اختلاف امت اور ملی اتحاد کی سبیل

ملت اسلامیہ کی موجودہ صورت حال
قرآن وسنت میں اتحاد و اتفاق کی زبردست تلقین اور اخوت اسلامی اور بھائی چارہ کی عملی مثالوں کے باوجود آج پورا عالم اور ہندوستانی مسلمان اپنے فرض سے غافل دشمنوں کے نرغے میں، مسلک و برادری اور فرقوں میں کٹے پھٹے، باہم سرپیکار ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان تین بڑے دائروں میں اختلاف و انتشار پایا جاتا ہے:
۱۔مسلکی اختلافات ۲۔برادری کے اختلافات ۳۔جماعتی اختلافات
مسلکی اختلافات
مسلکی لحاظ سے بھارت کی پوری آبادی شیعہ اور سنی دوخانوں میں بٹی ہوئی ہے اور پھر یہ دونوں خانے بھی مختلف ذیلی خانوں میں منقسم ہیں۔ شیعہ اور سنی، دیوبندی بریلوی کشاکش ہر گلی و شہر میں برپا ہے جس نے اسلام اور اہل اسلام کی بڑی ہوا خیزی کی ہے اور ملت واحدہ کی بیشتر توانائیاں انہیں مسلکی فتنوں کو ہوا دینے یا دبانے میں صرف ہوتی رہی ہیں۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی جراثیم کے زہر ہر گلی و کوچے میں گھولے جارہے ہیں۔ معمولی باتوں پر کشت و خون کی نوبت آجاتی ہے۔ ۲۰۰۴ء کے ماہ رمضان المبارک میں جھانسی کے مسلمانوں میں جو قتل و خوں ہوا اس کی ذمہ داری تمام تر اسی مسلکی ذہنیت پر عائد ہوتی ہے۔ نماز فجر کے معاً بعد مسجد کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ایک مسلک کے امام پر مسلمانوں نے حملہ کردیا اور وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ رد عمل میں دوسری مسجد کے امام کو جو دوسرے مسلک کے پیرو تھے قتل کردیا گیا۔ یہ دونوں گروہ دیوبند اور بریلی مکاتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔
اس مسلکی اور فرقہ وارانہ زہر کو پھیلانے میں درج ذیل اسباب نے اہم رول ادا کیا ہے
۱۔دستور حیات سے رشتہ کی کمزوری:
تقلید جامد کے رواج کے بعد دھیرے دھیرے لوگ قرآن کی تعلیم سے دور ہوتے چلے گئے اور آج عوام ہی نہیں علماء کی اکثریت بھی اسے محض برکت کی ایک کتاب تصور کرتی ہے۔ اگر اس کتاب کے بارے میں یہ احساس ہوتا کہ یہ کتاب برکت ہونے کے ساتھ ساتھ کتاب رحمت بھی ہے اور کتاب ہدایت بھی تو زندگی کے جملہ امور و مسائل میں اس کی جانب ضرور رجوع کیا جاتا اور پھر باقاعدہ اس کی تعلیم پر توجہ بھی صرف کی جاتی اور اپنی تقریروں اور تحریروں کا محور و مرکز اسے قرار دیا جاتا۔ ظاہر ہے جب دستور حیات ہی سے رشتہ کمزور ہوجائے تو اصول حیات بھی درست اور متعین نہ ہوںگے اور جب اصول حیات بھی متعین نہ ہوں تو تربیت کیا ہو پائے گی۔ اگر قرآن کو وظیفۂ حیات بنایا گیا ہوتا تو آپ دیکھتے کہ ان مدارس سے جو علماء نکلتے وہ کامل دینی بصیرت رکھتے، حوصلہ مند داعی اور مخلص مبلغ ہوتے، جرأت مند قائد کا کردار ادا کرتے اختلاف و تشتت سے اجتناب کرکے تخرب سے گریز کرتے اور انما المؤمنون اخوۃ کی علمی تفسیر بن کر باطل کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوتے پھر نہ تکفیر و تفسیق کا بازار گرم ہوتا اور نہ مسلمان اپنی جگ ہنسائی کا سامان خود کرتے۔
۲۔غلو اور تعنت:
مسلکی تعصب کی پہلی وجہ علمی کوتاہی (یہ لوگ ایک نص کو ذہن میں رکھتے ہیں اور دوسری ان کی نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے )اور دوسری وجہ بدنیتی اور منحرف انسانی سلوک کے پیچھے چھپے ہوئے نفسیاتی امراض کا وجود ہے۔ جو اپنی برتری، مسلط ہونے کی خواہش اور قساوت قلبی کی صورتوں میں نمایاں رہتے ہیں۔ اس لیے بنیﷺ نے غلو سے بچنے کی تاکید کی اور فرمایا ہلک المتنطعون (مسلم) غلو کرنے والے ہلاک ہوئے۔
۳۔اکثر مدارس کے نظام تعلیم و تربیت کا فرقہ وارانہ اور مسلکی ہونا:
ہندوستان کے اکثر مدارس میں تدریسی اور غیر نصابی ماحول پر کسی ایک مسلک کی جا و بے جا حمایت کی چھاپ پائی جاتی ہے اور قرآن و حدیث کو بھی اپنے مسلک کے فقہی نقطۂ نظر سے پڑھایا جاتا ہے۔ باہر عوام میں یہی طلبہ ان فرقہ وارانہ جراثیم کے زہر گھولتے ہیں۔
۴۔اپنی رائے کو برتر سمجھنا:
فروعی اور اجتہادی مسائل میں اختلاف کا اہم و بنیادی سبب ہے، لیکن تعصب اور اجتہاد جامد کے رواج کے بعد بعض لوگوں نے اپنے امام کی رائے کو درست اور دوسرے کی رائے کو غلط ہی نہ سمجھا بلکہ اس کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دینے پر تل گئے۔ اور عجلت پسندی میں مبتلا ہوگئے اور دوسری رائے کے ماننے والوں کو گمراہ اور کافر تک قرار دے دیا جبکہ دوسری مخالف رائیں دلیل و برہان پر قائم ہیں۔ اپنی رائے و مقیاس کو میزان ٹھہرایا گویا وہی کتاب و سنت اور اسلام کے معیار ہیں۔ اس طرح شیطان نے ایسے لوگوں کو راہ حق سے دور کردیا۔
برادری کا اختلاف
اسلام انسانی مساوات کا علمبردار ہے۔ یہ ذات پات کی تمیز اور طبقاتی منافرت کو روا نہیں رکھتا۔ ہندوستان میں اسلام کو اس بات سے حقیقی قوت حاصل ہوئی ہے اور اس کی بدولت اس نے ہندوؤں کو اس کثرت سے اپنا حلقہ بگوش بنایا ہے۔ لیکن بعض اسباب وجوہ کی بنا پر سلاطین دہلی کے عہد سے ہندوستان میں ایک نئے مسلم سماج کی تشکیل کے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ چونکہ اس زمانے کے مسلم مفکر نسلی بنیاد پر سماج کی تقسیم کے حامی تھے اور لوگ کسی بھی صورت میں اس خیال کے مؤید نہیں تھے کہ مساوات کے اسلامی تصور کا نفاذ ہندوستان میں مہاجرین اور دیسی مسلمانوں کے لیے یکساں طور پر کیا جائے۔ نیز بعض علماء اور مؤرخین کی تحریروں سے ذات پات کی اس تقسیم کو مزید ہوا ملی اور اب صورت حال یہ ہے کہ نسل و نسب کی تفریق ہمارے دلوں میں اس طرح جڑ پکڑ گئی ہے کہ ہم نے اس کی بنا پر ساری ملت اسلامیہ ہند یہ کو شریف اور رزیل دو طبقوں میں بانٹ دیا ہے، جس کی وجہ سے اسلام کی اشاعت میں زبردست رکاوٹ آئی ہے۔
جماعتی اختلاف
انتہا پسندی کی وجہ سے اسلامی غیرت اور دینی حمیت کے بجائے جماعتی اور تحریکی تعصب عام ہوتا اور دن بدن شدت پکڑتا جارہا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام مختلف جماعتوں تحریکوں اور مسلکوں کے ذریعہ جانا جانے لگا ہے اور بعض اوقات مختلف جگہوں پر جماعتی عصبیت کے گھناونے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو ملی اتحاد کی کوششوں کو تار پیڈو(سبوتاژ) کرتے رہتے ہیں۔کئی جگہوں پر بریلوی حضرات اور تبلیغی جماعت والوں کے درمیان بعض ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں اور وہ اپنی مسجدوں میں جانے اور اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسی طرح جن جگہوں اور مسجدوں میں تبلیغی جماعت کا اثر ہے وہاں وہ کسی اور جماعت کو بالخصوص جماعت اسلامی کے لوگوں کو درس قرآن اور اجتماع کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسی طرح اس جماعتی تعصب اور عدم رواداری کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں کے غیر مذہبی حلقوں بلکہ غیر مسلموں کے حلقوں میں بھی اسلام اور مسلمانوں کی غلط تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے کہ جب یہ لوگ اپنے لوگوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں تو دوسروں کے ساتھ انصاف، مروت اور رواداری سے کیسے کام لے سکتے ہیں۔
اختلاف کے نقصانات
۱۔ امت کے وقار کا ختم ہونا اور اس کی ہوا کا اکھڑ جانا
امت کے باہمی اختلاف، باہمی تعصب اور باہمی کشمکش نے اس امت کو بے وزن کر دیا ہے اور اس کے وقار کو شدید چوٹ پہونچائی ہے۔ یہ امت کے انتشار ہی کا پھل ہے کہ گجرات اور فلسطین جل رہا ہے؛ بوسنیہ و ہرزگوینہ میں دو بڑے قتل عام ہوئے، چیچنیا اور اراکان میں مسلمان کمیونسٹوں اور بدھسٹوں کی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ لبنان اور فلسطین اسرائیلی دہشت گردی اور افغانستان و عراق امریکی دہشت گردیوں کا شکار ہیں۔ مسلمانوں کے گھر تباہ ہورہے ہیں اور ہر روز ان پر بموں کی بارش ہورہی ہے۔ عورتیں بیوہ بچے یتیم ہورہے ہیں، نوجوانوں کے ہاتھ پیر سڑکوں پر پتھروں کے ذریعہ توڑے جارہے ہیں، عصمتیں لوٹی جارہی ہیں۔
۲۔اشاعت اسلام کی راہ میں رکاوٹ
باہمی اختلاف اور ذات پات کے تصور نے اسلام کی اشاعت میں زبردست رکاوٹ ڈال دی ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر ہندومت میں اونچ نیچ اور ذات پات کے نظام سے دلبرداشتہ ہوکر کوئی دوسرا مذہب اپنانا چاہتے تھے۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تو مہاتما گاندھی نے ان سے کہا آپ کون سا اسلام قبول کریں گے۔ شیعہ یا سنی پھر حنفی یا شافعی وغیرہ وغیرہ۔ جس بنیاد پر آپ ہندو دھرم کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں وہ بنیاد تو وہاں بھی شدت سے موجود ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر امبیڈکر نے اپنا ارادہ ترک کردیا اور بعد میں بدھ مت اختیار کرلیا۔ مولانا سیوہاروی نے جب ڈاکٹر صاحب کو اسلام کی دعوت پیش کی تو انھوں نے اپنی الماری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا ’مولانا آپ اس الماری میں جوکتابیں دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب مذاہب اسلام اور اسلامیات سے متعلق ہیں۔ میں نے سید امیر علی، عبد اللہ یوسف علی، محمد پکتھال اور دوسرے مسلم، نو مسلم اور غیر مسلم اسلام کے اسکالر کی کتابوں کا توجہ سے مطالعہ کرلیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصولی طور پر اسلام سماجی جمہوریت اور انسانی مساوات کا داعی و نقیب ہے لیکن ہندوستان میں آپ لوگ منو کے ورن آشرم پر عمل پیرا ہیں اور آپ نے اپنے سماج کو ذات برادریوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ میں اسلام قبول کرلیتا ہوں تو آپ مجھے کس خانے میں رکھیں گے‘؟
مذکورہ بالا تینوں اختلافات میں مسلکی اختلاف زیادہ دور رس اور ہمہ گیر اثرات کا حامل ہے۔
اختلافات کی شرعی حیثیت
دین کی فروعات میں اختلاف ناگزیر ہے۔ فروعی احکام اور اجتہادی مسائل میں ایک رائے ہونا ممکن ہی نہیں کیونکہ ذہن مختلف ہوتے ہیں، عقلیں متفاوت ہوتی ہیں قوت استنباط میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ دلائل کی گرفت معانی کے فہم و ادراک اور چیزوں کے باہمی ربط و تعلق کو سمجھنے میں خاصا اختلاف ہوتا ہے۔ دین تو عبارت ہے آیات و احادیث اور کچھ نصوص سے اور عقل و ذہن و زبان و لغت کی روشنی میں ہی ان کی تفسیرو تشریح کرتے ہیں پھر اختلاف کے بغیر چارہ کہاں۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ نے اپنے قول اور طرز عمل کے ذریعہ ان اختلافات کی حیثیت واضح کر دی تھی۔۔۔(اس کے بعد مصنف نے واقعات و شواہد کی روشنی میں مثالیں دے کر سمجھایا ہے جس کا ذکر تفصیل سے دیگر مضامین میں ہے۔ طوالت کے خوف سے ہم نے اس حصہ کو حذف کردیا ہے)
ائمہ کا طرز عمل
ہمارے اسلاف اور موجودہ دور کے علمائے مخلصین اور اصحاب فہم و بصیرت کا طریقہ تو یہ رہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیا ہے اور اختلاف رائے کی صورت میں بھی وسیع المشربی اور کشادہ قلبی ہی کا ثبوت دیا۔
عباسی خلیفہ منصور نے امام مالک کی کتاب الموطا کو سارے ملک میں نافذ کرنا چاہا تو آپ نے ایسا کرنے سے سختی سے منع کردیا اور کتنی حکیمانہ بات فرمائی:
ان اصحاب رسول اللہ قد تفرقوا فی الامصار و عند کل قوم علم فاذا حملتھم علی رای واحد تکون فتنۃ
رسول اللہ کے اصحاب مختلف بستیوں میں پھیل گئے اور ہر ایک کے پاس علم ہے تو اگر ان سب کو ایک ہی رائے پر مجبور کرو گے تو فتنہ ہوگا۔
امام شافعی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب بغداد تشریف لے گئے تو فجر کی نماز میں حنفی مسلک کی رعایت سے دعائے قنوت نہیں پڑھی جب کہ ان کے مسلک میں ایسا کرنا ضروری ہے (حجۃ اللہ البالغہ )
امام احمد رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ وہ اس شخص کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے جس نے پچھنہ لگوانے کے بعد وضو نہ کیا (امام احمد کے نزدیک اس سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے جبکہ امام مالک وغیرہ کے یہاں نہیں ٹوٹتا) تو آپ نے فرمایا مالک اور حضرت سعید بن مسیب کے پیچھے کیسے نماز نہیں پڑھوں گا۔
امام ثانی امام ابو یوسف نے ایک بار جمعہ کے روز حمام میں غسل کیا۔ نماز پڑھ کر جب لوگ ادھر ادھر منتشر ہوگئے تو آپ کو اطلاع دی گئی کہ حمام کے کنویں میں ایک مرا ہوا چوہا موجود ہے۔ امام موصوف نے یہ سن کر فرمایا کہ تو پھر اس وقت ہم اپنے مدنی بھائیوں (یعنی مالکیوں) کے مسلک پر عمل کرتے ہیں کہ جب پانی دوقلہ کی مقدار میں ہو تو وہ نجس نہیں ہوتا اس کا حکم ماء کثیر میں ہو جاتا ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ)
امام ابو حنیفہ اور انکے تلامذہ اور امام شافعی وغیرہ اہل مدینہ کے پیچھے نمازیں پڑھا کرتے تھے حالانکہ اہل مدینہ نماز میں سرے سے بسم اللہ پڑھتے ہی نہیں تھے نہ آہستہ سے نہ زور سے۔
(الانصاف فی مسائل الخلاف)
امام ابو یوسف نے ہارون رشید کے پیچھے نماز پڑھی اور پھر دہرائی نہیں حالانکہ اس نے پچھنے لگوانے کے بعد وضو کی تجدید نہیں کہ تھی جس کا فتویٰ امام مالک نے دیا تھا اور حنفیہ کے نزدیک پچھنہ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (الانصاف فی مسائل الخلاف)
فقہاء کے اختلاف کے اسباب
جزئی و اجتہادی مسائل میں فقہا کے درمیاں اختلاف کے اہم اسباب درج ذیل ہیں:
۱۔نصوص شریعت کے بعض الفاظ کے مفہوم میں اختلاف
آیات قرآنی اور احادیث نبوی کے الفاظ و عبارات سے کیا الفاظ ثابت ہوتے ہیں ؟ یہ اس باب کی بنیاد ہے۔ بعض الفاظ مشترک ہوتے ہیں۔ بعض الفاظ کے لغوی معنی کچھ اور ہیں اور مجازی استعمال کچھ اور کچھ الفاظ کے لغوی معنی اور شرعی معنی میں فرق ہے ایسی جگہوں پر کون سا معنی مراد لیا جائے اور کیوں ؟
مطلقہ حائضہ کی عدت قرآن نے یوں بیان کی ہے وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء(سورہ بقرہ ۲۲۸) لغت میں قرء کا لفظ حیض اور طہر دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے امام مالک اور شافعی بعض قرائن کی بنیاد پر اسے طہر جبکہ امام ابو حنیفہ حیض مراد لیتے ہیں۔
محاربین کی سزا کے ضمن میں ارشاد باری ہے( اوینفوا من الارض ) جمہور نے لفظ نفی کو اس کے حقیقی معنی جلا وطن کرنے کے معنی میں لیا ہے اور حنفیہ نے مجازی معنی قید مراد لیا ہے۔
محرمات ابدیہ کے ضمن میں بناتکم کے الفاظ آئے ہیں امام ابو حنیفہ نے اس کے لغوی مفہوم کو اختیار کرتے ہوئے ہر وہ لڑکی مراد لی ہے جو آدمی کے نطفہ سے پیدا ہوئی ہو خواہ حلال محل سے پیدا ہوئی ہو یا حرام جبکہ امام شافعی اس سے وہ صرف لڑکی مراد لیتے ہیں جو حلال محل سے پیدا ہوئی ہو۔
جملہ کی ترکیب میں واقع اشتراک سے بھی نصوص کے مفاہیم کو سمجھنے میں اختلاف واقع ہوا ہے جیسے محاربین کی سزا کے ضمن میں وارد لفظ أو قرآن مجید میں ہے۔ اِنَّمَا جَزٰؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ (سورہ المائدہ ۳۳ ) لفظ أودو یا دو سے زیادہ اشیاء کے درمیان تخییر کے لیے آتا ہے اور تنویع اور توزیع کے لیے بھی۔ جمہور نے مذکورہ بالا سزاؤں کو تنویع اور توزیع پر محمول کیا ہے جب کہ بعض سلف نے تخییر پر محمول کیا ہے۔ (الاسلام عقیدہ و شر یعۃ )
حد قذف کے باب میں وارد ہے وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَائَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلَاتَقْبَلُوْا لَھُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا ج وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْافَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْر رَّحِیْم
سورہ نور ۴۔
جس شخص پر حد قذف جاری کی گئی ہو اس کے تعلق سے دوسزاؤں کا بیان ہے اس کی شہادت ہمیشہ کے لیے غیر معتبر ہوگی اور وہ شخص پکا فاسق ہوگا۔ ان دونوں جملوں کے بعد لفظ الا آیا ہے تو کیا الا کے ذریعہ استثناء صرف آخری جملے سے کیا گیا ہے یا دونوں جملے سے حنفیہ کے نزدیک استثناء صرف آخری جملے کی طرف لوٹ رہا ہے لہذا توبہ کے باوجود بھی ایسے شخص کی شہادت معتبر نہیں ہوگی جبکہ جمہور کے نزدیک ان دونوں جملوں کی جانب یہ استثناء لوٹ رہا ہے لہذا اگر حد کے جاری ہونے کے بعد وہ اپنی روش کی اصلاح کرلے تو اس کی شہادت کا اعتبار ہوگا۔ (روائع البیان)
حدیث و سنت سے متعلق اختلاف:
بعض احادیث بعض ائمہ کے یہاں پہنچی تھی جبکہ بعض دیگر کے یہاں نہیں پہنچی تھی۔ یا دونوں کے پاس پہنچی تھی لیکن ایک کے یہاں معتبر طرق سے جبکہ دوسرے کے یہاں غیر معتبر طرق سے یا ایک ہی ذریعہ سے پہنچی تھی لیکن اس کی سند کے کسی راوی کو کوئی امام ثقہ مانتا تھا جبکہ دوسرے کے نزدیک وہ راوی ثقہ نہ تھا یا کسی صحیح سند سے پہنچی ہو البتہ کسی نے اس پر عمل کرنے کے لیے بعض شرطیں لگائی ہوں جیسے راوی کا فقیہ ہونا یا عموم بلوی سے متعلق مسائل میں حدیث کا مشہور ہونا یا اس کی سند کا متصل ہونا اور ارسال سے خالی ہونا جب کہ دوسرے نے نہیں لگائی ہوں۔ اس کی بنا پر متعدد فروعی و جزوی مسائل میں اختلاف رائے ہوتا گیا۔
(اختلاف الائمہ، شیخ زکریا، رفع الملام عن الائمہ الاعلام: ابن تیمیہ )
شرعی دلائل میں اختلاف:
کتاب وسنت اور اجماع و قیاس کے علاوہ دیگر مسائل جیسے عرف، مصلحت مرسلہ، استحسان، صحابی کا فتوی، قرآن مجید میں سابقہ شریعتوں کے احکام اور استصحاب کے نصوص کی عدم موجودگی میں کیا استدلال کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ مصالح مرسلہ کو ثانوی دلیل بنا کر مالکیہ نے کثرت سے استدلال کیا دوسرے فقہاء نے کم کیا۔ استصحاب کو شافعیہ حنابلہ اور ظاہریہ نے حجت قرار دیا جبکہ حنفیہ اور مالکیہ نے اس کی حجت کو محدود دائروں میں تسلیم کرتے ہوئے صرف نفی کے لیے حجت مانا اثبات کے لیے نہیں۔ استحسان کو جمہور فقہاء نے حجت مانا جبکہ امام شافعی نے اس کے حجت ہونے سے انکار کیا۔ قرآن میں مذکورہ پچھلی قوموں کی شریعت کو جمہور نے حجت مانا لیکن شوافع نے مسلمانوں کے لیے اس کے حجت ہونے سے انکار کیا اور مذکورہ بالا دلائل کی حجیت یا عدم حجیت میں اختلاف ہونے کی بنا پر بے شمار فروعی مسائل میں اختلاف واقع ہوئے جیسے قرآن مجید میں قصاص کے باب میں توریت کا حکم یوں نقل کیا گیا ہے والنفس بالنفس جان کے بدلے جان۔ حنفیہ اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے ذمی کے مسلم قاتل کو اور عورت کے مرد قاتل کو قصاصاً قتل کئے جانے کے قائل ہیں، جبکہ جمہور بعض احادیث کی بناء پر اس کے قائل نہیں ہیں۔ امام شافعی اسے سابق شریعت کا حکم مانتے ہیں جبکہ دیگر فقہاء لا یقتل مسلم بکافر کے ذریعہ اس کی تخصیص کے قائل ہیں۔ (علم اصول الفقہ عبد الوھاب خلاف، روضۃ الناظر ابن قدامہ)
فقہی اور لغوی قواعد میں اختلاف:
اختلاف کی ایک بنیادی وجہ بعض فقہی اور لغوی قواعد کی دلالت اور حجیت میں اختلاف ہونا ہے، مثلاً امر کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے یا استحباب پر نصوص میں وارد نہی کا صیغہ منتہی عنہ کے فساد پر دلالت کرتا ہے یا صحت پر یا کسی پر نہیں۔
کسی عام حکم کی اگر تخصیص ہوگئی تو کیا وہ بقیہ افراد میں حجت رہے گا یا نہیں۔ کسی نص کی اخبار آحاد اور قیاس سے تخصیص ہوگی یا نہیں۔
کسی مطلق حکم کو مقید پر محمول کیا جائے گا یا نہیں اور کیا اخبار آحاد کے ذریعہ تقیید صحیح ہوگی یا نہیں۔ مفہوم مخالف حجت ہوگا یا نہیں۔
بنیادی قواعد کی دلالت میں جب یہ اختلاف ہو تو جزوی اور فروعی مسائل میں اختلاف رائے ہوتا گیا چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
۱۔جمہور کے نزدیک قرآن کی تخصیص اخبارآحاد سے جائز ہے جبکہ حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں۔ ( البرہان ۲۸۶، المحصول ۳ ص ۸۵ الفصول فی الاصول، الجصاص ۱۵۵) چنانچہ امام شافعی ولاتاکلوا ممالم یذکراسم اللہ علیہ و انہ لفسق سورہ الانعام: ۱۲۱) کے عموم کو اس خبر واحد سے مخصص مانتے ہیں( ذبیحۃ المسلم حلال ذکر اسم اللہ علیہ اولم یذکر ‘ ابو داؤو فی المراسیل حدیث رقم: ۳۷۸) اور مسلمان کے ذبیحہ کو حلال قرار دیتے ہیں۔ خواہ اس نے عمداً ہی بسم اللہ کیوں نہ چھوڑ دیا ہو نھایۃ المحتاج الرملی ۱۱۹ حنفیہ چونکہ قرآن کی تخصیص خبر واحد کے ذریعہ جائز نہیں اس لیے اس ذبیحہ کو حرام قرار دیتے ہیں جس پر عمداً بسم اللہ چھوڑ دیا گیا ہو۔ (الاختیار لتعلیل المختار ۵؍۹ کشف الابرار ۱؍۵۹۸)
۲۔جمہور کے نزدیک سنت کی دوسری سنت سے تخصیص مطلقاً جائز ہے جبکہ حنفیہ کے نزدیک تخصیص اسی وقت جائز ہے جب خاص حدیث عام سے متاثر اور متصل بیان ہوئی ہو (تیسیر التحریر: ج ۲ ص ۱۳۲) چنانچہ جمہور ’فیما سقت السماء العشر‘( بخاری) کے عموم کو لیس فیما دون خمسۃ اوسق سے مخصص مانتے ہوئے پیداوار میں بھی زکوۃ کے وجوب کے لیے نصاب کے قائل ہیں (الخرشی ج ۲ ص ۱۵۱۷، روضۃ الھالبین ۲ ص ۹۳ ) جبکہ حنفیہ حدیث خاص کے متصل نہ ہونے کی بنا پر اور فقراء و مساکین کی مصلحتوں کا لحاظ کرتے ہوئے غلہ میں نصاب کے قائل نہیں (التحریر: ۳۶۰، البنایہ ۳؍ ۱۵۹)
۳۔قیاس کے ذریعہ کیا نصوص کی تخصیص جائز ہے۔ جمہور جواز کے قائل ہیں (الاحکم الاآمدی ۲؍۵۳۶ الابھاج ۲؍۱۷۶، العدہ ۲؍۵۵۹) ظاہر یہ اور بعض شوافع عدم جواز کے قائل ہیں (الاحکام ابن حزم ص ۴۱۱) جمہور کے نزدیک آیت ربوٰکی تخصیص اس حدیث سے ہوتی ہے جن میں چھ اشیاء کو ربوی قرار دیا گیا ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ ان اشیاء کو ربوی علت کی بناء پر قرار دیا گیا ہے لہذا جہاں کہیں بھی یہ علت پائی جاے گی وہ شئے ربوی ہوگی۔ (البحر الرائق ۶؍۱۳۸، شری الزرقانی ۵؍ ۶۲)جبکہ ظاہریہ کے نزدیک چونکہ قیاس کے ذریعہ تخصیص جائز نہیں لہذا حدیث میں مذکور چھ اشیاء کے علاوہ کوئی اور چیز ربوی نہ ہوگی۔(المحلی ۹؍۵۰۴)
قیاس کی علتوں کی تعین میں اختلاف:
جمہور کے نزدیک قیاس حجت ہے، البتہ وہ علت جس کی بناپر ایک مسئلہ کو دوسرے مسئلہ پر قیاس کیا جاتا ہے اس کے اثبات کے طریقوں اور خود علت کی تعیین میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہوتا رہا ہے۔ مثلاً کوئی شخص سوگیا یا بھول گیا اور اس کی نماز فوت ہوگئی تو اسے نماز قضا کرنی ہوگی کیوں کہ حدیث میں ہے من نسی عن صلوۃ او نام عنھا فلیصئھا اذا ذکرھا (نسائی) لیکن اگر کوئی قصدا نماز چھوڑ دے تو کیا اس کے لیے قضا کی گنجائش ہے یا نہیں؟ بعض لوگوں نے مذکورہ بالا صورت پر قیاس کرتے ہوئے قضاء کی اجازت دی ہے جبکہ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ سویا ہوا شخص یا بھول کر چھوڑنے والا معذور ہے اور یہ معذور نہیں اور قضاء ایک رخصت ہے جس سے استفادہ کا حق صرف معذور کو ہوگا غیر معذور کو نہیں۔
دلائل کے درمیان تعارض و ٹکراؤ:
بہت سے شرعی دلائل باہم دگر متعارض ہیں۔ خصوصاً احادیث کے باب میں تعارض کا میدان زیادہ وسیع ہے تو اس تعارض کو کیسے دور کیا جائے ؟ تعارض کے ازالہ کی مختلف صورتیں ہیں۔ تطبیق، نسخ، تخصیص، تقییداور ترجیح کب کون سا ذریعہ استعمال کیا جائے اس باب میں فقہا ء کے درمیان شدید اختلاف ہوگیا ہے جس کی بنا پر بھی فروعی مسائل میں اختلاف رائے کا دائرہ کافی پھیلتا گیا۔ مثلاً سجدہ سہو کے تعلق سے بعض روایات میں سلام سے پہلے اور بعض میں سلام کے بعد سجدہ کرنے کا تذکرہ ہے۔ حنفیہ نے دوسری روایت کو اور شوافع نے پہلی روایت کو ترجیح دیا ہے۔ اسی طرح رفع یدین کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو کہاں تک اٹھایا جائے۔ روایتیں متعارض ہیں۔ الموطأ میں ہے کہ آپ مونڈھوں تک دونوں ہاتھ کو اٹھاتے تھے جبکہ مسلم میں اسکے بالمقابل اٹھانے کا تذکرہ ہے۔ حنفیہ نے مسلم کی روایت کو اور جمہور نے الموطأ کی روایت کو ترجیح دیا ہے، جس کی وجہ سے ہاتھوں کو کہاں تک اٹھایا جائے اس کی مقدار اور محل میں اختلاف واقع ہوگیا ہے۔
اختلاف رائے کا محل و دائرہ:
اختلاف رائے کا تعلق فروعی مسائل سے ہے اصول دین سے نہیں۔ شریعت کے بنیادی اور اسلام کے قطعی اصولوں میں اختلاف نہیں پایا جاتا۔ توحید رسالت اور آخرت ایمان کے چھ بنیادی ارکان نماز روزہ زکوۃ اور حج جیسی عبادت کی فرضیت پر بھی کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔ سود شراب زنا قتل ناحق شرک جھوٹی گواہی ظلم اور معصیت کی حرمت ہمیشہ سے واضح رہی ہے۔ خیر میں تعاون حسن سلوک وعدہ کی پاس داری امانت کی ادائیگی حلال آمدنی اور خیر خواہی ہمیشہ اچھے اوصاف رہے ہیں۔ اختلاف رائے کا میدان وہ مسائل اور امور بنے جو عملی تفصیلات سے متعلق تھے اور ان میں شریعت کو کسی ایک متعین شکل پر اصرار مطلوب نہ تھا۔
( اسباب اختلاف و جہات النظر الفقھیۃ وھبۃ زحیلی)
فقہی اختلاف کے فوائد:
۱۔حرج اور تنگی کا ازالہ
اسلامی شریعت کی ایک بنیادی خصوصیت آسانیاں پیدا کرنا اور حرج و تنگی کا ازالہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے: و ما جعل علیکم فی الدین من حرج
(اور اللہ تعالیٰ نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے۔)
فقہی اختلافات بھی حرج اور تنگی کو دفع کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ مشہور حدیث ہے: اختلاف امتی رحمۃ( کشف الخفاء) میری امت کا اختلاف باعث رحمت ہے مثال کے طور پر فقہاء کا اس امر میں ہے کہ آ یا نجاستوں کے ازالے کے لیے پانی کا استعمال لازم ہے یا دیگر مائعات سے ان کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک پانی لازم نہیں ہے کیونکہ حضرت عائشہ مادہ منویہ کے بعض آثار کو اپنے تھوک سے مٹا دیتی تھیں۔ (نیل الاوطار) جبکہ ائمہ ثلاثہ پانی کو لازم قرار دیتے ہیں کیونکہ بعض احادیث میں نجاست کے ازالہ کی بابت صرف پانی کا تذکرہ وارد ہے۔ اب اگر ان دونوں رایوں کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے کہا جائے کہ جن صورتوں اور جگہوں پر پانی کا استعمال مفید ہو وہاں پانی اور جہاں نہ مفید ہو وہاں دوسرے مائع کا استعمال بھی جائز ہوگاتو عصر حاضر میں نجس اونی کپڑوں کی صفائی پٹرول وغیرہ کے ذریعہ کرنے سے ان کی افادیت متاثر نہیں ہوگی جبکہ پانی کے ذریعہ صفائی لازمی قرار دینے میں ان کی افادیت بہت جلد متاثر ہوجائے گی۔ اور انسان حرج میں مبتلا ہوجائے گا۔ اس طرح کی سیکڑوں مثالیں کتب فقہ میں موجود ہیں۔
۲۔فقہی اختلاف کا دوسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی شریعت پر عمل کتنا آسان ہے۔ وہ ہر زمانہ ہر دور اور ہر علاقہ میں کس طرح قابل عمل ہے اور وہ لوگوں کے سامنے عمل کے لیے وسیع میدان کھولتا ہے اور مختلف فقہی رایوں نے پیچیدہ مسائل کی گتھیوں کو کس آسانی کے ساتھ سلجھایا اور نئے مسائل کا حل پیش کیا ہے۔
۳۔افراد کے احوال و ظروف کی رعایت:
ہر شخص کی قوت و صلاحیت مختلف ہوتی ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ ایک مریض کسان یا مزدور ایک صحت مند یا سرمایہ دار کی طرح راتوں میں قیام کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا وتر کی مختلف رکعات (ایک، تین پانچ) میں سے حسب حال کسی بھی رائے کو اختیار کرنے کی صورت میں عبادات کے تئیں ملال اور اکتاہٹ نہیں پیدا ہوسکتی۔
۴۔نصوص شرعیہ محدود ہیں البتہ انھیں نصوص کے اشارات یا نظائر پر قیاس کرکے فقہاء نے اجتہاد کی جو عظیم کوشش کی ہے اس سے فقہ اسلامی بدلتے ہوئے حالات و ظروف کا ساتھ دینے کی پوری اہلیت رکھتی ہے کیونکہ ان فقہاء کا مسکن دنیا کا مختلف علاقہ اور خطہ رہا ہے۔ لیکن اگر اس عظیم فقہی سرمایہ کو کسی ایک امام کی رائے پر محدود کردیا جائے تو زمانہ کا ساتھ دینے کی اس میں کمی واقع ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ شرعی حاجت و ضرورت کی بنا پر دوسرے مذہب پر عمل کرنا بالاتفاق جائز ہے۔
امام نووی سے پوچھا گیا کہ کسی شخص کے لیے ضرورت وغیرہ کی بنا پر دوسرے مذہب کی رخصت کی تقلید جائز ہوگی تو اما نودی نے اس کا جواب اثبات میں دیا۔
(البحر المحیط، الزرکشی، ج:۸ ص: ۳۷۹)
علامہ شامی کہتے ہیں: ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ امام صاحب اور صاحبین جس جواب پر متفق ہوں اس سے عدول جائز نہیں البتہ ضرورت کی بنا پر جائز ہے۔
( مجموعہ رسائل ابن عابدین، رسالۃ عقود رسم المفتی، ج ۱ ص ۲۶ ابن عایدین شامی)
فقہاء حنفیہ کے یہاں اس سلسلہ میں بہت سی نظیریں موجود ہیں۔ شوہر میں بعض عیوب و امراض پیدا ہونے کی صورت میں تفریق کا حق، مفقود الخبر کی زوجہ کے لیے تفریق کا حق، تعلیم قرآن اور اذان و اقامت پر اجرت، کمیشن ایجنٹ (سمسار) کا کاروبار وغیرہ کتنے ہی مسائل ہیں جن میں فقہاء متاخرین نے دوسرے مکاتب فقہ کی آراء سے فائدہ اٹھا کر امت کو مشقت سے بچایا ہے اور اختلاف امتی رحمۃ کا عملی ثبوت پیش کیا ہے۔
(رسالۃ عقود رسم المفتی، ج ۱ ص ۱۳،۱۴،۱۵،۴۹ )
یہی وہ اسباب و جوہ تھے جن کی بنا پر سلف نے صحابہ کرام کے فقہی اختلاف کو پسند فرمایا اور اس کی تحسین فرمائی۔
قاسم بن محمد کہتے ہیں: اختلاف اصحاب محمدﷺ رحمۃ لعباد اللہ (المقاصد الحسنہ ۲۷) محمدﷺ کے اصحاب کا اختلاف اللہ کے بندوں کے لیے باعث رحمت ہے۔
عمر بن عبد العزیز کہتے ہیں:
ما سرنی لو ان اصحاب محمدﷺ لم یختلفوا لانھم لو لم یختلفوا لم تکن رخصۃ (المقاصد الحسنۃ ۲۷)اگر اصحاب محمدﷺ اختلاف نہ کرتے تومجھے خوشی نہ ہوتی کیونکہ اگر ان لوگوں نے اختلاف نہ کیا ہوتا تو مختلف مسائل میں ہمیں رخصت نہ ملتی۔)
مجلس المجمع الفقھی الاسلامی نے اپنے دسویں اجلاس منعقدہ مکہ بتاریخ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء کو امت کے فقہی مسالک کے درمیان اختلاف کی حیثیت و فوائد پر درج ذیل قرار داد منظور کی ہے۔
’جہاں تک بعض فروعی مسائل میں فقہی اختلاف کا تعلق ہے تو اس اختلاف کے کچھ علمی اسباب ہیں جس میں اللہ تعالی کی بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے اور اسی حکمت بالغہ کے ذریعہ اس نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا اور نصوص سے احکام کے استنباط کے دائرے کو وسعت دی ہے۔ پھر اس رحمت ووسعت کے ساتھ وہ فقہی و تشریعی اختلاف نعمت و ثروت بھی ہے جس سے ملت اسلامیہ کے لیے دین و شریعت پر عمل کا ایک وسیع میدان فراہم ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ایک شرعی و فقہی رائے پر انحصار کے لیے مجبور نہیں ہوتی، بلکہ امت کے لیے کسی خاص وقت یا کسی خاص مسئلہ میں کسی ایک فقیہ و مجتہد کے مسلک پر عمل کرنے میں تنگی پیدا ہورہی ہے تو عین اسی وقت دوسرے فقیہ کے مسلک میں سہولت نرمی اور وسعت کو شرعی دلائل کی روشنی میں موجود پائے گی خواہ یہ مسئلہ عبادات سے متعلق ہو یا معاملات سے یا خاندانی عدالتی اور تعزیری امور سے۔ ‘
’اس لیے اس قسم کے مسلکی اور فقہی اختلاف نہ تو ہمارے دین سے متصادم ہیں اور نہ ہی دین میں کسی قسم کا عیب ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ دین میں اس طرح کے اجتہادی اور فروعی اختلافات نہ ہوں کیونکہ قرآن و سنت میں بہت سارے نصوص ایسے ہیں جو ایک سے زیادہ معنی پر دلالت کرتے ہیں اسی طرح کسی ایک نص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دنیا میں ہر طرح کے حالات و زمانہ میں پیش آنے والے مسائل و مشکلات کا احاطہ کر سکے کیونکہ نصوص محدود ہیں اور حالات و مسائل لا محدود جیسا کہ علماء کی ایک جماعت کاقول ہے۔ ‘
اس لیے ضروری ہے کہ غور و فکر اور قیاس کے ذریعہ ہم احکام کی علت، شارح کے مقصد اور مقاصد شریعت کو معلوم کریں اور نئے پیش آمدہ حالات و مسائل کے چیلنج کا شرعی حکم اور حل ان کی روشنی میں برابر دریافت کرتے رہیں۔ ایسا کرتے وقت مختلف احتمالات و امکانات کے درمیان علماء کی ترجیحات اور ان کے مفاہیم میں اختلاف ہونا لازمی ہے اور حق کی مخلصانہ تلاش و جستجو کے باوجود ان اختلافات کی وجہ سے ایک ہی مسئلہ میں شرعی حکم کا مختلف ہونا بعید از قیاس اور باعث حیرت نہیں ہے پس جس مجتہد کا اجتہادی حکم صحیح ہوگا اس کے لیے دہرا اجر ہوگا اور جس کا غلط ہوگا اس کے لیے ایک اجر۔ اور یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعہ شریعت سے حرج اور مشکل کا خاتمہ ہوتا ہے اورسہولت و وسعت کی مزید توسیع ہمیشہ کے لیے جاری رہتی ہے اس لیے اس طرح کے فقہی اختلافات کا وجود شریعت میں کوئی عیب نہیں ہے۔ عیب تو درکنار یہ امت مسلمہ کے لیے باعث خیرو رحمت اور ایک قانونی سرمایہ ہے۔
وہ مسلم نوجوان جوغیر ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور جن کی اسلامی تہذیب سے واقفیت بھی کمزور ہے انھیں ان کے گمراہ اساتذہ فروعی امور میں فقہی اختلاف کو عقیدہ جیسے اختلاف کے مثل باور کرارہے ہیں۔ جبکہ شریعت میں اگر ایک طرف عقیدہ و عبادات کا اختلاف، حرام اور حدود کا اختلاف ممنوع اور ضلالت ہے تو دوسری طرف جزیات کا اختلاف نقص و تناقص پر نہیں بلکہ اللہ کی رحمت اور ازلی و ابدی دین ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
( مجلہ الجمیع الفقہی الاسلامی، السنۃ الثانیۃ، العدد الثالث ص ۱۷۳)
اتحاد ملت کی فرضیت:
ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ص وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْکُنْتُمْ اَعْدَائً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا ج وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْن سورہ آل عمران ۱۰۲۔۱۰۳
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل جوڑ دئے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے تم لوگ آگ سے بھرے ہوئے ایک گڈھے کے کنارے کھڑے تھے۔ اللہ نے تم کو اس (میں گرنے )سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے۔ شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔
یہ دراصل اتحاد کی دعوت ہے جو ہمارے رب نے اہل ایمان کو دی ہے جو اس کتاب ہدایت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہمیں تقوی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور ہم سے پورے خلوص کے ساتھ اطاعت و خود سپردگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ زندگی کے تمام معاملات کو اس کی مرضی کے مطابق انجام دینے، اپنے تمام اختلافات کو ختم کردینے، ہاہم الفت و محبت کی فضا پروان چڑھانے اور ایک ساتھ مل کر جسد واحد کی طرح کام کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس قعر مذلت میں گرنے سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں جس میں آج ہم گر گئے ہیں اور اسی راہ پر چل کر ہم جہنم کی اس آگ سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں جو کل پیش آنے والی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس وقت کو یاد کریں جب دور جاہلیت میں ہمارے آباء و اجداد باہم تفرقہ میں پڑے ہوئے تھے؛ آپس میں جنگ و جدال کرتے تھے؛ ایک دوسرے کو لوٹنا اور قتل و غارت گری کرنا جن کا مشغلہ تھا؛ انسانیت کی اس زبوں حالی پر اللہ نے کرم فرمایا اور اس نے اپنا دین نازل فرمایا جسے وہ اپنی رسی (حبل اللہ )سے تعبیر کرنا پسند کرتا ہے اور اسے سختی سے پکڑے رہنے کا حکم دیتا ہے۔ جن لوگوں نے اس کے حکم پر لبیک کہا؛اس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا؛ اس کے دین کی مخلصانہ پیروی کی؛ ایک دوسرے سے محبت کرنا سیکھا؛ اپنے تمام اختلافات کو ختم کیا اور ایک مضبوط اور متحد قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے؛ ان کی مخلصانہ کوششوں سے اللہ نے انہیں نہ صرف اس دنیا میں تباہ ہونے سے اور آنے والی زندگی میں جہنم کی آگ میں جھلسنے سے بچالیا بلکہ انھیں دنیا کا امام و پیشوا بنایا اور آخرت میں دائمی فلاح و مسرت سے نوازا۔
اسلام میں اتحاد و اتفاق کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں اختلاف کا جائزہ اور اس کے اسباب کی جانچ پڑتال کی گئی ہے ان آیات کو ہم پانچ قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
پہلا دستہ: وہ آیات جن میں ٹکڑیوں اور پارٹیوں میں بٹنے کی ممانعت ہے۔
(سورہ مومنون: ۵۲۔ الانبیاء: ۹۲۔۹۳)
دوسرا دستہ: وہ آیات ہیں جن میں اتحاد کے بعد اختلاف سے روکنے کے ساتھ خدا کی رسی اور تقوی سے متمسک ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔(سورہ آل عمران ۱۰۲،۱۱۲)
تیسرا دستہ: وہ آیتیں ہیں جو تنازعہ اور دینی امور میں سستی اور دنیا پرستی سے روکتی ہیں اور اطاعت اور صبر کا حکم دیتی ہیں۔ (سورہ انفال ۴۶،آل عمران ۱۵۲)
چوتھا دستہ: وہ آیتیں ہیں جن میں حق کا علم ہوجانے کے بعد ایک دوسرے پر زیادتی کی غرض سے اختلاف کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔
(سورہ آل عمران ۱۰۵، شوری:۱۳، البقرہ: ۱۲۳، یونس ۹۳)
پانچواں دستہ: وہ آیتیں ہیں جن میں گروہوں کے اختلاف کا ذکر ہے۔
اتحاد کی کوشش رسولﷺ کا حکم
متعدد احادیث میں افتراق و اختلاف سے بچنے کی تاکید آئی ہے اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے امور و مسائل سے دلچسپی لینے اور ان کے حل کرنے کے لیے فکر مند ہونے کو ایمان و اسلام کا تقاضہ قرار دیا گیا ہے۔ کتاب الکافی میں ہے:
من اصبح لایدائی بامورالمسلمین فلیس بمسلم (کتاب الایمان حدیث نمبر ۵)جو شخص یوں صبح کرے کہ امور مسلمین کو اہمیت نہ دیتا ہو وہ مسلمان نہیں ہے۔
مشہور حدیث ہے تم پر تفرقہ سے بچنا اور جماعت سے جڑے رہنا فرض ہے کیونکہ اکیلے انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو سے وہ دور بھاگتا ہے تو تم میں سے جو جنت کی خوشبو اور روشنی چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ جماعت سے لازماً جڑ جائے۔ (ترمذی)
ملی اتحاد کی ضرورت:
ملی اتحاد ایک ناگزیر دینی ضرورت ہے اس کے بغیر نہ دین کا مکمل اتباع ممکن ہے نہ اس کے تحفظ و بقا کو چیلنج کرنے والے بیرونی اثرات و خطرات کا دفاع ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔ لیکن عصر حاضر میں رونما ہونے والے حالات کی سنگینی و شدت نے اسے ایسی اہم ترین سیاسی ضرورت بنا دیا کہ اس کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوئی تو ملت کا وجود ہی براہ راست خطرہ کی زد میں آجائے گا۔ قرطبہ اور غرناطہ سے اسلام کے انخلاء کی جو مہم شروع کی گئی تھی وہ عراق اور افغانستان اور ایران و شام سے ہوتے ہوئے حرم اسلام تک اپنی منزل کی تعیین کا واضح اشارہ دے چکی ہے۔ حکیم مشرق نے اشارہ کی یہ زبان بہت پہلے اسی وقت سمجھ لی تھی جب اس کو بولنا نہیں آیا تھا۔ انھوں نے اسی وقت رو رو کے تڑپ تڑپ کے تمام عالم اسلام کو اس خطرہ سے خبردار اور ہوشیار کردیا تھا کہ؎
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک کاشغر
حرم اسلام تک دست برد کی رسائی کا مقصد صرف اس لیے ہے کہ آج انتشار کی ناگفتہ صورت حال میں بھی مسلمانوں کو جوڑے رکھنے کا ایک اہم سر رشتہ ہے اگر اسے کاٹ کر مسلمانوں کو دور کردیا جائے تو پھر گویا حقیقی معنی میں روئے زمین سے اسلام ناپید ہوگیا کیونکہ اس کے بعد منتشر طور پر پائے جانے والے اسلامی شوکت و سطوت کے آثار عالمی نظام کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کریں گے بلکہ وہ بھی اس کے حاشیہ بردار بن جائیں گے۔ اسرائیل کا قیام قبلہ اول پر استیلاء اس منصوبہ کی پہلی اینٹ اور حرم محترم پر استیلاء اس کی آخری اینٹ اور مسلمانوں کا انتشار و افتراق اس کی تکمیل کا واحد ذریعہ ہے۔
اسلامی مفکرین نے اسکا ادراک بہت پہلے اس کے ابتدائی مرحلہ میں ہی میں کرلیا تھا اور اس سے ملت کو آگاہ بھی کردیا تھا لیکن طویل عرصہ تک حکمرانی اور عالمی غلبہ و استیلاء کی لذت بیخودی نے عوام اور حکم رانوں کو متنبہ ہونے سے باز رکھا لیکن اب چونکہ ہر بات طشت ازبام ہوچکی ہے اس لیے بیخودی کا خمار و نشہ کافور ہورہا ہے اور عالمی ملی ضمیر اتحاد و اتفاق کی ضرورت و اہمیت تدابیر اور اسباب و ذرائع پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے لگا ہے۔
ملی اتحاد کے ذرائع
باہمی صلح و اخوت اور ملی اتحاد کے لیے درج ذیل تدابیر اختیار کرنا زیادہ موزوں ہوگا۔
۱۔اتحاد و اتفاق کی اہمیت اور اس کے فوائد پر نیز گروہ بندی، تفرقہ پسندی اور باہمی اختلاف و نزاع کے عظیم دنیوی و اخروی نقصانات پر جامع اور مسبوط کتابیں مدون کرا کر ائمہ مساجد کے ذریعہ ان کی اشاعت کا بندوبست کیا جائے۔
۲۔فقہی اختلافات کی حقیقت اور ان کے تئیں صحابہ کرام تابعین اور ائمہ کے اقوال اور طرز عمل کو پمفلٹ کی شکل میں شائع کراکر ہر بستی میں تقسیم کیا جائے تاکہ ان کے قول و عمل کا عکس قلوب پر پڑسکے اور مسلکی نفرت و دوری میں کمی واقع ہو۔
۳۔بعض افراد عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ ائمہ کے اختلاف بے بنیاد اور دلائل سے خالی ہیں یا انتہائی کمزور اور ضعیف دلائل پر مبنی بلکہ بعض غلاۃ تو ائمہ اربعہ کے مسالک کو اناجیل اربعہ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مسالک خود ساختہ ہیں اور ان کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہے اور ہمارے لیے کتاب الہی اور سنت نبوی کافی ہے۔ اس طرز عمل سے ہر ہر بستی میں تفرقہ اور گروہ بندی قائم ہوتی چلی جارہی ہے لہذا فقہاء کے اختلاف کے اسباب پر لکھی گئی درج ذیل کتابوں کی بڑے پیمانے پر اشاعت ان غلط فہمیوں کا بڑی حد تک ازالہ کرسکتی ہیں، جیسے الانصاف فی مسائل الخلاف، رفع الملام عن الائمۃ الاعلام
۴۔فقہی توسیع کے حوالے سے لائحہ عمل کے طور پر سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہندوستان کے تمام مدارس دینیہ کےذریعہ اپنے نصاب میں فقہاء اربعہ اور دیگر مسالک فقہیہ کو حق بجانب سمجھتے ہوئے فقہ مقارن سے خوشہ چینی نہیں کی جائے گی اس وقت تک نہ اختلافی معاملات و مسائل کا شافی حل مل سکتا ہے اور نہ فارغین کے مابین وسعت نگاہ اور اعلی ظرفی آسکتی ہے۔
مدارس کا سروے اگر اس حیثیت سے کیا جائے تونتیجہ یہی نکلے گا کہ جن مدارس نے فقہ مقارن کو نصاب میں جگہ دی وہ مسلکی رواداری پیدا کرنے میں دوسروں سے آگے نکل گئے۔
۵۔اردوزبان میں ایک ایسے فقہی انسائیکلو پییڈیا کی تیاری جس میں ہر ہر مسئلہ پر عہد صحابہ سے عہد فقہاء تک کے جملہ اقوال ان کے دلائل اور وجوہ استنباط اور مختلف فیہ اقوال کے درمیان جمع و تطبیق کی صورتیں بیان کی جائیں تاکہ جملہ مسالک کے تئیں احترام کے جذبات پیدا ہوں اور ہر شخص دلائل کی روشنی میں جس رائے کو مضبوط اور راجح پارہا ہو اس پر عمل کرسکے اور دوسروں کے نقطہ نظر کا بھی احترام کرسکے۔
۶۔اتحاد کی بنیاد دین اسلام کے مشترکات پر رکھی جائے (وحدانیت، اسلامی اخوت و مساوات، ارکان ایمان و ارکان اسلام ) جو قطعی ہیں اور اختلافی مسائل میں بحث و گفتگو کا دووازہ کھلا رکھا جائے۔ اس بات کی جد و جہد کی جائے کہ ملت کے افراد کے درمیان ربط و تعلق کو مضبوط بنایا جائے۔ نظریاتی اعتبار سے مشترکہ افکار کو فروغ دے کر روحانی اعتبار سے اللہ کی خوشنودی کے لیے اخوت و بھائی چارہ کو فروغ دے کر اور اخلاقی اعتبار سے باہم انکسار و تواضع اور رواداری نیز ریاکاری نمود و نمائش سے پرہیز دوسرے لوگوں کی بظاہر غلطیوں کو عذر پر مبنی سمجھنے اور دوسروں کے نقطہائے نظر کے احترام کو فروغ دے کر اور جہاں تک ممکن ہو تنظیمی اتحاد کو فروغ دے کر ان تمام نظریات کا احترام و لحاظ رکھا جائے جو مدلل ہوں اور تمام فقہی مذاہب میں باب اجتہاد کھلا رہے۔مذاہب کے مجتہدین کے درمیان اجتہاد اور تبادلہ نظر کی آزادی بہت سے نظریات کو آپس میں نزدیک کرتی ہے یہاں تک کہ ہر ایک دوسرے کے بعض نظریات کے صحیح ہونے کا احتمال دیتا ہے یا کم سے کم ان مذاہب کے علماء کو اپنے فتوے میں معذور سمجھتا ہے۔
۷۔جامع الاحادیث الفقھیۃ یا اسی جیسے کسی اور نام سے احادیث کے ایک ایسے مجموعے کی تدوین ہو جس میں شیعوں کی روایات بھی لکھی جائیں اور متعارض روایات و احادیث کے درمیان ایسی جمع و تطبیق دی جائے کہ ہر ایک محل متعین ہوجائے اور تعارض دفع ہوجائے، چند احادیث کے درمیان جمع و تطبیق کی مثالیں ملاحظہ ہوں۔
۸۔اسلامی مذاہب کی ایک ایسی یونیورسٹی کی تاسیس جس میں فقہ کلام اور قرآن اور حدیث میں عالم اسلام کے تمام مذاہب کے ماننے والے افراد کی تربیت کرکے ان کو متخصص بنایا جائے۔ اس یونیورسٹی کا ہر طالب علم اپنے مذہب(مسلک) کا پابند ہونے کے ساتھ دوسرے مذاہب کے نظریات سے مکمل طور پر آگاہ اور مذاہب کے نکات و اختلاف و اشتراک اور ان کی دلیل سے واقف ہوگا اور صرف اسلام کے بارے میں سوچے گا نہ کہ اپنے خاص مذہب کے بارے میں یہ فارغ التحصیل افراد اسلام کو کسی ایک مذہب کے تنگ و تاریک غار سے نجات دیں گے۔
۹۔اسلامی فقہ اکیڈمی نئی دہلی، مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء اور ادارہ مباحث فقہیہ دہلی، جمعیۃ العلماء ہند اور ادارہ تحقیقات اسلامی علی گڑھ کو مزید فعال بنایا جائے۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب نے جس دلسوزی اور جانفشانی سے ہزاروں علماء اور فقہاء کرام کو اجتماعی غورو فکر اور اختلافی مسائل سے نبرد آزمائی کا جو سلیقہ سکھایا اسے نئی اسپرٹ کے ساتھ باقی رکھنے کی بھرپور کوشش کرے اور اسے فعال بنانے میں تجربات کی روشنی میں کمیوں کی تلافی کی جائے تاکہ اسلامی رواداری کی یہ خوش گوار روایت ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرلے اور ملت اسلامیہ کو اس کی شاخیں اپنے گھنے سایوں میں لے کر پھٹے ہوئے دلوں کو ایک کردے۔
۱۰۔اس وقت اتحاد اسلامی کا سب سے عظیم مظہر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے جو معروف معنوں میں پورے ہندوستانی مسلمانوں اور ان کے ہر حصہ کی نمائندہ تنظیم ہے جو اپنی اور بالخصوص پرسنل لاء کے معاملہ میں واحد وکیل اور نمائندہ ادارہ ہے، جس کی بات پورے ہندوستان کے مسلمان مانتے ہیں۔ آج اگر پرسنل لا کے معاملہ میں حکومت اس ادارے کو چھوڑ کر کسی اور ادارے سے بات کرے تو یہ بات مسلمانوں کو کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ ضرورت اس ادارے کو اور وسیع، فعال اور مستعد کرنے کی ہے تاکہ یہ واقعتاً ایک موثر ادارہ بن سکے۔ پرسنل لا بورڈ کی شاخیں ریاست تعلقہ اور تحصیل تک پھیلی ہونی چاہئے اورجو وسعت نظری مرکزی بورڈ بنانے میں دکھائی گئی ہے اسی وسعت نظری کے ساتھ نچلی سطح کی اکائیوں کو بھی منظم کیا جانا چاہئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *