اقصیٰ کی بازیابی ’’امت‘‘ کی بحالی

اسلام میں پانچ ایسی ٹھوس بنیادیں ہیں جن کی بدولت امت مسلمہ ایک متحدہ امت قرار پاتی ہے اور ان کے درمیان الفت اور محبت پیدا ہو جاتی ہے: عقیدۂ اسلام، شریعت مطہرہ، ثقافت، تصورِ امت اور دارالاسلام۔
”امت کا تصور“ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں اسلام لانے والی ہر قوم، ہر وطن، نسل اور رنگ کا انسان اپنے اندر ایک وحدت کا شعور رکھتا ہے۔ نبی علیہ السلام کے اس فرمان کے مصداق کہ: تمہاری مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کے کسی ایک عضو میں ٹیس اٹھتی ہے تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ جب بھی کسی خطے سے کسی مظلوم مسلمان کی فریاد (وااِسلاماہ!) بلند ہوتی ہے تو یہ آواز پوری امت سنتی ہے خواہ کوئی مسلمان دنیا کے کسی دور دراز گوشے میں ہی کیوں نہ رہتا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کو وحدت کے حوالہ سے اتنی عظیم الشان اور مقدس قدریں حاصل ہیں کہ وہ انکی بدولت ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیتی ہے جو کوئی دوسری قوم ہزاروں سال میں بھی نہیں دے سکتی۔ جب امت اپنے اصولوں پر راسخ تھی تو اس امت نے محض اسی80 برسوں میں دنیا کے ایک نہایت وسیع خطے پر وہ اثرات ڈال دیے تھے جو اس سے پہلے روما کی شہنشاہت آٹھ صدیوں میں نہ ڈال پائی تھی۔ پھر اسلامی فتوحات روما کی طرح استعماری عوامل کے زیر اثر بھی نہیں تھیں۔ حق یہ ہے کہ اسلامی قلمرو میں آنے والے خطے تاریخ میں پہلی بار آزادی سے روشناس ہوئے۔ اسلامی فتوحات غلامی سے آزادی کا پروانہ ہوا کرتی تھیں۔
البتہ جب مسلمانوں کی جانب سے لوگوں کو آزادی کی فضاؤں سے روشناس کرنے کی بجائے ان سے وہی سلوک کیا جانے لگا جو بادشاہ اپنی رعایا سے کرتے ہیں تو اعداء ان پر مسلط ہو گئے۔ دو صدیوں تک عالم افرنگ نے صلیبی جنگوں ( 489ھ۔690ھ) سے نہ صرف اسلامی پھیلاؤ میں رکاوٹ ڈال دی بلکہ کچھ ہی عرصے بعد تاتاریوں نے مسلمانوں کی عظمت خاک میں ملا دی۔ اسکے بعد مسلمانوں نے دوبارہ ہدایت کی راہ اختیار کی تو ایک مرتبہ پھر انہوں نے اتنی قوت ( سلطنت ممالیک اور بعد ازاں سلطنت عثمانیہ )حاصل کرلی کہ جسکی وجہ سے صدیوں تک استعمار انکے خطوں میں داخل ہونے کی جرأت نہ کر سکا۔
جب مسلمان اپنے مقدس اصولوں پر مجتمع تھے تو نہ صرف وہ دس صدیوں تک دنیا کی سب سے بڑی قوت رہے بلکہ علم و ترقی اور ثقافت میں بھی وہ دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوم تھے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا کی تاریخ میں اگر’ فرسٹ ورلڈ ‘کی کوئی اصطلاح ہے تو وہ گزشتہ میلینم میں مسلمان تھے۔ یہ وہی زمانہ تھا جس میں یورپ جہالت اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
سقوط غرناطہ ( اسپین ) ( 1492ء) کے بعد مسلم خطوں پر مغربی استعمار کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد نپو لین ( 1798ء) نے مسلمانوں کے مرکزی علاقوں پر حملہ کیا اور ایک کے بعد دوسرا خطہ استعمار کی جھولی میں گرتا چلا گیا۔ زوال کی انتہاء یہ ہوئی کہ 1924ءمیں عثمانی خلافت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔ کاش سقوط خلافت صرف سیاسی زوال ہوتا۔ مغربی استعمار نے نہ صرف سیاسی غلبہ حاصل کرلیاتھا بلکہ ان کے ہاں جو اجتماعیت کے گھٹیا اصول تھے، مانند وطن پر ستی، قوم پرستی اور دوسری نسلوں سے نفرت وغیرہ، یہ سب زہر امت کے جسد میں گھول دیے گئے۔
مسلم امہ کی ذہنی ساخت تبدیل ہونے کے بعد وہ وحدت کے اصولوں سے نا آشنا ہو گئے اور ہر علاقہ، ہر خطہ اور ہر جغرافیائی اکائی صرف اپنی آزادی اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے لگی؛ اجتماعی شعور سے کوسوں دور اور گردو پیش سے تغافل برتتے ہوئے۔
مسلمانوں کی وحدت تو پہلے ہی دوسرے اجنبی شعاروں کی وجہ سے پارہ پارہ تھی اس پر مستزاد استعمار نے مسلمانوں کے مرکز اور مقدس مقام میں صہیونی ریاست کا ناسور کھڑا کردیا۔ امت مسلمہ کی وحدت اور شعوری بیداری کے امکان کو ختم کرنے کے لئے عالم اسلام کے وسط میں صہیونی ریاست کا وجود استعمار کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ عرب اتحاد ہو یا عالم اسلام کا اتحاد ہو اس میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل ہے۔
جہاں تک استعماری ہتھکنڈوں کا تعلق ہے جن کے ذریعے استعمار نے وحدت امت کے تصورکی بجائے دوسرے ’ ازم ‘ عالم اسلام میں داخل کیے. تو مغرب کی یہ خدمت عالم اسلام میں سے چند سیاسی ضمیر فروش لوگوں نے کی ہے۔ جہاں تک باشعور مسلم عوام ہیں تو وہ اب بھی قومی، وطنی یا نسلی اکائیوں کو نہیں مانتے ہیں اور امت کے اجتماعی وجود کا تصور اپنے قلب و شعور میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلہ فلسطین ( جہاں الم ناک ہے وہاں ) اس مسئلے نے امت کے وحدت کے شعور کو بھی بیدار رکھا ہوا ہے۔ صہیونی عزائم سے بھی عوام مسلمان اس لیے باخبر ہیں اور اسے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ فلسطین میں صیہونی ریاست موجود ہے۔ فلسطین سے اہل اسلام کی تعلق داری محض اتنی نہیں کہ اس سر زمین کے باسی مسلمان ہیں اور اس پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ فلسطین میں القدس کا مقدس شہر ہے جہاں مسجد اقصیٰ ہے۔ اس خطہ کا مسلمانوں کے مقدس مقامات میں مسجد حرام کے ساتھ ذکر ہوتا ہے۔
مسئلہ فلسطین سے اہل اسلام کی وابستگی کی صرف ایک ہی بنیاد ہے اور وہ اسلام ہے۔ اس خطے نے اور مسلمانوں کے عقیدے نے انہیں ایک جسم کی مانند کردیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کی طرف اگر سواریاں کھنچی چلی جاتی ہیں ( تین مسجدوں کا قصد کرکے سفر کرنا ہمارے دین میں بہت بڑی نیکی کا کام ہے بلکہ ان تین مسجدوں کے علاوہ قصد کرکے کسی عبادت گاہ کا رخ نہیں کیا جاسکتا ؛ مسجد حرام مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ ) تو ارض فلسطین پر یہودی قبضے کی وجہ سے مسلمانوں کا شعور ایک جیسا ہے یہاں تک کہ عوام مسلمان اپنے خطے اور علاقے کے مسائل سے بھی زیادہ اہمیت اس مسئلے کو دیتے ہیں۔ (اسی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ملت اسلامیہ اگر متحدہ طور پر مسجد اقصی کا بازیاب کرلے تو امت کے اتحاد اور خلافت کے قیام کا راستہ صاف ہو جائے گا، ان شاء اللہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *