اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃ۔ (القرآن)

امت مسلمہ کے قیام کی دعاحضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ نے اس وقت کی تھی جب وہ خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے ۔ ’’رَبَّنَا وَاجْعَلنَا مُسْلِمَیْنِ لَک وَ مِنْ ذُرِّیَتِنَا اُمَّۃً مُسلِمَۃً لَّک‘‘ اے ہمارے پروردگار ہم دونوں باپ بیٹوں کو اپنا سچا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی امت پیدا فرما جوتیری فرمانبردار ہو اور تیرے دین کی علمبردارہو۔
امت کا لفظ عربی زبان کے لفظ ’’ ام‘‘ سے نکلا ہے ، ’’ ام‘‘ کے لفظی معنیٰ عربی زبان میں ماں کے بھی ہیں ، اور کسی چیز کی اصل کیلئے بھی یہ لفظ آتا ہے ،۔جس طرح ایک ماں کی اولاد متحد و متفق ہوتی ہے ، ان کا آغاز ایک ہوتا ہے، ’’ ام‘‘کی اولاد ایک برادری ہوتی ہے، آپس میں گہری محبت و اخوت ہوتی ہے۔
یہ امت جس کا لغوی اشتقاق ’’ام ‘‘ سے ہوا ہے ۔ ایک ایسی جماعت ہے ، جس کا آغاز، انجام سب چیزیں مشترک ہیں۔ امت مسلمہ کا تعلق تعداد سے نہیں ہوتا ، اگر ایک فرد جو صحیح بنیاد پر قائم ہو اور امت کے اھداف کے لئے کارفرما ہو تو اس ایک فرد کو بھی امت کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔ اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتاً لِلّٰہِ حَنِیْفَا بلا شبہ ابراہیم تن تنہا ایک امت تھے جو اللہ کے حضور یکسو ہو کر کھڑے ہو گئے ۔
حضرت عمر فاروق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میرے چچا ایام جاہلیت میں حق و صداقت کی تبلیغ کرتے تھے، اسی بنا پر ان پر مظالم ڈھائے گئے، انہیں گھر بار چھوڑنا پڑا، مسافرت میں ہی انتقال کر گئے ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟آپ ﷺ نے فرمایا :یُبْعَثُ اُمَّۃً وَّحدَۃًان کو تن تنہا ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا۔(محاضرات شریعت ۔ ڈاکٹر محمود غازی ص ۱۲۳)
امت مسلمہ کے امام حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ امت کا ہدف صراطِ مستقیم پر گامزن رہتے ہوئے دنیا میں اسلام کی سربلندی کیلئے کوشش اور اخروی کامیابی کا حصول ہے ۔ رسول ﷺ نے امت کو پابند بنایا کہ اگر دو آدمی بھی ایک ساتھ سفر کر رہے ہوں تو ایک کو اپنا امیر بنالیں اور اسی امیر کے مشورے اور نگرانی میں اپنے کام کو انجام دیں ۔ جو اسلام ایک عارضی سفر کیلئے ایک امیر اور ایک امام کو لازم قرار دیتا ہے وہ پوری امت کو بغیر امام کے زندگی گزارنے کی اجازت کیوں کر دے گا ۔
امام لفظ بھی ’’ام ‘‘ سے نکلا ہے ، جس لفظ سے امت کا لفظ مشتق ہے ۔ امام اور امت کا گہرا تعلق ہے ۔۔ لفظ امام متعدد معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
امام کے معنیٰ قائد اور پیش رو کے ہیں ۔ امام کے معنیٰ کتاب ہدایت کے بھی ہیں ’’’ومن قبلہ کتاب موسی اماماً و رحمۃ‘‘ جس طرح یہ کتاب قرآن مجید امت کی امام ہے، کتاب ہدایت ہے۔ امام کے دوسرے معنیو اِنَّہَا لَبِاِمَا مٍ مُبِین ایک ایسی شاہراہ کے بھی ہیں جس پر چلنا آسان ہو اور جس پر چل کر منزل مقصود تک پہنچا جا سکے ۔ یہ سارے معنیٰ امام کے لفظ میں پائے جاتے ہیں ۔ ان لغوی معانی سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ امام اور امت ان دونوں کا آپس میں انتہائی گہرا تعلق ہے ۔ عربی زبان میں امت کا ایک اور مفہوم ’’نظام زندگی ، دستور العمل اور طریقہ کار کے بھی ہیں ‘‘ ۔ اِنَّا وَجَدنَا آبَاء َناَ عَلَی اُمَّۃٍ وَاِنَّا عَلَی آثَارِھِمْ مُقْتَدُوْن یعنی وہ طرز زندگی جس پر مجموعی طور پر لوگ کاربند ہوں اس کو بھی لفظ امت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
یعنی جب کفار و مشرکین کو انبیاء نے دین حق کی دعوت دی تو انہوں نے اس تعلیم کو اپنے قومی نظام ،آباو اجدا دکے طریقے اور دستور العمل کے خلاف پایا، اس کو قبول کرنے میں تامل کیا۔ امت کے ایک معنیٰ مدت کے بھی ہیں، چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں بیان ہوتا ہے وَادَّکَرَ بَعدَ اُمَّۃ حضرت یوسف ؑ کے ایک ساتھی کو ایک مدت کے بعد یاد آیا ۔ ایک اور مقام پر ہےوَلَئِن اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَاب اِلَی اُمَّۃٍ مَعدُودَۃ اگر ہم ان مجرمین کی سزا کو ایک مقررہ مدت کیلئے ملتوی بھی کر دیں ۔
امت کی تشریحات مزید ہیں وَاِنَّ ھٰذِہٖ اُمّتُکُمْ اُمَّۃًوَّاحِدَۃ وَاَنَا رَبُّکُمْ فاَتَّقُوْن (المومنون ۵۲) اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں ، پس مجھی سے تم ڈرو۔ ‘‘ امت کا لفظ اس مجموعۂ افراد پر بولاجاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہو۔ انبیاء علیہم السلام چونکہ اختلاف زمانہ و مقام کے باوجود ایک عقیدہ ، ایک دین اور ایک دعوت پر جمع تھے اسی لئے فرمایا گیا کہ ان سب کی ایک ہی امت ہے ۔بعد کا فقرہ خود یہ بتا رہا ہے کہ وہ اصل مشترک کیا تھی جس پر یہ سب انبیاء جمع تھے ۔ ‘‘( تلخیص تفہیم القرآن)
’’امت ‘‘ کے ان سارے معانی کو سامنے رکھنے پر امت کی امتیازی شان کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔ یہ امت جسے رسول پاک ﷺ نے قائم فرمایا تھے اس کو ایک محدود مدت دی گئی ہے، ایک وقفہ دیا گیا ہے، جس میں یہ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی پابند ہے ۔
امت مسلمہ کی خصوصیات :
امت کے امتیازی اوصاف میں سے نمایاں وصف امت کی وحدت ہے قرآن میں اللہ پاک کا ارشاد ہے وَ اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃ ۔۔۔ بلا شبہ یہ تمہاری امت ایک متحد اور واحد امت ہے ۔ واَنَا ربکم فاعبدون اور میں تمہارا رب ہوں لہذا میری ہی عبادت کرو ۔ جس طرح اللہ کی وحدت ایک حقیقت ہے اسی طرح امت مسلمہ کی وحدت ایک حقیقت ہے۔اللہ ایک ، امت کے پیغمبر ایک ، کتاب ایک، منزل مقصود بھی ایک ، نظام حیات ایک تو پھر اس امت کو بھی متحدہ امت ہی ہونا چاہئے ۔
ٍامت کی وحدت کے مظاہر میں سے ایک مظہر وحدت افکار اور دوسرا مظہر وحدت کردار ہے ۔اگر افکار و کرادر میں وحدت موجود ہے تو گویا امت اپنی اصل پر قائم ہے ۔وحدت افکار یعنی امت مسلمہ کتاب و سنت رسول میں بیان کردہ اصول و ضوابط پر متفق ہو ، امت کے تمام افراد میں ہدف اور منزل مقصود کے بارے میں اطمینان ہو، نقطہ ٔ نظر ایک ہو۔ جزویات اور فروعات میں اختلاف کا وجود وحدت افکار کے منافی نہیں۔شاعر اسلام نے بڑے ہی پیارے انداز میں بیان کیا ہے ؎
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خداداد
امت مسلمہ کی دوسری سب سے بڑی خصوصیت عالم گیریت ہے ۔ یہ عالم گیر امت ہے ۔ اس کا تعلق کسی علاقے، رنگ ، نسل یا زبان سے نہیں ہے۔ اول روز سے اس میں حبشہ کے حضرت بلالؓ، روم سے حضرت صہیب ؓ رومی، فارس سے حضرت سلمان فارسی ؓ شامل ہیں۔ پہلے ہی دور سے عرب و عجم کے افراد اس امت میں شامل رہے ہیں ۔اس امت مسلمہ کی عمومی شان عالمگیر رہی ہے ،۔یہ امت ایک عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہے ۔ جو لوگ اس عقیدے سے وابستہ ہوں گے وہ اس امت کے افراد تصور ہوں گے، خواہ عربی ہوں یا عجمی، کالے ہوں یا گورے،۔افراد امت کا باہم بھائی بھائی کا رشتہ ہے ۔ اہل ایمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ شاعر اسلام نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے ؎
اپنی ملت کو قیاس ، اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
فرائض امت :
رسول اللہ ﷺ آخری رسول ہیں۔ امت مسلمہ آخری امت ہے ۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا اَنَا خَاتِمُ النَّبیین لَا نَبِی بَعْدِی (ابو داؤد ، ترمذی) میں خاتم النبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ قَالَ رسول اللّٰہ ﷺ خُتَمَ بِیَ ا الرُسُلْ( بخاری مسلم ) رسولوں کا سلسلہ مجھ پر ختم کر دیا گیا ہے ۔ اَناَ آخِرُ الْاَنبِیاَء وَاَنْتُمْ اٰخِرُ الاُمَمْ (سنن ابن ماجہ) جس طرح میں آخری نبی ہوں اسی طرح تم آخری امت ہو۔
جو فرائض رسول اللہ ﷺ پر عائد کئے گئے تھے ، آپ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد وہی فرائض امت مسلمہ کے ذمے ہیں۔قرآن میں جا بجا امت مسلمہ کا فرض امر بالمعروف والنھی عن المنکر قرار دیا گیا ہے ۔ یہ امت کے فرائض میں سے سب سے اہم عنوان ہے ۔ یہ ذمہ داری افراد امت کی فرداً فرداً ہی ہے ، جیسا کہ لقمان ِ حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا یا بنی اقم الصلوٰۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر’’ اے میرے پیارے بیٹے نماز قائم کرو، بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو‘‘۔ امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے کہ اگر غلبہ اور تمکن مل جائے تو بھی امر با المعروف و النھی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ہے ۔ اَلَّذِیْنَ اِنْ مَکَّنَّاہُمْ فِی الاَرْضِ اَقاموُ الصلٰوۃ و اٰتوالزّکوٰۃ وَامَرُوا بِالمَعرُوفِ ونَھَو عَنِ الْمُنْکَرْ ‘‘ اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار سونپ دیں تو یہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اچھائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔
اللہ نے اس بات کو سخت نا پسند کیا ہے کہ معاشرے میں برائی ہو رہی ہو اور لوگ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔ اللہ نے سابقہ قوموں کو جو برائی میں مبتلا تھے اور جو برائی میں مبتلا نہیں تھے اس لئے ہلاک کر دیا کہ ’’کاَنُو لَایَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُنکَرٍ فَعَلُوہ‘‘ جو برائی میں مبتلا نہیں تھے وہ دوسروں کو اس برائی سے روکتے نہیں تھے۔ انہوں نے برائی روکنے کی کوشش نہیں کی، اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، اس لئے اجتماعی عذاب کے وہ بھی شکار ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات تاکید کے ساتھ فرمائی کہ ’’ جب یہ مرحلہ آجائے کہ امت میں ڈر اور خوف پیدا ہو جائے ، وہ کسی ظالم کو ظالم کہنے سے گریز کرے ، تو پھر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امت کا امت ہو نا ختم ہو رہا ہے ۔ اور امت کا تصور رخصت ہو رہا ہے ۔‘‘ ( مسند امام احمد )
ایک اور روایت میں رسول پاک ﷺ نے فرمایا ’’ جب امت میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ ظالم ظلم کرے اور لوگ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائیں ، اس کو ظلم سے نہ روکیں تو اس کا خطرہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سب کو لے ڈوبے اور سب اس کا شکار ہوں ۔ ‘‘ (ابو داؤد ، ترمذی)
امر با المعروف نہی عن المنکر امت کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ اگر یہ خوبی امت کے اندر سے ختم ہو جائے ، امت اس فریضے سے روگردانی کرنے لگے(تو پوری امت موجب سزا قرار پائے گی) جیسا کہ فرعون اور قوم فرعون کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا ’’ فرعون ظالم تھا اور قوم فرعون بھی اسی ظالم کی اطاعت کرنے لگی تھی ۔‘‘’’فَاسْتَخَفَّ قَومَہُ فَاطا عُوہ‘‘ فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا ، اور قوم نے بھی اس کی پیروی کی اسلئے قوم بھی مجرم گردانی گئی۔
قرآن پاک میں اللہ نے دوسری قوم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرما یا واتبعو امر کل جبارٍ عنید ہر جبار کی پیروی کرنے میں وہ پیش پیش رہتے تھے، اس لئے ان پر اس دنیا میں بھی لعنت کی گئی اور آخرت میں تو لعنت ہی کی جائیگی ۔ لہٰذا امت کے ہر فرد کے اندر فرداً فرداً یہ جذبہ اور عمل ہونا چاہے کہ معروفات کے قیام اور منکرات کے ازالے کیلئے کوشاں رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تاکیداً فرمایا ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تم امر با المعروف و النھی عن المنکر ضرور کرتے رہو، ورنہ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم سب پر اپنا اعتاب نازل فرمائے ۔ اور تم اسے پکارتے رہو جب بھی جواب نہ ملے ۔‘‘ (ترمذی شریف)
اور اس فریضے کو انجام دیتے وقت جان بھی چلی جائے تو وہ شخص افضل شہید ہو گا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سید الشھداء یوم القیامۃ حمزۃ بن عبد المطلب و رجلٌ قام الی امامٍ جائرٍ فامرہٗ ونھاہ فَقتلہٗقیامت کے دن شہیدوں کے سردار ایک تو حمزہ بن عبد المطلب ہوں گے اور دوسرا وہ شخص ہوگا جو ظالم امام کے سامنے امر و نہی کا فریضہ ادا کرنے کے جرم میں قتل کر دیا جائے ۔ (نقوش کا رسول نمبر جلد نمبر ۶، ص ۷۸۷)
اتحاد امت فرض ہے :
وَاَطِیْعُو اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوْا وَتَذھَبَ رِیحُکُمْ وَاصبِرُو اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِینْ(الانفال ۴۶)
اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ، ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائیگی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائیگی، صبر سے کام لو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
وَلا تنازعوا کے اندر اختلاف رائے کی ممانعت نہیں ہے۔ خود قرآن کے اندر شوریٰ اور باہمی مشورہ کے احکام دئیے گئے ہیں ، جس کے نتیجہ میں آراء کا اختلاف ممکن ہے ۔ لیکن اس کا صاف مطلب صرف یہی ہے کہ نظریاتی اختلاف کو عملی اختلا ف کی شکل اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ نتیجہ میں انتشار، تفرقہ، ٹوٹ پھوٹ پیدا ہو، اسی کا دوسرا نام تنازع ہے ۔ اس سے منع کیا گیا ہے ۔ اس تنازع و انتشار سے تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی ۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اور آپس میں نہ جھگڑو پس نامرد ہو جاؤگے ، اور جاتی رہے گی تمہاری ہوا، صبر کرو ، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ ‘‘ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ ’’ ہوا خیزی ہو کر اقبال و رعب کم ہو جائے گا، بد رعبی کے بعد فتح و ظفر کیسے حاصل کر سکو گے ۔‘‘ اس آیت ربانی کا صاف مطلب یہ ہے کہ سارے مسلمانوں کو باہم جڑ کر رہنا چاہئے ، اور ان کو جوڑنے والی چیز صرف اللہ کی رسی ہو ۔آپ ؐ نے لوگوں کو اسی کتاب ہدایت کی تعلیم دی ، جنہوں نے اس دعوت پر لبیک کہا وہ اس اسلامی اجتماعیت کے رکن قرار پائے ۔
اللہ پاک نے انتشار سے مزید آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعدپھر اختلافات میں مبتلا ہوئے ۔‘‘ (آلِ عمران ۱۰۵) اور مزید فرمایا کہ ’’ سب رجوع ہو کر اس کی طرف پلٹو اور اس سے ڈرتے رہو اور قائم رکھو نماز ، اور مت ہو شرک کرنے والوں میں جنہوں نے پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہو گئے ان میں بہت فرقے ، ہر فرقہ جو اس کے پاس ہےعش ہے ۔‘‘ (الروم ۳۱، ۳۲) تشریح : یعنی اصل دین پکڑے رہو ، اس کی طرف رجوع ہو کر ۔ دین فطرت کے چند اہم اصول کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ مثلا ً اللہ سے ڈرتے رہنا، نماز قائم کرنا ، شرک جلی اور خفی سے بیزار رہنا اور اپنے دین میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ ‘‘
یہ امت ایک امت ہے۔، اتحاد اس کی طاقت ہے۔ انتشار و تنازع سے یہ امت کمزور ہو جاتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے افراد امت کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :
’’تم پر تفرقہ سے بچنا، جماعت سے جڑے رہنا فرض ہے ۔کیونکہ اکیلے انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ، اور دو سے وہ دور بھاگتا ہے۔ تو تم میں سے جو جنت کی خوشبو اور روشنی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ جماعت سے لازماً جڑ جائے۔‘‘ (ترمذی شریف )
رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ کو باہم مربوط اور متحد رکھنے کیلئے اس کو ایک جسم قرار دیا اور ایک عمارت سے تشبیہ دی۔جس طرح عمارت کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو قوت دیتی ہے، اسی طرح افراد امت کو بھی باہم مربوط ہونا چاہیے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
المومن للمومنِ کالبنیان یشد بعضہ بعضاو شبک بین اصابعہ
(بخاری ، مسلم، ترمذی)
مومن مومن کیلئے ایسی عمارت ہے جسکا ایک جز دوسرے سے مضبوط جڑا ہوا ہے، حضورﷺ نے یہ گفتگو فرماتے ہوئے تمثیل کیلئے اپنے ایک پنجے کو دوسرے پنجے میں ڈال لیا کہ اس طرح افرادِ امت باہم مربوط ہیں ، جس میں انتشار کا شائبہ تک نہیں۔ یہ ہے امت کی شان ، یہ ہے امت کی پہچان کہ امت ایک جسم کی مانند ہے۔ آپ ﷺ نے مزید وضاحت فرماتے ہوئے فرمایا:
مَثَلُ الْمُؤمِنِینَ فِی تَوادِّھِمْ وَ تَرَاحُمِھِمْ وَ تَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ اِذَاشْتَکَی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَی لَہُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسِّھْرِ وَ الْحُمی۔ (بخاری کتاب الادب)
باہمی یگانگت، محبت و رحمت اور لطف و کرم میں اہل ایمان کی مثال ایک جسم کی سی ہے، اگر ایک عضو میں کوئی تکلیف ہو تو سارا جسم ہی شب بیداری اور بخار میں اس کا شریک ہو جاتا ہے۔‘‘
ایمان کا رشتہ خون کے رشتے سے بھی زیادہ گہرا اور مضبوط ہوتا ہے ۔ جس طرح ایک عضو کی خرابی پر پورا جسم درد و کرب میں مبتلا ہوتا ہے اسی طرح اپنے مومن بھائی کے دکھ اور تکلیف کو محسوس کرنا چاہیے ۔
اللہ کے رسول ﷺ نے امت کے اندر اختلاف و انتشار کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
من یعش منکم بعدی فسیریٰ اختلافاً کثیراً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین تمسکوا بھا و عضو علیھا بالنواجذ (ابو داؤد شریف)
جو لوگ میرے بعد زندہ ہوں گے وہ لوگ امت میں بہت سارے اختلافات دیکھیں گے ۔ ایسے وقت میں تمہارے لئے ضروری ہوگا کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے اور دانتوں سے پکڑے رہو۔
امت کے اندر اختلافات اور سنت خلفاء راشدین
دورِ خلافت میں انتشار و اختلاف کا پیدا ہونا عملاً ممکن تھا، ایسی صورت میں خلفاء راشدین کی سنت سے ہی ہمیں رہنمائی ملتی ہے ۔ابوبکر صدیق ؓ جب خلیفہ ہوئے تو عرب کے بعض قبائل نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے صاف انکار کر دیا ۔ صورت حال نازک تھی۔دیگر صحابۂ کرام مانعین زکوٰۃ کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھانے کے حق میں نہیں تھے ، لیکن ابو بکرصدیقؓ نے صاف لفظوں میں یہ اعلان فرما دیا کہ خدا کی قسم اگر ان لوگوں نے اونٹ باندھنے کی کوئی ایک رسی بھی جسے وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے میرے حوالے کرنے سے انکار کیا تو میں ان سے اس کیلئے جنگ کروں گا ۔(مسلم شریف)
حضرت عمر فاروق ؓ نے خلیفہ رسول ﷺ کو یہ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اے خلیفہ رسول ؐ تالف الناس و ارفق بھم ان لوگوں کی تالیف کیجیے اور نرمی کا رویہ اختیار کیجئے۔ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ
’’ عمر!زمانہ جاہلیت میں جہاں تم اتنے سخت تھے وہاں اب اسلام میں اتنے بودے بن رہے ہو ۔ کوئی شک نہیں کہ وحی کا سلسلہ موقوف اور اللہ کا دین مکمل ہو چکا ہے کیا اب وہ میرے جیتے جی ناقص ہو رہے گا۔ ‘‘ (مشکوٰۃ شریف باب مناقب ابو بکر ؓ)
ابوبکر صدیق ؓ کے ان الفاظ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دین کے مطالبات میں سے کوئی ایک مطالبہ بھی پورا کرنے سے انکار کیا جا رہا ہو تو یہ در اصل دین کا ناقص ہو کر رہ جانا ہے ۔ اور مومن کی شان یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کو برداشت کر لے۔
صحابۂ کرام میں آراءکا اختلاف ہوتا تھا ، لیکن نہ تو ان کے دل میں کوئی نفرت پیدا ہوتی ، نہ ہی وحدت پارہ پارہ ہوتی۔ فقہی اختلافات میں ان کا موقف یہ تھا کہ جس کا دل جس رائے پر مطمئن ہو وہ اس پر عمل کرے اور دوسری رائے پر عمل کرنے والے پر طعن نہ کرے ۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ’’ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کرتے تھے تو سفر میں روزہ رکھنے والا افطار کرنے والے پر تنقید کرتا نہ ہی افطار کرنے والا روزہ رکھنے والے پر تنقید کرتا ۔ (صحیح البخاری)
اختلاف رائے کے معاملے میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ کا طرز عمل
حضور ﷺ ہجرت کے بعد جب بھی مکہ تشریف لے گئے تو قصر نماز ادا کی ۔اسی پر حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی عمل کیا اور حضرت عثمان غنی ؓ نے بھی اپنے ابتدائی دور میں اسی پر عمل کیالیکن بعد میں قصر کے بجائے اتمام کرنے لگے۔ یہ بات جب عبد اللہ ابن مسعود ؓ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے ناپسند کرتے ہوئے انا للہ و انا لیہ راجعون پڑھا ، مگر جب جماعت کھڑی ہوئی تو حضرت عثمان غنی ؓ کے پیچھے کھڑے ہو کر انہوں نے چار رکعت ہی پڑھی۔ لوگوں نے کہا کہ خود آپ نے بھی چار رکعت ہی پڑھی تو حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ الخلاف شرٌّ اختلاف بری چیز ہے ۔ (حیات الصحابہ ۲؍۹۹)
دین میں فقہی اور فروعی اختلافات نا گزیر ہیں
جہاں تک فقہی اور فروعی اختلافات کا تعلق ہے تو یہ ناگزیر ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ دین میں اس طرح کے اجتہای و فروعی اختلافات نہ ہوں ۔ کیونکہ کتاب وسنت میں بہت سے نصوص ایسے ہیں جو ایک سے زائد معنی پر دلالت کرتے ہیں ، بعض الفاظ کے لغوی معنیٰ اور مجازی معنیٰ میں فرق ہے ۔ ایسی جگہ پرکون سا معنیٰ مراد لیا جائے گا””۔۔۔ حائضہ کی عدت سے متعلق قرآن میں یوں بیان فرمایا گیا ہے ۔ والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء (سورۃ البقرۃ ۲۸۸) لغۃً لفظ قروء حیض اور طہر دونوں معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ امام مالک ؒاور امام شافعی ؒ اس سے طہر مراد لیتے ہیں ، امام ابو حنیفہؒ اس سے حیض مراد لیتے ہیں۔ اسی طرح ضروری نہیں کہ ہر طرح کے حالات اور زمانوں میں پیش آنے والے مسائل کے لئے صریح نص ہو۔ غور و فکر اور قیاس کے ذریعہ نئے پیش آنے والے حالات و مسائل کے شرعی حل دریافت کیے جاتے رہیں گے ، ایسی صورت حال میں مفاہیم اور انطباق میں اختلاف ہونا لازم ہے ۔ نئے حالات میں پیش آنے والے مسائل کیلئے اجتہاد لازم ہے ۔ اس سلسلے میں آپ کا یہ فرمان بہت واضح ہے۔ ’’حاکم جب اپنے اجتہاد سے کوئی فیصلہ دے اور وہ فیصلہ واقع میں بھی درست ہو تو اس کے واسطے دوہرا ثواب ہے ، اور اگر اس میں خطا ہو جائے تب بھی ایک ثواب ہے ۔ (متفق علیہ)
انتشار امت کے نقصانات
مسلمانوں کی ہلاکت کی راہ یہی باہمی اختلافات اور چپقلش ہیں۔ امت مسلمہ کو درج ذیل قرآنی آیت میں صاف چوکنا کر دیا گیا ہے کہ تمہاری ہلاکت اسی راہ سے ہوگی۔ ’’ کہو وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کردے، یا تمہیں دو گرہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھا دے، دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔‘‘
(الانعام ۶۵)
اللہ پاک نے مزید فرمایا:
اِنَّ الّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمُ وَ کاَنو شِیَعاً لَسْتَ مِنْھُمْ فیِ شیء ( الانعام ۱۵۹)
جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقینا ان سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں ۔
تشریح : یہ آیت عام ہے ۔کفار و مشرکین سمیت سب لوگ اس میں داخل ہیں جو اللہ کے دین کو اور رسول کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے دین یا دوسرے طریقے کو اختیار کرکے تفرق و تحزب کا راستہ اپناتے ہیں۔ یہ بات ہر اس قوم پر صادق آتی ہے جودین کے معاملے میں مجتمع تھی، لیکن پھر ان کے مختلف افراد نے اپنے کسی بڑے کی رائے کو ہی مستند اور حرف آخر قرار دیکر اپنا راستہ الگ کر لیا ۔ (فتح القدیر : مولانا جونا گڑھیؒ)
آپسی انتشار و اختلاف سے نقصان یہ ہے کہ اس ذریعے سے امت کا وقار ختم ہو جاتا ہے ۔غیر قوموں کے دل سے امت کا رعب نکل جاتا ہے، آہستہ آہستہ امت بے وزن ہو جاتی ہے۔ دشمنانِ اسلام کو اسلام اور بلاد اسلام پر حملہ آور ہو نے کی ہمت ہو جاتی ہے، قبلہ اول کا امت کے ہاتھوں سے چھن جانا ، اور بابری مسجد کا دن کی روشنی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کر دیا جانا یہ سب امت کی کمزوری اور بے وقعتی کی ہی دلیل ہے ۔ سقوط مشرقی پاکستان کا گھاؤ ہمیں لسانی عصبیت کی بنا پر برداشت کرنا پڑا ۔ شاعر اسلام نے اسی حقیقت کو بیان کیا ہے ۔
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک ِ رہ گزر
سقوط صقلیہ، سقوط غرناطہ ، سقوطِ خلافت، سقوطِ ڈھاکہ اغیار کی سازشوں اور مسلمانوں کی آپسی نا اتفاقی اور اندرونی خلفشار کی ہی دین ہے۔
سقوطِ صقلیہ
صِقلیہ یعنی سسلی میں نویں صدی عیسوی میں مسلمانوں نے حکومت قائم کی ۸۴۲ء؁ سے ۱۰۷۲ء؁ تک وہاں مسلمانوں کی حکومت رہی۔مسلمانوں نے صقلیہ کو خوب ترقی دی۔ یہ بہت دولت مند شہر بن گیا، یہاں پانچ سو مساجد تھیں۔اس کی جامع مسجد میں سات ہزا ر مسلمان بہت آسانی سے نماز پڑھ سکتے تھے۔ دولت مندوں کے مکانات ایسے ہوتے تھے جن کی نذیر قرطبہ کے سوا کسی اسلامی شہر میں نہیں ملتی تھی۔صقلیہ کے عرب اطبا اپنے اندلسی بھائیوں کی طرح سب سے بڑے حاذق سمجھے جاتے تھے۔ عرب سیاسی حیثیت سے بھی یہاں مضبوط تھے۔ ان کی حکومت صقلیہ سے بڑھ کر اٹلی کے جنوبی حصے تک پھیل گئی تھی، بڑی ترقی ، بڑا عروج تھا ۔۔ صقلیہ پر عربوں کی حکومت ۲۰۰ سال تک رہی، مگر افسوس آپسی نفاق، اندرونی انتشار نے انہیں بکھیر دیا۔ علامہ سید صباح الدین عبد الرحمن ؒرقم طراز ہیں ’’ ۱۰۷۲ء؁ میں عرب پلرمو کی لڑائی میں شکست کھا گئے، ان کو جس طرح تباہ کیا گیا وہ بھی ایک عرب عیسائی مورخ کی زبانی سنئے ۔ ’’ پلرمو میں ۵۰۰ مساجد تھیں ، ان کو منہدم کرکے گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ وہاں علماء، صوفیہ اور حکماء کی اتنی قبریں تھیں سب نیست و نابود کر دی گئیں۔ چارلس دوم کے زمانے میں سسلی کے مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنایا گیا، نوسیرا اور بوسیرا کے مسلمانوں کی تعداد ۸۰۰۰۰ تھی، انکو زبردستی عیسائی بنا لیا گیا، ساری جگہیں مسلمانوں سے خالی کرا لی گئیں۔‘‘ (اسلام میں مذہبی رواداری ص ۱۳۲)
آپسی اختلا ف اور انتشار نے وہ دن دکھایا کہ جہاں پر شکوہ اور مضبوط حکومت تھی آج وہاں نشان تک باقی نہیں رہا ۔
سقوطِ غرناطہ
یورپ کے اس جنوب و مغربی جزیرہ نما کو آئبیریا ، اسپین، ہسپانیہ، اندلس کے ناموں سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کا رقبہ ۲؍لاکھ مربع میل سے زیادہ ہے ۔ اسپین کے لوگوں نے افریقہ میں آکر موسیٰ بن نصیر سے درخواست کی کہ وہ انہیں مصیبت سے نجات دلائے۔ ان کے اوپر مسلط ظالم بادشاہ کے ظلم سے انہیں نجات دلائے ۔موسیٰ بن نصیر نے خلفیہ ولید بن عبد الملک سے اجازت لے کر اپنے جوان ہمت فوجی سردار طارق بن زیادہ کو اسپین کی طرف بھیجا ۔ اس کی پامردی سے اسپین ؍ اندلس ۷۱۱ء میں فتح ہوا۔ مسلمانوں نے اندلس کو خوب ترقی دی،’’ نہروں کا جال بچھا کر وہاں کے بنجر علاقوں کو سر سبز و شاداب باغات میں بدل دیا ؛ پارچا بافی کو ایسی ترقی دی کہ یورپ میں یہیں کے کپڑے مقبول تھے؛ شکر، روئی، لوہے، اسپات اور کاغذ کے کارخانے کھول کر تجارت اتنی بڑھادی کہ انکے تجارتی بیٹرے بحراسود، بحر قلزم سے افریقہ اور مدغاسکر تک پہنچا کرتے تھے ۔‘‘ (اسلام میں مذہبی روادی ۱۳۸)
اندلس کا ایک صوبہ غرناطہ اس قدر مالا مال شہر تھا کہ اس صوبے میں ۳۰۰؍شہر اور قصبے تھے۔ اس قدر ترقی یافتہ، اس قدر عالیشان’’ جو سیاح یہاں آتے ، اپنی آنکھوں سے یہاں کا منظر دیکھ کر متعجب ہوتے۔ یہاں وہ دنیا بھر کے تاجروں کو اپنا کام کرتے ہوئے پاتے۔ ہر قوم کے جہاز کھڑے ہوئے ہوتے۔ بڑی بڑی منڈیاں ہر ضلع میں ہوتیں۔ عین وسط شہر میں القصبہ تھا جو قلعہ اور محل کا محل تھا۔ اس کے برج مورچے ، مثمر باغ ، سرسبز زمینیں اور فوارے نہ صرف سیاحوں کو دلکش معلوم ہوتے تھے بلکہ خود اس محل جنت نذیر کے رہنے والے اس کا لطف اٹھاتے تھے ۔‘‘ (اسلام میں مذہبی روادای ۱۴۵) عیسائیوں نے اندلس کے دیگر تمام صوبوں پر آہستہ آہستہ قبضہ کر لیا ، صرف ایک صوبہ غرناطہ ابن الاحمر نے ۲۳؍شوال ۶۳۶ھ؁ کوفردنند سے صلح کر کے بچایا۔ غرناطہ، مالقہ، لارقہ،المیریہ، جیان پر مشتمل اپنی حکومت قائم کی، غرناطہ کو دار الحکومت قرار دیا، ایک چھوٹی سی اسلامی حکومت جزیرہ نما اندلس کا ایک چوتھائی حصہ جس کا کل رقبہ ۵۰؍ہزار مربع میل تھا دو سو پچاس سال تک غرناطہ میں مسلمانوں کی حکومت قائم رہی۔
سقوط غرناطہ و اندلس کے اسباب
’’مسلمانوں کے کئی امراء عیسائیوں کے ایجنٹ اور اپنے بھائیوں کے دشمن ہو گئے تھے۔ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچانے کیلئے عیسائیوں کے ہمدرد بن گئے تھے ۔ ہر ایک مسلمان رئیس دوسرے مسلمان رئیس کو تباہ و برباد کرنے کیلئے عیسائی بادشاہ کو چڑھا کر لاتا اور اس برادرکشی سے فارغ ہو کر اپنی مملکت کے بعض شہر و قلعے عیسائی بادشاہ کی نذر کر دیتا اور عیسائی بہت خوش ہوتے اور مسلمانوں کی اس نالائقی کو اطمینان کی نظر سے دیکھتے تھے کہ ہمارا مقصود خود حاصل ہو رہا ہے ۔ ‘‘ (تاریخ اسلام ج سوم ، ص ۲۳۵)
غرناطہ کا آخری فرماںروا سلطان ابو عبد اللہ کاچچا زغل خود اپنے بھتیجے کو نیچا دکھانے اور بھتیجے کی تذلیل کیلئے غرناطہ پر حملے کیلئے فردنند کا ساتھ دیتا ہے۔ اس واقعہ پر عظیم مؤرخ اکبر شاہ نجیب آباد بڑے ہی درد بھرے انداز میں لکھتے ہیں:
’’ اس موقع پر زغل کو چاہیے تھا کہ وہ اتحاد و اتفاق سے کام لیتا؛ ذاتی رقابتوں کو فراموش کرکے اسلامی مقصد کو فوت نہ ہونے دیتا ؛ مگر مسلمانوں کی بدنصیبی نے یہ روزِ بد دکھایا ، اور اس خانہ جنگی و نا اتفاقی نے مسلمانوں کو سنبھلنے نہ دیا۔‘‘ (تاریخ اسلام ج سوم، ۲۵۷)
مسلمانوں کی آپسی نا اتفاقی :
اندلس کے مسلمانوں پر یہ زوال اس لئے آیا کہ انہوں نے کلام الٰہی کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا تھا ، اور خود غرضی اورنا اتفاقی کا شکار ہو گئے تھے ۔ ’’ اندلس کی اسلامی تاریخ میںکوئی زمانہ ایسا دستیاب نہیں ہوتا جس میں مسلمان اس مہلک مرض سے مامون و محفوظ نظر آتے ہوں، عیسائیوں کا اتحاد ۔۔ مسلمانوں کی غداری۔‘‘ (تاریخ اسلام ج سوم ص ۱۴۰)
اکبر شاہ مزید لکھتے ہیں ’’ اندلس کی جگر خراش اور زہرہ گداز داستان پڑھ کر آپس کی نااتفاقی اور خانہ جنگی کے ہیبت ناک نتائج پر غور کر سکتے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں ۔ ‘‘
(تاریخ اسلام ج سوم ۲۶۲)
مسلکی شدت اور گروہی عصبیت :
فقہ مالکی پر عمل کرنے والوں کی شدت نے اندلس میں مسلمانوں کو کافی کمزور کر دیا۔ اس مسلکی شدت سے قرطبہ میں جو بغاوت ہوئی اس کو سرد کرنے میں قرطبہ کی آبادی کا پانچواں حصہ بالکل ویران ہو گیا۔ مسلمانوں کی گروہی عصبیت اور آپس کی فتویٰ بازیوں سے دعوت اسلامی کا کام ٹھپ ہوگیا۔ الٹا ان فتاویٰ سے نو مسلموں کا اعتماد متزلزل ہونے لگا۔
’’ارتداد کا سلسلہ جاری ہوا، نو مسلم اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے لگے، مرتدین کا بڑا گروہ پیدا ہو گیا، جو دار السلنطت قرطبہ کے نواح میں عیسائیوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔ ‘‘
(تاریخ اسلام ج سوم ۱۴۷)
’’علماء کی گروہ بندی اور مالکی و حنبلی تفریق نے نو مسلموں کے جوش کو سرد کر دیا، بربری لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے۔جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ مسلمانوں کے اندر بحیثیت مجموعی روحانیت جاتی رہی، اخلاق فاضلہ ضعیف ہو گئے، دینی جذبہ سرد پڑ گیا، جو تلواریں راہِ خدا میں بے نیام ہوتی تھیں اب نفسانی اغراض و خواہشات کے پورا کرنے میں چمکنے لگیں، ہر ایک گروہ کی تفریق نمایاں ہو کر نمایاں تر ہوتی گئی۔ ‘‘ (تاریخ اسلام جلد سوم ص ۱۴۸)
سلطان ابو عبد اللہ نے عیسائیوں سے صلح کر لی۔ معاہدۂ صلح پر یکم ربیع الاول ۸۹۷ھ؁ بمطابق ۳؍جنوری ۱۴۹۲ء؁ کو دستخط ہو گئے۔ معاہدے کی رو سے ۶۰ دن بعد شہر کی چابیاں عیسائی فرمانروا کے سپرد کرنی تھیں، لیکن اس ڈر سے کہ کہیں عوام بغاوت نہ کر بیٹھے ابو عبد اللہ نے ۱۲؍ربیع الاول ۸۹۷ھ؁ بمطابق ۱۴؍جنوری ۱۴۹۲ء؁ کوقصر الحمراء کی چابی عیسائی حکمراں فردنند کے حوالے کر دی۔ چاندی کی صلیب قصر الحمرء پر نصب کر دی گئی اور عیسائی بادشاہ فردی نند قصر الحمراء میں فاتحانہ داخل ہوا۔ اس طرح وہ اندلس جسے طارق بن زیادا ور موسیٰ بن نصیر نے ۷۱۱ء؁میں فتح کیا تھا، ۱۴؍جنوری ۱۴۹۲ء؁کے دن ۷۸۱ سال بعد مسلمانوں کے ہاتھوں سے چلا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ مسلمان تہ تیغ کئے گئے، جلا وطن کئے گئے، زبردستی عیسائی بنائے گئے، مساجد مسمار کر دی گئیں، کتب خانے نذر آتش کر دیے گئے۔ ’’یہ جلاوطنی ۱۶۱۰ء؁ تک ختم نہیں ہوئی۔ اسوقت تک ۵؍لاکھ مسلمان جلا وطن کرکے برباد کئے جا چکے تھے، کہا جاتا ہے کہ غرناطہ کے سقوط کے بعد سترہویں صدی کے پہلے دس سال میں ۲۰؍لاکھ مسلمان جلا وطن کئے گئے ۔‘‘
(مورس ان اسپین ص ۸۰۔ ۲۷۹، اسلام میں مذہبی رواداری ،ص ۱۴۹)
سقوط غرناطہ پر بہت ہی عبرت آموز تبصرہ کرتے ہوئے عظیم مورخ اکبر شاہ لکھتے ہیں کہ ’’ ہم کو چاہیے کہ ان حالات سے عبرت آموز ہوں، اور اپنی حالتوں میں اصلاح کی کوششیں کریں۔ سچے پکے مسلمان بن کر آپس میں بھا ئی بھائی بن جائیں اور متحدو متفق ہو کر سستی و کاہلی چھوڑ دیں اور مصروف سعی ہو جائیں ، کہ اسی کا نام زندگی اور اسی کا نام خدا کی بندگی ہے ۔‘‘
(تاریخ اسلام جلد سوم ص ۲۶۶)
آبرو قائم تیری ملت کی جمعیت سے تھی جب یہ جمعیت گئی دنیا میں تو رسوا ہوا
اتحادامت کے ذرائع
٭ قرآن و حدیث کی روشنی میں وحدت ناگزیر ہے
ہر مسلمان کے سامنے ان تعلیمات کا اعادہ ہوتا رہے، نیز انتشار امت کے ماضی بعید و قریب کے شدید بحران ونقصان کا ذکر و تذکرہ ہونا چاہئے۔ سقو ط بغداد، سقوط غرناطہ، سقوط ِ ڈھاکہ ، ان کی تفصیلات و اسباب پرہر وقت نظر رہے۔ اس کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے ہینڈبل، کتابچے، تقاریر، درس ، خطبہ ٔ جمعہ ، جلسے وغیرہ کے ذریعے تازہ کرتے رہنے کی ضرورت ہے ۔
٭ فقہا ء کے اختلافات کی حقیقت سے آگاہ کرنا اور آگاہ ہونا چاہیے
فقہی اختلافات کی بنا پر شدت نہ آنے پائے، اور جولوگ ان اختلافی مسائل میں شدت پیدا کرتے ہوں ان کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ۔ فقہی اختلافات کا ایمانداری کے ساتھ مطالعہ اور ائمہ کے دلائل کا جاننا ضروری ہے تاکہ فکری توسع پیدا ہو سکے ۔
٭ امت کو منتشر کرنے کے خارجی عوامل پر ہر وقت نگاہ رہے
جہاں بھی خارجی اثرات کا ادراک ہو ، پرزور طریقہ سے امت کو باخبر کریں۔ کیونکہ امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کیلئے خارج سے بارہا کوششیں ہوئی ہیں اور نتیجے میں امت کمزور ہوئی ہے ۔ خارج سے امت کو منتشرکرنے کیلئے یہودی، عیسائی اور مشرکین خاص کر پیش پیش رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔
٭ امت کا ہر فرد معاشرے کے اندر کی برائیوں کی استیصال کیلئے ہاتھ سے زبان سے اور دل سے جہاد کرے۔ زمین پر سب سے بڑا شر طاغوت ہے، اس سے اجتناب اور اس سے کفر کرے اور اللہ کا دین جو سر تا سر خیر ہے اس کی اقامت اور اس کے غلبہ کیلئے کوشاں رہے، کیوں کہ اسی عظیم کام کیلئے امت برپا کی گئی ہے ۔
٭ امت کو بحیثیت مجموعی اللہ کے دین کو غالب کرنے کیلئے کوشاں رہنا ہے
خواہ امت کے مابین کچھ جزوی اختلافات ہوں، مسلکی اختلافات ہوں، اس ذریعہ سے امت کے اندر عملی اتحاد پیدا ہوگا۔ عمل کا یہ اتحاد ہی مطلوب ہے ، اسی اتحاد کیلئے ہمیں عملاً کوشاں رہنا چاہیے ۔
یہ ہندی وہ خراسانی، یہ افغانی وہ تورانی تو اے شرمندہ ٔ ساحل اچھل کر بے کراں ہوجا
٭ ملی حس اور دینی حمیت کو بڑھایا جائے
کرۂ ارض پر بسنے والا کلمہ گو ہمارا بھائی ہے ۔ اس رشتہ کو کوئی دریا، کوئی پہاڑ، کوئی سمندر بانٹ نہیں سکتا۔ اس کی عزت ہماری عزت ہے، اس کا دکھ ہمارا دکھ ہے، اور اس پر ہونے والا ظلم، اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ایمانی ذمہ داری ہے ۔ بے حسی موت ہے ۔ جب یہ حس اور حمیت تھی اور امت نے اللہ کے بھروسے اقدام کیا تو اعزاز و اکرام سے نوازا ۔ اندلس میں عیسائی بادشاہ کے مظالم سے وہاں کی عوام پریشان تھی، ان کمزوروں کی اعانت کیلئے موسیٰ بن نصیر نے طارق بن زیاد کو فوج دے کر بھیجاتو کمزوروں کی فریاد پر لبیک کہنے کے صلہ میں اللہ نے اہل اسلام کو غلبہ دیا اور تقریباً ۸۰۰ ؍سال تک اندلس میں حکومت قائم رہی۔
داہر کے غنڈوں نے جب سندھ کے ساحل پر مسلمان مرد و خواتین کو اسیرو قید کیا تو ان اسیروں کو چھڑانے ان کی فریاد پر لبیک کہتے ہو ئے جواں سال سپہ سالار محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا ۔ ظالم کی گوشمالی کی۔ اسیروں کو آزاد کرایاتو اس اقدام کی برکت سے اللہ نے اسلام کو وسعت دی ۔ آہ! امت کے اسیر و پریشاں حال فلسطین و مصر کی جیلوں میں فریاد کناں ہیں۔ شام و فلسطین ، برما و روہنگیا کے مسلمان، انگولا کے اسیر و بے بس مسلمان، اور بنگلہ دیش کے پریشاں حال مسلمان آواز دے رہے ہیں :معتصم باللہ کہاں ہو ، محمد بن قاسم کہاں ہو ، طارق بن زیاد کہاں ہو؟ اہل اسلام (مصر و فلسطین ) کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے ۔۔ اہل اسلام کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں ، اسلام پر پابندی لگائی جا رہی ہے ۔۔ عصمتیں پامال کی جا رہی ہیں۔۔۔ ، افسوس وہ دینی حس کہاں کھو گئی ۔جب تک غیرت و حمیت کی آگ امت کے دلوں میں نہیں پیدا ہوگی، محض اتحاد کے نعروں اور وحدت کے ترانوں سے اتحاد نہیں قائم ہو سکتا ۔
’’کسی مسلمان کی بے عزتی یا بے حرمتی ہو رہی ہو اور دوسرا مسلمان اس کی مدد نہ کرے تو دوسرے موقع پر جبکہ اسے مدد کی ضرورت ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس کی کوئی مدد نہ کرے گا۔ اور جب کسی مسلمان کی بے حرمتی یا بے عزتی کے موقع پر دوسرا مسلمان اس کی مدد کریگا تو اللہ تعالیٰ بھی دوسرے موقع پر جب خود اسے امداد مطلوب ہو اس کی امداد فرمائے گا۔‘‘ ( ابو داؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ جوشخص ا پنے کسی بھائی کی آبرو کی مدافعت کرے گا، اللہ تعالیٰ روزہ قیامت اس کے چہرے کو آگ سے دور کر دے گا۔‘‘
(ترمذی شریف )
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
دین نام ہے خیر خواہی کا ، لوگوں نے پوچھا کس کی خیر خواہی کا، آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کی، اس کی کتاب کی اور اولی الامر کی اور مسلمان تو دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ تو اس کی امداد سے پہلو تہی کرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے، اور نہ اس پر ظلم کرتا ہے۔ تم میں ہر شخص دوسرے کا آئینہ ہے ، لہٰذا جب اس کے اندر کوئی کمی دیکھے تو اسے دور کردے ۔
(ترمذی شریف)
’’مسلمان وہ ہے جسکی زبان اور جسکے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ ایک دوسرے سے حسد مت کرو۔ بازار میں کوئی چیز بکتی ہو اور کوئی اس کو خریدتا ہو تو خریدنے کی نیت کے بغیر اس کی قیمت نہ بڑھاؤ۔ ایک دوسرے سے بغض مت رکھو۔ ایک دوسرے سے از راہِ حقارت منھ مت پھیرو، اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اللہ کے بندو ں ایک دوسرے کے بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کی مدد سے ہاتھ کھینچے، نہ اس کو حقیر جانے، ہر چیز مسلمان کی مسلمان پر حرام ہے ۔ اس کی عزت، اس کا خون، اسکا مال۔‘‘
(صحیح مسلم)
٭ ایک زندہ اسلامی معاشرہ تشکیل دیں
ایک کلمۂ توحید کے اقراری، ایک اللہ کے بندے، ایک قرآن کے قاری، ایک رسول عربی کے امتی ، ایک خانہ کعبہ کو مرکز توحید ماننے والی امت کے افراد جہاں جہاں ہوں ،ایک زندہ معاشرہ تشکیل دیں۔ مساجد کو سرگرمیوں کا مرکز بنائیں ۔ مسجد کے اماموں یا متولیوں کو بستی یا محلے کا ذمہ دار بنائیں۔ مسجد میں دار القضاء قائم کریں ۔اپنے مقدمات کو شرعی عدالتوں میں حل کرائیں۔ شادی ، بیاہ، دیگر تمام معاملات کو خالص کتاب و سنت کی روشنی میں حل کرائیں ۔اپنے معاشرے میں ایک دوسرے کی عزت کریں ، اخوت کو فروغ دیں ، اخوت یہ دل کی گہرائیوں سے پھوٹنے والی محبت کا نام ہے جو خالص اللہ کے فضل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اپنے کسی مسلمان بھائی کو اپنی ذات سے تکلیف نہ پہنچائیں ۔ کلمہ کی بنیاد پر محبت کو عام کریں، اور جان لیں کی اللہ تعالیٰ روزہ قیامت فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو باہم محبت رکھتے تھے، مجھے اپنے جلال کی قسم انہیں میں اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔ اور آج میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (صحیح مسلم ) اسی ایمانی بنیاد پر ہم انس و خیر خواہی کو عام کریں ، اس ملی وحدت کو پارہ پارہ ہونے سے بچانے کیلئے ہر ایک کو ایثار کا ثبوت دینا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :
ومن ترک المراء وھو بحقٍ بنی لہ فی وسط الجنۃ جو شخص آپسی جھگڑارفع کرنے کیلئے حق پر ہوتے ہوئے اپنے حق سے دست بردار ہو جائے میں اس شخص کو جنت کے بیچوںبیچ گھر دلوانے کا ذمہ دار ہوں ۔ (قرآنی تعلیمات اور اس کے تقاضے ص ۲۰۴)
اتحاد امت اور اس کی بقا کیلئے حسب ذیل باتوں کا لحاظ ضروری ہے۔
(۱) مسلمان کو بلا وجہ برا بھلا کہنا گناہ عظیم ہے (۲) بلا وجہ قتل کفر ہے(۳) مسلمان چغل خوری نہ کرے ( ۴ ) غیبت نہ کرے ( ۵) کسی مسلمان بھائی کی تکلیف سے خوش نہ ہو (۶) ہر مسلمان کی عیب پوشی کرے ۔
٭ وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
اسلامی حکومت یا اسلامی ریاست ایک وسیلہ ہے جس کے بغیر مکمل اسلامی احکامات پر عمل ممکن نہیں اور اس کے بغیر اسلامی معاشرے کا تحفظ مشکل ہے۔ امت مسلمہ جس کے قیام کی دعا حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ نے کی تھی ’’امۃ مسلمۃ لک‘‘ اور امت مسلمہ کو اللہ نے اہم ذمہ داری دی۔ فرمایا کہ ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔۔ ۔ و لتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر۔۔۔ امۃ وسطالتکونوا شھداء علی الناس ۔۔۔ لہٰذا اصل مقصد امت کی تشکیل و تربیت ہے، لیکن ریاست و حکومت امت کیلئے ہی درکار ہے ۔ امت کی مدد کیلئے ریاست و حکومت کی قوت موجود ہوگی تو امت دین کی سربلندی کیلئے کام کر سکے گی۔ صرف اسی صورت میں امت کا تحفظ ہو سکے گا، اگر ریاست اس کی حفاظت کیلئے موجود ہو۔ و گر نہ ادھورے اسلام پر عامل امت بے وقعت اور مجبور بنا کر رکھ دی جائے گی۔ غلامی، ذلت و مسکنت ہی قوم کا مقدر ہو جائے گا۔ آزادی کی برکتوں سے بے بہرہ امت غلامی پر قانع ہو جائے گی۔ شاعر اسلام نے بڑی صاف گوئی سے بیان کیا ہے ؎
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
حضرت عثمان غنی ؓ کا قول ہے:
الاسلام اُسٌّ و سلطان حارس فما لا اُسٌّ لہ ھادم وما لا حَارِسٌ لہ ضائع
(محاضرات فقہ ، ڈاکٹر محمود غازی ، ص ۳۶۶)
اسلام ایک بنیاد ہے اور سلطان چوکیدار ہے، جس عمارت کی کوئی بنیاد نہ ہو وہ گر جائے گی اور جس عمارت کا کوئی چوکیدار نہ ہو وہ ضائع ہو جاتی ہے اور لوٹ لی جاتی ہے ۔
گویا امت مسلمہ ایک عمارت ہے ، اس کی بنیاد دین کی تعلیمات پر ہے، سلطان و حکومت اس کے نگہبان و محافظ ۔ اسلئے وحدت امت کیلئے قوت ضروری ہے ۔ جو غلبہ کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس لئے پورے شعور کے ساتھ دین کو غالب کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔
بیشک اللہ پاک اس پر قادر ہیں کہ زمین پر بسنے والے سارے انسانوں کو ایک امت کر دیں ، لیکن اللہ نے ایسا نہ کرکے اختیار دیا ہے ، اور یہی اصل امتحان ہے ۔
وَلَو شَائَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَاحِدَۃ وَلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلَفِیْن اِلَّا مَن رَحِمَ رَبُّکَ وَ لِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ۔ ( ھود ۱۱۸۔۱۱۹)
بیشک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا ۔ مگر اب تو وہ مختلف طریقوں پر ہی چلتے رہیں گے اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے ۔ اسی (آزادی انتخاب و اختیاراور امتحان) کیلئے تو اس نے پیدا کیا تھا ۔
ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اللہ کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہیں ، صرف ایک اللہ کے ہوکر رہیں ۔ واعْتَصِمُوا بِاللّٰہ ھُوَ مَولٰکُم فَنِعْمَ الْمَولیٰ وَ نعْمَ النّصِیرُ (الحج ۷۸) اللہ سے وابستہ ہو جاؤ، وہ ہے تمہارا مولیٰ ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مدد گار ۔
تشریح : اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور ہدایت اور قانونی زندگی بھی اسی سے لو، اطاعت بھی اسی کی کرو، اور خوف بھی اسی کا رکھو، امیدیں بھی اسی سے وابستہ رکھو ، مدد کیلئے بھی اسی کے آگے ہاتھ پھیلاؤ اور اپنے توکل اور اعتماد کا سہارا بھی اسی کی ذات کو بناؤ۔
(تلخیص تفہیم القرآن سورہ حج ح ۱۳۴)
اختلاف و انتشار کے سمندر میں ہمارے لئے اور ہم سب کیلئے ایک ہی رسی ہے، وہ اللہ کی رسی ہے، بس اسی کو ہم مضبوطی سے تھام لیں ، خواہ اختلافات کتنے بھی شدید ہوں، اگر یہ سر رشتہ ہمارے ہاتھ رہا تو ان شاء اللہ امت کو منتشر کرنے کی ہزاروں کوششیں بے سود ہوں گی۔ ہم تمام کیلئے یہی پیغام ہے واعتصمو بِحبلِ اللّٰہِ جمیعا ولا تفرقوا (آل عمران ۱۰۳) سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقے میں نہ پڑو ۔
’’ اللہ کی رسی سے مراد اللہ کا دین ہے، اور اس کو رسی سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملاکر ایک جماعت بناتا ہے ۔ اس رسی کو مضبوط پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو ، اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کیلئے آپس میںتعاو ن کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزویات اور فروع کی طرف منعطف ہوئیں ، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلا ف رو نما ہو جائے گا ، جو اس سے پہلے انبیاء کی امتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کرکے دنیا اور آخرت کی رسوائیوں میں مبتلا کر چکا ہے ۔ (تلخیص تفہیم القرآن حاشیہ ۸۳)
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
اے کاش ۔۔۔۔ !

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *