امت کا انتشار کوئی معشوق ہے اس پردۂ ژنگاری میں

قرآن نے جس گروہ کو امت خیر اور امت وسط کہا ہے اس کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ بھی وہیں کر دیا گیا ہے۔ الحمد للہ امت میں وحدت کے لیے ضروری عوامل محض اللہ تعالی کے فضل و کرم اور دلوں میں اس کی ڈالی ہوئی الفت و محبت کے مرہون منت ہیں۔
جب جب اپنوں کی سادگی کا بھرم کھلا اوروں کی عیاری نے بھر پور ضربیں لگائیں اور امت کوپارہ پارہ کرنے کی کوشش کی۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے واقعات سیرت کی کتابوں میں تحریر ہیں جس میں دشمنان اسلام کی چالیں کامیاب ہو جاتیںا گر وقت کی قیادت غافل رہتی۔
کنویں پر پانی کے مسئلہ کو لے کر دو غلاموں کی پکارنے مہاجر و انصار کوللکارا۔ عجب نہ تھا کہ دونوں گروہ لڑ پڑتے لیکن اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کہا کس نے عصبیت کی آواز لگائی ہے۔ یہ جہالت کی آواز ہے کس نے لگائی ہے؟ دونوں گروہوں کو سمجھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑا رفع دفع کر دیا۔ یہ جھگڑا ان لوگوں کے بیچ میں ہوا تھا جن کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات کرائی تھی۔ جنہیں بھائی بھائی بنا کر ایک دوسرے کا غم خوار اور دلدار بنا دیا گیا تھا۔ اسی جھگڑے کو بڑھانے میں جہاں قبائلی عصبیت کام کر رہی تھی وہیں یہودیوں کی خموش سازش بھی اپنا پھن پھیلا رہی تھی۔
امت میں انتشار پیدا کرنے کے لیے اس کی مرکزی شخصیت کے مسئلہ کو پروپیگنڈا کا عنصر بنایا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ واقعۂ افک میں ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر کیسا بوجھ رہا ہوگا تو دوسری طرف یہودیوں نے اچھے اچھے لوگوں کو اس معاملہ میں کنفیوز کر دیا تھا۔ دشمنوں کا امت کی مرکزیت پر راست حملہ بھی اللہ رب العزت کی توفیق سے دفع کیا گیا۔
آج بھی مسلمان رشدی، تسلیمہ نسرین، ڈنمارک کارٹون، انوسنس آف مسلم و فتنہ جیسی فلمیں اسی بازگشت کا مظہر ہیں۔
غزوہ تبوک کے موقع سے جب تین صحابہ رضوان اللہ علیہم شریک نہ ہو سکے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عذر سن کر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ پڑوس کی حکومت نے ان اصحاب ؓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ پیدا کیا اور کہا تمہارے صاحب تم لوگوں سے ناراض ہیںتو کیا ہوا یہاں چلے آؤ، ہم تمہیں عزت و توقیر عطا کریں گے۔ لیکن در رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کون ہٹنا چاہتا تھا، حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضہ ہی یہ تھا کہ دشمن کی پیشکش کو ٹھکرا دیاجائے اور اپنوں کے ستم ہی کیوں نہ ہوں، قبول کیے جائیں۔ امت میں اتحاد کے لیے ایسے ایثار کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات امت میں نقطۂ اتحاد کی اصل بنیاد ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تمہارےصاحب کا انتقال بھی نہ ہوا کہ تم اختلاف و انتشار میںمبتلا ہوگئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس دشمن رسول کو جواب دیا کہ ہمارا اختلاف نبی یا آپ کے منصب پر نہیں تھا بلکہ ہمارا اختلاف آپ کی ہدایات کو بہتر سے بہتر سمجھنے میں ہوا ہے۔ اس نزاکت کے ساتھ جواب صرف اورصرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حصہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اس جواب پر مبارک باد پیش کی اور انہیں سراہا۔
بات میں بات پیدا کر نئی الجھنوں میں مبتلا کرنے کاطریقہ دشمنوں نے پہلے بھی آزمایا تھا اورآج بھی آزماتے ہیں۔ انہیں ان کا مقام اور اوقات بتلانا ہمارے ذہین لوگوں کا کام ہے۔
حضرت علیؓ بن ابی طالب اور امیر معاویہؓ بن ابو سفیانؓ کے درمیان جنگ ہوئی، اس اختلاف سے عیسائی بادشاہ فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے سفیر کو بھیج کر دونوں حضرات سے علیحدہ علیحدہ خط و کتابت کے ذریعہ ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانا چاہا اور جزیرۂ عرب پر حملہ کی صورت میں ساتھ دینے کی پیش کش کی گئی۔ لیکن قربان جائیے اصحاب رسول کی فکر و تدبر پر کہ جواب دونوں نے ایک ہی دیا۔ جب کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں یہ نہ جانتے تھے کہ سفیر نے دوسرے سے کیا بات کہی ہے۔
اے عیسائی کتّو! اگر تم نے ہماری طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا تو علیؓ کی فوج کا ادنی سپاہی تم معاویہ کو پاؤگے۔ اسی طرح حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ ہمارے اختلافات آپس کے ہیں اگر تم مداخلت کروگے تو یاد رکھو ہم دونوں مل کر تمہاری کمر توڑ دیں گے۔ دونوں سے یہ جواب پا کر عیسائی بادشاہ نے حملہ کا ارادہ ترک کر دیا۔ اپنی ہوا و ہوس کے اگر ہم بندے ہوتے تو امت کب کی فنا ہو چکی ہوتی۔ لیکن اختلاف کے باوجود بلکہ جنگ کے باوجود ایک دوسرے کا تعلق اس قدر رہا ہے۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت نے بیرونی مداخلت کی کامیابی کو امت پر واضح کر دیا۔ اختلاف، جنگ و جدل کا باعث بن گیا۔ تفرقہ ایسا بڑھا کہ امت تقسیم ہوتی چلی گئی۔سیاسی اختلاف کے ذریعہ جنگ و جدل نے امت میں افتراق پیدا کیا تو کچھ ایسی شخصیات کے ذریعہ اللہ نے امت کو متحد رکھا جو حکومت و سیاست کے گلیاروں سے دور دور رہیں۔ وہ دور علمی فقہی عروج کا دور ہے۔ امت نے اپنے آپ کو ائمہ و علما ءسے وابستہ کر لیا۔
مسلمانوں کا زوال آپسی اختلاف و انتشار سے شروع ہوتا ہے۔ سقوط بغداد کی حقیقت شیعہ سنی اختلاف کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
بعد کے دور میں تیمور نے جب ترکی پر حملہ کیا تو بایزید یلدرم مشرقی یورپ کو فتح کر رہا تھا۔ تیمور کے حملے نے اس کی پیش قدمی کو روک دیا۔ اسی طرح ہماری طاقت اپنی طاقت سے نبرد آزما رہی اور مشرقی یورپ مسلمانوں کی یلغار سے محفوظ ومامون ہو گیا۔
مغلوں کی حکومت کا زوال اپنوں کی بغاوتوں اور انگریزوں کی عیاریوں کا مرہون منت ہے۔ ٹیپوا ورنظام کا اختلاف مرہٹوں اور انگریزوں کو فائدہ پہنچاتا رہا۔ انگریزوں کی پالیسیاں ایسی تھیں کہ میر جعفر اور میر صادق کی پرورش کرتے رہے اور وقت پر ا نہیںاستعمال کیا جاتا رہا۔ ہماری قوت کو کمزور کرنے کا کام باہر سے ہوتا رہا ہے۔
افغانستان کی طالبان حکومت امریکہ کے اشارے پرپاکستان کی مدد سے ختم کر دی گئی۔ آج بھی مصر کی منتخب شدہ عوامی حکومت کو جو اسلامی شریعت کے نفاذ کی پابند تھی سعودی عرب کے ریالوں اور اپنے ہی نام لیواؤں نے ہزاروں لاشوں کو گراکر ختم کر دیا۔
اس طرح امریکہ اور اسرائیل کی سازش کو ہمارے ہاتھوں نے پورا ہونے میں مدد کی۔
شام میں ایران کے منفی رول کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ڈیڑھ سال میں سوا لاکھ شہادتیں، پندرہ لاکھ مہاجرین، خود شام میں بے حال و بدحال پڑے ہوئے ستّر لاکھ مسلمان، آخر ہم کس کی سازش ہے کہیں۔ امریکہ کو شیطان اعظم کہنے والے خود شیطانوں کے ساتھ مذاکرات چلا رہے ہیں۔ امریکہ نے ایران کو یہ بارآور کروادیا ہے کہ سعودی عربیہ کی حیثیت اب ختم ہو رہی ہے وہ مقام اسے مل سکتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عربیہ نے اپنی وفاداری مصر میں ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ایران وشام کو کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا پابند بنا دیا گیا۔ جو کیمیائی ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال ہونے تھے، شام میں استعمال کیے گئے۔ اب انہیں بھی بڑی خوبصورتی سے بھارت کے مشورے کے مطابق ضائع کرنے کا معاہدہ ہو گیا ہے۔
شام کا شیعہ سنی تصادم در اصل اس موسم کو بنائے رکھنے کے لیے ہے جس سے عراق، شام، بحرین، پاکستان، افغانستان میں شمالی علاقہ، بھارت میں شمالی علاقہ جوجھتا رہے۔ دن بدن اس کی حدت و تپش میں اضافہ ہو تاجا رہا ہے۔
بلیک واٹر آرگنائزیشن کا استعمال پاکستان میں ٹارگیٹ کلینگ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ مسلکی منافرت کے نتیجے میں ہم ایک دوسرے کو خود ہی مار رہے ہیں۔ ہماری بہترین قیادتیں فنا ہو رہی ہیں۔ ہاتھ ہمارے ہی ہیں لیکن سازش اوروں کی ہے اس کا احساس بھی ہمیں ضرور ہونا چاہیے۔
بھارت میں اگر ہم بیرونی عوامل کا جائزہ لتے ہیں تو یہاں بھی وہ کام کرتے نظر آتے ہیں۔ سبرمنیم سوامی کی منطق یہ ہے کہ مسلمانوں تقسیم شدہ قوم ہے۔ شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی اہل حدیث وغیرہ۔ ان کی آدھی آبادی ہماری طرف دار ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک میں چودہ فیصد مسلمان ہیں اور سات فیصد ان کے ساتھ ہیں۔ کون لوگ ہیں وہ جو سبرامنیم سوامی کے دم خوار اور آلہ کارہیں؟ پتہ نہیں ہو سکتا ہے یہ بات سرے سے غلط ہی ہو۔ لیکن آر ایس ایس اور فرقہ پرستوں کی گہری سازش کے نتیجے میں ایک دوسرا مسلم پرسنل لاء بورڈ بنایا گیا۔ علماء و مشائخ کو لے کر مسلمانوں کے سواد اعظم سے ہٹ کر انہیں کچھ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ فرقہ پرست جماعتوں کے اقلیتی سیل میں مسلمانوں کے نام بڑی تعداد میں پائے جارہے ہیں۔ بلکہ بڑے بڑے نام بھی ہندتو کے علمبرداروں کے حامی و پاچلوسی کرتے نظر آر ہے ہیں۔ملی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد ہمیں ہر یکہ کا گھوڑا بنارہا ہے۔
ہر پارٹی کی ہم مسلمانوںمیں نمائندگی کرتے ہیں لیکن اپنی پارٹی میں مسلمانوں کی نمائندگی سے قاصرہیں۔ حکومتی جبر سے ڈر کر ہم اپنے بھائیوں کا ساتھ دینے سے انحراف برتتے ہیں۔ خدا کے باغی شرک کے پجاری، باطل کے سپاہی اور کفر کے داعی کی بغل ہمیں اچھی لگتی ہے لیکن ہم کلمہ ،ہم فکر، زیادہ مشترک بنیادوں میں یکسانیت سے کوسوں دور رہنا چاہتے ہیں۔
دشمنوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ حق کے لیے کچھ کرنا تو دور رہا، حق کے لیے کچھ کہنا بھی دشوار ہو رہا ہے۔ حلق سوکھ گیا ہے آوازگھٹ گئی ہے۔
وندے ماترم پڑھنے والوں کے ساتھ ہم کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن سلام پڑھنے والوں سے ناطہ دور کا ہی ہے۔ دینی جماعتوں ، مسلکوں، معمولی اختلافات ہمیں جنگ کی نوید سناتے ہیں اور غیروں کے سامنے ہم ڈنوت نمسکار کرتے نہیں تھکتے۔ غیروں کے معاملے میں اونٹ ڈکار جاتے ہیں اور اپنوں کے معاملات میں مچھر کی چھان بین ہوتی ہے۔ان حقیقتوں میں اپنے آپ کو تلاش کرنے کی ضروت ہے۔
Rend Corporationجسے امریکہ نے فنانس کر مسلمانوں کے احوال سے متعلق جنم دیا ہے ۔ اسے بھی خود مسلمانوں کی تقسیم اور انہیں آپسی جھگڑوں میں ملوث کر ان کی طاقت کو ختم کرنا ہے۔ یہ لڑائی ہر گھر کے صحن میں لڑی جانی ہے۔ امت کی تقسیم روایتی مسلم، سیاسی مسلم، شدت پسند مسلم، دہشت گرم مسلم کے بیچ کی جا رہی ہے ۔ گویا ہماری ہی تقسیمیںکیا کم تھیں کہ دشمنان اسلام کی یہ تقسیم امت کو پارہ پارہ کرنے اور امتی مزاج واخلاق کو تباہ کرنے کے لیے آ پہونچی ہیں۔ باہرسے لادی ہوئی تقسیم اور اس پراصرار، دراصل ہماری اصل کے خلاف ایک ایسا محاذ ہے جس پر ہمیں اپنی بھر پور توانائی لگا کر اسے شکست دینی ہوگی۔
وزیر داخلہ سشیل کمار شندے سے ایک وفد نے ملاقات کی۔ موصوف نے اس وفد سے کہا کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ یہ ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کے مختلف مسالک و جماعتوں میں خونریزی ہو سکتی ہے۔ اور ہمارے آفسر پریشان ہیں کہ اس کو کیسے ہینڈل کیاجائے؟ خدا کرے یہ بات غلط ثابت ہو لیکن اگر سچ ہے تو کون اس کی سازش کر رہا ہے؟اگر یہ سازش کامیاب ہو گئی تو امت کی صورتحال کیا بنے گی۔ اس پر غور وفکر کی ضرورت ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ آج بھی دوسری ملتوں کے مقابلےمیں یہ امت غنیمت ہے، اللہ سے محبت کرنے والی، رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والی، مساجد کا تحفظ کرنے والی، پردہ کا اہتمام کرنے والی، شراب و جوا کو اب بھی گناہ و حرام سمجھنے والی۔ اس دنیا میں ہر چھٹی عورت شراب پیتی ہے لیکن کتنے مسلم مرد شراب پیتے ہیں؟ اسکا سواد اعظم کبھی شر پر اکٹھا نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ امت خود اپنے ماضی سے مقابلے میں بچھڑ جاتی ہے۔ آپسی تعلقات، الفت و محبت، ایمانداری ودیانتداری، معاملہ فہمی، حمیت و غیرت، جوش و ہوش، فکر و نظر، وحدت و اتفاق، صلہ رحمی، دوسروں کے لیے ایثار و قربانی میںکمی ہمیں اپنا ہی منھ چڑھاتی نظر آرہی ہے۔
اللہ تعالی ان کمیوں کو دور فرمائے اور ان خوبیوں کو پیدا فرمائے جو امت کو امت بنا کر کھڑا کر دے۔آمین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *