امت محمدیہﷺ میں نفرتوں کی آبیاری نہ کرو

حضور خاتم النبیین رحمۃ للعالمین حضرت محمد ﷺ کی ولادت مبارکہ کا مہینہ ایسے حالات میں آیا ہے کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےپرائے سب کی سازشوں اور اپنی تن آسانیوں کا شکار ہو گئی ہے۔ اس وقت باطل طاقتوں نے پورا زور امت مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں لگا رکھا ہے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ محاذ امت محمدیہ کا سب سے کمزور محاذ ہم نے بنا دیا ہے۔ ہمارے یہاں جو علمی فقہی، تاریخی اختلاف رائے تھا اس کو باطل طاقتوں نے ایک طاقتور ہتھیار میں بدل دیا ہے او ریہ ابلیسی طاقتیں اسلام دشمن ایجنسیوں کی بھر پور مدد اور رہنمائی میں منطم اور سرگرم ہیں۔ ملت میں ایمان فروشوں کی کمی نہیں ہے اور باطل کے پاس دینے لیے بہت کچھ ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ملت کے بیرونی دشمنوں نے ملت کے افراد کو ہی ملت کے انتشار اور اختلاف کے کام پر لگا کر اپنی سازشوں ،لوٹ کھسوٹ اور مظالم کے خلا ف پائی جانے والی نفرت پر قابو پاکر اس کا رخ ملت کے اندر منتقل کر دیا ہے۔ اب ہماری تمام توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اور دشمن کو صرف تھوڑے مالی وسائل یا وعدہ ہی خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایران، افغانستان، لبنان، عراق، مصر، بحرین وغیرہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ؛پاکستان میں جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کا گلا کاٹ کر جنت میں جانے کا دعویدار ہو رہا ہے؛ وہی ماحول وطن عزیز ہندوستان میں بھی بنایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ملت کا باشعور مذہبی حلقہ اس کا شکار پورے خلوص کے ساتھ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں یوپی کے جگدیش پورے میں سنی کانفرنس کا انعقاد ،آل انڈیا صوفی مشائخ بورڈ کی طرف سے کیا گیا جس کا ایجنڈہ سنت کی حفاظت اور وہابیت/سلفیت کی مخالفت بتایا گیا۔ اجلاس کی کارروائی جو اخبار میں دیکھنے کو ملی ہے اس میں مقررین کے لب و لہجہ سے ان کے مقاصد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صدر بورڈ نے کہا’’۔۔۔سعودی /قطری امداد و اعانت یافتہ وہابی/سلفی عناصر چار چیزوں پر قبضہ کرتے ہیں؛ اوقاف، امور حج و تعلیم اور عدلیہ۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ہندوستان میں وہ صرف کوشاں ہیںبلکہ سرکاری حلقوں، انتظامیہ اور افسر شاہی میں اپنی پہونچ کے ذریعہ انہوں نے یہ قبضہ بھی کر لیا ہے۔ وہابیت نے سنت کی نقاب اوڑھ رکھی ہے۔ یہ فکر ادھر ساٹھ ستر برسوں میں ہندوستان میں بہت مضبوط ہوئی ہے۔ اور اب سرکاری سرپرستی میں سنی مسجدوں اور مذہبی مقامات پر قبضہ کرکے وہابیت کے فروغ کی مضبوط اور مستحکم بنیادیں بنا رہی ہیں۔ ایک مذہبی عالم کا نام لے کر بتایا کہ وہ سنی مسجدوں پر وہابیوں کو قبضہ دلانے کا کھیل کھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور قطر پوری دنیا میں ایک ایسی فکر کو عام کر رہے ہیں جو انسانیت کے لیے کافی خطرناک ہے۔ مصر، شام، تیونس، لیبیا، مالی جیسے اسلامی ملکوں میں وہاں کی جمی جمائی حکومتوں کے خلاف عوامی ناراضگی گڑھ کر وہاں خلفشار پیدا کیا اور ہندوستان میں بھی ان کا یہی کرنے کا ارادہ ہے۔ ‘‘ بورڑ کے سیکریٹری صاحب نے فرمایا’’مصر میں وہاں کی فوج اور عوام نے وہابی/سفلی فکر کو اپنے پنکھ پرزے نکالتے دیکھ کر اقتدار سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔ مصر کے عوام اور فوج نے ملک کے اثاثہ کی حفاظت ضروری سمجھی۔‘‘(روزنامہ حالات وطن،20/12/13)
دوسری طرف دہلی کے ایک اردو اخبار میں علی گڑھ میں مقیم ایک مدنی عالم دین دن رات رافضی، بدعتی،تحریکی سرپھروں، اور مودودیوں کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ گروہ ہی عالم اسلام میں سیاسی و سماجی خلفشار کے ذمہ دار ہیں۔ اس تمام سازشی پروپگنڈہ میں کٹھ پتلیوں کے ذریعہ ملت کو کمزور کرکے اس کی ساری توانائی اور باطل کے خلاف نفرت کو دین اسلام کے دشمنوں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کارٹونوں، فلموں،ناولوں کے ذریعہ بے حرمتی کرنے والوں، قبلہ اول بیت المقدس پر قبضہ کرکے لاکھوں معصوم فلسطینیوں کو جبر و ظلم کا شکار بنانے والوں، عراق ،افغانستان پر ناجائز حملہ کرکے لاکھوں عورتوں، بچوں، بوڑھوں ،نوجوانوں کے قاتلوں اور گوانتاناموبے ،ابو غریب، بگرام کے عقوبت خانوں میں قرآن پاک کو غلاظت کے ساتھ فلش Flushکرنے والوں ،بابری مسجد شہید کرنے والوں، گجرات فسادات کے ذمہ داروں، مسلمانوں کو مذبہی بنیاد پر ریزرویشن نہ دینے والوں خلاف نہیں اکسایا گیا بلکہ ملت کے ہی ایک طبقہ کو جس کے ساتھ وہ ڈیڑھ ہزار سال سے رہتے آئے ہیں،ان کو دوسرے طبقہ سے لڑانے کےلئے اکسایا گیا ہے۔ نبی محترم ﷺ توفرماکر گئے کہ میری امت ایک جسم کی مانند ہے اور یہ سنّیت اور سنت کے محافظین ملت کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر آمادہ ہیں۔ ہندوستان میں وقف بورڈ، حج کمیٹی، اور اردو اکادمی کا انتخاب حکومت کرتی ہے، وہ جسے چاہتی ہے بناتی ہے اور ہر پارٹی اپنی سیاسی مصلحت دیکھتی ہے۔ اس میں بھی سعودی اور قطری حکومت کو لعن طعن کرنا صرف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ڈور کہاں سے ہلائی جا رہی ہے۔ روزنامہ ہمارا سماج کی اطلاع 25/12/13کہ کانگریس نے منشور کی تیاری کے مشورہ کے لیے جن مسلمان نمائندوں کوبلایا تھا ان میں سنی کانفرنس کے روح رواں موجود تھے اور جمعیۃ العلما ،پرسنل لا بورڈ، مشاورت وغیرہ کا کوئی نمائندہ نہیں تھا۔ اس سلسلہ میں اخبار مذکور نے ایک مرکزی وزیر کا نام بھی لکھا ہے۔
ایک طرف ہمارے ایمان فروش لوگوں کا یہ حال دوسری طرف اغیار کی ہوشمندی دو اہم بین الاقوامی معاملات میں دیکھنے کو ملی۔ ایران سے ایٹمی معاملات میں ساری غیر مسلم طاقتیں چین، روس، امریکہ، یورپ ایک ہو گئے اور اس کے ایٹمی پروگرام پر روک لگوا دی گئی۔ دوسرا اہم ترین معاملہ شام میں کیمیائی اسلحہ کے ذریعہ 1200 سے زائد ہلاکتوں کا تھا۔ جس میں 300 سے زیادہ معصوم بچے بھی شامل تھے۔ اس حملہ پر جس طرح امریکہ، روس اور چین نے پینترے بازی کی وہ انسانی ہمدردی کی تاریخ کا سیاہ ترین ورق ہے۔ پہلے امریکہ بہادر کارروائی کی بات کرتے رہے ؛پھر رپورٹ کی بات کرتے رہے؛پھر ماہرین کی بات آئی؛ سب کچھ واضح ہونے کے بعد بھی شام پر کوئی حملہ نہیں ہوا جس طرح عراق اور افغانستان پر ہوا تھا۔ صرف شام کے ہتھیار ضائع کرانے پر سب متفق ہوگئے۔ مگر 1200 معصوم جانوں سے کھلواڑ کرنے کی سزا یہ دنیا کے منافقین نہیں دلوا پائے۔ اور دنیا کے یہی طواغیت اپنے شاہوں، صوفیوں، مشائخ، امیران جماعت امت محمدیہﷺ کو انتشار آمیز ایجنڈہ پر عمل درآمد کے لئے سُپاری دے کر آرام سے مزے لے رہے ہیں۔ کس طرح قوم و ملت کی محنت کا پیسہ صرف کرکے کانفرنسیں منعقد ہورہی ہیں ؛ ملت کے زعماء ایک دوسرے کے خلافآگ اگل رہے ہیں اور شکوہ اور انصاف کے لئے اسی دوا فروش کے پاس جاتے ہیں جس نے سازشاً ملت کو اس مرض میں مبتلا کیا ہے۔ ملت کا ہر گروہ اغیار کی ناز برداری کرنے کو تیار ہے؛ ان کے جوتے کھانے کو تیار ہے؛ ان سے اپنی بے وقعتی کرانے کو تیار ہے۔ کوئی ان کی ٹوپی پہننے سے سرِ عام لاکھوں کے مجمع میں انکار کردیتا ہے؛ کوئی ان کو ویزا نہیں دیتا ہے؛ کوئی ان کو ننگا کرکے تلاشی لیتاہے، مگر ان کے خلاف ہمارے یہ آگ اُگلنے والے ایمان فروش رہنما بھیگی بلّی بن جاتے ہیں۔ جبکہ ضرورت ہے کہ پوری امّت محمدیہ ﷺ اکٹھا ہوکر رسولِ رحمتﷺ کے پیغامِ محبت، ایثار، اجتماعیت، اکرامِ مسلم او ررحمت و وسعت کے ساتھ باہمی اختلاف کو گوارہ کرے اور دنیا کو عدل، انصاف اور ایمان کی برکتوں سے مالامال کرائے۔ امت محمدیہﷺکی تشکیل میں محبوبِ خداؐکا خون، پسینہ، دن رات کی محنتیں، طائف کی تکلیفیں، احد کی اذیّت، صحن کعبہ میں گردنِ مبارک پر اونٹ کی اوجھ کا بوجھ، احزاب کا فاقہ، شب کی مناجاتیںکیا اسی لئے لگی ہیں کہ اسے بیرونی دشمنوں کے ایجنڈہ پر عمل کرکےامت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے۔ جب امت کی وحدت کی بنیاد اللہ اور رسول اللہﷺ کی اطاعت اور اتباع میں رکھ دی گئی ہےاور عملی معاملات میں اختلافات کی گنجائش پچھلے چودہ سو سال میں ہمیشہ رہی ہے، تو ہمیں اتحاد کے لئےاور کیا بنیادیں درکار ہیں؟
انتشار کا نتیجہ ہمیشہ بے عزتی، عصمت دری، بہو بیٹیوں کی عزت کا لُٹنا، حکومتوں کا ختم ہونا اور ہوا اُکھڑ جانا ہی ہوتا ہے۔ یہ ہم تاریخ میں ہمیشہ دیکھتے رہے ہیں؛ بغداد میں بھی دیکھا؛ بوسنیا میں بھی دیکھااور گجرات و مظفر نگر میں بھی دیکھا۔ اللہ کےمحبوب رسول اکرمﷺ کو کیا منھ دکھائیں گےاگر ان زندگی بھر کی کمائی کو لٹانے کا ہم ذریعہ بنیں گے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *