امت کا تصور اور برصغیر کے مسلمان

قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے لیے امت کا تصور انتہائی اہم تھا۔ ان کا تصور امت یہ تھا کہ مکہ اور مدینہ روئے زمین کا مرکزی نکتہ ہیں اور پوری زمین اس نکتے کی توسیع ہے۔ مسلمانوں کے اس تصور نے قبیلوں اور قوموں کو کیا ایک فرد کو بھی امت بنا کر کھڑا کر دیا۔ چنانچہ مسلمان جہاں گئے انہوں نے امت کے تصور کی فصل کاشت کی اور ایک ایسا انسانی تجربہ تخلیق کیا جس کی اس سے پہلے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی تھی۔ کہنے کو اسلام ساری دنیا میں پھیلا مگر برصغیر کے مسلمانوں نے اسلام کے تصور امت کو جس طرح یاد رکھا اور اس کی گواہی دی اس کی کوئی دوسری نظیر موجود نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کا شعور امت اتنا گہرا اور قوی کیوں ہے؟
اسلام اگر چہ عربوں کے ذریعے برصغیر میں آیا مگر عرب مزاج نے اسلام کی آفاقیت اور مقامیت کے امتزاج سے وہ چیز تخلیق کی جسے ’ہند اسلامی تہذیب‘ کہا جاتا ہے۔ ہند اسلامی تہذیب کا دوسرا مفہوم اسلام کے معنی کا غیر معمولی استحضار ہے۔ کہنے کو برصغیر کے مسلمانوں نے برصغیر میں ایک ملت پیدا کر کے دکھائی۔ انہوں نے عظیم الشان سلطنت قائم کی اور برصغیر پر تقریباً ایک ہزار سال حکومت کی مگر برصغیر کے مسلمان اس تجربے کی خود پسندی اور خود فریبی میں مبتلا نہیں ہوئے۔ وہ اتنے بڑے تاریخی تجربے کے باوجود ہمیشہ اپنے مرکز یعنی مکے اور مدینے کی جانب دیکھتے رہے۔ ان کی مذہبی اور تہذیبی زندگی کی ہر سند مکے اور مدینے سے آتی رہی۔ چنانچہ ان کی مقامیت ہمیشہ ان کی آفاقیت کے تابع رہی۔
اس صورت حال نے برصغیر کے مسلمانوں میں انکسار اور تواضع پیدا کی جس کے تحت انہوں نے ہمیشہ یہ سمجھا کہ ہم اپنے مرکز سے دور ہیں۔ اس کے برعکس دنیا کے دوسرے خطوں میں یہ ہوا کہ مسلمانوں کی مقامیت بالآخر اسلام کی آفاقیت پر غالب آگئی۔ اس کی کلاسیکل مثال خود عرب دنیا ہے۔ اسلام عرب دنیا میں نمودار ہوا تھا اور مکہ و مدینہ وہیں تھے۔ مگر اس کے باوجود عرب رفتہ رفتہ ’قوم پرستی‘ کا شکار ہو گئے۔ اس قوم پرستی نے ان کو اتنا کمزور کیا کہ عربوں کی مجموعی قوت اپنے قلب میں اسرائیل کے قیام کو روک سکی نہ وہ گزشتہ 60 سال میں اسرائیل کا مقابلہ کر سکی۔ عربوں نے اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں لڑیں اور انہیں تینوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ یہی وہ عرب تھے جنہوں نے بہت چھوٹی قوت سے آدھی دنیا کو فتح کیا تھا۔ غور کیا جائے تو حماس چند ہزار مزاحمت کرنے والوں کی ایک تنظیم ہے مگر اس کا مزاحمتی وزن بڑی بڑی عرب ریاستوں کی قوت سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ حماس خود نہیں ہے۔ اس کی وجہ حماس کا اسلامی تشخص ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ وہ برصغیر میں حاکم ہونے کے باوجود ایک مذہبی اقلیت تھے اور انہیں ثقافتی اعتبار سے ایک غیر معمولی اکثریت کا سامنا تھا۔ چنانچہ برصغیر کے مسلمانوں کو کبھی اکثریت میں ہونے کی ’خود اطمینانی‘ حاصل نہ ہو سکی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برصغیر کے مسلمان اپنے نظریاتی تشخص کی بقا تحفظ اور فروغ کے سلسلے میں ہمیشہ حساس رہے۔ اس حساسیت نے انہیں ہمیشہ امت کے تصور سے منسلک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اقلیت کی نفسیات عام طور پر منفی نفسیات ہوتی ہے مگر مسلمانوں کی نفسیات کا تعلق چونکہ ان کے دین سے تھا اس لیے اقلیت کی نفسیات مسلمانوں کی کمزوری بننے کے بجائے ان کی قوت بن گئی۔ اس قوت کے ذریعے مسلمان ہندوستان کے سماج کا حصہ بھی رہے اور اس سے الگ بھی رہے۔ یعنی انہوں نے تعلق اور لاتعلقی کے درمیان ایک توازن پیدا کر کے دکھا دیا۔ ان کے تعلق سے ہند تہذیب نے جنم لیا اور ان کی لاتعلقی نے انہیں امت کے عالمگیر تصور سے وابستہ رکھا۔
امت کے تصور سے برصغیر کے مسلمانوں کی وابستگی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ خلافت عثمانیہ ترکی میں ختم ہو رہی تھی اور اس کے تحفظ کے لیے برصغیر کے مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے۔ اس سلسلے میں ایک جانب برصغیر کے مسلمانوں کا احتجاج منظم کیا جارہا تھا۔ دوسری جانب انگریزوں پر خلافت کے تحفظ کے لیے دبائو ڈالا جارہا تھا۔ تیسری جانب ترکی کے معاشی استحکام کے لیے معاشی وسائل جمع کر کے ترکی روانہ کیے جارہے تھے۔ جغرافیائی اعتبار سے ترکی عالم عرب کے قریب تھا اور خلافت کے تحفظ کے لیے عالم عرب میں جوش و خروش ہونا چاہیے تھا مگر عالم عرب خلافت تحریک سے لاتعلق تھا۔ مگر برصغیر کے مسلمان خلافت کے لیے جان نثار کرنے کے لیے تیار تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے خمیر میں امت کا تصور اتنا راسخ ہوا کہ برصغیر کی ملت اسلامیہ نے اقبال جیسی شخصیت پیدا کی۔ اقبال کی شخصیت اور فکر امت کے تصور سے اس حد تک منسلک تھی کہ امت کے بغیر نہ ان کی شخصیت کا تصور کیا جا سکتا تھا نہ ان کی فکر کا۔ یہ ایسی شخصیت تھی جسے مکے اور مدینے سے عشق تھا۔ جسے نجف اور غرناطہ سے محبت تھی۔ جسے دلی اور بغداد سے انس تھا۔ عالم اسلام کی تاریخ اور جغرافیہ اقبال کے لیے تاریخ اور جغرافیہ نہیں تھا ایک رومانی واردات تھی۔ برصغیر کی ملت اسلامیہ کی امت سے محبت نے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو جنم دیا۔ مولانا نے جو کچھ سوچا اور لکھا پوری امت کے لیے سوچا اور پوری امت کے لیے لکھا۔ مولانا کی قائم کردہ تنطیم جماعت اسلامی اگر چہ ایک ’مقامی حقیقت‘ تھی مگر اس کا تناظر پہلے دن سے امت گیر ہے اور اس نے ہمیشہ پوری امت کے درد کو اپنا درد سمجھا ہے۔ برصغیر کی ملت اسلامیہ نے پاکستان کے نام سے جو الگ ملک بنایا اگر چہ اس کا جغرافیائی محل وقوع جنوبی ایشیا سے متعلق تھا مگر اس کا بنیادی تصور یہ تھا کہ اسے پوری امت کے لیے نمونہ بننا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کے حکمران طبقے نے پاکستان کو وہ کچھ نہ بننے دیا جس کے لیے وہ تخلیق ہوا تھا مگر ابتر حالت میں بھی پاکستان نے امت کے لیے جس طرح آواز اٹھائی اور جدوجہد کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان کے پائلٹوں نے اپنی صلاحیت کے جوہر دکھائے۔ امت مسلمہ کو متحد کرنے کے لیے اسلامی ملکوں کا پہلا سربراہی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا۔ افغانستان میں سوویت یونین اور امریکہ کی شکست میں پاکستان کا کردار مرکزی ہے۔ پاکستان نے افغانستان جہاد کے نتیجے میں جس طرح 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بار اٹھایا تھا تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ قومیں ایسا کردار اچانک اختیار نہیں کرتیں بلکہ ایسے کردار کی ایک طویل تاریخ ہوتی ہے۔ امت کا تصور برصغیر کے مسلمانوں کے شعور میں راسخ نہ ہوتا تو برصغیر کی ملت اسلامیہ کا حال بھی عالم عرب کی طرح ہوتا۔
برصغیر کے مسلمانوں کا تصور امت سے اس لیے بھی گہرا تعلق پیدا ہوا کہ برصغیر کے مسلمان ایک متنوع تہذیبی تجربے کا حصہ رہے۔ برصغیر میں عرب آئے، ترک آئے، مغل آئے، ایرانی آئے، اسلام نے مقامی آبادی سے مسلمان پیدا کیے۔ اس طرح برصغیر کا معاشرہ اپنی اصل میں امت کا ایک چھوٹا سا گلدستہ بن گیا۔ اس کے برعکس عرب، ترکی، مغل اور ایرانی اپنی مقامیتوں کے اسیر رہے اور انہیں امت کے تنوع کا کچھ ’تجربہ‘ نہ ہو سکا۔ لیکن برصغیر کی ملت اسلامیہ نے اپنے دائرے میں ایک ’چھوٹی سی امت مسلمہ‘ تخلیق کر لی تھی اور ان کے لیے امت محض ایک تصور نہیں رہ گئی تھی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *