آستین کے سانپ

(ذیل میں چند ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جنہوں نے تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر ملت میں تفرقہ پیدا کیا اور مختلف عوامل کو کام میں لاکر کے ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کیا۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔ لیکن صرف چند کرداروں کو پیش کیا گیا ہے تاکہ اس طرح کے کردار جو ہمارے آس پاس ہیں، ان تصویروں کے ذریعہ انہیں پہچاننے میں آسانی ہو اور عند الضرورۃ اس کا تدارک بھی ممکن ہو۔ ہمارے نزدیک ان سب میں لارنس آف عربیہ اس اعتبار سے سرِ فہرست ہے کہ اس نے تاریخ اسلام کا سب سے بڑا زخم سقوطِ خلافت کی شکل میں دینے میں اہم ترین رول ادا کیا۔ ادارہ)
لارنس آف عربیہ
Lawrence Of Arabia
لیفٹنٹ کرنل تھامس ایڈورڈلارنس(16اگست1988-۔مئی1935۔)جسےپیشہ ورانہ طور پر ٹی ای لارنسT. E. Lawrence کے طور پر جانا جاتا تھا، برطانوی افواج کا ایک معروف افسر تھا، جسے پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔
اسلامی خلافت کے خاتمے کے لیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث اسے “لارنس آف عربیہ” (Lawrence of Arabia) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا یہ خطاب 1962 میں لارنس آف عربیہ کے نام سے جاری ہونے والی فلم کے باعث عالمی شہرت اختیار کر گیا۔
1915 ء کے آخری عشرے میں جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو لوہے کے چنے چبوائے اور مارچ 1916ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی، تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔ لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے ” تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔ لارنس نے عربی لباس بھی پہننا شروع کیا۔ وہ عربی زبان اچھی خاصی جانتا تھا لہٰذا لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ ستمبر 1911ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اسکے ساتھ مل گئی جس نے اسکی بڑی مدد کی۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس نے عربی نوجوانوں پر دام حسن ڈال کر ترکوں کی بیخ کنی شروع کردی۔ انگریزوں نے لارنس کو ہدایت کی کہ وہ برلن سے بغداد جانے والی ریلوے لائن سے متعلق اطلاعات لندن پہنچائے اور ایسے افراد کا انتخاب کرے جو ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہوں۔ ان دنوں عراقی ریلوے لائن دریائے فرات تک پہنچ چکی تھی اور دریا پر پل باندھا جارہا تھا۔ اس پل کے قریب لارنس نے آثار قدیمہ کے نگران اعلیٰ کا روپ دھار کر کھدائی شروع کروا دی۔ آثار قدیمہ کی کھدائی محض بہانہ تھی اصل مقصد برلن بغداد ریلوے لائن کی جاسوسی تھا۔ یہاں سے وہ ہر روز خبریں لکھ کر لندن روانہ کرتا رہتا۔ اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے اس نے مزید غداروں اور ضمیر فروشوں کی تلاش شروع کی۔ کافی تگ و دو کے بعد اس نے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کا انتخاب کیا اور خطیر رقم کا لالچ دیکر اسکو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی۔ فائزی نے بڑی حقارت سے اسکی پیشکش ٹھکرا دی اور دھکے مارکر لارنس کو نکال دیا۔ لارنس بڑا عقلمند اور جہاں دیدہ تھا۔ اس نے سلیمان فائزی سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور کافی غورو فکر کے بعد فیصلہ کیا کہ برطانیہ کیلئے قابل اعتماد آلہ کار اور اپنے ڈھب کا غدار اسکو پڑھے لکھے، دولت مند اور سیاسی لوگوں میں سے نہیں مل سکتا اس لیے مذہب کی آڑ لینا شروع کی۔ وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیے۔ اس نے ” پونڈ” پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے اور ان کی مدد سے لارنس نے گورنر مکہ حسین ہاشمی یعنی شریف مکہ تک رسائی حاصل کرلی اور اپنی چرب زبانی اور مکارانہ چالوں سے حسین ہاشمی کو گمراہ کرنے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔ پاسبان حرم کو شیشے میں اتارنے کے بعد لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین ہاشمی کے بیٹوں عبداللہ، علی، فیصل اور زید پر مرکوز کی۔ انکو باور کرایا کہ اولاد رسول مقبولﷺ ہو کر دوسروں کی ماتحتی میں زندگی گزارنا ذلت آمیز ہے۔ ابتداء میں تو چاروں نے لارنس کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی مگر اپنے باپ کے پیہم اصرار پر اور لارنس کی چکنی چپڑی باتوں کے باعث ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ ترکوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور پھر ایک دن انہوں نے اپنے مکان کی کھڑکی سے ترکوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ اس طرح ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا آغاز کروا کر لارنس بڑا خوش ہوا اور لندن اطلاع دی کہ کھیل شروع ہوگیا ہے۔
سید حسین بن علی ہاشمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے تھا۔اس وجہ سے1908میں اس نے شریف مکہ کا اعزازحاصل کیا۔ لارنس آف عربیہ نےاس کے ساتھ مل کرخلافت عثمانیہ کےخلاف بغاوت کردی،جس کے نتیجےمیں ترکوں کو شکست ہوئي۔اس کےبیٹے امیر فیصل کوعراق کا اوردوسرے بیٹےشاہ عبداللہ کواردن کا بادشاہ بنادیا گیا۔
اس زمانے میں مکہ کا شریف حسین ترکی حکومت کے ایک نائب کی حیثیت سے جزیرۃ العرب کے ایک بڑے حصے کا حکمران تھا۔ کرنل لارنس آف عربیہ نے مکہ کے شریف حسین کے بیٹے فیصل سے رابطہ قائم کیا اور برطانوی حکومت کا پیغام پہنچایا کہ اگر وہ برطانیہ کا ساتھ دیں گے اور انہیں یقین دلایا کہ اگر وہ خلیفہ المسلمین کے خلاف بغاوت کریں گے تو ان کو تمام عرب دنیا کا بادشاہ بنا دیا جائے گا اوراس کے بیٹوں کو ترکی سلطنت کے علیحدہ علیحدہ حصوں کا بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا وعدہ تھا کہ جو انتہائی پر فریب مگر کبھی نہ ہونے والا تھا اور کرنل لارنس آف عربیہ یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ اس وعدے پر کبھی بھی برطانوی حکومت عمل نہیں کرے گی۔ مگر اس کے باوجود اس نے مکہ کے حکمران شریف مکہ، جن کی اس وقت حکومت موجودہ سعودی عرب کے تقریبا ًنصف پر محیط تھی یعنی مدینہ مکہ اور دیگر اہم عرب علاقے، کو بھر پور یقین دہانی کرائی کہ خلافت اسلامیہ کی شکست کے بعد تمام عرب علاقوں کا بادشاہ شریفِ مکہ کوبنادیا جائےگا۔ کرنل لارنس آف عربیہ کے ان وعدوں کے نتیجے میں عرب دنیا میں ترکوں کے خلاف بغاوت کی ایک لہر پیدا ہو گئی۔ موجودہ سعودی عرب کے شہر جدہ جس پر اس وقت شریف حسین کا قبضہ تھا وہاں سے لے کر بغداد او ر شام کے شہر دمشق تک جو ترکی کی خلافت اسلامیہ کا حصہ تھے شریف حسین کے اشاروں پر ترکوں کے خلاف خونی بغاوت کا آغاز ہو گیا جو کہ جنگ اور افلاس زدہ ترکی کے لیے انتہائی خطرناک اور بدترین ثابت ہوئی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں ترکی کے خلیفہ عبدالحمید کی افواج کو عرب علاقوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکی کی خلافت اسلامیہ کو دنیا کے تمام ہی علاقوں میں شریف حسین کی غداری کے نتیجے میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس شکست کے نتیجے میں جہاں ترکی سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا وہیں عرب دنیا کی نئی غلامی کا آغاز بھی ہوا۔
اردن وعراق پر برطانیہ نے قبضہ کرلیا۔ جب کہ شام،لبنان اوردیگرعرب علاقے فرانس کوبطورانعام عطا کردیے گئے۔مصر برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔ لیبیا اٹلی کو بخشا گیا۔ الجزائیر، تیونس اور مراکش کی حکمرانی فرانس کو دے دی گئی۔ یہ اس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی جو کرنل لارنس آف عربیہ نے شریف مکہ کے ساتھ کیا تھا۔ شریف مکہ نے برطانوی حکومت سے اور کرنل لارنس آف عربیہ سے اس معاہدے کے حوالے سے بے انتہا احتجاج کیا مگر اس کے باوجود شریف مکہ کی ایک نہ سنی گئی۔یوں شریف مکہ کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ البتہ عراق کی حکومت اور اردن کی حکومت شریف حسین کے بچوں کو دی گئی۔
کرنل لارنس آف عربیہ کا مشن صرف عرب دنیا میں ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد اس کو برصغیر پاک و ہند میں خصوصی اختیارات کے ساتھ بھیجا گیا۔
کرنل لارنس آف عربیہ کراچی میں:
کرنل لارنس آف عربیہ سب سے پہلے کراچی میں آیا جہاں پر اس وقت کی موجودہ شاہراہ فیصل اور سابقہ ڈرگ روڈ کے سابقہ ڈرگ بیس اور موجودہ فیصل بیس پر ایک انجینیرکی حیثیت سے رہا۔ یہ فیصل بیس برصغیر کا سب سے پہلا ہوائی اڈہ ہے جہاں برطانوی شاہی ہوائی فورس کا مرکز قائم کیا گیا۔
یہاں اس نے اپنے مشن کی خاطر اپنا نیا نام شاؔ رکھا جو کہ برطانوی مفکر برنارڈ شا سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ بعد میں جب کرنل لارنس آف عربیہ اپنے مشن کی خاطر صوبہ سرحد یا موجودہ پختوان خواہ کے سرحدی شہر میران شاہ پہنچا تو اس نے اپنے نام کے ساتھ شا ہ لگایا۔ اس سے مسلمان عوام کو یہ تاثر دیا گیا گو یا کہ کرنل لارنس آف عربیہ آل رسول ہے۔ کرنل لارنس آف عربیہ کراچی میں رہنے کے بعد رسال پور چھاونی کے ہوائی اڈے پر ایک سال تک رہا۔
پاکستان کے ان علاقوں میں کرنل لارنس آف عربیہ نے اپنے آپ کو شا ہ کے طور پر متعارف کرایا یہاں اس نے پشتو زبان بھی سیکھ لی۔
کرنل لارنس آف عربیہ پاکستان کے صوبہ پختوانخواہ کے سرحدی شہر میران شاہ بھیجا گیا۔ یہ بات واضح رہے کہ اس دور میں بھی میراں شاہ کو افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر اہم ترین شہر کی حیثیت حاصل ہے۔
کرنل لارنس آف عربیہ نے سید کریم شاہ کا نام اختیار کرکے پاکستان کے نقشے میں میران شاہ شہر کے مسلمان عالم حیثیت سے رہائش اختیار کی۔
چونکہ وہ عربی اور فارسی زبانوں سے بخوبی واقف تھا، اس لیے اس نے برصغیر کے اس دور افتادہ اور پسماندہ شہر میران شاہ میں با آسانی ایک سید پیر کی حیثیت سے پذیرائی حاصل کر لی۔ میران شاہ میں لارنس آف عربیہ نے افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ غازی امان اللہ خان کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔ امان اللہ خان کی پالیسیوں کے خلاف لارنس آف عربیہ نے بے شمار طرح کے پروپیگنڈے کیے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ امان اللہ خان نے اسلام کے خلاف زندگی بسر کرنا شروع کردی ہے۔ اس نے امان اللہ خان کے خلاف مخالفین کو درپردہ اکسایا۔ کرنل لارنس نے عوام میں اپنی روحانیت کا سکہ بٹھانے کے لیے کئی طرح کے حربے اختیار کیے۔ ایک جانب تو وہ عوام کے سامنے ہمیشہ ہی عربی لباس میں آتادوسری جانب اس نے اپنے ایسے کارندے چھوڑ رکھے تھے جو اس کو تمام اطلاعات فراہم کرتے رہتے تھے۔ کسی خان سے وہ اس کی پریشانیوں کے بارے میں دریافت کرتا اور پھر اس کو بتاتا کے فلاں وقت فلاں پہاڑ کی چوٹی پر وہ اس طرح کا وظیفہ پڑھے اور وظیفہ پڑھنے کے بعد، اتنے قدم پر چلنے کے بعد زمین کھودے تو روپیہ مل جائے گا۔ چنانچہ وہ خان ایسا ہی کرتا جس کے نتیجے میں اس خان کو زمین میں سے اس وقت کے چار پانچ ہزار روپے مل جاتے اور وہ خان لارنس آف عربیہ کو پیر کامل سمجھ اس کے کہنے پر عمل کرتا۔ کرنل لارنس عربی لباس پہن کر اور عربی اور پشتو میں تقریر کرتے ہوئے جگہ جگہ وعظ کرنے لگا۔کم علم عوام کی اکثریت کو وہ قرآن کی آیات پڑھ کر سناتا۔ اسی کے ساتھ ملکہ افغانستان ملکہ ثریا کی ایسی تصاویر بانٹتا جو کہ جعلی اور فوٹوگرافی کی مہارت کے ساتھ یعنی سر ملکہ کا اور دھڑ کسی دوسری فاحشہ عورت کا جوڑ کر بہادر اور غیور پختون اور افغانیوں کے سامنے پیش کرتا۔ وہ تصاویر موجودہ امرتسر میں شائع کی گئیں تھیں۔اس کے علاوہ وہ اپنی تقاریر میں بادشاہ امان اللہ خان پر الزام بھی عائد کرتا کہ وہ روس جا کر بے دین ہوگیا ہے اور کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر کافر ہوگیا ہے۔
اس پروپیگنڈے اور ملکہ کی اس طرح کی تصاویر پر ان کم علم مسلمانوں کا بھڑکنا لازمی تھا۔اورجس پر افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ غازی امان اللہ خان کے خلاف افغانستان میں بغاوت ہو گئی اور غازی امان اللہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
کراچی، رسال پور اور میران شاہ میں تو کرنل لارنس آف عربیہ کو کوئی پہچان نہ پایا مگر امرتسر اور کشمیر میں علامہ اقبال نے اس کو پہچان کر اس کے خلاف مہم چلوائی۔
اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک کشمیری عورت جس کا نام اکبر جہاں تھا،سے شادی کر لی تھی مگر بعد میں اکبر جہاں کے اہل خانہ نے پہچان کر اپنی لڑکی کو کرنل لارنس آف عربیہ سے طلاق دلوائی۔اس حوالے سے علامہ اقبال کے بھانجے نے انکشاف کیا تھا کہ علامہ اقبال کے سامنے اس طرح کا ایک واقعہ لایا گیا جس کے نتیجے میں انہوں نے براہ راست اس انگریز سے ملاقات کی اور پھر دباو ڈال کر اس انگریز سے جس نے مسلمانوں کا روپ دھار کر اس مسلمان خاتون سے شادی کرلی تھی،علیحدگی کروائی۔ بعد میں مشہور کشمیری رہنما شیخ عبداللہ نے اس خاتون سے شادی کر لی تھی۔
مشہور تاریخ دان اور سیاستدان طارق علی جو لندن میں مقیم رہے، انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ اکبر جہان نامی خاتون نے جس عرب کرم شاہ سے شادی کی تھی وہ دراصل کرنل لارنس آف عربیہ ہی تھا۔ کرنل لارنس آف عربیہ نے کرم شاہ کا نام اختیار کرکے کشمیر اور دیگر علاقوں میں رہائش اختیار کی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ شیخ عبداللہ کا بڑا بیٹااور کشمیری رہنما فاروق عبداللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شیخ عبداللہ کا نہیں بلکہ کرنل لارنس آف عربیہ کا بیٹے ہے۔ کیونکہ بعض افراد کی رائے کے مطابق اس میں کرنل لارنس آف عربیہ کی شباہت نظر آتی ہے۔

عبداللہ بن ابی
رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا مکمل نام اپنی ماں کی نسبت سے، عبداللہ بن ابی بن سلول، بتایا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اہل مدینہ میں اسکی حیثیت، اثر اور مرتبہ سب سے ممتاز تھا اور ہجرت سے کچھ روز قبل اہل مدینہ کے تمام قبائل نے اسے متفقہ طور پر اپنا سردار مقرر کرلیا تھا اور اسکی باقاعدہ رسم تاج پوشی کے لئے دن بھی طے کر لیا گیا تھا۔ لیکن عین اسی وقت خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے بے تاج بادشاہ کے طور پر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ نے اپنا پہلا منصوبہ ترک کرکے اپنے تمام معاملات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کردیا۔ اس صورت حال کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کے سینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذاتی بغض اور عناد پیدا ہوگیا اور وہ دل ہی دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جلنے کڑھنے لگا۔ چونکہ اہل مدینہ کے تمام قبائل کی ہمدردیاں شمع رسالت کے ساتھ تھیں اس لئے وہ انکی کھلم کھلا مخالفت نہیں کرسکتا تھا چنانچہ اس نے منافقت کی راہ اپنائی۔
عبداللہ بن ابی نے بظاہر اسلام قبول کرلیا اور ظاہری اعتبار سے اللہ اور اسکے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکامات کی پاپندی شروع کردی لیکن اندر ہی اندر وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض اور عناد کی آگ میں جل رہا تھا۔ وہ جب تک زندہ رہا اس نے اسلام کی جڑ کاٹنے کے لئے یہودیوں اور مشرکین مکہ سے رابطے استوار رکھے۔ اور غزوہ بدر اور احد میں نہ خود حصہ لیا بلکہ اندر ہی اندر صحابہ کو بھی جہاد پہ جانے سے روکتا رہا۔ یہی منافق شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی بیوی اور تمام مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگانے میں بھی پیش پیش رہا۔
اسلامی تاریخ اور بطور خاص مسلمانوں میں تفرقات پیدا ہونے کے ابتدائی ماحول اور محرکات کے سلسلے میں عبداللہ بن ابی کا نام اولین شخصیات میں لیا جاتا ہے۔ رئیس المنافقین کی وفات پر حضرت عمر فاروق نے اس کا واضح طور پر اظہار بھی کیا تھا کہ یہ شخص منافق ہے،لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکی نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ لیکن اس کے باوجود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے مسلمان بیٹے کی دلجوئی کے لئے کمال رحم اور عفو در گذر سے کام لیتے ہوئے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے گئے اور کفن ودفن کےلیے اپنا کرتہ مبارک عنایت فرمایا، مگر عین وقت پر اللہ تعالٰی نے بذریعہ وحی نماز جنازہ پڑھنے سے روک دیا۔

عبداللہ بن سبا اور مختار ثقفی
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عثمان کے ابتدائی نصف عہد خلافت تک بظاہر ملت اسلامیہ میں امن و سکون تھا اور 30 ہجری تک مسلمانوں نے دنیا کا اتنا بڑا اور اہم رقبہ فتح کر کے اپنی حکومت و سیادت میں شامل کر لیا تھا کہ باقی بچا ہوا تاریک رقبہ اس منور رقبہ کے مقابلے میں کوئی قدرو قیمت نہیں رکھتا تھا اور اگر اسلام کی قوت چاہتی تو باقی تمام دنیوی طاقتوں کے مجموعے کو بآسانی کچل سکتی تھی۔ لیکن راس المنافقین عبداللہ بن اُبئ کے بزور ثانی عبداللہ بن سبا صنعانی یہودی نے اسلامی جامہ پہن کر اور دوسرے منافقین سے تقویت پا کر اور بہت سے نو مسلموں کو فریب دے کر وہ سب سے پہلا فتنہ امت میں برپا کیا جس نے اسلام کے مٹائے ہوئے خاندانی امتیاز اور نسلی عصبیت کو تعلیم اسلامیہ اور مقاصد ایمانیہ کے مقابلے میں پھر زندہ اور بیدار کر کے مسلمانوں کو مبتلائے مصائب اور خانہ جنگی میں مصروف کر دیا۔ خدائے تعالٰی قران مجید میں آپس کے اتفاق اور مسلمانوں کی باہمی الفت کو ایک عظیم الشان نعمت قرار دیا ہے اور اسلام نے تمام نسلی و خاندانی امتیازات کو مٹا کر، باپ دادا کے تمام مراسم بھلا کر مسلمانوں کی ایک قوم بنائی تھی جس کا مقصد زندگی خدا اور رسول اللہ کے احکام کی اطاعت اور اعلاء کلمتہ اللہ کے سوا اور کچھ نہیں تھا لیکن چونکہ بالکل نئے نو مسلموں کی بڑی تعداد قران مجید اور اس کی تعلیمات سے کماحقہ بھی واقف نہیں ہو چکی تھی اور ان میں ابھی تک تقلید آباء اور حمیت جاہلیہ کے جراثیم پورے طور پر ہلاک نہیں ہونے پائے تھے۔ لہذا منافقوں کے برپا کردہ فتنہ نے جس طرح عہد نبوی میں بھی بعض مسلمانوں پر تھوڑی دیر کے لیے کچھ نہ کچھ اثر ڈالا تھا اسی طرح اب بھی ان نو مسلموں پر اثر ڈالا۔ جس قدر ان مسلموں اور صحابہ کرام کے اسلام اور روحانیت میں فرق تھا۔ اسی قدر یہ اس فتنہ سے زیادہ متاثر ہوئے۔ عبداللہ بن سبا نے مدینہ، بصرہ، کوفہ، دمشق، اور قاہرہ کے تمام مرکزی شہروں میں تھوڑے تھوڑے دنوں قیام کر کے حضرت عثمان کے خلاف نہایت چالاکی، ہوشیاری اور شرارت سے حضرت علی کے حقدار خلافت ہونے کو جدید الاسلام لوگوں میں اشاعت دے کر بنی امیہ اور بنی ہاشم کی پرانی عداوت اور عصبیت کو جو مردہ ہو چکی تھی پھر زندہ اور بیدار کرنے کی ناپاک کوشش کی حالانکہ خدائے تعالٰی قران مجید میں صاف ارشاد فرما چکا تھا کہ
“تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمھارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم خدا کی مہربانی سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے میں گر کر ہلاک ہونے والے تھے کہ اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ اپنی آیات تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت یافتہ بنو”
اور آنحضرت نے فتح مکہ کے روز خانہ کعبہ کے دروازے میں کھڑے ہو کر قریش اور شرفائے عرب کے عظیم اجتماع کو مخاطب کر کے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا کہ
“اے گروہ قریش ! اللہ نے تم سے جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا کے فخر کو دور کر دیا۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ خدا فرماتا ہے کہ لوگو ہم نے تم کو نر و مادہ سے پیدا کیا اور تمھاری شاخیں اور قبائل بنائے۔ تاکہ الگ پہچان ہو۔ اللہ کے نزدیک تم میں بزرگ وہی ہے جو متقی ہے۔
عبداللہ بن سبا نے سب سے پہلے مدینہ منورہ یعنی دارالخلافہ میں اپنے شر انگیز خیالات کی اشاعت کرنی چاہی مگر چونکہ یہاں صحابہ کرام کی کثرت اور ان کا اثر غالب تھا۔ لہذا اس کو ناکامی ہوئی اور خود ہاشمیوں نے ہی اس کے خیالات کو سب سے زیادہ ملعون و مردود قرار دیا۔ مدینہ سے مایوس ہو کر وہ بصرہ کی چھاؤنی میں پہنچا۔ وہاں عراقی و ایرانی قبائل کے نو مسلموں میں اس نے کامیابی حاصل کی اور اپنی ہم خیال ایک جماعت بنا کر کوفہ پہنچا۔ اس فوجی چھاؤنی میں بھی ہر قسم کے لوگ موجود تھے یہاں بھی وہ اپنے حسب منشاء ایک مفسد جماعت بنانے میں کامیاب ہوا، کوفہ سے دمشق پہنچا وہاں بھی اس نے تھوڑی سی شرارت پھیلائی، لیکن حضرت امیر معاویہ، حاکم شام کے بروقت مطلع ہو جانے سے زیادہ دنوں تک قیام نہ کر سکا، وہاں سے قاہرہ پہنچ کر اس نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ و قاہرہ کے فسادی عناصر نے مل کر مدینہ منورہ کی طرف کوچ کیا اور حضرت عثمان کی شہادت کا واقعہ ظہور میں آیا۔ اس فتنہ نے 30 ہجری سے 40 ہجری تک مسلمانوں کو خانہ جنگی میں مصروف رکھ کر اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے کام کو نقصان پہنچایا اور مسلمانوں میں خاندانی و نسلی رقابت کو از سر نو پیدا کر کے قران کریم کی طرف سے ان کی توجہ کو کم کر دیا اور جس حبل اللہ کے مضبوط پکڑے رہنے کی خدا نے تاکید فرمائی تھی اس کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔ حضرت حسن نے 41 ہجری میں اس تفرق و تشتت کے بد نتائج محسوس کرکے عبداللہ بن سبا اور اس کے ساتھیوں کا پیدا کردہ فتنہ کا بڑی ہمت و بہادری سے خاتمہ کیا اور امت مسلمہ پھر سے ایک مرکز سے وابستہ ہو گئی۔ بیس سال کے امن و امان اور بحری و بری فتوحات ِ اسلامیہ کے بعد حضرت امیر معاویہ کی وفات یزید کی تخت نشینی اور کربلا کے حسرت ناک حادثہ نے ایک طرف مشرکوں اور دوسری طرف منافقوں کو پھر جراءت دلا کر مصروف کار بنا دیا اس مرتبہ جو طوفان برپا ہوا، اس میں مشرکوں اور کافروں کو تو کامیابی مسلمانوں کے مقابلے میں نہ حاصل ہو سکی۔ لیکن منافقوں کے برپا کیے ہوئے فتنوں نے تقریباً تیرہ سال تک بڑے بڑے عظیم الشان نقصانات پہنچائے۔ جو بہت دور رس اور دیرپا ثابت ہوئے۔ پہلے طوفان میں جو 30 ہجری سے 40 ہجری تک دس سال قائم رہا صحابہ کرام کی بڑی تعداد زندہ موجود تھی، لیکن اس طوفان میں جو 61 ہجری سے 73 ہجری تک برپا رہا۔ صحابہ کرام بہت سے فوت ہو چکے تھے۔ صرف چند نفوس قدسیہ باقی تھے اور قران کریم کی طرف سے مسلمانوں کی توجہ کم ہو کر دوسری چیزوں کی طرف زیادہ ہونے لگی تھی۔ لہذا منافقوں کو اسلام کے خالاف زیادہ آزادی سے کام کرنے کا موقع ملا اور مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ خانہ کعبہ کی بے حرمتی کو اپنے انتقامی جذبہ کے مقابلے میں گوارا کیا بلکہ عبداللہ بن سبا کے بزور ثانی مختار بن عبیدہ ثقفی کی مشرکانہ تعلیم اور کفر یہ دعاوی کو بھی جزو اسلام سمجھ لیا۔ سلیمان بن صرد ہاشمیوں اور شیعان علی کو فراہم کر کے جنگ عین الوردہ میں ہزارہا مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کر اچکا تھا۔ کہ مختار مذکور نے محمد بن حنفیہ برادر حضرت حسین اور حضرت عبداللہ بن عمر کو دھوکہ دے کر کوفہ میں اپنی قبولیت و رسوخ کے لیے راہ نکالی اور حضرت حسین کی شہادت اور کربلا کے دلگداز و حسرت ناک تذکرہ کو آلہ کار بنا کر عبداللہ بن سبا نے فتنہ خفتہ کو بیدار کر کے خاندانی امتیازات اور قبائلی عصبیتوں میں جان ڈال دی۔ پھر اس کے بعد قوت و شوکت اور کوفہ کی حکومت حاصل کر چکا تو بجائے اس کے کہ اپنے ابتدائی دعاوی و اعلانات کی موافق علویوں کو حکومت و خلافت دلاتا۔ مسلمانوں کو کافر و مشرک بنانا شروع کر دیا۔ اس نے نہایت چالاکی سے کوفہ والوں کو اپنی کرامتوں اور خوارق عادات طاقتوں کا یقین دلایا۔ کوفیوں کی مدد سے حاکم کوفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے خود حاکم کوفہ بن گیا۔ حرتت علی جب کوفہ میں قیام پذیر تھے تو ان کی ایک کرسی تھی جس پر وہ اکثر بیٹھتے تھے۔ وہ کرسی ان کے بھانجے جعدہ بن ام ہانی بنت ابی طالب کے قبضہ میں تھی۔ مختار نے وہ کرسی ان سے طلب کی۔ انھوں نے وہ کرسی تو نہ دی مگر ایک دوسری اسی قسم کی کرسی پیش کر دی۔ مختار نے اس کرسی کو سامنے رکھ کر دو رکعات نماز پڑھی، پھر بوسہ دیا اور اپنے تمام مریدوں کو جو اس کی فوج کے سپاہی تھے جمع کر کے کہا۔ کہ جس طرح خدا نے تابوت سکینہ کو بنی اسرائیل کے لیے موجب نصرت و برکت بنایا تھا اسی طرح اس کرسی کو شیعان علی کے لیے نشانی قرار دیا ہے۔ اب ہم کو ہر جگہ فتح و نصرت حاصل ہو گی۔ لوگوں نے اس کرسی سے آنکھیں ملیں، بوسے دئیے اور اس کے آگے سجدے کیے۔مختار نے ایک صندوق یعنی تابوت نہایت خوبصورت اور مرصع بنوایا۔ اس کے اندر کرسی رکھی گئی۔ تابوت میں چاندی کا قفل لگایا گیا۔ جامع مسجد کوفہ میں تابوت رکھ کر اس کی حفاظت کے لیے ایک فوجی گارڈ مقرر ہوا۔ ہر شخص جو کوفہ کی جامع مسجد میں نماز پڑھتا اسے بعد نماز اسے ضرور بوسہ دینا پڑتا۔ اس کے بعد مختار نے نہایت چالاکی سے بتدریج اپنے الہام و وحی کا ذکر لوگوں سے کیا اور پھر بہت جلد نبوت کا مدعی بن کر اپنے نبی ہونے کا اقرار لینے لگا۔ مختار کو حضرت علی کے داماد حضرت مصعب بن زبیر، برادر حضرت عبداللہ بن زبیر نے بتاریخ 14 رمضان المبارک 67 ہجری کو شکست دے کر کوفہ میں قتل کیا۔
تاریخ زوال ملت اسلامیہ از نجیب اکبر آبادی سے اقتباس
حسن بن صباح
حسن بن صباح (515ھ / 1124ء)اسماعیلی فرقے کی ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین کا بانی۔ قم ’مشرقی ایران‘ میں پیدا ہوا۔ باپ کوفے کا باشندہ تھا۔ 1071ء میں مصر گیا اور وہاں سےفاطمی خلیفہ المستنصر کا الداعی بن کر فارس آیا۔ اور یزد، کرمان، طبرستان میں فاطمیوں کے حق میں پروپیگنڈے میں مصروف ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ نظام الملک اور عمر خیام کا ہم سبق تھا۔ مگر بعد میں نظام الملک سے اختلاف ہوگیا تھا۔ چنانچہ ملک شاہ اول نے اس کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے 1090ء میں کوہ البرز میں الموت کے قلعے پر قبضہ کر لیا جو قزوین اور رشت کے راستے میں ہے۔ کئی دوسرے قلعے بھی اسماعیلیوں کے قبضے میں میں آگئے۔ 1094ء میں مصر کے اسماعیلیوں سے قطع تعلق کرلیا۔ اپنے آپ کو “شیخ الجبال” نامزد کیا اور قلعہ الموت کے پاس کے علاقے میں چھوٹی سی آزاد ریاست قائم کر لی۔ پھر اپنے پیروؤں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اس میں داعی اور فدائی بہت مشہور ہیں۔ فدائیوں کا کام تحریک کے دشمنوں کو خفیہ طور پر خنجر سے ہلاک کرنا تھا۔ بہت سے مسلمان اورعیسائی فدائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ دہشت انگیزی کی یہ تحریک اتنی منظم تھی کہ مشرق قریب کے سبھی بادشاہ اس سے کانپتے رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش ’گانجا‘ پلا کر بیہوش کر دیتا تھا اور پھر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جو اس نے وادی الموت میں بنائی تھی۔ حسن بن صباح نے طویل عمر پائی اور اس کے بعد بزرگ امیر اُس کا ایک نائب اس کا جانشین ہوا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔
مویدالدین علقمی
تاتاری 656 ھجری کے اخیر میں مسلمان کی سرزمین پر وارد ہوئے۔ جب مسلمانوں کے خلیفہ ابو احمدمستعصم باللہ نے اپنی افواج جارحیت روکنے کے لیے تیار کرنی شروع کیں تو اسکے وزیر “العلقمی” نے دھوکے سے خلیفہ کو باور کرایا کہ جارح سے صلح ممکن ہے اور افواج کی تیاری ممکنہ صلح کو ناممکن بنادے گی۔ علقمی جو کہ ایک غیر عرب شیعہ تھا، نے تاتاریوں سے خفیہ خط و کتابت شروع کی اور تاتاریوں سے وعدہ کیا کہ اگر حملہ کی کامیابی کی صورت میں علقمی کو خلیفہ بنانے کی یقین دہانی کی جائے اور اس کے بعد بغداد ایک شیعہ ریاست میں تبدیل ہوجائے تو اس صورت میں کوئی مزاحمت نہ کی جائے گی۔
جب العلقمی نے خلیفۃ المسلمین کو دھوکہ دیا اور اس کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ تاتاریوں سے صلح کا معاہدہ ہونے والا ہے تو المعتصم اپنے وزیروں اور دیگر راہنماؤں کے ساتھ تاتاریوں کے راہنما سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ تاتاریوں نے سب کو قتل کردیا اور نہایت گھٹیا انداز میں مسلمانوں کی عزت کو پامال کیا۔
غدار العلقمی بھی عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا اور اپنے خواب پورے کرنے میں ناکام رہا۔ تاتاریوں نے جو کہ جانتے تھے کہ یہ شخص غدار ہے اور کیونکر تاتاریوں کے ساتھ مخلص ہوسکتا ہے، لہذا العلقمی کو بھی قتل کردیا۔
سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کو شکست در شکست کا سامنا کرناپڑا۔ تاتاریوں نے سارے عراق پر قبضہ کرنے کے بعد شام کی سرزمیں پر جارحیت کا ارتکاب کیا (شام سے مراد موجودہ شام، اردن، فلسطین، لبنان کا پورا علاقہ اورمصر و عراق کاکچھ علاقہ ہے)اور یہاں ظلم و ستم کا بازار گرم کردیا کیونکہ اس علاقے کے لوگوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔
میرجعفر
میر جعفر نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا۔ نہایت بد فطرت آدمی تھا۔ نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا۔ پاکستان کا پہلا صدر اسکندر مرزا میرجعفر ہی کی نسل سے تھا۔
علامہ اقبال نے اپنی معرکہ آراء تخلیق جاوید نامہ میں غدار سلطنت خداداد میرصادق اور مکار مملکت بنگالہ میر جعفر کے خبث باطنی کا عبرت انگیز نقشہ کھینچتے ہوئے رقم کیاہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن
۲۳ جون ۱۷۵۷ء ہماری تاریخ کا عہدساز دن ہے جب برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں کی غلامی کے دور کا آغاز ہوا۔ یہ تاریخ جنگِ پلاسی کی تاریخ ہے جو صرف ۹ گھنٹے جاری رہی اور اس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کی غلامی دو صدیوں تک جاری رہی۔ اس جنگ نے میر جعفر نام کے ایک کردار کو برِصغیر کی تاریخ،ادب اور شاعری میں متعارف کرایا جو غداری اور وطن فروشی کی علامت ہے۔ پلاسی ایک گاؤں کا نام ہے جو اُس وقت کے متحدہ بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد سے ۳۰ میل اور مغربی بنگال کے موجودہ دارالحکومت کولکتہ سے ۱۵۰ میل کے فاصلے پر ایک دریا کے کنارے واقع ہے۔
۲۳ جون ۱۷۵۷ ءکو میدانِ جنگ کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ شمال میں ’بنگال، بہار اور اڑیسہ‘ کے نواب ناظم کی فوج خیمہ زن تھی۔ ۲۰ سالہ نوجوان نواب کا نام ’مرزا محمد‘ اور لقب ’سراج الدولہ‘ تھا۔ تاریخ میں وہ اپنے لقب سے مشہور ہے۔ سراج الدولہ کی فوج تقریباً پچاس ہزار سپاہ پر مشتمل تھی جس میں ۳۵ ہزار پیادہ اور ۱۵ ہزار گھڑسوار شامل تھے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق ریاست کا سربراہ نواب سراج الدولہ فوج کا کمانڈر انچیف تھا۔ ڈپٹی کمانڈر انچیف میر مدن تھا۔ فوج کے مختلف ڈویژن مختلف جنرلوں کی کمان میں تھے جن میں سے ایک جنرل میر جعفر تھا جس کا پورا نام سید محمد جعفر علی تھا۔
جنوب میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر رابرٹ کلائیو کی مختصر سی فوج تھی جس کا ۷۰ فیصد حصہ ہندوستانی سپاہ پر مشتمل تھا۔ انگریزی فوج صرف ۲۹۷۱ نفوس پر مشتمل تھی جس میں ۶۰۰ یورپین سپاہی، ۲۱۰۰ ہندوستانی پیادہ فوج، ۱۰۰ مخلوط النسل یوریشیائی سپاہی ۱۷۱ توپچی شامل تھے۔ اس طرح سراج الدولہ کی فوج کلائیو کے مقابلے میں سترہ گنا بڑی تھی۔ کلائیو کے پاس ۱۲ جبکہ سراج الدولہ کے پاس ۵۳ توپیں تھیں۔ اس طرح کلائیو کے مقابلے میں نواب کا توپ خانہ بھی چوگنا تھا جو فرانسیسی فوجی افسران کی تحویل میں تھا۔
جنگ پلاسی شروع ہونے سے کچھ روز قبل میر مدن نے نواب سراج الدولہ کو مشورہ دیا کہ انگریزوں سے نمٹنے سے پہلے وہ میر جعفر اور اس جیسے دوسرے سازشیوں اور غداروں کو ٹھکانے لگا دے لیکن نواب سراج الدولہ نوجوان اور ناتجربہ کار تھا۔ اس نے آستین کے سانپوں کو پہچاننے میں غلطی کی جس کا خمیازہ اسے بعد میں بھگتنا پڑا۔ چرب زبان میر جعفر نے نواب کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور اسے مطمئن کر دیا۔
جنگ شروع ہوئے تین گھنٹے گزر چکے تھے اور کلائیو نے پسپا ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس وقت اس نے دیکھا کہ نواب سراج الدولہ کی فوج کا ایک حصہ اپنی فوج سے الگ ہو کر اس کی جانب آ رہا ہے۔ یہ میر جعفر کی ڈویژن تھی۔
جون کے آخر میں بنگال مون سون گھٹاؤں کی زد میں ہوتا ہے۔ اس دن بھی آسمان پر بادل چھائے تھے اور گیارہ بجے آسمان اچانک پھٹ پڑا۔ تیز بارش میں نواب سراج الدولہ کی گرجتی ۵۳ توپیں خاموش ہو گئیں کیونکہ بارود اور توپوں کو متوقع بارش سے بچانے کیلیے کوئی انتظام نہ کیا گیا تھا۔ اس بے تدبیری اور عدم توجہی نے جنگ کا اور اگلے دو سو سال کیلیے ہندوستان کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا۔ بارود بھیگنے اور توپوں کے پانی میں نہا کر عارضی طور پر خاموش ہو جانے کی وجہ سے نواب سراج الدولہ کے لشکر میں سراسیمگی پھیل گئی۔ یہ دیکھ کر بہادر اور وفادار ڈپٹی کمانڈر انچیف فوج کا حوصلہ بڑھانے کیلیے خود میدانِ جنگ میں کود پڑا اور وطن پر نثار ہو گیا۔
دوسری طرف میر جعفر قرآن پر دیئے گئے حلف کو بھول گیا۔ اُس نے نواب سراج الدولہ کو پسپائی کا مشورہ دیا جو کہ نواب نے فوراً قبول کرلیا۔ بنگالی فوج کا بارود بھیگ ضرور گیا تھا مگر ناکارہ نہیں ہوا تھا۔ اسے خشک کرنے کے بعد دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا تھا اس کے علاوہ ان کو فیصلہ کن عددی برتری بھی حاصل تھی۔ لیکن میر جعفر بِک چکا تھا۔ اس نے کلائیو کو پیغام بھیجا کہ میدان صاف ہے۔ یہ غیر متوقع خوش خبری ملتے ہی انگریزی فوج جو کہ پسپائی کا سوچ رہی تھی، اپنی توپوں کے ساتھ نواب سراج الدولہ کی فوج پر چڑھ دوڑی اور یوں سہ پہر تقریباً پانچ بجے جنگ کا فیصلہ ہو گیا۔
جنگِ پلاسی کے بعد نواب سراج الدولہ کی انتہائی بھیانک طریقے سے مسخ شدہ لاش کی مرشد آباد میں نمائش کرائی گئی اور ۶ دن بعد ۲۹ جون کو میر جعفر ’بنگال، بہار اور اڑیسہ‘ کے ’نواب ناظم‘ کی حیثیت سے تختِ سیاہ پر بیٹھا۔ اس طرح اس غداری کی وجہ سے ہندوستان کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کا آغاز ہو گیا۔
میرصادق
میرصادق آرکاٹ موجودہ تملناڈ کا باشندہ تھا۔ اورمولوی محمد خان میسور نے سفرنامہ بکاننBucananطبع دوم جلد اول مطبوعہ 1870صفحہ 44کے حوالہ سے تحریر کیاہے کہ میرصادق ڈوڈبالاپور ضلع بنگلور کرناٹک میں پیداہوا۔ اس کے باپ کا نام میر علی نقی اوراس کے ناناکانام میراحمد خان جاگیردار صوبہ سراتھا۔محقق شہیر میرحسین علی کرمانی حاکم مولف نشان حیدری کابیان ہے کہ میرمحمد صادق، میراحمد خان جاگیردار تعلقہ بلگور اورمنصب صوبہ سراکانواساتھا۔ایک مدت تک میرصادق فوج کے رکاب بازار کا کوتوال تھا۔ وہ اپنی زندگی بڑی کفایت شعاری اورجزرسی سے بسرکرتاتھا۔ نواب حیدرعلی خان بہادر متوفی1195ھ مطابق 1782ءنے اس کو 1194ھ مطابق 1780میں شہر آرکاٹ کی صوبیداری عطا کی تھی۔ میرصادق اپنے اسی وصف خاص یعنی قناعت وکفایت شعاری کے سبب سے جواس سے کو توالی اورصوبے داری کے زمانے میں ظاہر ہوئی تھی، سلطان ٹیپوکا منظور نظر بن گیاتھا۔ پھر بہت جلد 1198ھ میں سلطان نے اس کو دیوان یعنی وزارت عظمی پر مامور کردیا۔
میرصادق کے سلسلہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے محمود خان بنگلور نے لکھاہے کہ میسور میں عام طورپر مشہور ہے کہ میرصادق حیدرآباد کے میر عالم کا بھائی تھا۔ مذہباًشیعہ تھا اورعجمی النسل سید تھا۔میر صادق کی نیت میں دیوان وزارت عظمی پر مقرر کئے جانے کے بعد فتور آگیا۔وہ کفایت شعاری کے بجائے حرص وہوس کا شکار ہوگیا۔1202ھجری مطابق 1787میں جب سلطان ٹیپودشمنوں سے فرصت پاکر ملک ولشکر کے انتظام کی طرف متوجہ ہوئے تو میر صادق کے ظلم وستم اورخرد برد کے حیرت انگیز واقعات آپ کے علم میں لائے گئے۔ سلطان نے اس پر تحقیقات کا حکم جاری فرمایا۔ جب جرم ثابت ہوگیا تو سلطان نے میرصادق کو نہ صرف اس کے عہدے سے برطرف کردیابلکہ اس کی تمام ناجائز کمائی اورجملہ اثاثہ قرق کردینے کا حکم صادرفرمایا۔ چناں چہ میر صادق کی کوٹھی سے نقد دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت، ایک لاکھ ہون محمدی،اورزرواجواہر اورطلائی ونقرئی ظروف کثیرتعداد میں برآمد ہوئے۔
بعدازاں سلطان نے میرصادق کو قید کرکے اس کے منصب دیوانی پر مہدی خان (جاگیردار اول کنڈہ، موجودہ ضلع چتورآندھراپردیش)کو فائزکیا۔ مہدی خان نائطی درحقیقت میر صادق کا ہی یارغار تھا۔ اس نے بڑی رازداری کے ساتھ میرصادق سے ربط رکھا اوراس کے مشوروںپر عامل رہا۔
سلطان کو اسی مہدی خان کی وجہ سے جنرل میڈرس سے دب کر صلح کرنی پڑی تھی۔ اسی نے عین لڑائی میں توپوں کا دہانہ بارود کے بجائے مٹی اور ریت سے بھردیا تھا۔ وہ پورے پانچ سال یعنی 1207ھ تک عہدہ دیوان پرفائز رہا۔ جب اتحادی افواج اپنے مستقر پر لوٹ گئے تو سلطان ٹیپونے چاہاکہ اپنے اعیان وارکان کی وفاداریوں کا امتحان لے۔ چنانچہ مختلف نوعیت سے جانچ اورآزمائش کی گئی تو پتہ چلاکہ خود دیوان سلطنت مہدی خان نائطی سازش میں شریک ہے اوراس نے اتحادیوں سے ساز باز کررکھی ہے۔اس افشائے راز کے بعد سلطان نے فی الفور اس کو اپنے عہدے سے معزول کردیا اوردوبارہ میرصادق ہی کومنصب دیوانی پر بحال کردیا۔ 1211ہجری مطابق 1796میں جب کہ سلطان کے دونوں شہزادوں کی انگریزوں کے چنگل سے واپسی پر جشن منعقد ہواتھا۔ تواس موقع پر میرصادق نے ایک تفصیلی عہدنامہ کے ذریعہ خداورسول اورکلام اللہ کی قسم کھاتے ہوئے اپنے وفاداری کایقین دلایاتھا۔
اس طرح میرصادق سلطان کو بہ ظاہر دھوکا دینے اوران کے دل میں پھر سے جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ میرصادق کے دل ودماغ حقیقت میں اپنی ذلت پر انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔ اسی اثناء میں انگریزوں نے اس کے احساسات وجذبات سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے پیغام بجھوایا کہ اگر وہ بغیر کسی پس وپیش کے انگریزوں کا ساتھ دے گا تواس کو سرکار خداداد کا حاکم بنایا جائے گا۔
میرصادق نے انگریزوں کے مذکورہ لالچ سے خوش ہوکر اپنے محسن وآقا کے خلاف غداری ونمک حرامی کرتے ہوئے سلطان کے اطراف سازشوں کا جال پھیلادیا۔ بہ قول مولف سلطنت خداداد وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے سلطنت خداداد کی تباہی کی پوری کی پوری ذمہ داری اسی غدار پر عائد ہوتی ہے۔اول تو وہ سلطان تک صحیح خبریں پہنچنے ہی نہیں دیتا تھا اور اخیر میں 4مئی 1799کے دن (یعنی سلطان کی شہادت کے دن)جب سلطان ڈڈی دروازے (یعنی عقبی دیوار میں واقع وہ دروازہ جو عام دریچے سے بڑاہوتاہے)سے باہر نکلاتو اس (میرصادق )نے دروازہ بند کرادیا کہ سلطان واپس نہ آسکے اورفصیل قلعہ پر سلطان کی موجودگی کی اطلاع انگریزی فوج کو اسی غدار نے دی تھی۔صاحب نشان حیدری لکھتے ہیں کہ جس وقت سلطان کی سواری مورچہ کی طرف روانہ ہوئی تھی کو رباطن میرصادق ان کے پیچھے دوڑتا ہوا گیا اور مذکورہ دریچے (ڈڈی دروازے)کو بند کرکے راستہ مسدود کردیا اور خود نمک لانے کے بہانے سے گھوڑے پر سوارہوکر باہر نکل گیا۔میرصادق کی غداری کا احوال انگریز مورخوں نے بھی لکھاہے۔مولف ‘تاریخ ٹیپو سلطان نے لزولی کے حوالہ سے تحریر کیاہے کہ کارنواس نے جب میسور پر حملہ کیاتو راجہ کونکال لے جانے میں روپے کے توسل سے میر صادق کو آلہ کار بنایا گیا تھا۔
مولف سلطنت خداداد نے ولکس اوربورنگ کے حوالہ سے لکھاہے کہ میسور کی تیسری جنگ کے بعد اس (میرصادق)نے رعایا پر تشدد کرنا شروع کردیا تھا مطلب یہ تھا کہ رعایا کو سلطنت سے بددل بنایا جائے۔کرنل ڈبلیومائیلس اپنی کتاب ٹیپوسلطان کے دیباچے میں لکھتاہے کہ یہ کہانی کہ میر صادق نے اس(سلطان ٹیپو)سے غداری کی اوراس کو انگریزوں اوران کے اتحادیوں کے حوالہ کردیا، کوئی ناقابل فہم بات نہیں ہے۔اس واقعہ کے پس منظر کا خلاصہ مولف ٹیپوسلطان نے اس طرح قلم بندکیاہے۔4مئی 1799ء 29ذی قعدہ 1213ھجری کو ٹیپوسلطان نے اپنی زندگی میں آخری مرتبہ سورج نکلتے دیکھا۔ صبح سویرے(طاؤس نامی)گھوڑے پر سوار ہوکر وہ فوجیوں کے معائنے کیلئے نکلا۔انگریزوں کی مسلسل گولہ باری سے قلعہ کی دیوارگرگئی تھی۔ انہوں نے اس کی مرمت کا حکم دیا۔پھر فصیل پر اپنے بیٹھنے کیلئے سائبان لگانے کا حکم دیا اورپھر واپس محل آکرغسل کیا۔قلعے کے محاصرے کے بعد سے وہ محل میں رہائش ترک کرکے سپاہیوں کی طرح ایک خیمہ میں رہنے لگے تھے۔غسل سے فارغ ہونے کے بعد دوپہر تک فصیل کی مرمت دیکھتے رہے۔ دن کے ایک بجے وہ فصیل سے نیچے اترے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے اوروہیں دوپہر کا کھانا طلب کیا۔ مگر ابھی ایک نوالہ ہی لیاتھا کہ شہر کی طرف سے رونے اور چلانے کی آوازیں سنائی دیں۔ ٹیپوسلطان نے پوچھاکہ یہ شور کیساہے تومعلوم ہواکہ شاہی توپ خانے کا سردار سید غفار ہلاک ہوگیاہے اور انگریزی فوج بلا روک ٹوک قلعہ کی طرف بڑھی چلی آرہی ہے۔ وہ دسترخوان سے اٹھ کھڑے ہوئے چند جانثاروں کو ساتھ لیا اورقلعہ کے دریچے (ڈڈی دروازہ) سے نکل کر دشمن پر حملہ کرنے کیلئے بڑھے اوران کے باہر نکلتے ہی دیوان میر صادق نے اندر سے دریچے کو بند کردیا تاکہ انہیں واپس قلعہ میں آنا پڑے تو وہ نہ آسکیں۔اس غداری کی سزا میرصادق کو کس صورت میں بھگتنی پڑی۔ اس کی تفصیل صاحب(حملات حیدری)نے بایں طوربیان کی ہے۔
میرصادق نے گنجام کے تیسرے روز دروازے پر آکر دربانوں کو کہاکہ خبردار میرے جانے کے بعد تم چپ چاپ دروازہ بند کرلینا۔ وہ یہ کہہ کر آگے بڑھاتھا کہ سامنے سے ایک سپاہی ملازم سلطانی آکر اسے لعن طعن کرنے لگاکہ اے روسیاہ، راندہ درگاہ، یہ کیسی بے حمیتی ہے کہ توسلطان دین پرور محسن عالی گوہر کو دشمنوں کے جال میں پھنسایا،اپنی جان کہاں لئے جاتاہے، کھڑارہ، روسیاہی کے کاجل سے اپنا منہ تو کالا کرلے۔یہ کہتا ہوا کمال طیش سے ایک ہی وار میں اس کو آب تیغ سے شربت اجل پلادیا،اورزین سے زمین پر مارگرایا۔ لاش اس کی چاردن بعد قلعے کے دروازے پر بے کفن،دفن کی گئی۔ شہر کے لوگ اب بھی آتے جاتے قصداً اس کی قبر پر تھوکتے، پیشاب کرتے اور ڈھیر کی ڈھیر پرانی جوتیاں ڈالتے ہیں۔
نشان حیدری کے مصنف لکھتے ہیں۔اسی وقت جب کہ میرصادق سلطان کی راہ واپسیں مسدود کرکے خود راہ فرار اختیار کئے ہوئے تھا کہ ایک شخص نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیااورلعنت ملامت کرتے ہوئے اس سے کہا اے ملعون توشاہ دین پناہ کو دشمنوں کے حوالہ کرکے اپنی جان سلامت لے جانا چاہتا ہے، لے اب تیرے کیے کا پھل تجھے چکھائے دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ غدار گھوڑے پر سے چکراکر گرپڑا،اسی وقت لوگوں نے ہجوم کرکے اس کومار مار کر قیمہ کردیااوراس ناپاک لاش کو بول وبرازمیں پھینک دیا۔
مصطفی کمال پاشا
مصطفی کمال پاشا سالونیکا کے متوسط الحال خاندان میں پیداہوا۔ سات برس کاتھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ سالونیکا اور مناستیر کے کیڈٹ سکولوں میں تعلیم پائی اور 1905ء میں وہاں سے اسٹاف کیپٹن بن کر نکلا۔ طالب علمی کے ایام میں ہی ایک منجھے ہوئے مقرر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔فوجی ملازمت کےدوران استنبول میں خلیفہ عبدالحمید کی حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کچھ عرصہ قیدرہا۔ جیل سے رہا ہوا تو فوجی ملازمت اختیار کی اور دمشق میں پانچویں فوج کے ہیڈکوارٹر میں متعین ہوا۔ اس دوران میں خفیہ تنظیم جمعیت اتحاد و ترقی سے اس کا رابطہ قائم ہوا۔ اور وہ نوجوان ترک رہنماوں سے مل کر ترکی کی نشاۃ ثانیہ کے لیے کام کرنے لگا۔ 1908ء کے انقلاب ترکیہ کے بعد کچھ عرصے کے لیے سیاسیات سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جنگ اطالیہ اور جنگ بلقان میں مختلف محاذوں پر فوجی خدمات سرانجام دیں۔ اور اپنی حاضر دماغی اور جرات کے سبب شہرت حاصل کی۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو صوفیہ میں ملٹری اتاشی کے عہدے پر فائز تھا۔ اس کی درخواست پر اسے جنگی خدمات سپرد کی گئی۔ اس نے 1915ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے خلاف آبنائے فاسفورس کی کامیاب مدافعت کی۔ اس پر اسے جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ 1916ء میں روسی فوج کو شکست دے کر ترکی کا مقبوضہ علاقہ آزاد کرا لیا۔ 5جولائی 1917ء کو ساتویں فوج کا کمانڈر مقرر ہوا۔ 30 اکتوبر 1918کو معاہدہ امن پر دستخط ہوگئے جس کے بعد ساتویں فوج توڑ دی گئی اورمصطفے کمال پاشا واپس استنبول آگیا۔خلیفہ وحید الدین سریر آرائے سلطنت تھے، ملک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ خلیفہ وحید الدین کو اس کے عزائم کا علم نہ تھا۔ انہوں نے اتاترک کو نویں فوج کا انسپکٹر جنرل مقرر کر دیا۔ جس کا کام باقی ماندہ فوج سے ہتھیار واپس لینا تھا۔ لیکن اس نے اس کے برعکس تحریک مقاومت کی تنظیم شروع کر دی۔ انھوں نے اس تحریک کے دوسرے رہنماوں سے رابطہ قائم کیا اور خلافت کےخلاف سرگرم عمل ہوگیا۔ اسی دوران اس کی قیادت میں متوازی عارضی حکومت قائم ہوگئی۔اکتوبر 1923 میں ترکی میں خلافت ختم کرنے اور ملک کو جمہوریہ قرار دینے کا اعلان ہوا اور کمال اتاترک اس کا پہلا صدر منتخب ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ سلطان عبدالحمید کے دورِ حکومت میں یہودیوں کے ایک وفد نے خلیفہ سے ملاقات کی تھی۔ یہ 19 ویں صدی کے اواخر کی بات ہے۔ اس زمانے میں خلافت عثمانیہ بے حد کمزور ہو چکی تھی۔ ترکی کی مالی حالت خستہ تھی، حکومت بھی مقروض تھی۔ اس وفد نے خلیفہ سے کہا تھا کہ
” اگر آپ بیت المقدس اور فلسطین ہمیں دے دیں تو ہم خلافت عثمانیہ کا سارا قرضہ اتار دیں گے اور مزید کئی ٹن سونا بھی دیں گے۔”
اس گئے گزرے خلیفہ عبدالحمید کی دینی حمیت دیکھیے کہ اس نے وہ جواب دیا، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ خلیفہ نے اپنے پاؤں کی انگلی سے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“اگر اپنی ساری دولت دے کر تم لوگ بیت المقدس کی ذرا سی مٹی بھی مانگو گے تو ہم نہیں دیں گے۔”
اس وفد کا سربراہ ایک ترکی یہودی قرہ صوہ آفندی تھا۔ بس پھر کیا تھا، خلافت عثمانیہ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، چناں چہ چند برسوں بعد جو شخص مصطفی کمال پاشا کی طرف سے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا پروانہ لے کر خلیفہ عبدالحمید کے پاس گیا تھا، وہ کوئی اور نہیں، بلکہ یہی ترک یہودی قرہ صوہ آفندی ہی تھا۔ خود مصطفی کمال پاشا بھی یہودی النسل تھا۔ اس کی ماں یہودن تھی اور باپ ترک قبائلی مسلمان تھا۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں نوجوان ترکوں کا غلبہ شروع ہو گیا۔ یہیں سےYoung Turksکی اصطلاح نکلی، جنہوں نے مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں اسلام پسندوں پر مظالم ڈھائے، علما کا قتل عام کیا، نماز کی ادائیگی اور تمام اسلامی رسومات پر پابندی لگا دی۔ عربی زبان میں خطبہ، اذان اور نماز بند کر دی گئی۔ مساجد کے اماموں کو پابند کیا گیا کہ وہ ”ترک“ زبان میں اذان دیں، نماز ادا کریں اور خطبہ پڑھیں۔ اسلامی لباس اتروا کر عوام کو یورپی کپڑے پہننے پر مجبور کیا گیا۔ مصطفی کمال پاشا اور اس کے ساتھی نوجوان ترکوں نے ترکی میں اسلام کو کچلنے کے لیے جتنی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا، اس کی مثال روس اور دیگر کمیونسٹ ملکوں کے علاوہ شاید کہیں نہ ملے۔خلافت عثمانیہ کے اندرون ملک یہودیوں نے جو سازشی جال پھیلایا تھا، اس کی ایک جھلک دکھلانے کے لیے خلیفہ عبدالحمید کا ایک تاریخی خط پیش کیا جاتا ہے، جو انہوں نے اپنے شیخ ابو الشامات محمود آفندی کو اس وقت لکھا تھا، جب انہیں خلافت سے معزول کرکے سلانیکی میں جلا وطنی اور قید تنہائی پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس خط کے مندرجات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امت مسلمہ کے نظام خلافت کی بیخ کنی کے لیے صہیونی طاقتوں نے کیسی سازشیں کی تھیں او ران سازشوں میں کون شریک تھا؟ خلیفہ عبدالحمید کے خط کا اردو ترجمہ پیش ہے:
میں انتہائی نیاز مندی کے ساتھ عظیم المرتبت شیخ ابوالشامات آفندی کی خدمت میں بعد تقدیم احترام عرض گزار ہوں کہ مجھے آپ کا 22 مئی 1913ء کا لکھا ہوا گرامی نامہ موصول ہوا۔
جناب والا! میں یہ بات صاف صاف بتانا چاہتا ہوں کہ میں امت مسلمہ کی خلافت کی ذمے داریوں سے از خود دست بردار نہیں ہوا، بلکہ مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یونینسٹ پارٹی نے میرے راستے میں بے شمار رکاوٹیں پیدا کر دی تھیں۔ مجھ پر بہت زیادہ اور ہر طرح کا دباؤ ڈالا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں، مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں اور سازشوں کے ذریعے مجھے خلافت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یونینسٹ پارٹی، جو نوجوانانِ ترک کے نام سے بھی مشہور ہے، نے پہلے تو مجھ پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالا کہ میں مقدس سر زمین فلسطین میں یہودیوں کی قومی حکومت کے قیام سے اتفاق کر لوں۔ مجھے اس پر مجبور کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، لیکن تمام دباؤ کے باوجود میں نے اس مطالبے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ میرے اس انکار کے بعد ان لوگوں نے مجھے ایک سو پچاس ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ سونا دینے کی پیش کش کی۔ میں نے اس پیش کش کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ ایک سو پچاس ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ سونا تو ایک طرف، اگر تم یہ کرہٴ ارض سونے سے بھر کر پیش کرو تو بھی میں اس گھناؤنی تجویز کو نہیں مان سکتا۔30 سال سے زیادہ عرصے تک امت محمدیہﷺ کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اس تمام عرصے میں، میں نے کبھی اس امت کی تاریخ کو داغدار نہیں کیا۔ میرے آباواجداد اور خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں نے بھی ملت اسلامیہ کی خدمت کی ہے، لہٰذا میں کسی بھی حالت اور کسی بھی صورت میں اس تجویز کو نہیں مان سکتا۔ میرے اس طرح سے صاف انکار کرنے کے بعد مجھے خلافت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے سے مجھے مطلع کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ مجھے سلانیکی میں جلا وطن کیا جارہا ہے۔ مجھے اس فیصلے کو قبول کرنا پڑا، کیوں میں خلافت عثمانیہ اور ملت اسلامیہ کے چہرے کو داغ دار نہیں کرسکتا تھا۔ خلافت کے دور میں فلسطین میں یہودیوں کی قومی حکومت کا قیام ملت اسلامیہ کے لیے انتہائی شرم ناک حرکت ہوتی اور دائمی رسوائی کا سبب بنتی۔خلافت ختم ہونے کے بعد جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ میں تو الله تعالیٰ کی بارگاہ میں سربسجود ہوں اور ہمیشہ اس کا شکر بجالاتا ہوں کہ اس رسوائی کا داغ میرے ہاتھوں نہیں لگا۔ بس اس عرض کے ساتھ اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔ ” والسلام
ملت اسلامیہ کا خادم: عبدالحمید بن عبدالمجید
ایلول1329،22[عثمانی کلینڈر کے مطابق] ستمبر1913ء
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک ترکی میں خلافت عثمانیہ قائم رہی، اس وقت تک استعماری قوتوں کا فلسطین میں یہودی مملکت کے قیام کا خواب شرمندہٴ تعبیر نہ ہو سکا۔
شیخ مجیب الرحمٰن
شیخ مجیب الرحمٰن 17 مارچ 1920ء کو ضلع فرید پور میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں اسلامیہ کالج کلکتہ سے تاریخ اور علم سیاسیات میں بی-اے کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے سے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1943ء سے 1947ء تک وہ کل ہند مسلم لیگ کی کونسل کے رکن رہے۔ 1945ء تا 1946ء وہ اسلامیہ کالج کے طلبہ کی یونین کے جنرل سیکرٹری رہے۔ 1946ء میں بنگال اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے فوراً بعد مسلم لیگ سے مستعفی ہو کر پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس لیگ قائم کر کے اردو کی مخالفت کرنا شروع کردیا۔شیخ مجیب شروع ہی سے مسلم قومیت کے بجائے بنگالی قومیت کے علمبردار تھے اور انہوں نے مسلم لیگ کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کی طرح مسلم لیگ کا ساتھ محض اس لیے دیا کہ وہ اس زمانے میں مقبول تحریک تھی اور اس میں شامل ہو کر اقتدار حاصل کیا جا سکتا تھا۔1952ء میں جب حسین شہید سہروردی نے عوامی لیگ قائم کی تو مجیب الرحمن نے اس کی تشکیل میں حصہ لیا۔ 1953ء میں وہ عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری ہو گئے اور مارچ 1954ء کے انتخابات میں وہ جگتو فرنٹ کے امیدوار کی حیثیت سے مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1956ء میں آئین کی تیاری میں انہوں نے حصہ لیا لیکن اس آئین میں صوبائی خود مختاری کی جو حدود مقرر کی گئی تھیں مجیب الرحمن اس سے متفق نہیں تھے۔ 1952ء میں انہوں نے عالمی امن کانفرنس، پیکنگ میں اور 1956ء میں عالمی امن کانفرنس، اسٹاک ہوم میں شرکت کی۔ اسی سال کے آخر میں وہ پارلیمانی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے اشتراکی چین بھی گئے۔ فروری 1966ء میں انہوں نے پہلی مرتبہ نیشنل کانفرنس لاہور کے اجلاس میں چھ نکات پیش کیے۔مجیب الرحمن اپنی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی وجہ سے کئی مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ 1949ء میں ان کو ڈھاکہ یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا اور وہ تین سال جیل میں رہے۔ اس کے بعد 1958ء اور 1959ء میں ایوب خان کے دور اقتدار میں رہے، پھر اگرتلہ سازش کے الزام میں مئی 1966ء میں گرفتار ہوئے، لیکن فروری 1969ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے بعض سیاسی رہنماؤں (جن میں ذوالفقار علی بھٹو پیش پیش تھے) کے دباؤ ڈالنے پر ان کو رہا کر دیا گیا اور مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ دسمبر 1970ء میں جب پاکستان کے عام انتخابات ہوئے تو شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے بے مثال کامیابی حاصل کر کے مشرقی پاکستان کی نمائندگی کا آئینی حق حاصل کر لیا اور پاکستان کا نیا آئین چھ نکات کی بنیاد پر بنانے کا اعلان کیا۔ جب صدر یحییٰ خان نے دستور ساز اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا تو مارچ 1971ء میں مجیب الرحمن نے عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی جس کی وجہ سے 25 مارچ 1971ء کو فوج نے ان کو گرفتار کر لیا اور مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع کر دی۔ دسمبر 1971ء میں جب یہ کارروائی ناکام ہو گئی اور ڈھاکہ میں پاکستانی فوجیوں نے مجیب الرحمن کی حمایت میں لڑنے والے بھارتی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تو 8 جنوری 1972ء کو مجیب الرحمن کو رہا کر دیا گیا اور وہ لندن اور دہلی کے راستے 10 جنوری کو ڈھاکہ پہنچے اور 12 جنوری کو انہیں بنگلہ دیش کا وزیر اعظم نامزد کر دیا۔ کیونکہ عوامی لیگ سوشلزم اور سیکولر ازم کی حامی تھی، اس لیے بنگلہ دیش کی حکومت نے انہی بنیادوں پر اصلاحات کا کام شروع کیا۔ پٹ سن، کپڑے سازی اور جہاز سازی کی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا۔ نیا آئین سال بھر کے اندر تیار کر لیا گیا جس کے تحت بنگلہ دیش کو ایک سوشلسٹ اور سیکولر جمہوریہ قرار دیا گیا۔ نئے آئین کے تحت مارچ 1973ء کے انتخابات میں عوامی لیگ نے 300 میں سے 292 نشستوں پر قبضہ کر لیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے ان تمام جماعتوں (بالخصوص جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ) کو جنہوں نے وحدت پاکستان کے لیے کام کیا تھا، خلاف قانون قرار دے دیا۔مجیب الرحمن نے ہندوستان سے خصوصی تعلقات قائم کیے کیونکہ بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کرانے میں سب سے بڑا ہاتھ ہندوستان کا تھا۔ چنانچہ 1973ء میں ہندوستان سے دوستی کا معاہدہ کیا گیا۔ ہندوستان نے اپنی امداد کی بھاری قیمت وصول کی۔ ہندوستانی فوجیوں نے بنگلہ دیش خالی کرنے سے پہلے بے شمار کارخانوں کی مشینیں ہندوستان منتقل کر دیں۔ خصوصی مراعات کی وجہ سے تجارتی معاملات میں ہندوستان کو برتری حاصل ہو گئی اور بنگلہ دیش کی معیشت ہندوستان کی محتاج ہو گئی۔سازگار فضا دیکھ کر مغربی بنگال کے ہندوؤں نے بھی مشرقی پاکستان واپس آنا شروع کر دیا۔ 1974ء میں ملک میں زبردست قحط پڑا۔ان تمام اسباب نے بنگلہ دیش میں ایک بار پھر بے چینی پیدا کی لہر دوڑا دی اور عوامی لیگ اور مجیب الرحمن کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ مجیب الرحمن نے اس بے چینی کو سختی سے دبانا چاہا۔ دسمبر 1974ء میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا اور آئینی حقوق معطل کر دیے گئے۔ آئین میں بھی کئی ترمیمیں کی گئیں، ملک میں صدارتی نظام نافذ کر دیا گیا اور جنوری 1975ء میں مجیب الرحمن صدر ہو گئے اور محمد منصور علی کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ مجیب الرحمن نے ان ترمیموں کے ذریعے سارے اختیارات خود حاصل کر لیے۔ بنگالی اس جبر و استبداد کو برداشت نہیں کر سکے اور فوج نے بغاوت کرکے 15 اگست 1975ء کو مجیب الرحمن اور ان کے اہل خانہ کو قتل کر دیا۔ صرف ان کی دو بیٹیاں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ زندہ بچیں جو مغربی جرمنی میں تھیں۔ شیخ حسینہ واجد بعد ازاں ملک کی وزیراعظم بھی بنی۔(آج وہی حسینہ بنگلہ دیش میں جمہوری ڈائن کا روپ دھار چکی ہے)
ذوالفقارعلی بھٹو
ذوالفقارعلی بھٹو 1928میں لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔انہوں نے1967میں لاہور میں پاکستان پیلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور ملک میں جمہوریت کے لیے جدو جہد شروع کی۔ وہ دسمبر1971سے اگست1973تک پاکستان کے صدر اور1973سے1977تک پاکستان کےوزیراعظم رہے۔
ذوالفقار علی بھٹو تاریخ کے ایک جینیئس مگر متنازع کردار ہیں۔ جہاں ان سے انتہائی حد تک پیار کرنے والے لوگ موجود ہیں وہاں بے انتہا نفرت کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ بھٹو صاحب کے کارناموں سے تو ساری قوم ہی واقف ہے کیونکہ پی پی پی کے جیالوں نے اس معاملے میں قوم کو ہر طرح سے آگاہ رکھنے کا انتظام کیا ہوا ہے۔ ایٹم بم، اسلامی کانفرنس، قادیانیوں کے بارے میں فیصلہ وغیرہ ان کی نمایاں مثالیں ہیں۔ پی پی پی کے کے ارکان کا اس معاملے میں غلو کا یہ عالم ہے کہ وہ بھٹو صاحب کو عام انسان کے مقام سے اٹھا کر ایک پیر، فقیر، بابا، اللہ والے، جمہوریت کے باوا آدم، فلسفی، مفکر اور پتہ نہیں کیا کیا بنا دیتے ہیں۔ ٹی وی پروگراموں وغیرہ میں دیکھا گیا ہے کہ اب تو کسی ولی اللہ کی طرح اُن کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری صاحب عقیدت کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے اُن کے “عرس” پہ کہہ چکے ہیں کہ “درود پڑھو ان کی قبروں پر”۔ بھٹو صاحب کے ورثاء نے بھی اُن کے روحانی درجات کو ظاہری شکل دینے کے لیے سرکاری خرچے پر اِن کی قبر کو ایک بزرگ کے مزار کی شکل دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھا ہوا۔ ہر سال اُن کے دربار پر گویا عرس کی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔
زیرِ نظر اقتباس جناب عبداللہ طارق سہیل کے کالم سے لیا گیا ہے۔ وہ ان کےچہرہ کااصل رخ بیان کرتےہوئےرقم طرازہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔
“بھٹو صاحب سے بڑھ کر غیر جمہوری سیاستدان برصغیر میں کوئی دوسرا ہو تو بتائیں۔ ایوب کا ساتھ دیا، انہیں ڈیڈی تک کہا اور صلاح الدین ایوبی کے مرتبے پر بھی فائز کر دیا۔ مادر ملت ؒ کی شکست کے معمار ایوب خاں تھے نہ قدرت اللہ شہاب، یہ سہرا توآنجناب ہی کے سر پر سجتاہے۔ ایوب خاں کو یہ نادر تجویز بھی دیدی کہ تمام ڈپٹی کمشنر حکمران جماعت کے ضلعی سیکرٹری جنرل بنا دیئے جائیں یعنی کنونشن لیگ کو حکومتی جماعت سے ترقی دے کر حکومت ہی میں بدل دیا جائے۔ پھر خود حکمران بننے کا سودا سر میں سمایا تو ایوب خاں کو کمزور کرنے کے لئے1965ء کی جنگ لگوا دی۔ تاکہ پاکستان کو شکست ہو جائے، فوج کمزور ہو جائے اور عالی جناب خود کرسی سنبھال لیں۔ پاکستان بہرحال بچ گیا۔ پھر یحییٰ خاں نے اقتدار سنبھالا تو بھٹو نے ان سے تین سالہ پارٹنر شپ کر لی۔ لاڑکانہ کے جنگل میں پاکستان کے شکار کا منصوبہ بنا۔ آدھا پاکستان۔۔۔ حوالے کیا اور باقی پر اپنی حکومت بنا لی۔
بھٹو کی حکومت کو پیپلزپارٹی کے کرانک قصیدہ گو ’پہلی جمہوری حکومت‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اوباما کو امریکہ کا پہلا سفید فام کالا کہا جائے۔ بھٹو نے متفقہ آئین میں ترامیم کرکے اسے صدارتی ہی نہیں، بادشاہی آئین میں بدل دیا۔ پورے پانچ سال ایمرجنسی نافذ رکھی یعنی بنیادی حقوق سلب کر لئے۔ شاید’ پہلی جمہوری حکومت ‘ایسی ہی ہوتی ہے۔ یہی نہیں، سیاسی مخالفوں کا چن چن کر قتل کیا اوراحتجاجی مظاہروں پراندھا دھند فائرنگ کرائی۔ پانچ سال کے دور میں کئی ہزار افراد ان کی پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے۔ بے شمار مخالف ایسی جیلوں میں بند کر دیئے کہ لواحقین کو پانچ سال بعد پتہ چلا کہ وہ کس جیل میں ہیں۔ پھر الیکشن کرائے تو ایسی دھاندلی کی کہ کبھی کسی نے دیکھی نہ سنی۔ اس دھاندلی کے خلاف پاکستان کی سب سے بڑی تحریک چلی اور جتنی بڑی تحریک چلی، اس سے زیادہ سرکارکی گولی چلی۔9اپریل کو بھٹو پنجاب اسمبلی میں موجود تھے اور سارا شہر مظاہروں کی لپیٹ میں تھا۔ اور صرف اس ایک روز میں لاہور کے35شہری بھٹو کی گولی باری کی زد میں آکر جان ہار گئے، سینکڑوں زخمی ہوئے۔
اور یہی دن تھا جب لاہور پیپلزپارٹی کیلئے اجنبی ہوگیا۔ جس شہر نے بھٹو پر جان چھڑکی، بھٹو نے اس پر موت چھڑکی۔پنجاب سے پیپلزپارٹی کی واپسی اسی دن سے شروع ہوگئی تھی۔ آمریت کے خوف کا یہ سماں تھا کہ مظاہروں میں35افراد کی ہلاکت کی خبر، اس وقت لاہور کے سب سے بڑے اخبار نے صرف تین کالم چھاپی۔ کتنے مدیر تھے جو بھٹو کے آنے پر اندر ہوئے اور بھٹو کے اندر ہونے پر ہی باہر آئے۔”
(بشکریہ عبداللہ طارق سہیل – روزنامہ نئی بات مورخہ ۵ جون ۲۰۱۳ بروز بدھ)
بھٹو خاندان کا تعلق اصل میں جونا گڈھ سے تھا۔ بھٹو کے باپ نے جونا گڈھ کی مسلم حکومت کے خلاف انگریزوں اور ہندؤوں کی طرفداری کی تھی۔ حالانکہ وہ خود مملکت میں وزارت میں شامل تھا۔ غالباً1955ء میں یہ خاندان منتقل ہوکر پاکستان گیا۔ حالانکہ ہندوستان میں ان پر ایسی کوئی تنگی بھی نہیں تھا۔ بعد کے حالات سے محسوس ہوتا ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے کسی خاص مشن پر اسے وہاں بھیجا گیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو جب اعلیٰ منصب پر متمکن ہوا تو اس وقت تک اسے پاکستانی شہریت بھی قانونی طور سے نہیں مل سکی تھی۔غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر جہاں پاکستان کو اس نے دولخت کیا، وہیں اس نے اپنے پیچھے بے نظیر کی صورت میں ایسی ذریت چھوڑی جس نے اپنی جوانی سے لے کر موت تک ملت کے منھ پر کالک پوتنے ہی کا کام کیا۔ بھٹو کی عبرتناک موت کے بعد جب وہ مرتدین و منافقین کی پناہ گاہ لندن میں رہائش پزیر تھی، تب ہی اسے پہلی بار اس کے آقاؤں کی طرف سے وزارت عظمی کی پیش کش کی گئی۔ اس پر وہ خود حیرت میں پڑ گئی۔ مگر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح جمہوریت کی ڈگڈگی بجاکر ایک مسلمان ملک کے قاتل کی فاحشہ بیٹی کو تخت نشین کرادیا گیا۔ بعد میں انہیں طاقتوں نے اسے اتنی ہی آسانی سے اسی کے شوہر کے ہاتھوں راستہ سے ہٹا دیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *