اختلاف میں اعتدال

اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں مسلمان ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ اشتراکی نظام کی تباہی کے بعد پوری دنیا نے اسلام کے خلاف کمر کس لی ہے اور اس مقصد کے لیے مشرق و مغرب کے روایتی حریف و رقیب بھی ایک دوسرے سے ہاتھ ملا چکے ہیں۔ خود ہماری ملک میں میں جن لوگوں کو دریا کے دو کنارے کہا جاتا تھا انہوں نے بھی اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنے فاصلے ختم کر لیے ہیں۔ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے دو باتیں نہایت ضروری ہیں؛ایک اتحاد و اتفاق ،دوسری حکمت و تدبیر۔
اتحاد و اتفاق کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امت میں کوئی اختلاف ہی باقی نہ رہے، اختلاف رائے پہلے بھی رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اور اس کے باقی رہنے میں ہی خیر ہے۔ لیکن اختلاف فکر نہ اتحاد عمل میں مانع ہے، نہ باہمی توقیر و احترام میں۔ اگر ہم نے اس بات کو نہیں سمجھا تو یہ ایسی بدبختی کی بات ہوگی کہ شاید اس کی تلافی ممکن نہ ہو اور تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ مسلمانوں کے باہمی اختلاف کچھ تو عقائد میں ہیں اور زیادہ تر عملی احکام میں۔عقائد میں بعض اختلاف یقینا گمراہی کے قبیل سے ہیں لیکن جو لوگ اہل سنت و جماعت کی راہ سے منحرف ہوں ان کو بھی کافر کہنے میں سلف صالحین نے بہت احتیاط کاثبوت دیا ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کو باوجود ان کے فساد فکر و عمل کے کافر قرار دینے سے اجتناب فرمایا۔معتزلہ سے دسیوں اعتقادی مسائل میں اختلاف کے باوجود اہل علم نے ان کی تکفیر سے گریز کیا اور قدریہ و جبریہ وغیرہ کا شمار تقدیر کے مسئلہ میں اہل سنت و جماعت سے سخت اختلاف کے باوجود بھی مسلمان فرقوں میں کیا گیا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سلف کے اختلاف رائے میں کس قدر اعتدال تھا!
خود اہل سنت وجماعت کے درمیان بھی بعض اعتقادی مسائل میں اختلاف رہا ہے اور یہ عہد صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باری تعالی کو دیکھنے کے قائل تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس سے انکار تھا۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اس کے قائل تھے کہ مردہ پر اس کے اہل وعیال کے رونے سے عذاب ہوتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی تردید کرتی تھیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کی رائے تھی کہ مردے سنتے ہیں اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کے قائل نہیں تھے۔ یہ اختلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد بھی صدیوں اہل علم ،بلکہ عوام کے درمیان بھی زیر بحث رہا۔
بعد کے ادوار میں جب اسلام کے اعتقادی تصورات علم کلام کے نام سے مرتب کیے گئے تو اصولی مسائل میں اتحاد کے باوجود ان عقائد کی تشریح و توضیح اور تعبیر و تفہیم میں خاصا اختلاف پیدا ہوا اور اشعری، ماتریدی اور حنبلی دبستان فکر ابھرے۔ لیکن اس اختلاف نے کبھی جھگڑے اور نزاع کی صورت اختیار نہیں کی۔ لوگ ایک دوسرے سے علمی استفادہ کرتے، ان کی اقتدا میں نماز ادا کرتے، ان کے علم و فضل ،ورع اور تقوی کا بر ملا اعتراف کرتے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس طرح کے مسائل کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سلف اس بات پر متفق تھے کہ اس کی وجہ سے کسی کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
’’اتفقوا علی عدم التکفیر بذلک‘ (مجموعۃ الفتاوی:۱۲/۴۹۵)
دوسری قسم کا اختلاف وہ ہے جو فقہی مسائل میں پیدا ہوا ہے۔ یہ اختلاف عہد صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہے اور جو اختلاف صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور میں رہا ہے، اس کے باقی رہنے میں خیر ہی ہے نہ کہ شر۔ غور کیا جائے تو اس اختلاف کو باقی رکھنا خو د اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا ہے اور یہ بات ادنی غور و تامل سے معلوم ہو سکتی ہے، مثلاً اللہ تعالی نے وضو میں سر کا مسح کرنے کا حکم ان الفاظ میں دیا ہے (وامسحوا برؤوسکم) یہاں لفظ ’’ب‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ ’’ب‘‘ کے معنی عربی زبان میں ’’بعض ‘‘یعنی کچھ حصہ کے بھی ہوتے ہیں اور ’’ب‘‘ زائد بھی ہوتی ہے۔ پہلی صورت میں معنی ہوگا سرکے بعض حصہ کا مسح کر لو اور دوسری صورت میں معنی ہوگا کہ پورے سر کا مسح کرو۔ چنانچہ بعض فقہا پورے سر کے مسح کو ضروری قرار دیتے ہیں اور دوسری رائے کے مطابق سر کے کچھ حصہ کا مسح کافی ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کے علم میں ’’ب‘‘ کے یہ دونوں معنی پہلے سے موجود ہیں۔ اگراللہ چاہتے تو ’’بعض ‘‘کا لفظ استعمال فرماتے اور متعین ہو جاتا کہ پورے سر کا مسح ضروری نہیں۔یا ’’کل‘‘ کا لفظ ارشاد فرماتے اور یہ بات پوری طرح بے غبار ہو جاتی کہ پورے سر کامسح کرنا فرض ہے، لیکن خدائے علیم و خبیر نے اس صراحت کے بجائے اپنی کتاب میں ایک ایسا لفظ ذکر فرمایا جس میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایسے مسائل میں اختلاف رائے کاباقی رہنا خود منشائے ربانی ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں عورت کی عدت کے لیے تین ’’قروء‘‘ گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ’’قرء‘‘ کے معنی حیض کے بھی ہیں اور زمانہ پاکی کے بھی ۔ اسی لیے بعض فقہا نے تین حیض مدت قرار دی ہے اور بعض نے تین پاکی ۔ظاہر ہے کہ ’’قرء‘‘ کے دونوں معانی اللہ تعالی کے علم محکم میں پہلے سے تھے، اگر اللہ تعالی کا یہ منشا ہوتا کہ احکام شرعیہ میں کوئی اختلاف رائے نہ ہو تو قرآن میں بجائے ’’قرء‘‘ کے صریحاً ’’حیض‘‘ یا ’’طہر‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا۔ یہی صورت حال احادیث نبویہ میں بھی ہے ۔ مثلاً آپ صلی اللہ علے ہوسلم نے ارشاد فرمایا کہ حالت اغلاق کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اغلاق کے معنی جنون و پاگل پن کے بھی ہیں او راکراہ ومجبوری کے بھی۔ چنانچہ اپنے اپنے فہم کے مطابق بعضوں نے ایک معنی کو ترجیح دی ہے اور بعضوں نے دوسرے معنی کو۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب یعنی عرب کے سب سے زیادہ فصیح شخص تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ایسی واضح تعبیر اختیار فرماتے کہ ایک ہی معنی متعین ہو جاتا،دوسرے معنی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
ایک ہی واقعہ میں مختلف مواقع پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف عمل ثابت ہے۔ جیسے نماز ہی کو لے لیجئے کہ تکبیر تحریمہ میں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کانوں تک ہاتھ اٹھایا، کبھی مونڈھوں تک اور کبھی ان دونوں کے درمیان؛ دونوں ہاتھ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا نماز ہی میں اٹھائے ہیں، کبھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد بھی، کبھی دو سجدوں کے درمیان اور دوسرے مواقع پر بھی؛ ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ناف کے نیچے باندھے ہیں اور کبھی ناف سے اوپر؛ آمین کبھی آہستہ کہی اور کبھی زور سے؛ قعدہ میں کبھی پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے ہیںاور کبھی کولہوں پر؛ عیدین میں کبھی چھ تکبیرات زوائد کہی ہیں کبھی اس سے زیادہ ،یہ خدانخواستہ تناقض اورتضاد نہیں، بلکہ اس کا مقصد توسع اور فراخی ہے۔
یہ اختلاف رائے چنداں برا نہیں، اسی لیے علامہ ابن قدامہ نے اپنی شہرہ آفاق تالیف ’’المغنی‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ فقہا کا اتفاق حجت قاطعہ ہے او راختلاف ’’رحمت واسعہ‘‘ (اتفاقہم حجۃ قاطعۃ اختلافہم رحمۃ واسعۃ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوتے مشہور فقیہہ قاسم بن محمد فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے اختلاف سے فائدہ پہنچایا ہے کہ انسان ان میں سے کسی کی رائے پر عمل کرلے تواسے خیال ہوگا کہ اس میں گنجائش ہے اور اس سے بہتر شخص نے اس پر عمل کیا ہے۔ (جامع بیان العلم لابن عبدالبر:۲/۸۰)
طلحہ بن مصرف رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان کے سامنے فقہا کے اختلاف کا ذکر کیاجاتا تو فرماتے، ’’ اسے اختلاف کا نام نہ دو، بلکہ اسے فراخی اور گنجائش کہو۔‘‘ (لا تقولا الاختلاف ولکن قولا: السعۃ) (حلیۃ العلما:۵/۱۱۹)
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ ایک صاحب نے فقہا کے اختلاف کی بابت ایک کتاب تالیف کی، تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کو ’کتاب اختلاف‘ کا نام نہ دو بلکہ اسے وسعت و فراخی کی کتاب کہو۔’’لا تسمہ کتاب الاختلاف ولکن سمہ کتاب السعۃ‘
‘(مجموعہ الفتاوی:۳۰/۷۹)
یہی وجہ ہے کہ فقہا کے درمیان یہ اختلاف کبھی باہمی توقیر واحترام اور ان کے مرتبہ و مقام کے اقرار و اعتراف میں مانع نہیں ہوتا تھا۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ شام کے مشہور فقیہ ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں انہیں بعض غلط فہمیاں تھیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں امام صاحب کے شاگرد امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے انہوں نے کچھ دریافت کیا۔ ابن مبارک رحمہ اللہ نے حکمت سے کام لیتے ہوئے خاموشی اختیار کی اور اگلے روز امام صاحب سے سنے ہوئے کچھ مسائل کو تحریر کرکے اس پر شیخ نعمان بن ثابت جو امام صاحب رحمہ کا اصل نام تھا اور جس سے عام طور پر لوگ واقف نہیں تھے، تحریر فرما کر امام اوزاعی رحمہ اللہ کو پیش کیے۔ امام اوزاعی پڑھ کر بہت متاثر ہوئے اور ابن مبارک رحمہ اللہ سے ان مضامین کی بہت تعریف کی۔ ابن مبارک رحمہ اللہ نے بتایا کہ یہی اصل میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں۔ پھر جب حج کے موقع پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام اوزاعی رحمہ اللہ دونوں بزرگوں کی ملاقات ہوئی اور امام صاحب سے بالمشافہ ملاقات ہوئی تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے برملا اعتراف فرمایا کہ مجھے اس شخص پر ان کی کثرت علم اور وفور عقل کی وجہ سے رشک آیا۔ میں اللہ سے مغفرت کا طلب گار ہوں، میں ان کے بارے میں نہایت واضح غلط فہمی میں مبتلا تھا، مجھے ان کے بارے میں جو کچھ بات پہنچی ہے، یہ تو اس کے بالکل برخلاف ہیں اور ابن مبارک رحمہ اللہ کو ہدایت فرمائی کہ ان کاساتھ نہ چھوڑو۔
(مناقب ابی حنیفہ للکردری:۴۵)
اس سلسلہ میں امام مالک رحمہ اللہ اور امام لیث رحمہ اللہ کی باہمی مراسلت اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کی رعایت کے بارے میں خاص کر اس دور کے اہل علم کے لیے پڑھنے کی چیز ہے، جس سے غور وفکر کا ایک نیا منہج سامنے آتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد یونس بن عبدالاعلی صدفی ہیں، ان کا ایک بار اپنے استاذ امام شافعی رحمہ اللہ سے ایک مسئلہ میں مباحثہ ہو گیا اور دونوں کسی ایک رائے پر متفق نہ ہو سکے، پھر جب امام شافعی رحمہ اللہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو امام صاحب رحمہ اللہ نے ہاتھ تھاما اور فرمایا کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ گو ایک مسئلہ میں بھی ہمارا تفاق نہ ہو لیکن پھر بھی ہم بھائی بھائی بن کر رہیں؟ (الا یستقیم ان نکون اخوانا وان لم نتفق فی مسئلۃ؟)(سیر اعلام النبلاء:۱۶…۱۰۰)یہ تھا ہمارے سلف صالحین کا طرز اختلاف!
یوں تو صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد کے ادوار میں سیکڑوں فقہا مقام اجتہاد پر فائز تھے، لیکن ان میں سے ائمہ اربعہ کو ایسے شاگرد ملے کہ انہوں نے اپنے تمام اساتذہ کی آراء کو جمع کر دیا۔ ان ائمہ اربعہ کی فقہ، کتاب وسنت کا نچوڑ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے فتاوی کا خلاصہ ہے۔ اس نے قرآن وحدیث کے دائرہ میں آنے والے تمام مفاہیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں کو نہایت ہی خوبی کے ساتھ جمع کر لیا ہے، چنانچہ کم سے کم گیارہ سو سال سے امت ان مکاتب فقہ پر متفق ہے اورر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ امت کبھی غلط بات پر اکٹھی نہیں ہو سکتی اور ان کو دین کا شارح مان کر ان کی تشریحات کو قبول کیا گیا ہے، نہ یہ کہ ان کو شارع کا درجہ دیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ دور فتنہ اور خواہش نفس کے اتباع کا ہے اس لیے اہل علم نے ان میں سے کسی ایک فقیہ کی تشریحات کو مشعل راہ بنانے کا حکم ضرور دیا ہے لیکن کبھی کسی نے حق و صواب کو ان میں محدود و محصور نہیں سمجھا۔ اسی لیے خود احناف نے کئی مسائل میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی آراء اور شوافع نے امام شافعی رحمہ اللہ کی آرا کے خلاف فتاوی دیے ہیں اور ان مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان کبھی کوئی نزاع، جنگ و جدال اور ایک دوسرے کی مذمت واہانت کی نوبت نہیں آئی۔ اس ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ میں مختلف قومیں دامن اسلام میں آئیں، لیکن ان کو کبھی یہ فیصلہ کرنے میں دقت پیش نہیں آئی کہ وہ کس فقہ پر عمل کریں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ امت میں دین کے مزاج و مذاق کے بارے میں صحیح فہم تھا، وہ جانتے تھے کہ یہ دین کے اصول و بنیا داور اساس نہیں ہے۔ بلکہ ایسے مسائل ہیں جن میں ایک سے زیادہ رائے کی گنجائش ہے۔ ان میں ایک رائے پر اصرار اور دوسری رائے کے بارے میں عناد کا رویہ رکھنا صحیح نہیں۔ اس لیے انہوں نے اس اختلاف کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ علما کا تو کیا سربراہان مملکت، جن کااصل میدان سیاست ہے ، نہ کہ علم و تحقیق، ان کا ذہن بھی اس بارے میں بہت واضح تھا۔ علامہ ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں مامون الرشید کا ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے۔ مامون کے زمانہ میں ایک شخص عیسائیت کی طرف مرتد ہو گیا۔ مامون نے اس پر سزا جاری کرنے سے پہلے اس کو مطمئن کرنے کی غرض سے دریافت کیا کہ تمہارے مرتد ہونے کا کیا باعث ہے؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کا اختلاف۔ مامون نے کہا کہ ہمارے اختلاف دو طرح کے ہیں، ایک تو جیسے اذان کے کلمات، جنازہ کی تکبیرات اور تشہد وغیرہ کے بارے میں۔ تو یہ اختلاف نہیں، بلکہ تنگی کے بجائے توسع اور تخفیف ہے۔ اس لیے جو اذان واقامت کے دہرے کلمات کہتا ہے وہ اس شخص کو غلط قرار نہیں دیتا جو اقامت کے اکہرے کلمات کہتا ہے۔ ان فقہی اختلافات کی وجہ سے نہ ہم ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں اور نہ برا بھلا کہتے ہیں’’لا یتعایرون بذلک ولا یتعاتبون‘‘ دوسرا اختلاف وہ ہے جو کسی آیت یا حدیث کی تشریح میں ہوتا ہے، اگر تم کو اس سے وحشت ہے تو تورات وانجیل کی تشریح میں بھی علمائے یہود ونصاری متفق نہیں ہیں۔ کیونکہ جب کوئی بات تفصیل طلب ہوگی تو اس کی تشریح میں یقیناً اختلا ف کا امکان ہوگا۔ اگر اللہ کو یہ بات منظور ہوتی کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف ہی نہ ہو تو اللہ نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی بات نازل نہ کی ہوتی جو تفسیر و تشریح کی محتاج ہو۔ مامون کی اس بات نے اس شخص کے ذہن کی گتھی کھول دی اور وہ فورا ًارتداد سے تائب ہو گیا۔
(عیون الا خبار:۲/۱۵۴،الرد علی الملحدین)
غرض کہ کچھ مسائل میں اختلاف رائے عہد صحابہ رضوان اللہ علیہم سے ہے۔یہ اختلاف امت کے لیے رحمت ہے او ریہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا کے عین مطابق ہے۔ اس اختلاف کو مذموم سمجھنا سلف کے طریقہ کے بھی خلاف ہے اور عقل سلیم کے بھی مغائر۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اختلافات کے معاملہ میں انسان کا قلب وسیع ہو، تمام سلف صالحین کے بارے میں اس کی زبان محفوظ اور اس کا قلم محتاط ہو، وہ صلحائے امت کے اختلاف کے بارے میں حسن ظن رکھے اور اختلاف رائے کو برداشت کرے۔ یہ وہ مسائل نہیں ہیں جن کی امت پر تبلیغ کی جائے اور اس کو اپنی دعوت کا موضوع بنایاجائے۔ اسی طرح اعتقادی احکام کی تشریح میں اہل سنت و جماعت کے درمیان جو معموملی سا اختلاف ہے اور اکثر یہ اختلاف محض تعبیر کا ہوتا ہے ان میں غلو اور ان کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ قراردینانہایت ہی مذموم اور ناشائستہ بات ہے۔
جیسا کہ ایک زمانہ میں مغرب کی استعماری طاقتوں نے ان غیر اہم مسائل کو مسلمانوں میں اختلاف بھڑکانے اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا ذریعہ بنایا تھا اسی طرح اس وقت بھی اسلام کے مخالفین اس قسم کے مسائل میں امت کو الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس قدر مسلمانوں کا شیرازہ منتشر ہوگا ان کی راہ آسان ہوگی۔ وقت کی لکیر کو نہ پڑھنا اور غیر اہم باتوں میں اپنے آپ کو الجھا کررکھنا کسی قوم کے انحطاط کی علامت ہوتی ہے۔ ہمیں تاریخ کا وہ واقعہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب مسلمان فوجیں صلیبیوں کو شکست دے رہی رتھیں تو عیسائیوں کے درمیان اس موضوع پر مناظرہ کا بازار گرم تھا کہ زمین افضل ہے یا آسمان؟ کہیںہم اسی تاریخ کو دھرا تو نہیں رہے ہیں۔۔!؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *