تصورات امت اور وحدت امت

مفہوم کے اعتبار سے امت جانداروں کے گروہ کو کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ انسانوں کی جمعیت کو بھی قرآن نے امت کہا ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کی سب سے اعلیٰ جمعیت جماعت انبیاء کو بھی امت کہہ کر اس کے واحد ہونے کا تذکرہ بھی قرآن مجید میں موجود ہے۔‘بس تمہاری امت، واحد امت ہے‘‘(القرآن)
(اسلام اور جدید معاشرتی نظریات، ڈاکٹر خالد۔۔)
امت مسلمہ وہ گروہ ہے جو اللہ کا اطاعت گزار اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرماں بردار ہو، اسے امت مسلمہ کہا گیا ہے۔ اس جمعیت کی تشکیل دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعاؤں کا ثمرہ ہی ہے۔
’’اور یاد کرو ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے۔ اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے تو سب کی سننے والااور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اے رب !ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ،ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور اے رب! ہمارے ان لوگوں میں خود اپنی ہی قوم سے ایک رسول اٹھائیو، جو انہیں تیری آیات سنائے ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ۔تو بڑا مقتدر وحکیم ہے۔‘‘(البقرہ)
۲۵۰۰ (ڈھائی ہزار) سال بعد اس دعا کوشرف قبولیت عطا ہوئی۔ نبی کریمؐ حضرت اسماعیل ؑ کے سلسلۂ نسب سے اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپؐ کو رسالت کے منصب پر فائز کیا گیا اور آپؐ نے فردا ًفردا ًدین کی دعوت لوگوں تک پہنچائی اور انہیں فرماں بردار امت (امت مسلمہ) کا حصہ بنایا۔
مختلف رنگوں، نسلوں ، علاقوں ، زبانوں، تہذیبوں کے علمبردار لوگوں کو حضورؐ نے ملا کر ایک گلدستہ سا بنا یا۔ آئیے ان خوش نما پھولوں کا ،جن کی خوشبو آج بھی دل کو معطر کرتی ہے ،مشاہدہ تو کریں۔
یہ بلالؓ ہیں؛ حبشہ کے رہنے والے؛ رنگ کے اعتبار سے کالے کلوٹے ؛لیکن دل جن کا اجلا ایسا مانو آفتاب نے بسیرا کر رکھا ہو۔ مکہ کی وادی میں امیہ بن خلف دشمن اسلام کے غلام تھے۔ اس کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ پسماندہ ہونے کے وجہ سے کوئی ان پر توجہ نہ دیتا تھا۔جب اس امت کا حصہ بن گئے تو حصرت عمرؓ بن خطاب جیسے مدبر اور اعلی رتبہ کے انسان بھی انہیں ’یا سیدی‘ (اے ہمارے سردار) کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ (سیرت سرورکائنات۔۔۔)
دوسری طرف سلمان فارسیؓ ہیں۔ ایران(فارس) کے رہنے والے۔ رنگ سفید ،نسل اعلی لیکن حق کی تلاش میں گھومتے گھومتے بالآخر نبی کریمؐ کے گلدستہ امت کا حسین پھول بن گئے۔ حضرت بلالؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ علاقوں، رنگوں، زبانوں اور تہذیبوں کے اعتبار سے بالکل مختلف تھے لیکن ایک ہی امت کا حصہ بن گئے۔ آپس میں آخر تک شیر و شکر بن کر رہے۔ حضورؐنے انہیں اپنے اہل بیت میں شمار کیا ہے۔(سیرت النبی۔۔۔)
یہ حسان بن ثابتؓ ہیں۔ ان کو کون نہیں جانتا !شاعر رسولؐ ہونے کا شرف انہیں حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ حسان شعر پڑھو تمہارے شعر دشمن کو تیر کی طرح لگتے ہیں۔غزوہ احزاب کے موقع سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک قلعے پر متعین کیا تھا جس میں مسلمانوں کی عورتیں اور بچے محفوظ تھے۔ حضرت صفیہؓ نے دیکھا کہ ایک یہودی قلعے کے اطراف گھوم رہا ہے۔ شاید کچھ سن گن لینا مقصود ہو۔ حضرت صفیہؓ نے حسان بن ثابتؓ کو آواز دی اور کہا حسانؓ ذرا اس شخص کا علاج تو کرو۔ حضرت حسانؓ نے فرمایایہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ حضرت صفیہؓ نے قلعے سے ایک پتھر اٹھا کر اس یہودی کے سر پر دے مارا وہ گر پڑا۔ کہا حسانؓ اب اتو اس یہودی کی گردن کاٹ دو۔ حضرت حسانؓ نے فرمایا یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ حضرت صفیہؓ قلعے سے اتریں اور انہوں نے اس یہودی کا سر جسم سے الگ کیا اور کہا حسانؓ! اب اس سر کو یہودیوں کے علاقے میں پھینک آؤ۔ حضرت حسانؓ نے فرمایا یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا۔ ایسے ارادہ اور مزاج کے تھے حسان بن ثابتؓ۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ممبر پر بٹھا کر اشعار سنا کرتے تھے۔
دوسری طرف خالدؓ بن ولید تلوار کے دھنی، جس کیمپ میں رہے کبھی ہار نہیں مانی۔ مسلمانوں کے کیمپ میں رہتے تو کبھی شکست نہیں ہوئی۔ اور ایمان لانے سے قبل کفر کے کیمپ میں رہے تو مسلمانوں کوہزیمت اٹھانی پڑی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیف اللہ کا لقب عطا فرمایا تھا۔
ان دونوں کی صلاحیتیں بالکل جدا جدا تھیں لیکن رنگ و خوشبو جدا جدا ہونے کے باوجودہر دو اس گلدستہ امت کا حصہ تھے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علے ہوسلم نے بنایا اور سنوارا تھا۔
حضرت ابوبکرؓ متین سنجیدہ اور پر وقار شخصیت کےمالک تھے۔ حضرت عمرؓ بن خطاب بہت جری ا ورقوت کے مالک تھے۔ دونوں کی رائے بھی کبھی کبھی جدا جدا ہوتی تھی۔
بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت ابوبکر ؓ صدیق کی رائے یہ تھی کہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے لیکن اس کے علی الرغم حضرت عمرؓ بن خطاب کی رائے ان قیدیوں کے سلسلے میں گردن زنی کی تھی اور وہ بھی ان میں کے قریبی رشتوں داروں کے ہاتھوں سے۔
رنگوں، نسلوں، صلاحیتوں اوررائے کے اختلاف کے باوجود یہ سب ایک ہی امت کا حصہ ہے۔ امت مسلمہ کا سب سے اعلی درجہ جمعیت کے اعتبار سے حضرات صحابہ اکرامؓ کا ہی رہا ہے۔
٭ عقیدہ، فکر، نظریہ، اس کی یکسانیت جمعیت یا امت کو بنائے رکھتی ہے۔ امت مسلمہ عقیدہ کی بنیاد پر ہی متحد ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا نقطہ اتفاق ممکن نہیں۔ دیگر عوامل معاون ہو سکتے ہیں۔
قرآن نے اہل کتاب کو اسی نقطہ اشتراک پر باہم اتفاق کی دعوت دی ہے جسے کلمۂ سواء کہا گیا ہے۔ ہم ایک خدا کی بندگی کریں اور شرک جو ظلم عظیم ہے ، اس سےاجتناب برتیں۔
٭ محبت و الفت وحدت کو دیگر بنیادیں فراہم کرتیں ہیں۔ قرآن نے اس کو نعمت کہا ہے جو مومنین کے دلوں میں ودیعت کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ بھائی بھائی بن گئے۔دنیا کی دولت بھی اکٹھی کرکے ہم ان دلوں کو جوڑنے سے قاصر ہیں۔ جنہیں اللہ نے اپنے فضل سے جوڑ دیا ہے۔
٭ سیاسی اقتدار(خلافت) یا قیادت انہیں جوڑے رکھ سکتی ہے۔ نبیؐ کے انتقال کے بعدخلیفہ وقت حضرت ابوبکرؓ نے انتشار کی صورت حال کو اتحاد سے بدل دیا تھا۔ اگر کوئی قیادت نہ ہوتی تواختلافات ایسے سراٹھاتے کہ امت چکناچور ہو کر رہ جاتی۔ مثلاًنبیؐ کی تدفین کہاں ہوگی؟ مدینہ میں یا مکہ میں؟ ہر کوئی اصرار کرتا، اگر مدینہ میں ہونی ہے تو مسلمانوں کے عام قبرستان یا جہاں موت واقع ہوئی، وہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا جہاں انبیاء کی موت واقع ہوتی ہے تدفین وہیں ہوتی ہے۔ اختلاف ختم ہو گیا۔
اسی طرح آپ کی وراثت کے بارے میں۔ یہ مسئلہ بھی وقت کی قیادت نے حل کر دیا۔
تین دہائی قبل حرم میں مسالک کی بنیاد پر چار مصلے لگا کرتے تھے۔ ہر نماز کے چار مصلے ہوا کرتے تھے۔باری باری ہر مصلے سے جماعتیں بنتی تھیں۔لیکن سعودی حکومت نے ایک مصلے پر سب کو جمع کر دیا۔ اسی طرح تراویح کی نماز کے سلسلے میں ۸ کے بجائے ۲۰ رکعت پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ دو دو جماعتیں نہ ہوں۔سیاسی بالادستی بھی اتحاد و اتفاق کو بنائے رکھنے اور تفرقہ سے بچنے میں معاون ہوتی ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد یہ امت واقعی یتیم بن گئی ہے۔ جماعتوں نے مقصد براری کی حد تک کچھ سہولت بہم پہنچائی ہےلیکن خود آپسی عصبیتوں نے ان کے کاموں کو محدود کر دیا ہے۔ جماعتیں کبھی بھی امت کا بد ل نہیں ہو سکتیں۔ جماعتیں اصل میں امت کو بحال کرنے اور بنائے رکھنے کے ذرائع ہیں۔ یہ مطلوب تو ہو سکتی ہیں لیکن مقصود نہیں۔
اسی طرح مسالک عمل کی ترجیح کے لیے ہیں نا کہ تبلیغ کے لیے۔ تبلیغ تو صرف دین اسلام ؛اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی ہوگی۔ تمام مسالک دین کا بدل نہیں ہو سکتے۔ وہ تمام دین کے تحت ہی رہ سکتے ہیں۔ جب ترتیب بدل جاتی ہے تو بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
مسالک میں فروعی فقہی اختلافات لڑائی جھگڑوں اورتفرقہ کی بنیاد نہیں ہیںبلکہ دین میں وسعت کے مظاہر ہیں۔
اللہ اور اس کے رسولؐ کی باتوں پر بہتر انداز سے کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے، ان آثار اور آراء کو اختلاف کے باوجود اس کی ہر جہت جائز مانی گئی ہے۔ فرق صرف فضیلت کا ہے۔ یہ بہتر ہے اوریہ کچھ زیادہ بہتر ہے۔(شاہ ولی اللہؒ)
غزوۂ احزاب کے موقع سے جب فوج مدینہ واپس آئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی مزاج پرسی کا فیصلہ کیا۔ کہا جو اللہ اور رسولؐ پر ایمان اوران سے محبت کرتے ہیں ، وہ عصر کی نمام بنو قریظہ میں پڑھیں۔
فوج چل دی، راستے میں نماز عصر کا وقت ہو گیا۔ فوج کے ایک حصہ نے کہا کہ نماز پڑھ لینی چاہیے دوسرے حصے نے کہا کہ نہیں اللہ کے رسولؐ نے عصر بنو قریظہ میں پڑھنے کے لیے کہا ہے۔ پہلے حصہ نے کہا اللہ کے رسولؐ کا مقصد کہنے کا یہ تھا کہ لوگ جلد از جلد وہاں پہنچیں۔ اختلاف ہوا۔ایک ٹکڑی نماز عصر کے لیے رکی رہی اور دوسری ٹکڑی نے بنو قریظہ میں جا کر نماز عصر ادا کی۔ اس اختلافی عمل کوجب رسول ؐ تک پہنچایا گیا تو آپؐ خاموش رہے۔ نبیوں و رسولوں کی خموشی قانونی حیثیت کا درجہ رکھتی ہے۔گویا آپؐ نے اپنی خموشی سے ایک کو یہ پیغام دیا کہ اس نے میرے الفاظ کی لاج رکھی اور دوسرے نے میری منشا کو پورا کیا۔ ایک ہی حکم کے دو عملی مظاہر، دین میں وسعت کے مظاہر ہیں۔
بقول ڈاکٹرحمید اللہ، اللہ نے اپنے نبیؐ کی ہر ادا کو قیامت تک لیے امت کے عمل میں محفوظ کر دیا ہے۔نبیؐ کی ہر ادا کو پورا کرنے والے امت میں موجود رہیں گے۔ اسی پر تمام جزوی اختلافات کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔
رفع یدین، ہاتھ باندھے ہوئے بھی ہیں اور ہاتھ چھوڑے ہوئے بھی ہیں۔ کوئی سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے ہے، کوئی ناف پر باندھے ہوئے ہے۔اللہ اور اس کے رسولؐ نے اتنی وسعت دے رکھی ہے تو ہم کیوں اسے محدود کرنا چاہتے ہیں؟
ہماری سادگی کے نتیجے میں تو امت تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں ہمارے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر ہمیں منتشر کرناچاہتی ہیں۔
نبیؐ کے انتقال کے بعد کسی یہودی نے حضرت علیؓ کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ابھی تمہارے نبی کا انتقال بھی نہیں ہوا کہ تم آپس میں احتلاف کرنے لگے‘‘ اسی پر حضرت علیؓ نے اس دشمن اسلام کو جواب دیا کہ ہمار ااختلاف نبیؐ اور ان کے منصب پر نہیں ہے ہمارا اختلاف آپؐ کی کہی ہوئی باتوں کو اچھی طرح روبہ عمل لانے میں ہے۔‘‘ اگر نبیؐ اور آپؐ کے منصب پر اختلاف ہوتا تو ہم مسلمان نہیں رہتے۔
آج بھی نبیؐ کے معاملے میں شبہ و تشکیک پیدا کر رہے ہیں۔ او رامت کونبیؐ کی ذات سے دور کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ سلمان رشدی ،تسلیمہ نسرین، ٹیری جونس، ڈنمارک کے کارٹونوں ،فتنہ فلم، انوسنس آف مسلمس جیسی ڈاکیومنٹری بنا کراس سازش کو رو بہ عمل لانا مقصود ہے۔کیونکہ امت کے لیے مرکزی حیثیت خانہ کعبہ اور نبیؐ کی ذات اطہر ہی ہے۔
Rand CorporationاورBlack Water Organization جیسے گروہ امریکن و یورپین وسائل پر پالے جا رہے ہیں جو مسلمانوں کے اندرجماعتی اور مسلکی عصبیتوں کو فروغ دینے کا کام کر رہے ہیں۔ ہم نے جو امت کی تقسیم کر رکھی ہے اس سے آگے انہوں نے سیاسی اسلام، روایتی اسلام، تشدد پسند مسلم ،دہشت گرد مسلم جیسی اصطلاحات بنا کر مسلمانوں کے گروہوں سے الگ الگ روے اختیار کر رکھے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر مصر، تیونس، لیبیا، ترکی اور شام میں اس تقسیم نے خون مسلم کو پانی سے زیادہ سستا کر رکھا ہے۔ اس پر ایک دوسرے کے خلاف فضیلت کی لڑائی نے اور اپنے مفادات کے تحفظ کی سوچ نے اپنوں ہی کے گلے پھاڑ کھائے ہیں۔
مصر وسعودی کامعاملہ ہویا شام وایران کی صورتحال، پاکستان میں ڈرون حملوں کا مسئلہ ہو یا مسلکی بنیادوں پر مسجدوں میں بموں کی بہار، عراق و شام میں شیعہ سنی معاملہ ہو یا بحرین میں ،خون تو مسلمانوں کا ہی بہہ رہا ہے۔ در پردہ سازشوں کو بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہود، امریکہ اوریورپ اس کھیل کو کیسے کھیل رہے ہیں۔ لیکن بظاہر تو اپنے ہاتھوں اپنوں ہی کا خون بہہ رہا ہے۔
ہمارے فروعی اختلافات نہ ختم ہوئے ہیں نہ ہوں گے۔اشتراک اور قوت برداشت، رواداری، محبت واخوت ہی ان مسائل پر فتح پا سکتے ہیں۔ دل سوزی سے سمجھانے اور قربت کا احساس دلانے سے ہی امت کی اینٹ سے اینٹ سے جڑ سکتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے اختلاف سے زیادہ افتراق یا تفرقہ کی مذمت کی ہے۔ بالخصوص غلبۂ دین کے معاملہ میں قطعی بات کہی ہے کہ اس معاملہ میں فرقہ فرقہ نہ ہو جاؤ۔
’’ان اقیمواالدین ولاتتفرقوافیہ‘‘ (شوری)
اور قائم کرو اس دین کواور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔
غلبۂ دین کے مسئلہ میں انتہائی اتحاد کی بات قرآن نے کی ہے۔ اس لیے کہ دین کا غلبہ امت کے اتحاد کے بغیر ممکن نہیں۔
جس امت کو اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا تھا اسے باقی رکھنا، اس کا تحفظ کرنا اور اسےسنوارنا افراد امت کا کام ہے۔ وہ جماعتیں جو امت کے غم میں دعوت واصلاح کا کام انجام دے رہی ہیں،وہ عصبیتوں او راپنے دائروں سے اوپر اٹھ کر امت کی حیثیت میں آئیں تو خوش آئند بات ہوگی۔
اپنی اپنی جماعتوں اور مسالک سے جڑے رہنے کے باوجود ہم میں اشتراک عمل کیسے ممکن ہے اس پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے اکابرین کو مل بیٹھ کر مشترک نکاتی پروگرام Common Minimum Programبنانا چاہیے۔
عجیب بات ہے کہ وندے ماترم کہنے اور کہلانے والوں کے ساتھ ہم اٹھ بیٹھ تو سکتے ہیں لیکن سلام پڑھنے والوں، آمین بالجہر کہنے والوں، نماز کی دعوت دینے والوں، قرآن وحدیث کی بات کرنے والوں، دین کے غلبہ کی بات کرنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ۔ کیا خوب ہو اگر ہم میں سےہر شخص امت کے تئیں تواضع اور خاکساری برتے۔
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
اللہ ہمیں اس ٹیس و درد کو سمجھنے اور اسی کے مطابق اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *