اتحاد بین المسلمین ایک فریضہ؛ ایک انعام

وحدت امت یا اتحاد بین المسلمین کی اہمیت و ضرورت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ دنیا کے سارے مسلمان چاہے وہ کسی علاقہ میں رہتے ہوں اور کسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں؛ کوئی زبان بولتے ہوں؛ ایمانی رشتہ اخوت سے بندھے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ باہمی تعلق خودتراشیدہ نہیں بلکہ جس خدا ئے واحد پر ایمان رکھتے ہیں اور جس رسولؐ کی امت ہیں،اس نے انہیں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’انما المؤمنون اخوۃ (سورہ حجرات) فرمانِ رسالت نے اس حقیقت کو بایں الفاظ مؤکد فرمایا ہے۔ المؤمن اخو المومن اور اس کے تقاضوں کی وضاحت میں فرمایا : المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ اس سلسلہ کی صریح نصوص بکثرت ہیں جو ملت اسلامیہ کی حیثیت اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کو واضح کرتی ہیں۔ مسلمانوں کا ایمانی رشتہ دوسرے تمام رشتوں سے زیادہ محکم اور معتبر ہے۔ اگر چہ خدا کی شریعت خاندانی رشتوں اور دیگر انسانی تعلقات کے احترام کی تعلیم اور تاکید بھی فرماتی ہے۔ اس نے نہ صرف یہ کہ ان تعلقات اور رشتوں کو برقرار رکھا ہے بلکہ ان کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے بہت سے حقوق بھی متعین کئے ہیں۔ مثلاً پڑوسی (مسلم ہوں یا غیر مسلم) کے حقوق کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ عام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی و خیر خواہی سے پیش آنے کو نہ صرف مباح بلکہ مستحسن قرار دیا ہے۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ایمانی اخوت کے مد مقابل کسی کو فوقیت نہیں دی ہے۔ اس رشتہ کے ٹوٹنے سے بہت سے دوسرے رشتے بھی مجروح و متاثر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً شوہر یا بیوی میں سے کوئی دائرہ ایمان سے نکل جائے تو زوجیت کا تعلق بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ دوستی دشمنی میں اور تعلق اجنبیت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹا مشرک و کافر والدین کے ساتھ عام حالات میں حسن سلوک کا مکلف ہے۔ لیکن اگر اسی حالت میں وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں تو اُن کی مغفرت کے لئے دعا بھی نہیں کر سکتا۔ جبکہ ایک اجنبی مسلمان بھائی جس سے اس کا کوئی دور دور کا تعلق بھی نہ ہو، اس کی تیمارداری، عیادت، تعزیت اور مغفرت کے لئے دعا کرنا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ مسلمانوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی دوسرے مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کسی علاقہ میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو اس کے قریب تر رہنے والے مسلمانوں پر ان کی حمایت و امداد لازم ہے؛ اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو اُن کے قریب تر رہنے والے دوسرے مسلمانوں کا یہ ذمہ ہوتا ہے، حتیٰ کہ یہ سلسلہ مشرق سے لیکر مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دراز ہوتاچلا جاتا ہے۔ علامہ اقبال مرحوم نے اسی سچائی کو شعر کا لباس پہناتے ہوئے کہا تھا؎
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا نہ ایرانی رہے باقی نہ افغانی نہ تورانی
…………………………………………………………..
امت کا اتحاد شیطانی قوتوں کی راہ میں سب سے بڑی مزاحم قوت رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے فرعونوں نے مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔
آج بھی مغربی استعمار کی اولین ترجیح یہی ہے کہ مسلمانوں کو رنگ و نسل ، زبان اور علاقہ کے علاحدہ علاحدہ دائروں میں تقسیم کر دیا جائے۔ بلکہ جاہلانہ عصبیتوں کے تنگ خانوں میںجس قدر بھی بانٹا جا سکے بانٹ دیا جائے۔ گذشتہ دو صدیوں سے امت محمدیؐ کے وجود پر پے در پے حملے ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ ان پر سرسری نظر ڈالتے ہی اس حقیقت کو با ٓسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ عناصر اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ملت اسلامیہ متحد رہے گی تو ایک ایسی ناقابل شکست طاقت ہے جس کا مد مقابل اسے زیر نہیں کر سکتا۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر انہوں نے فتح یاب ہونے کے بعد بھی ضروری سمجھا کہ برائے نام خلافت (خلافت عثمانیہ) بھی باقی نہ رہے ۔ چنانچہ ترک ناداں کے ہاتھوں خلافت کی بوسیدہ قبا بھی تار تار کرا دی گئی۔ اس پربھی انہیں چین نہیں آیا اور انہوں نے عیارانہ منصوبہ بندی کے تحت کام شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں مسلمان کبھی بھی امت کے قالب میں نہ ڈھل سکیں ۔ چنانچہ مسلم دنیا میں تقسیم در تقسیم اور شکست و ریخت کا مسلسل عمل جاری رہا۔ جسے پرفریب الفاظ کے پردوں میں چھپایا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ یہ عمل جاری ہے بلکہ اس کو تیز سے تیز تر کر دیا گیا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کی طرف سے علانیہ یہ یقین دہانی کرائی جاتی تھی کہ ترکی ہم سے بر سر جنگ ہے اور بحیثیت فریق ہمارا دشمن ہے مگر ہمیں مسلمانوں کے خلیفہ اور منصب خلافت سے کوئی دشمنی نہیں اور آج حال یہ ہے کہ خلافت کا احیاء تو دور کی بات ہے، منصب خلافت کا تصور بھی محال بنا دیا گیا ہے۔
اگر چہ اتحاد ملت کی راہ کا سب سے بڑا پتھر عالمی استعمار ہے،مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ ہمارے داخل میں کوئی خرابی یا کمزوری ایسی نہیں ہے جو ہمارے انتشار کا سبب اور اتحاد ملت میں مانع و مزاحم ہو۔ بلکہ یوں کہا جا ئے تو زیادہ صحیح ہوگا کہ ہماری داخلی خرابیاں اور کمزوریاں ہی سب سے بڑھکر ہمیں متحد نہیں ہونے دے رہی ہیں۔ ملی وحدت کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنے والوں اور اس کے لئے جدو جہد کرنے والوں کو پوری سنجیدگی اور گہرائی کے ساتھ ان سب پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کوئی بڑامقصد محض تمناؤں کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتا اور کوئی بڑی خرابی صرف سطحی کوششوں سے دور نہیں کی جاسکتی۔
…………………………………………………………..
عوامی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ مسلمانوں کا اسلام سے تعلق روایتی انداز کا ہوتا جا رہا ہے۔ وہ جس دین کو مانتے ہیں اس کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت بہت کم محسوس کرتے ہیں۔ وہ توحید خداوندی کے قائل ہیں مگر اس کی حقیقت اور تقاضوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں اور اس شعر کا مصداق بنتے جا رہے ہیں ؎
وہی توحید جو ایک زندہ حقیقت تھی کبھی آج کیا ہے فقط ایک مسئلۂ علم کلام
وہ اطاعت خداوندی کا اقرار کرتے ہیں مگر غیر اللہ کی اطاعت و حاکمیت کی پیوندکاری بھی کرتے رہتے ہیں۔ عقیدۂ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر دنیا پرستی کا مرض گھن کی طرح ان کے ایمان بالآخرت کو کھائے جا رہا ہے۔ دنیا پرستوں کے اقدار و معیار مسلمانوں کی معاشرت و معیشت پر چھائے چلے جا رہے ہیں ۔ اس طرح ان کی حالت بیک وقت دو کشتیوں کے سواروں جیسی ہو کر رہ گئی ہے ۔ وہ جس کتاب ہدایت کے امین و پاسبان ہیں اسی کی مخالف سمت چلے جا رہے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ سمت سفر کی یہ تبدیلی کس برے انجام تک پہنچاکر رہےگی۔ وہ جس رسولؐ کی عزت و ناموس کے تحفظ پر آج بھی جان لٹانے کا جذبہ رکھتے ہیں، اس کے اسوۂ حسنہ کی پیروی چند مراسم عبودیت اور چند معاشرتی علامات کے علاوہ اور کہاں ہو رہی ہے ؟ اس طرح کے سوالوں کا کوئی تسلی بخش جواب ان کے معاملات اور معمولات میں نہیں ملتا۔ ایک جامع شریعت رکھنے والی ملت کی گردن میں دشمنان دین کی تقلید اور تہذیب کا پھندا کتنا تنگ ہوتا جا رہا ہے اس کا احساس بھی اب برائے نام ہی رہ گیا ہے۔ چنانچہ وہ اتحاد ملت کے خواہاں ہونے کے باوجود اس زہر کو نوش جان کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے جو اُن کے ملی وجود ہی کو ختم کرنے والا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس راز سے واقف ہیں کہ اگر وہ اپنے فرض منصبی سے ناواقف و ناآشنا رہیں گے تو کوئی راہ ایسی نہیں جس پر چل کر وہ سربلند اور سرخ رو ہو سکیں ۔ یعنی اپنی ملت کو دوسری قوموں پر قیاس کرکے خود کو منظم کرنے والی مسلمان قوم نہ تو خودآشنا ہو سکتی اور نہ خدا آشنا۔ مسلمانوں کے اتحاد کی بنیاد اُن کے قومی مسائل ومشکلات نہیں بن سکتے۔ بلکہ جس مقام پر انہیں فائز کیا گیا اور جس خیر امت کا منصب انہیں عطا فرمایا گیا اس کی ادائیگی ہی انہیں تائید خداوندی کا حقدار بنا سکتی ہے اوراعتصام بحبل اللہ ہی انہیں تفریق و انتشار سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
…………………………………………………………..
مسلمانوں کی موجودہ حالت کا ذمہ دار کسی ایک طبقہ کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ مگر اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ درستگی احوال کی ذمہ داری زیادہ تر ان لوگوں پر ہی عائد ہوتی ہے جو اس کی رہنمائی اور سربراہی کے مکلف یا مدعی ہیں۔ عام طور پر فروعی و فقہی اور تعبیری اختلافات کو مسلمانوں کی فرقہ بندی کا سبب سمجھا جاتا ہے مگر ضروری واقفیت اور غور و فکر کے بعد معلوم ہو جاتا ہے کہ اس طرح کے اختلافات بجائے خود تفریق وانتشار کا سبب نہیں ہیں بلکہ ان مسائل میں اعتدال سے تجاوز،غلو اورمدعیان علم کا تجاہل، وقار و مفاد کی کشمکش ان کو مہلک بنا رہی ہے۔ جب مسالک دین پراور گروہی تعصب امت کے تعلق پر حاوی ہو جاتا ہے تو اختلافات مہلک صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔ جن اختلافات کی گنجائش دین میں رکھی گئی ہے ان کا ختم کرنا نہ تو لازم ہے اور نہ مفید ہے۔ بسا اوقات یہ علم و دیانت کا تقاضہ ہوتے ہیں اور انسانی فطرت کی ضرورت بھی۔ اگر حرم میں مختلف مسالک کے ماننے والے یک جا ہوکر مناسک حج ادا کر سکتے ہیں تو کسی ملک کے رہنے والے کیوں شیر و شکر ہوکر نہیں رہ سکتے۔
افسوس کا مقام ہےکہ ایک خدا، ایک کتاب اور ایک رسول پر ایمان سے وابستہ مسلمان ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں ۔ یقینا ًاس کے کچھ اسباب ووجوہ ہیں جن کا ماننا اور سمجھنا اور ان کا تدارک ہونا ضروری ہے۔ مگر یہ سب کچھ آناً فاناً ہونے والا نہیں ہے۔ اس کے لئے فکر و شعور ، صبر و تحمل، اوقات و اموال سب کی ضرورت پڑے گی۔ ساتھ ہی ترتیب و تدریج کو بھی سامنے رکھنا ہوگا ۔اس وقت مسلم معاشرہ اور حکومت و سیاست میں ایسے عناصر کار فرما ہیں جنہیں مسلمان ہونے کے باوجود دین و ملت کے بھلے برے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ان کے پیش نظر اپنے مقاصد و اہداف ہیں اور ان کے حصول کے لئے وہ کسی بھی حد کو پار کر لیتے ہیں ۔ زبانی طور پر وہ مسلمانوں کے ہم خیال اور حق کے طرفداروں میں شامل ہیں، لیکن آزمائش کے وقت وہ باطل کی طرفداری سے پرہیز نہیں کرتے۔ یہ ہی وہ عناصر ہیں جو اتحاد بین المسلمین کے خلاف استعمال ہوتے رہتے ہیں؛ استعماری قوتیں انہیں کو اعتدال پسند اور اہمیت کا حامل قرار دیتی ہیں؛ انہیں لوگوں کی لیڈرشپ کو مسلمانوں پر مسلط کر دینا چاہتی ہیں تاکہ بوقت ضرورت انہیں مطلب براری کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ مسلم معاشرہ میں اثر ورسوخ رکھنے والوں میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو صالحیت و صلاحیت سے عاری ہونے کے باوجود اعلی مناصب پر فائز ہیں۔ انہیں وراثت میں یہ سب کچھ مل جاتا ہے۔ ان کی حیثیت ان جاگیرداروں کی سی ہے جو کسی مرکزی اقتدار کے زوال پذیر ہونے کے بعد وجود میں آتے ہیں۔ اپنی موروثی وجاہت کے علاوہ ان کی نظر میں کچھ اوراہم نہیں ہوتا۔ اس لئے بالفعل یہ کسی بڑی اجتماعیت کے قیام میں واقعی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ اس کو اپنے لئے خطرہ گر دانتے ہیں ۔ یہ اور اسی طرح کے متعدد اسباب ہیں جو مسلمانوں کے اتحاد میں رخنہ اندازی کا سامان بن جاتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ ان دشواریوں کو ختم کرنے کے لئے مؤثر تدابیر اپنانے اور پے چیدہ مرحلوں سے گزرنے کا حوصلہ اور ہمت درکار ہے۔ اور ان مرحلوں سے گزرنے پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ ؎
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں۔
…………………………………………………………..
جس طرح مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں دشواریاں حائل ہیں اسی طرح ساری خرابیوں اور کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ایسے مواقع و امکانات بھی ہمیشہ کی طرح آج بھی روشن ہیں جو دوسری اقوام کو میسر نہیں ہیں۔ ملت اسلامیہ کے مابین عقائد اور احکام پر جو اصولی اتفاق آج بھی پایا جاتا ہے، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسلم عوام قلب کی گہرائیوں کے ساتھ اسلام سے جو مخلصانہ عقیدت رکھتے ہیں اور رنگ ، زبان، علاقہ و نسل کے فرق کے باوجود جو یگانگت و محبت اہل ایمان کے مابین پائی جاتی ہے، اس کا مقابلہ ہزار کوشش کے باوجود کوئی دوسری قوم نہیں کر سکتی۔ پھر یہ کہ مسلمان باہم ایک دوسرے کے لئے جو ہمدردی اور تعاون کرتے ہیں اس کا صلہ دنیا سے نہیں مانگتے صرف اللہ کی رضا جوئی میں یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ دنیا میں ملت اسلامیہ بلحاظ تعداد اگر پہلے نہیں تو دوسرے مقام پر ضرور ہے۔ زمین کے جن حصوں پر وہ آباد ہے یا ان پر حکومت کرتی ہے، سیاسی و معاشی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔فی لجملہ اللہ کے دین کی سربلندی اور احیائے امت کے لئے کام کرنے والوں کے لئے حد درجہ حوصلہ افزاء امکانات بھی موجود ہیں ۔کاش! ہم ان نعمتوں سے فیض یاب ہو سکیں۔ مختصر صفحات میں ان سب مسائل کا احاطہ ممکن نہیں جو وحدت امت کے قیام میں مثبت یا منفی اہمیت کے حامل ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اس ایک بڑے مقصد کے حصول ،ایک اہم فریضہ کی ادائیگی اور ایک بڑے انعام کے استحقاق کے لئے ایک طویل اور صبر آزماجدوجہد ناگزیر ہے۔ اتحاد امت کی جدو جہد ایک فریضہ ہے ۔ مسلمانوں کا مربوط ہو جانا ایک بڑا انعام ہے جو صرف اور صرف بارگاہ ایزدی سے ہی عطا ہوتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے کہ :
اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈالدی اور تم اللہ کی نعمت کے ذریعہ ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔ حالانکہ تم (نفرت و دشمنی کی) آگ سے بھرے گڈھے کے کنارے پر کھڑے تھے، مگر اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ (القرآن)
مسلمانوں کا باہمی متحد رہنا ایک فریضہ ہے ۔ امت ایک عظیم اجتماعیت ہے اور اجتماعیت اسی وقت قائم ہوتی ہے جب اس کا نظام سمع و طاعت قائم ہو ۔ یہ سب کچھ واجبات دین کا حصہ ہے ۔ مسلمانوں کو کسی حال میں بھی اس دینی اجتماعیت سے بے تعلق و بے خبر رہنے کی اجازت نہیں ہے جس کو امت مسلمہ کا نام دیا گیا ہے۔
تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے مل کر تھام لو اور باہم متفرق نہ رہو۔ (القرآن)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *