن دہاڑے دو لوگوں کا قتل کرنے کے باوجود زبردستی سفارتکار قرار دے کر امریکہ واپس بلا لیا گیا اور مقتولین کے ورثاء کو خون بہا دے کر جرم کی پردہ پوشی کی گئی۔ روی بترا کے مطابق اسی طرح کا سلوک دیویانی کے ساتھ بھی ہونا چاہئے۔
ہندوستانیوں کے ساتھ اس طرح کا نارواسلوک پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل امریکہ میں ہندوستان کی اولین خاتون سفیر میرا شنکر کی ہوائی اڈے پراسی طرح جامہ تلاشی کی گئی اور وہ تین ماہ تک خاموش بیٹھی رہیں۔ وزیر دفاع جارج فرنانڈیس کو امریکہ کے سرکاری دورے پر اس ہزیمت سے گزرنا پڑا انہوں نے بھی اسے برداشت کرلیا اور تو اور سابق صدر مملکت عبدالکلام کو سرزمین ہند پر امریکی طیارے میں سوار ہونے سے قبل جوتے اتار نے پر مجبور کیا گیا وہ بھی کچھ نہ بولے۔ سرکاری سطح پر بھی بے غیرت حکومت نے ان تمام مواقع پر صبرو ضبط کا مظاہرہ کیا (بلکہ پچھلے دنوں صوبائی وزیر اعظم خاں کے ساتھ بد سلوکی پر مرکزی حکومت نے الٹا انہیں ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا)جس کے نتیجہ میں امریکی انتظامیہ کی لاپرواہی بڑھتی چلی گئ اور نوبت یہاں تک پہنچی۔ اس بار چونکہ انتخابی گہما گہمی کے پیشِ نظر اس بات کا قوی امکان ہے کہ بی جے پی اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے اس لئے سرکار کڑا رخ اختیار کرنے پر مجبور ہوئی۔
(ان) اقدامات سے امریکی انتظامیہ چیں بجبیں ہو گیا اور اس نے ہندوستان سے استدعاکی کہ ویینا کنونشن کے اصول و ضابطے کے تحت سفارتکاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ اس بہانے امریکی انتظامیہ کو کم از کم ویینا کنونشن یاد آگیا ورنہ دیویانی کے معاملے میں تو انہیں اپنے قوانین کے علاوہ کچھ اور یاد ہی نہ آتا تھا اور وہ بھول ہی گئے تھےکہ دیویانی بھی ایک سفارتکار ہے اور اس کے تحفظ کا احترام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اپنے ناروا سلوک سے حکومتِ ہند کو ناک دبانے پر مجبور کیا تاکہ اس کا منہ کھلے۔امریکی حکومت کی ترجمان میری ہارف بولیں بے شک میدانِ عمل میں ہمارے سفارتکاروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ وہ بولیں ہم حکومتِ ہند کے ساتھ اپنے سفارتکاروں کی حفاظت کے حق کو یقینی بنانے کیلئے کام کرتے رہیں گے اور ہمارے افراد اور عمارتوں کے تحفظ کو ہم نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ لیکن انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ نہ صرف وہ بلکہ دیگر ممالک بھی ان معاملات میں سنجیدہ ہیں اور یہ جو کچھ ہورہا ہے دوسروں کے تئیں ان کی بے حسی کا رد عمل ہے۔ جان کیری نے اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے ہند امریکی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے لیکن اس کیلئے صرف لفاظی کافی نہیں بلکہ امریکی انتظامیہ کو اپنے رویہ کی اصلاح کرنی ہوگی۔
ہندوستان میں فی الحال اس سنگین مسئلہ پر سیاست کا بازار گرم ہے۔ مایا کا الزام ہےچونکہ دیویانی دلت ہے اس لئے مرکزی حکومت کوتاہی کررہی ہے۔ جیٹلی نے حکومت کے صرفِ نظر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔یچوری کا کہنا ہے ہماری نرمی کا غلط فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور سلمان خورشید بولے کہ اگر میں دیویانی کے وقار کو بحال کرنے میں ناکام رہاتو لوٹ کر ایوان میں نہیں آؤں گا۔ میرا کماری، راہل گاندھی اور نریندر مودی نے احتجاجاً امریکی ارکانِ پارلیمان کے وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ اس طرح سب سے زیادہ سیاسی نقصان مودی کا ہوا۔ امریکہ میں مودی کے داخلے پر پابندی ہے اور وہاں موجود سنگھی لابی عرصۂ دراز سے اسے ختم کرانے میں جٹی ہوئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہونے جارہا تھا کہ کوئی امریکی سرکاری وفد مودی سے ملاقات کرتا جس کا ذرائع ابلاغ میں خوب جم کر فائدہ اٹھا یا جاتا لیکن برا ہو سنگیتا کہ اس نے اس رنگ میں بھنگ ڈال دیا اور سارے کرے کرائے پر پانی پھر گیا۔ یہ معاملہ محض سیاست کا نہیں بلکہ قومی وقار کاہے اور اس کی بحالی ایک دوسرے پر الزام تراشی سے نہیں بلکہ متحدہ موقف اختیار کرنے سے ہی ہوسکتی ہے لیکن ہمارے کوتاہ بین سیاستدانوں سے اس بالغ نظری کی توقع بے سود ہے۔ حقیقت تو یہ ہے ہندوستان امریکہ کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرنے کی سزا بھگت رہا ہے بقول افتخار راغب ؎
یوں اپنی بھول کی میں سزا کاٹنے لگا جس کو گلے لگایا، گلا کاٹنے لگا

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *