بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا

مسلم معاشرے میں نسلی امتیاز یا برادری واد ایک افسوس ناک حقیقت ہے ۔دوسری قوموں نے اسلامی قدروں سے بہت کچھ سیکھ کر اپنے آپ کو اس مقام پر پہونچایا ہے۔آج دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی قدروں میں یہ قدربھی شامل ہے کہ ان کے یہاں رنگ اور نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ کیا جائے، خواہ ان قوموں کے اندر نسلی امتیازات موجود ہوں۔ لیکن ان کی متفقہ قدریں جو ان کے آئین اور قانون میں لکھی ہوتی ہیں وہ یہی ہیں کہ قانون رنگ ،نسل اور مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز روا نہیں رکھے گا۔ آج یہ قدریں سیکولرزم اور جمہوریت کی شناخت بتائی جا رہی ہیں۔
جنوبی افریقہ ،جہاں رنگ کی بنیاد پر بدترین امتیاز جاری تھا وہاں نیلسن منڈیلا کی قیادت میں انقلاب آیا اور جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی پشت پناہی کرنے والے امریکہ نے خود اپنا صدر ایک سیاہ فام کو منتخب کیا۔
کانگریس میں بال گنگا دھرتلک اور ہری دوا رکے سوامی شردھا نندنے کانگریس کی کانفرنس میں ذات پات کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی لیکن گاندھی جی کی مخالفت کی وجہ سے ذات پات کے خلاف قرار داد نہ پاس ہوسکی جبکہ بعد میں گاندھی جی نے ذات پات کی نہیں بلکہ چھوت چھات کے خلاف جدو جہد کی اور ایک دلت بستی میں جاکر سیواگرام بسایا۔ آئین ہند میں بھی ذات پات کے خلاف پیش لفظ میں ہی اصول بنادیا گیا۔
گزشتہ دنوں ایک گاندھی وادی نے سپریم کورٹ میں ایک عرض داشت دیکر گزارش کی کہ گاندھی وادیوں کو ایک الگ ذات تسلیم کیا جائے جس میں بین البرادری شادی کرنے والے جوڑے شامل کیے جائیں۔
اللہ کے آخری نبیؐ جس عرب معاشرے اور جس خاندان میں پیدا ہوئے وہ حضرت ابراہیمؑ کے اس بیٹے کا خاندان تھا جوحضرت ہاجرہؑ سے پیدا ہوئے تھے، جن کو یہود کنیز کہتے ہیں اور اس بنا پر ان کو حضرت اسحاقؑ سے کمتر سمجھتے ہیں۔ پیغمبر اسمعٰیلؑ کے اس خاندان میں بت پرستی در آئی جس کی وجہ سے اس معاشرے میں تمام برائیاں پیدا ہو گئی تھیں۔اپنے آپ کو خالص قوم ماننے والے یہود کو یہ قطعی امید نہ تھی کہ اس خاندان میں نبی مبعوث ہو سکتے ہیں۔ اس زمانہ کی ایرانی اور رومی تہذیبیں ان کو بے تہذیب کہتی تھیں اور بالکل خاطر میں نہیں لاتی تھیں۔شراب،جوا،مردار خوری،سود خوری،زناکاری یہ تمام برائیاں ان میں موجود تھیں،جن کا تذکرہ حضرت جعفر طیارؓ نے نجاشی کے دربار میں کیا تھا۔اللہ اور رسول ؐ پر ایمان اور قرآن مجید کی ھدایت نے ان کو وہ اعلی ترین قوم بنا دیا جس کی مثال دنیا نہ اب تک پیش کر سکی اور نہ مستقبل میں پیش کر سکے گی۔معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول ؐ پر ایمان ہی کسی قوم کو عروج دیتا ہے اور شرک قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔
رسول اللہ ﷺنے جو اولین مدنی معاشرہ قائم فرمایا ،وہ مختلف نسلوں قبائل اور قومیتوں پر مشتمل تھا۔ اس میں حضرت صہیب رومیؓ،حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت بلال حبشیؓ، حضرت ابوموسیٰ اشعری یمنیؓ، اسلام قبول کرنے والے مدنی یہودی اور خاندانی غلام بھی شامل تھے۔ رسول اللہﷺ نے ان لوگوں کو صرف بھائی ہی نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک گھر اور اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا۔ یہاں تک کہ اپنے خاندان میں ان کے نکاح بھی کرائے۔ حضرت زیدؓ جو آپ کے غلام اور خادم تھے ان کا نکاح آپﷺ نے اپنی رشتہ کی بہن حضرت زینب سے کرایا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ رشتہ چونکہ غیرکفو میںہوا تھا اس لیے قائم نہ رہ سکا حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
’’جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے، اے نبی اس(مطلقہ خاتون) کا نکاح تم سے کردیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کے بارے میں کوئی تنگی باقی نہ رہے،جبکہ وہ(منہ بولے بیٹے)ان سے اپنی حاجت پوری کر چکیں اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔(الاحزاب:۳۷)
ام المومنین حضرت زینبؓ کے بارے میں ہے کہ آپ بہت سخی تھیں۔آپ یتامیٰ اور مساکین کی مدد کرتی تھیں اس کے لیے آپ چمڑے کی دباغت بھی کرتی تھیں اور کچھ سامان بناتی اور فروخت کرتیں اور اس کی آمدنی ضرورت مندوں پر خرچ کرتی تھیں۔ جب ا مہات المومنین نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیاتھا کہ ان میں آپ سے، سب سے پہلے کون ملے گی اور آپ نے فرمایا تھا کہ جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ تمام ا مہات المومینن اپنے ہاتھ ناپنے لگی تھیں۔ لیکن جب حضرت زینب کا انتقال سب سے پہلے ہوا تب پتہ چلا کہ لمبے ہاتھ سے مراد ان کی سخاوت تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دباغت کو رذیل پیشہ کہنا غلط ہے۔
آزادی اور غلامی
کسی انسان کی غلامی بھی دائمی نہیں ہوتی بلکہ آزاد ہونے کے بعد صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے۔اس کے لئے حضرت مغیث اور حضرت بریرہ کا واقعہ کافی ہے۔پہلے زوجین غلام تھے لیکن جب حضرت بریرہ آزاد ہو گئیں تو آپ نے حضرت مغیث سے علاحدگی اختیار کر لی حالانکہ حضرت مغیث ان کو بہت چاہتے تھے لیکن آزاد ہونے کے بعد حضرت بریرہ نے انکے ساتھ رہنا پسند نہیں کیا جبکہ رسول اللہ ؐ نے رشتہ قائم رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔معلوم ہوا کہ غلامی ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی اور اسلامی تاریخ میں غلام خاندان کے لوگ حکمراں بھی ہوئے۔ اور قرآن مجید کی نص سے ثابت ہے کہ نکاح کے لئے غلام مومن آزاد مشرک سے بہتر ہے۔
کفاء ت کا مسئلہ
اسلام نے کفائت کے جاہلی معیار کو توڑ کر مسلمانوں کے لئے ایمان کا معیار پسند کیا:
’’اور تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا،جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے،اگرچہ وہ تم کو بہت پسند ہو اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی مت کرنا، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے ،اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو، یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں،اور اللہ اپنے اذن سے تمہیں جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ (سورہ بقرہ:۲۲۱)
’’زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ، اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک،اور یہ حرام کر دیا گیا اہل ایمان پر‘‘۔ (سورہ نور :۳)
قرآن مجید نے جس آیت کے ذریعے سوچ اور فکر کا جو سب سے گہرا انقلاب برپا کیا وہ سورہ حجرات کی یہ آیت ہے:
’’اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو قوموں اور قبائل میں تقسیم کردیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے‘‘۔ (سورہ حجرات:۱۳)
اس آیت میں پوری نوع انسانی سے خطاب کرکے دنیا کی عظیم ترین گمراہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو عالمگیر فساد کی وجہ رہی ہے اور آج بھی ہے۔ایک جنگ عظیم صرف آرامی یا آرین نسل کی برتری کے لئے لڑی گئی اور مبینہ طور پر اس میں سامی نسل کے مبینہ خالص لوگوں کا قتل عام ہوا۔مغربی قومیں اپنے آپ کو مشرقی قوموں سے برتر سمجھتی ہیں۔اور انکی نظر میں اورِینٹ (orient) یعنی مشرق غیر مہذب ہے اس لئے اس پر مغرب کا حکومت کرنا فرض ہے۔اس کے لئے مغربی انسان پر اسکے لئے ظلم و زیادتی کرنا جائز ہے۔آج عرب ممالک میں مشرق کے لوگوں کے ساتھ بھی گوروں کے مقابلے نسلی امتیاز برتا جاتا ہے خواہ وہ یہاں کے برہمن یا سید ہی کیوں نہ ہوں۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفائت ایمان اور عمل میں ہوتی ہے نسب پیشے اور حسن میں نہیںہوتی ۔سورہ حجرات کی اس آیت سے واضح ہے کہ اللہ نے قوم اور قبیلہ صرف پہچان کے لیے بنایا ہے ورنہ اللہ کی نظر میںشریف وہی ہے جو اللہ سےڈرنے والا ہے۔ سنت اور آثار سے ثابت ہے کہ مسلمانوں میں نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا تھا۔ قبائلی عصبیتیں ابھر کر سامنے آتی تھیں لیکن جب دین کی تعلیمات لوگوں کے سامنے آتیںتو یہ عصبیتیں دب جاتیں۔
آپؐ نے فتح مکہ کے موقعہ پر طواف کعبہ کے بعد فرمایا:شکر ہے اس اللہ کا جس نے تم سے جاہلیت کا عیب اور اس کا تکبر دور کر دیا۔لوگو! تمام انسان صرف دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ایک نیک اور پرہیزگار،جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے۔ دوسرے فاجر اور شقی،جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے۔ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ (ترمذی)
آپؐ نے حجہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا:
نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر، نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر،نہ کسی گورے کو کسی کالے پر،نہ کسی کالے کو کسی گورے پر برتری حاصل ہے، مگر تقوی کی بنا پر،تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کوئی تمہارے پاس رشتہ آئے اور تم اس کی دین داری سے مطمئن ہو تو وہاں رشتہ کرلو، اگر تم ایسا نہ کروگے تو زمین پر فساد عریض ہوگا‘‘
عورتوں سے نکاح ان کے حسب، مال، جمال اور دین کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، تم دین کی بنیاد پر نکاح کرکے کامیاب ہوجاؤ۔
اس حدیث میںرسول اللہﷺ نے دنیا میں جاری کفائت کے معیارات کا ذکر کرکے فرمایا کہ مسلمان کو دین کو ترجیح دینا چاہیے۔
اس کے علاوہ کفاء ت فی النسب کے حق میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔
(فتح الباری ،کتاب النکاح،باب الاکفاء فی الدین)
آٓخرت کے حساب کتاب کے اہم ترین مسئلے میں نبیﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت فاطمہ زہرہ ؓ سے صاف فرمایا تھا کہ قیامت کے دن میں تمہارے کام نہیں آؤںگا۔ اس دن صرف تمہارے اعمال تمہارے کام آئیں گے۔
نسب کے جس فخر کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے قدموں تلے روندنے کا اعلان فرمایا۔ اس نسب کی بنیاد پر ہم لوگ ذات برادریوں میں تقسیم ہورہے ہیں۔ جس طرح ایمان انسانوں کو باہم جوڑتا ہے اسی طرح صحری رشتے بھی ایمان کی بنیاد پر ایمانی رشتوں کو مزید تقویت پہونچاتے ہیں اور اس سے ملت کا تانا بانا Fabric مضبوط ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں برادریوں سے چند اچھی یابری صفات جوڑ دی گئی ہیں۔ برادریوں کی حیثیت قومیتوں کی ہوگئی ہے۔ ہم ایک مسجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں لیکن ان قومیتوں کے درمیان اور کوئی تعلق نہیںہوتا۔ اسی لیے بعض برادری بعض کو رذیل کہتی ہے۔ مسلمان اور رذیل؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟بعض کو نسب کے طعنے دیے جاتے ہیں اور ایک برادری دوسرے کا مذاق اڑاتی ہے۔ حالانکہ نسب پر طنز کرنے اور کسی قوم کا مذاق اڑانے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں صا ف الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ اگر آپس میں نکاح کے رشتے ہوں تو آپس میں طنز کرنے یا تمسخر اڑانے کا خیال بھی نہیںآئے گا۔
دنیا میں اسلام کی پہچان یہ ہے کہ اس میں ذات پات کا امتیاز نہیں ہے اور یہ پہچان قرآن اور سنت کی تعلیمات اور اولین عرب معاشرے میں اس عمل سے بنی ہے۔برے صغیر میں مسلم معاشرے میں جو ذات پات کا ماحول ہے وہ دین کی تعلیم سے نہیں بدل سکا۔عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ کفو میں نسب دیکھنے کی وجہ سے ذات پات کا تعصب نہیں بڑھنا چاہئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ذاتیں یا تو نسل کی بنیاد پر بنتی ہیں یا پیشہ کی بنیاد پر۔ ہندو معاشرے میں مذہب کے مطابق ذاتیں نسل سے بنی ہیں لیکن اب ہندو لیڈر کہتے ہیں کہ ذاتیں پیشہ کی بنیاد پر بنتی ہیں لیکن ہندو مذہب میں پیشہ تبدیل کرنے کو دھرم سے بغاوت قرار دیا گیا ہے۔اس میں ایسی کوئی تعلیم اور پابندی نہیں ہے۔ لیکن ہندستان میںذاتیںنسل کی بنیادپربنی ہیں۔ان کی عصبیتیں باقی ہیں ۔ ان کے درمیان دینی تحریکوں میں تو تعامل ہے لیکن سماجی سطح پر نہیں ہے۔اگر ہم نسبی خالصیت پر زور دیتے رہے تو یہ عصبیت ختم نہیں ہوگی۔
علماء نے بھی کہیں دین میںنسبی کفو کی بات نہیں کی ہے۔ علماء نے صرف یہ کہا ہے کہ تہذیب اور عادات و اطوار وغیرہ میں یکسانیت سے رشتوں کی مضبوطی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
ذات پات مشرکین کی پہچان ہے
اسلام نے تمام انسانیت کو حضرت آدمؑ کی اولادبتایا ہے او رہر نفس کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ تو جو اللہ کا بندہ ہے، اس سے ڈرنے والا ہے، وہ اللہ کی نظر میں مکرم ہے۔ لیکن جو اللہ سے نہیں ڈرتا اور اپنی مرضی یا دوسروں کی مرضی یا دوسرے خداؤں کی بندگی کرتا ہے ،وہی اللہ کے نزدیک برا ہے اور اسفل ہے۔
ہندو مشرکین کا یقین ہے کہ چار مختلف بنیادی ذاتیں برہما کے چار اعضاء سے پیدا ہوئی ہیں اور پھر ان کی مخلوط ذاتیں وجود میں آئیں۔ انہیں چار ذاتوں کو یا ان میں تین ذاتوں کو اعلیٰ قرار دیتے ہیں اور چوتھی ذات اور مخلوط ذاتیں تین اعلیٰ ذاتوں کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ تناسخ کا نظریہ بھی جڑا ہو اہے کہ دنیا میں اپنے ذات کے فرائض ادا کرکے اگلے جنم میںاسفل ذاتیں اعلیٰ ذاتوں میںجنم لے سکتی ہیں اور اعلیٰ ذات کے لوگ اگر اپنی ذات کے فرائض انجام نہیں دیتے تو وہ اگلے جنم میں اسفل ذات یا دیگر مخلوقات میں بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
قرآن مجید فرعون کے بارے میں بتاتا ہے کہ اس نے زمین میں طغیان پھیلایا اور اہل مصر کو گروہ گروہ کردیا۔ اس کے دور میںبنی اسرائیل مظلوم قوم تھے۔ وہ ان کے بیٹوں کو قتل کرتا اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ ظلم اور انسانوں کی نسلی تقسیم دین سے بغاوت کرنے والوں کا ظاہرہ ہے۔ مسلم معاشرے میںایسا نہیں ہونا چاہیے۔جب ہم نسب پر فخر کرتے ہیں یا نسب کا طعنہ دیتے ہیں یا نسب کی بنیاد پر امتیاز کرتے ہیں تو ہم جاہلیت کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور جاہلیت اسلام کی ضد ہے۔
اس کمزوری کا استحصال
ملک کے وہ لوگ جو اسلام اور مسلمانوں کو برداشت نہیں کرنا چاہتے ہماری ملت کی ذات برادری ان کے لئے سستا ہتھیار ہے۔اس میں سے کوئی مسلمانوں کے علاوہ سب کو ہندو کہتا ہے، کوئی ۸۵ فیصد عوام کو بشمول ہندوستانی نسل کے مسلمانوں کو بہوجن کہتا ہے،اور کوئی چند مسلم برادریوں پر نوازشیں کرکے ملت کی طاقت کو تقسیم کرتا ہے اور کوئی مسلمانوں میں سے دبنگ عناصر کو اپنے ساتھ جوڑ کر مسلمان ووٹوں کا دعویدار ہے۔جس سے ہماری ووٹ بینک کی حیثیت بھی ختم ہو گئی۔یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ منصوبہ بند سازشوں کا نتیجہ ہے۔غیر ہمیں دلت اور پس ماندہ کو شرفاءکے خلاف کھڑا کرنا چاہتے اور ہم ان کو پورا موقعہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ہم ان تمام لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو کیوں گم کرنا چاہتے ہیں؟ملت میں کیوں نہیں گم ہو جاتے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *