اُمت مسلمہ آفاق میں گمُ کیوں؟

دُنیا میں اس وقت مسلم ممالک کی تعداد لگ بھگ50کے قریب ہے اور مسلمان دنیا کی مجموعی آبادی کا20فیصد حصہ ہیں۔ بے پناہ مالی وسائل سے عالم اسلام مالا مال ہے۔ بہت سے مسلم ممالک کے عوام خوشحال بھی ہیں اور دور حاضر کے مشینی آلات سے بھی لیس ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھی یہ مسلم ممالک خوب استفادہ کررہے ہیں اور آرام وآسائش کے مطلوبہ سامان بھی ان ممالک کے پاس دوسروں کے مقابلہ میں کم نہیں۔ بہت سے ممالک کے لوگ معاش کی تلاش میں مسلم ممالک میں موجود بے پناہ خداداد وسائل سے مستفید ہورہے ہیں۔ اس عالمی صورت حال سے ہٹ کر اگر ہم ملکی یا قومی یا نجی سطح پر قوم مسلم کا حال دیکھیں تو بعینہ یہی صورت حال نظر آئے گی۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زمینی سطح پر کُلی اعتبارسے ابھی بھی قوم مسلم نہ تو بیدار ہوئی ہے اور نہ ہی خوشحالی کی اس سطح کو پاسکی ہے جتنے اس کے پاس وسائل موجود ہیں مگر یہی صورت حال اقوام عالم کے ساتھ بھی ہورہی ہے۔ اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے اندرونی حالات کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں وہاں بھی غربت اور افلاس سے دوچار لوگوں کی ایک بڑی تعداد ملے گی۔ یہ صرف مسلم ممالک میں ہی نہیں ہے۔ بعض اوقات معاشی وتعلیمی پسماندگی کو بھی مسلم معاشرہ کی پستی اور زوال کا ذمہ دارٹھہرایا جاتا ہے۔ اس میں دورائے نہیں ہوسکتی کہ اگر زندہ غیور اور غالب قوموں کی صف میں کھڑا رہناہے تو تعلیمی، معاشی، سماجی اورسیاسی میدان میں جھنڈے گاڑنے ہوں گے اور دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا اور اقوام عالم کے ساتھ مکالمہ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بہتر اور خوشگوار تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔ اس سے کسی بھی ذی شعور کو انکار نہیں ہوسکتا۔ مگر کیا اس یک طرفہ سوچ اور لائحہ عمل سے ہم سرفراز ہوسکتے ہیں؟ اس سارے منظر نامے میں اُمت مسلمہ کو اور قوم کے دانشور طبقہ کو اپنی فکر اورطرز علمی کوبدلنا ہوگا۔ اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ امت کا ہر طبقہ امت کی خیر خواہی کا جذبہ رکھے ہوئے ہے اور ہر ایک قوم کی ترقی کا خواہاں ہے۔ مگر اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے کی جانے والی تمام تر کوششیں کیا صحیح نہج پر ہیں؟ کیا اس کے لئے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے سنہرے اصولوں سے ہم وابستہ ہیں؟ دوسرا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہر طبقہ ہر گروہ اور ہر انجمن اپنی مخلصانہ کوششوں پر نازاں بھی ہے اور اپنی اس کوشش کو ملت کے لئے مکمل علاج بھی تصور کرتی ہے جبکہ یہ خام خیالی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر طبقہ دوسرے طبقہ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرے اور اسے بھی ملت کے درد کی دوا سمجھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم پہلویہ بھی ہے کہ امت کا ایک طبقہ جس کو ملت کے قائدین سے یہ شکوہ ہے کہ وہ ابھی تک قدامت پسندی کی دنیا میں رہ رہے ہیں اور عصر حاضر کے جدید چیلنجوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اوران چیلنجوں کا سامنا کرنے سے خائف ہیں یہ طبقہ بھی خوش فہمی کے مرض میں مبتلا ہے چونکہ اس طبقہ کی سوچ بھی ناقص اور یک طرفہ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خیرالاموراوسطھا بہتر ین راستہ اعتدال کا راستہ ہے اس لئے دورِ حاضر کا سب سے بڑا طبقہ جو ملت سے شاکی ہے کہ ہم اس لئے پسماندہ اور بے حال رہ گئے کہ ملت نے دور حاضر کے تقاضوں کو نہ سمجھا اور نہ ماڈر نائزیشن کو دل وجان سے قبول کیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن ممالک اور قوموں نے مارڈنائزیشن کا لبادہ اوڑھا بظاہر انہوں نے دنیا کے ایک بڑے حصہ پر اپنے اثرات بھی چھوڑے۔ کاش !کبھی اس کھوکھلے پن پر بھی ہماری نظر ہوتی جن قوموں نے ترقی اورحکمرانی کے حصول کے لئے آسان راستے تلاش کئے اور شرم وحیاء اور اخلاق کو بالائے طاق رکھا، بے حیائی عریانیت اور فحاشیت کو اپنی تہذیب وثقافت بنا لیا؛ اُن کے اس طرز زندگی نے ان کو جن سنگین سماجی مسائل سے دور چار کردیا اور کاش کوئی ان کے بے چینی بے قراری اوربد حالی سے بھی واقف ہوتا۔ اہل یورپ کی بظاہر چمک دمک جس قدر دلکش ہے اس قدر ہی وہ دل آزار اور جان سوز بھی ہے۔حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی فراست اوربصیرت سے کس کو انکار ہوسکتا ہے؟ عالم اسلام کا یہ غم خوار اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتا ہے:
فساد قلب ونظر ہے فرنگ کی تہذیب کہ رُوح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
یہ عیش فراواں یہ حکومت یہ تجارت
دل سینہ بے نور میں محروم تسلی
تاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھویں سے
یہ وادی ایمن نہیں شایانِ تجلی
اسلام کے عالی نظام اور انقلابی فکر اور وسیع نظریہ کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم بدلتے ہوئے حالات میں بدلنا سیکھیں مگر کیا یہ بدلاؤ اور جدید فکر کا حصول ہماری لاثانی میراث کی قیمت پر ہوگا۔ ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اب ملت کا وہ طبقہ جو جدیدیت کے زہریلے اثرات سے خائف ہے اور وہ طبقہ جو قدامت پسندی کو ملت کے تمام امراض کا سبب بنا رہا ہے دونوں طبقوں کو قرآن وسنت کو ہی اپنا رہنما بنانا ہوگا اور اسی کتاب رشد وہدایت سے رہنمائی حاصل کرکے اپنی گمشدہ میراث کو پانا ہوگا۔ قرآن پاک کا واضح ارشاد ہے۔ انتم الاعلون ان کتنم مومنین۔ تمہاری سربلندی مشروط ہے تمہارے ایمان کا مل کے ساتھ۔ جو طبقہ مذہب یا مذہبی فکر کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتا ہے اس کو غیر جانبداری کے ساتھ اسلام کی عالمی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ لہٰذا دنیوی اور اُخروی کمال اور کامیابی تبھی ممکن ہوگی جب ہم راہ ِ اعتدال پر قائم رہ کر ہر مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔ اسلام کبھی بھی کسی بھی معنی میں ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اس صورت حال میں ملت اسلامیہ اور مسلم ممالک کے پاس موجودہ وسائل کو بروئے کار لانے کے ساتھ اسلام اور اسلامی تعلیمات اور اسلامی احکامات اور اسوہ حسنہ پر سختی سے عمل پیرا ہونا پڑے گا اور دوسروں کی تہذیب وروایات پر رال ٹپکانے سے بہتر ہوگا کہ ہم اسلام کے سنہری اور حکیمانہ اصولوں سے خود بھی روشناس ہوں اوران اصولوں سے امت مسلمہ کو بھی بہرہ ور کرائیں۔ بقول علامہ اقبالؒ
مسلم کی نبض دیکھ کے کہنے لگا طبیب تیرا مرض ہے قلت ِ سرمایۂ حیات
رخصت ہوئی ہے زندگی سادہ عرب کچھ رہ گیا اگر تو عجم کے تکلّفات
ملت کے خیر خواہوں اور ترقی وخوشحالی کے طلبگاروں کو اپنی مومنا نہ بصیرت سے کسی ایسے واحد حل کی تلاش اور راستہ کا انتخاب کرنا ہوگا جہاں اسلامی اقدار اور روایا ت کا تحفظ بھی ہو اور عصری ضروریات کی تکمیل بھی۔ یہی راستہ ہے اتحاد فکر کا، یہی اتحادی قوموں کے عروج کا واحد سبب ہوتا ہے وگرنہ ہزار حل بھی اس امت کی ناپائیداری کو ختم نہیں کرسکتے۔
کس رہے ہیں اپنے منقاروں سے حلقہ جال کا طائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کا

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *