یہ شترمرغانِ ہندی

جس کسی نے کسی انسان کو کسی جا ن کے بدلہ کے بغیر یا محض فساد مچانے کی خاطر(ناحق) قتل کر دیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔۔۔(سورہ المائدہ)
خون ناحق خواہ وہ کسی عام انسان کا کیوں نہ ہو اللہ رب العزۃ کے نزدیک ایک بہت بڑا جرم ہے۔ انسانی جان انتہائی قیمتی ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی کو حق نہیں کہ بغیر کسی جواز کے کسی کی جان لے۔ لیکن ساری جانیں یکساں نہیں ہوتیں۔ ایک عام انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل پر منتج ہوتا ہے تو پھر ایک صالح و مصلح انسان کا قتل کتنا بڑا گناہ ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ جب خلیفہ اسلام حضرت عثمانؓ کو فسادیوں نے قتل کرایا تو ایک صحابیؓ جو یہودی عالم رہ چکے تھے انہوں نے تنبیہہ کی کہ اگر عثمانؓ قتل ہوئے تو ۸۰ ہزار جانیں قتل ہو جائیں گی۔ کیونکہ یہی سنت اللہ رہی ہے بنی اسرائیل کے نبیوں کے بارے میں۔ جب بھی کسی نبی کو قتل کیا گیا، ۸۰؍ہزار لوگوں کا قتل عام ہوا۔ خلیفہ اسلام انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔ چنانچہ صحابی رسول کی تاریخی شہادت کی تصدیق سے اسلامی تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں اور آج تک وہ خون ناحق ملت کے دامن پر ایک داغ ہے۔
ایسے ہی ایک بے گناہ شخص کو چند دنوں پہلے بنگلہ دیش کی حکومت نے ناحق قتل کر دیا۔ ملا عبدالقادر شہیدؒ بنگلہ دیش کی تحریک اسلامی کے سینئر رکن تھے اور جماعت اسلامی اورملک بنگلہ دیش کے تئیںان کی زبردست خدمات تھیں۔ اللہ تعالی اور اس کے دین سے انہیں کس قدر والہانہ لگاؤ تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری وقت میں جب ان کو معافی مانگنے پر معافی کرنے کا عندیہ دیا گیا تو انہوں نے ظالم سے مصالحت کے بجائے حق کی خاطر جان دینے کو ترجیح دی اور ۶۸؍سالہ جواں مرد خندہ پیشانی سے تختہ دار پر جھول گیا۔
جو حق کی خاطر جیتے ہیں مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں جگر ؔ
جب وقت شہادت آتا ہے، دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں
یہ سراسر ایک سیاسی وعدالتی قتل ہے جس کے پس پشت وہی قوتیں کارفرماں ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ کے ہر باب میں مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا خون بہا کر ملت کو پارہ پارہ کرنے کی سازشیں کی ہیں۔ اس شہادت کے نتیجہ میں بنگلہ دیش کس مصیبت میں پڑ جائے گا اس کااندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن عقل رکھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ مصر، لیبیا، تیونس، افغانستان، پاکستان، شام وغیرہ اسلامی ممالک کی طرح بنگلہ دیش کو بھی خانہ جنگی کی نذر کرنے کا منصوبہ طےپا چکا ہے۔ عبدالقادر ملا کو شہید کرنے سے پہلے بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کا بیج اس وقت بودیا گیا تھا جب جماعت اسلامی کو سیاسی طور سے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ برصغیر میں جماعت اسلامی واحد ایسی جماعت ہے جو اندورنی طور پر بھی جمہوری ڈھانچہ رکھتی ہے اور بیرونی طور پر بھی جمہوری شکل کی قائل ہے۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ سے ہی پر امن طریقہ سے اپنے موقف کو مدلل طور پرپیش کیا ہے اور کہیں بھی اس کو کسی جارحانہ یا ملک مخالف یا غیر جمہوری حرکتوںکا مرتکب نہیں پایا گیا۔ اس کی سیاسی حیثیت کو ختم کر کے اور اس کے رہنماؤں کو پھانسی اور قید وبند کے ذریعہ انہیں غیر جمہوری طریقوں پر اکسانے کی کوشش کی جاری ہے تاکہ ان کے خلاف مشین گنوں کے دہانے کھول دیے جائیں؛ انہیں کچل دیا جائے اور پر امن طریقے سے اسلامی انقلاب کی راہیں مسدودکرکے خود اسلام کو پرتشدد ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔
ملا عبدالقادر کو تو بلی کا بکرا بنایا گیا ہے تاکہ امت کو آپس میں ٹکرانے کے لیے ایک ماحول تیار کیا جاسکے۔ اور عذر گناہ بدتر از گناہ کے موافق جس جرم میں ملا عبدالقادر کو پھانسی دی گئی ہے اس کا جرم ہونا خود ہی مشکوک ہے۔ انہیں بنگلہ دیش کی مخالفت کرنے کی سزا دی گئی ہے۔ یہ مخالفت اس وقت کی گئی تھی جب بنگلہ دیش کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ عالمی طور پر معروف مشرقی پاکستان ایک بڑی سازش کے تحت مغربی پاکستان سے الگ کیا جا رہا تھا۔ عالمی طاقتیں ایک مسلم ریاست کو دو لخت کرنے کے لیے سازشوں کا جال پھیلا چکی تھیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش جو ایک اصول پسند اور محب اسلام جماعت تھی اس نے ایک اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت کی۔ قتل عالم اور زنا بالجبر کے واقعات جماعت اسلامی کے تعلق سے ایسے ہی ہیں جیسے سورج پر الزام لگاجائے کہ وہ اندھیرا پھیلا رہا ہے۔ ہمارے پاس ٹریبونل کی پوری تفصیل ہے جس کو سن کر ایک عام آدمی بھی پکار اٹھے گا کہ یہ لوگ حقیقی بنگلہ دیشی محبان وطن ہیں۔ جنہوں نے تقسیم سے پہلے اپنے ملک پاکستان سے عہد وفا نبھایا اور جب بنگلہ دیش بن گیا تو دل و جان سے اس کی خدمت میں لگ گئے۔ حسینہ واجدؔ ہی در اصل مفاد پرست اور غیر ملکی اشاروں پر بنگالی مسلمانوں کا استحصال کرنے والے ٹولے کی سربراہ ہیں۔حال ہی میں شائع کردہ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے امیدواروں کے اثاثہ جات کی تفصیل اور اس پر واویلہ اسی بات کا ایک ثبوت ہے۔ اس خون ناحق کی قیمت ان سے خود مسلمانان بنگلہ دیش بہت جلد وصول کریںگے۔ ان شاء اللہ۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے اپنا خون دے کر پاکستان کو متحد رکھنے کی کوشش کی تھی۔ خدائی مصلحت سے وہ تو نہ ہوسکا مگر ا یسا محسوس ہوتا ہے کہ اسی لہو سے وہ چراغ جلیں لگے جن سے پورے برصغیر میں اسلام جگمگا اٹھے گا۔ یہ کسی دیوانے کی بڑ نہیں، ایک حقیقت ہے۔ پاکستان، ایران، ترکی، تیونس، شام اور مصر آج کی دنیا کی ایک بڑی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ اور وہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسلمان بنیادی طور پر اسلام پسند ہے کیونکہ وہ خدا پرست ہے۔ اور زندگی کی وہ تقسیم جس کے ذریعہ دین و دنیا کی تفریق پیدا کر کے مسلمانوں کو غیر اسلامی سیای شکنجے میں کس دیا گیا تھا، الحمد للہ مسلمان اس سحر سے آزاد ہو گیا ہے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی اسلام بھی بیدار ہو گیا ہے۔ جمہوریت کا جن بوتل سے آزاد ہو گیا ہے اور بت پرستان جمہوریت اسلام دشمنی میں خود جمہوری اقدار کے قتل کے در پے ہو گئے ہیں۔ اس شعوری آگہی اور بیداری کے پیچھے عالم عرب میں الاخوان المسلمون ہیں تو برصغیر میں جماعت اسلامی۔ اور اسی لیے اسلامی تحریک کے اس ہراول کو سب سیکینہ پرور خاتون کے ذریعہ مغرب نے نشانہ بنایا ہے(ساتھ میں گلی محلہ کے کچھ لچے لفنگے بھی لوٹ مار میں شریک ہوں تو کوئی حیرت کی بات نہیں)۔
البتہ چڑھتے سورج کے پجاری کچھ دانشوروں پر، ان کی دانشوری پر، اور ملا عبدالقادر کو پھانسی پر چڑھائے جانے پر چھپائے نہ چھپنے والی خوشی پر کچھ عرض کرنے کو دل چاہتا ہے۔ ہندوستانی دانشوروں اور اس کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ اسلام دشمنی میں حالات کا حقیقی جائزہ لے کر صحیح پالیسی مرتب کرنے کے بجائے خواب و خیال کی ایسی دنیا میں جینا چاہ رہے ہیں جہاں انہیں عارضی خوشی تومل جائے مگر انجام کار افسو س کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آئے۔
خود بنگلہ دیش کو منصہ شہود پر لانے میں ہندوستان کا جو کردار ہے وہ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور شیخ حسینہ کی حکومت نے ہندوستان فوجی سربراہوں کو بڑے بڑے بنگلہ دیشی اعزازات سے نواز کر اس تاریخی کردار کی تصدیق کی ہے اور حالیہ ماحول کے لیے بھی کئی لوگ ہندوستان کی طرف انگشت نمائی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش کے تعلق سے ہندوستانی دانشوران کس طرح شتر مرغانہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں اس کا اندازہ سی راجہ موہنC. Rajamohan کی اس تحریر سے لگایا جا سکتا ہے جو انڈین اکسپریس کی زینت بنی۔
سی راجہ موہن دی آبزرورریسرچ فاؤنڈیشن دہلی the Observer Research Foundation, Delhi کے ایک ممتاز ممبر ہیں اور انڈین اکسپریس کے معاون ایڈیٹر ہیں وہ اس سانحہ پر لکھتے ہیں:
It is the site of a larger battle between forces of moderation and extremism.
’یہ آزاد خیالی اور اتنہا پسندی کی طویل جنگ کا ایک منظر نامہ ہے۔‘
اس دانشورانہ جملہ کی خاکسارانہ تاویل یہ ہے کہ ایک شخص کے پھانسی چڑھنے کو ایشو بنانے کے بجائے اس خطرے کو محسوس کر وجو انتہاپسندی کی شکل میں مسلط ہو جائے گا۔ چونکہ یہ جنگ طویل ہوگی اور اس جنگ میں یہ منظر نامہ شیخ حسینہ واجد کے ہاتھوں ظہور پذیر ہواہے، ابھی مزید ایسے منظر نامے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس کی شہادت موہن جی کی تحریر کے اگلے حصہ سے ملتی ہے۔ لکھتے ہیں:
The current violence is also about two very different conceptions of Bangladesh – Hasina swears by secularism and ethnic nationalism; Zia is now in the thrall of the Jamaat-e-Islami, which collaborated with the Pakistan army in the genocide against Bengalis in 1971, and other extremist groups that seek to bring the nation under the sway of political Islam.
’موجود ہ خونریزی بنگلہ دیش کے دو مختلف و متضاد تصورات کا مظہر ہے(ایک طرف) حسینہ واجد ہیںجو سیکولرزم اور نسلی قومیت کی علم بردار ہیں تو(دوسری طرف) خالدہ ضیا ہیں جو جماعت اسلامی کے زیر اثر ہیں جس نے ۱۹۷۱ء کے بنگالیوں کے قتل عام میں پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ اسی طرح خالدہ ان انتہا پسندوں کے ساتھ بھی ہیں جو بنگلہ دیش کو سیاسی اسلام کے زیر سایہ لانا چاہتی ہیں۔‘
اس دانشوری پر انگریزی کا محاورہ صادق آتا ہے:Give the dog bad name and shoot it۔ کتے سےکہو ــ’کتے کہیں کے ‘،پھر اسے گولی مار دو۔ خالدہ ضیا کی جماعت اسلامی سے دوستی اس لیے خراب ہے کہ جماعت اسلامی نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ اسی طرح خالدہ ضیا کا انتہا پسندوں کا ساتھ بھی برا ہے اس لیے کہ وہ بنگلہ دیش جیسے مسلم ملک میں سیاسی اسلام دیکھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ جماعت اسلامی نے پاکستان کا ساتھ اس وقت دیا تھا جب بنگلہ دیش موجود نہیں تھا۔ اور اب جماعت اسلامی بنگلہ دیش بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے تحت منظور شدہ پارٹی ہے جس نے متعدد انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ اور اس دوران اس پر بنگلہ دیش کی مخالفت کا کوئی الزام بھی نہیں لگا ہے۔ مگر اگلے ہی جملہ میں موہن جی موہن بھاگوت بنے نظر آتے ہیں جب وہ فرماتے ہیں کہ انہیں اصل ملال سیاسی اسلام کا ہے۔ چونکہ اسلام سے نفرت کا اظہار کرنے میں خوف محسوس ہوتا ہے اس لیے سیاسی اسلام کی طعنہ کشی اختیار کی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے موہن جی بنگلہ دیش کو بھی بھارت سمجھ رہے ہیں جہاں سیاسی اسلام کوئی طعنہ سمجھا جائے گا۔ بنگلہ دیش ایک مسلم ملک ہے جس کے عوام اسلام سے والہانہ محبت رکھتے ہیں اورجلد یا بدیر ان کی اکثریت کو یہ احساس ہو جائے گا کہ سیاسی اسلام بھی اسلام ہی ہے۔ اور وہ سیاسی اسلام کی طرف اسی طرح پلٹ کر آئیں گے جس طرح وہ روزے، نماز اور زکوۃ کی طرف پلٹ کر آگئے ہیں۔ ہمیں موہن جی کی دوراندیشی سے اتفاق ہے البتہ مشورۃًعرض ہے کہ جس سیاسی اسلام کی دھمک سے آپ خائف ہیں اس سے دوستی کرنا اپنی دوراندیشی کا تقاضہ سمجھیں۔ آگے فرماتے ہیں:
Those who joined the Pakistan army in mass murder should have been brought to justice long ago.
’جن لوگوں نے پاکستانی فوج کا قتل عام میں ساتھ دیا تھا ان کو بہت پہلے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے تھا۔ ‘
موہن جی ہم نہ تو پاکستانی ہیں نہ بنگلہ دیشی۔ اگر ہم پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والوں سے اس قدر نفرت کرتے ہیں تو پاکستانی فوج سے اس قتل عام کا حساب ہم نے اس وقت کیوں نہیں لیا جب وہ ہماری قید میں تھے۔ کھلا پلا کر نہلا سلا کر آرام سے پاکستان کیوں بھیج دیا۔ایک انٹرنیشنل ٹریبونل قائم کرکے، الہ آباد میں کمیشن بلاکر ہاتھوں ہاتھ تحقیق کرکے ہر سپاہی کو اس کے کیے کی سزا دی جا سکتی تھی۔ اسی طرح پاکستانی بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں (مشرقی پاکستان)مکتی باہنی جیسے باغی گروپ کاساتھ دے کر ہزاروںپاکستانیوں کے قتل عام کی ذمہ دار ہندوستانی فوج کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اس بات کا موہن جی کیا جواب دیں گے؟ دوسرے پر پتھر پھینکنے سے پہلے اپنے دامن کو دیکھنا زیادہ دانشورانہ بات ہوگی۔
خود موہن جی کو احساس ہے کہ عالمی سطی پروار کرائم ٹریبونل کو رد کر دیا گیا ہے۔ مگر اعتراف حقیقت کے باوجود یک چشمی کا اظہار یوں کرتے ہیں:
Some in the West and in Bangladesh have criticised the work of the war crimes tribunal on technical grounds.
’مغرب کے چند لوگ اور کچھ بنگلہ دیشی حضرات نے بھی جنگی جرائم ٹریبونل کی نکتہ چینی تکنیکی بنیادوں پر کی ہے۔‘
آخر کوئی موہن جی سے پوچھے کہ کسی بھی قانونی کارروائی کو تکنیکی بنیادوں پر رد نہیں کیا جائے گا تو کیا جذباتی بنیادوں پر رد کیاجائے گا۔ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس ٹریبونل کی حمایت محض جذباتی بنیادوں پر اسلام دشمنی میں کی جا رہی ہے۔ ورنہ تکنیکی بنیادوں پر اس کے جواز پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹریبونل پر اعتراض کرنے والے واقعی چند لوگ ہوتے تو موہن جی کی دانشوری اس کا ذکرکر نا بھی مناسب نہیں سمجھتی۔ یہ حرفے ’چند ‘ہی بہت کچھ سمجھنے کو کافی ہے۔ چنانچہ آگے اعتراف بھی کرتے ہیں:
The United States and European countries have said that the non-participation of major parties like the BNP is bound to diminish the political credibility of the elections. International efforts, including by the UN, to resolve the differences between the Awami League and the BNP have failed.
’ریاست ہائے متحدہ(آقائے امریکہ) اور یورپین ممالک نے کا کہنا ہے کہ پی این بی اور اس جیسی اہم پارٹیوں کے الیکشن میں حصہ نہ لینے سے الیکشن کا سیاسی اعتبارہی ختم ہو جائے گا۔ بی این پی اور عوامی لیگ کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کی بین الاقوامی کوششیں بشمول اقوام متحدہ ناکام ہو چکی ہیں۔‘ یہ ہے حرف چند کی حقیقت جس پر آقائے نامدار سے لے کر باندیٔ طرح دار(اقوام متحدہ) سب کے سب موجود ہیں۔ موہن جی مزید لکھتے ہیں:
There is, indeed, another way of looking at the current dynamic in Bangladesh – as part of a larger struggle in the subcontinent between the forces of moderation and modernisation on one hand, and those who want to push the region towards religious extremism on the other.
’بنگلہ دیش کی حالیہ اتھل پتھل کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسے ایک بڑی کشمکش کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے جس میں برصغیر میں ایک طرف لبرل اور جدیدیت پسند عناصر ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو پورے خطہ کو مدہبی تشدد پسندی کی طرف ڈھکیل دینا چاہتے ہیں۔‘
موہن جی! بنگلہ دیش نے اس کشمکش کو محسوس کرکے عبدالقادر ملا کو پھانسی پر چڑھا دیا اور غلام اعظم صاحب کو ۹۰ سال کی عمر میں ۹۰ سال کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ جب کہ ہندوستان میں بڑھتے ہوئے مذہبی جنون کا عالم یہ ہے کہ جو شخص ہزار ہا ہزار مسلمانوں کا قاتل ہے او رجو کھلے عام مذہبی فساد کا مجرم ہے، وہ وزارت عظمیٰ کی نامزدگی کے رتھ پر سوار پورے ملک کو گجرات بنانے کے دعوے کرتا پھر رہا ہے۔ اسے پھانسی کی سزا تو کیا مرکز سے لے کر صوبے تک کی حکومتیں اور دائیں سے لے کر بائیں بازو تک، سخت سے لے کر ملائم تک اس کے اس جرم کے خلاف ایک ایف آئی آر تک درج نہیں کرا سکے۔ بلکہ سپریم کورٹ تک نے راگھون جیسے متعصب افسر کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جس نے جرم کو اجاگر کرنے کے بجائے ثبوتوں کو مٹانے کا کام کیا۔ پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش مل کر ہندوستان کی آد ھی آبادی کے برابربھی نہیں۔ گویا آپ کے نزدیک ہندو مذہبی عنادترقی پسندی کی علامت ہے جب کہ اسلام مذہبی تنفر کی۔ یہ ہے آپ کی دانشوری۔۔۔ ہزاروں سال تک کروڑوں انسانوں کو غلام بنا کر رکھنے والے برہمنی نظام کو تہذیبی اوتار میں ترقی دینا اور دنیا سے غلامی کے خاتمہ کے واحد کردار اسلام کو دبانا۔۔۔ !دراصل ترقی پسندی کی آڑ میں پورے خطہ میںورن ویوستھاقائم کرنا ہی موہن جی کی دانشوری ہے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ سی راجہ موہن پورے طور سے ہندوستانی حکومت کو اکسا رہے ہیں کہ وہ حسینہ واجد کی حمایت میں بلکہ اسلام پسندوں کی مخالفت میں بنگلہ دیش میں کھلی دخل اندازی کرے۔
. Despite its muted tone, many see Delhi as a partisan supporter of the Awami League. Neutrality will not help India escape the political fallout from the current turmoil in Bangladesh. India’s eastern frontier has seen much calm in recent years, thanks to Dhaka’s determined fight against extremism on its own soil and its unstinting support to India in combating cross-border terrorism. This could well be reversed if the Islamist groups backed by Pakistan’s ISI gain ground in Bangladesh.
’بھارت کی خاموشی کے باوجود بہت سارے لوگ دہلی کو عوامی لیگ کا زبردست جانبدار گردانتے ہیں۔ غیر جانبداری برتنے سے بھارت بنگلہ دیش کے سیاسی نتائج کے اثرات سے بچ نہیں پائے گا۔۔۔۔۔۔ اگر اسلامی پارٹیاں، جن کو آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے، وہ بنگلہ دیش پر حاوی ہو جاتی ہیں تو حالات مخالف سمت میں تبدیل ہو جائیں گے۔‘
دانشوری کے باوجود اتنے کھلے بندوں کسی غیر ملک میں مداخلت کا شور مچانا کس قدر دانش مندی ہے؟!! فرض کر لیجئے کہ حالات اتنے ہی خراب ہو سکتے ہیں جتنا موہن جی کا اندازہ ہے تو کیا اس کے باوجود غیر قانونی دخل اندازی یا اپنے حامیوں کے غیر قانونی اقدام کی حمایت کسی بھی طرح قابل قبول ہے! اس پر مزیدایک شکایت موہن جی سے یہ ہے کہ وہ اسلام پسندوں کو ISIکی حمایت اتنی پکی سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے کسی دلیل کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔’ ہر اسلام پسند کو ISIکی حمایت حاصل ہے‘ یہ غلط فہمی جان بوجھ کر پیدا کی ہوئی ہے۔ وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام پسند ISIکو CIAکا پاکستانی ڈویژن سمجھتے ہیں۔ISI اسلام پسندوں سے زیادہ RAWکے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ اور فی الوقت امریکہ کے دباؤ میں شیخ حسینہ کوISI پورا تعاون دے رہی ہے۔ اگر میری باتوں پر یقین نہ آئے تو خود اپنی انٹیلی جینس کی رپورٹوں پر نظر ڈال لیجئے یاحالیہ چند گرفتاریوں کا تجزیہ کر لیجئے۔ اسلام پسندوں کو آپ گولی بھی مارتے ہیں اور گالی بھی دیتے ہیں۔ گولی آپ ان کو بے شک ماریے !کیوں کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونا ان کی ازلی خواہش ہےـ۔۔۔ لیکن گالی تو مت دیجئے۔
آخر میں موہن جی نے خیالی کھچڑی پکائی ہے اور فریقین کے دلائل خود ہی گڑھ لیے ہیں کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں اور دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں۔ ایساانہوں نے اپنی زہریلی سوچ کو چھپانے کے لیے کہا ہے جو وہ اسلام کے خلاف رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں اسلام اگر جمہوری راستے سے آئے تو بھی اسے کچل دینا چاہیے۔ اور اسلام دشمن غیر قانونی راستہ اختیار کریں تو بھی ان کی حمایت کرنی چاہیے:
Some have argued that a more accommodative posture on Hasina’s part could have moderated the Jamaat and the BNP. Others would cite the recent experience in Egypt, where political power did not change the nature of the Muslim Brotherhood.
’کچھ لوگ بحث کرتے ہیںکہ اگر حسینہ واجد کچھ نرمی برتیں توبی این پی (BNP) اورجماعت کے موقف میں بھی نرمی آسکتی ہے۔ جب کہ دوسرے لوگ مصر کے تجربہ کو پیش کر سکتے ہیں جہاں سیاسی قوت کے باوجود اخوان کا مزاج نہیں بدلا۔‘
ایک سیاست سے نابلد شخص ہی سیاسی اتحاد کی بنیاد پربنگلہ دیش نیشنلٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کو ایک ہی پلڑے میں رکھ سکتا ہے۔ بی این پی اور جماعت کا الائنس اسلام کی بنیادوں پر نہیں بلکہ قومی بنیادوں پر ہے۔ وگرنہ بی این پی خود ایک سیکولر پارٹی ہے۔ اور اس سے بھی گھٹیا بات یہ کہنا ہے کہ سیاسی قوت کے باوجود اخوان کامزاج نہیں بدلا۔ گویاسیاسی قوت پاتے ہی ایک اسلامی جماعت کو بھی سیکولر بن جانا چاہیے، ورنہ اس کو سیاست سے بے دخل رکھنا ضروری ہے۔ یہ ہے انڈین اکسپریس کے معاون ایڈیٹر کی دانشوری کہ سیاسی اسلام کسی حال میں قبول نہیں۔ اخیر میں فرماتے ہیں:
. It is time Delhi’s political classes paid some serious attention to the developments in Bangladesh.
’اب وقت آگیا ہے کہ دہلی کی سیاسی قوتیں بنگلہ دیش کے حالات پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔‘
اس مشورے پر میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دہلی کی سیاسی قوتیں سیاسی اسلام کی آمد کا صحیح اندازہ کرلیں۔ نہ صرف یہ کہ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سیاسی اسلام کی پناہ میں جائیں گے بلکہ ہندوستان کے ۲۵کروڑ مسلمانوں کے دل میں بھی اسلام کے سیاسی عقائد کاخمار چڑھنا شروع ہو جائے گا۔ امن پسند،عدل کو قائم کرنے والے، انسانی مساوات پر مبنی اور کائنات سے ہم آہنگ اسلام سے قربت اختیار کرناہی ہندوسان کے مفاد میں ہے۔ وقت آگیا ہے کہ تعصب، انا، استحصال اور اپنے ہی بھائیوں کو کم تر سمجھنے کی دقیانوسی پالیسی کو ترک کرکے اسلام کی ترک سنگت (مبنی بردلائل)دعوت پر لبیک کہا جائے۔¯

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *