تصور امت ایمان اور کفر کی کشمکش کا ایک پہلو

(ایمان اور کفر کا معرکہ جہاں انسانوں کو مومن و کافر میں تقسیم کرتا ہے وہیں اس کا اثر علاقوں اور خطوں پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ چنانچہ جہاں ایمان کی حکومت ہو وہ علاقے دارالاسلام کہلاتے ہیں اور جہاں کفر حاکم و قانون بنے دارالکفر کی حیثیت پاتے ہیں۔ بدقسمتی سے مسلمان توحید کے اس عظیم پہلو سے ہی ناواقف ہیں اور نتیجۃً وہ دارالکفر کو اپنا گھر سمجھ کر مطمئن بیٹھے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دوستی دشمنی اللہ کی بجائے وطنوں اور ملکوں کی خاطر ہونے لگی اور اسلامی وحدت پارہ پارہ ہوگئی۔ یہ سلسلۂ مضامین‘ توحید کے اس پہلو کو مسلمانوں میں اجاگر کرنے کی ایک کاوش ہے۔ یہ مضمون کتاب ’العلاقات الدولیۃ فی الاسلام ‘سے اخذ کیا گیا ہے۔)
لوگوں کا دو گروہوں میں منقسم ہونا ایک ایسی سنت ہے جو مخلوق میں رب ذو ا لجلال کی مقرر کردہ سنتوں میں شامل ہے۔ ایک گروہ اللہ پر ایمان لانے والا ہے اور دوسرا اس کے ساتھ کفر کرنے والا۔ اِن دو فریقوں یعنی ارباب ایمان اور اہل کفر کا وجود اس لمحے تک ضروری ہے، کہ جب وہ پاکیزہ اور خوشگوار ہوا چلے گی جو مومنوں کی روحیں قبض کر لے گی اور کافروں کے سوا کوئی زندہ نہ بچے گا۔ اس کے بعد دنیا کی بدترین مخلوق یعنی کفار پر قیامت قائم ہو گی۔انسانیت کی مومن و کافر دو حصوں میں تقسیم اس لئے بھی ضروری ہے کہ ابتلاء و امتحان اور آزمائش کی سنت الٰہی پوری ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْہُم مَّنْ ہَدَی اللّٰہُ وَمِنْہُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلالَۃُ فَسِیْرُوْا فِیْ الأَرْضِ فَانظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْن (النحل: ۳۶)
’ ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔ تو ان میں سے کچھ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی اور ان میں سے ایسے بھی ہوئے جن پر ضلالت مسلط ہو کے رہی۔ زمین میں چل پھر کے دیکھو کہ کیا ہوا جھٹلانے والوں کا انجام‘
نیز فرمایا:
وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ (الفرقان: ۳۱)
‘اسی طرح ہم نے مجرموں میں سے ہر نبی کے دشمن بنائے۔’
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَلَوْ شَاء رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَلَا یَزَالُونَ مُخْتَلِفِیْنَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذَلِکَ خَلَقَہُمْ وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لأَمْلأنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ
(ھود:۱۱۸،۱۱۹)
’اور اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا چھوڑتا، اور وہ برابر اختلاف میں رہیں گے بجز ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے۔ اور اسی کے لیے ان کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اور تیرے رب کی بات پوری ہو گی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے بھر دوں گا۔‘
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ذَلِکَ وَلَوْ یَشَاءُ اللّٰہُ لَانتَصَرَ مِنْہُمْ وَلَکِن لِّیَبْلُوَ بَعْضَکُم بِبَعْضٍ (محمد: ۴)
’یہ ہے (کام تمہارے کرنے کا ) اور اگر اللہ چاہتا تو وہ خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن ( اس نے تم کو یہ حکم اس لیے دیا ہے )کہ ایک کو دوسرے سے آزمائے۔‘
نیز فرمایا:
وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً أَتَصْبِرُونَ وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا
(الفرقان:۲۰)
’اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا کیا تم صبر کرتے ہو؟اور تمہارا رب سب دیکھ رہا ہے۔‘
سیدنا جابر بن عبداللہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے:
’ فرشتے نبی کریمﷺ کے پاس آئے جبکہ آپﷺ سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے کہا کہ یہ سوئے ہوئے ہیں، دوسرے نے کہا: ان کی آنکھیں سو رہی ہیں لیکن ان کا دل بیدار ہے۔انہوں نے کہا کہ تمہارے ان صاحب (نبیﷺ ) کی ایک مثال ہے، پس ان کی مثال بیان کرو۔(تو ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ سو رہے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ آنکھ سو رہی ہے،قلب جاگ رہا ہے۔) انہوں نے کہا کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور وہاں کھانے کی دعوت کی اور بلانے والے کو بھیجا،پس جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کر لی وہ گھر میں داخل ہوا اور دستر خوان سے کھایا اور جس نے بلانے والی کی دعوت قبول نہیں کی وہ گھر میں داخل نہیں ہوا اورنہ ہی دستر خوان سے کھانا کھایا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اس کی ان کے لیے تفسیر کر دو تاکہ یہ سمجھ جائیں۔بعض نے کہا کہ یہ تو محو خواب ہیں۔لیکن بعض نے کہا کہ آنکھیں تو سو رہی ہیں لیکن دل بیدار ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ گھر تو جنت ہے اور بلانے والے محمدﷺ ہیں پس جو ان کی اطاعت کرے گا وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اور جو ان کی نافرمانی کرے گا وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا اور محمدﷺ اچھے اور برے لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔‘ (صحیح بخاری)
ایک دن رسول اللہﷺ نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے:
’میں نے آپ کو محض اس لیے بھیجا ہے کہ آپ کی آزمائش کروں اور آپ کے ذریعے دوسروں کو بھی آزمائوں اور آپ اپنے اطاعت گزاروں کے ساتھ مل کر ان کے خلاف جنگ کریں جو آپ کے حکموں کی نافرمانی کرتے ہیں۔‘ (صحیح مسلم)
نبی کریمﷺ کی دعوت، عالمگیر دعوت ہے، اس لیے لازم ہے کہ دنیا کی سیادت و قیادت انہی کے ہاتھ میں ہو۔
اللہ کریم کا ارشاد ہے:
وَمَن یَبْتَغِ غَیْرَ الإِسْلَامِ دِیْناً فَلَن یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ
(آل عمران:۸۵)
’اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہو گا تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہو گا۔‘
نیز فرمایا:
تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا
(الفرقان:۱)
’بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان فرق کردینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ اہل عالم کے لیے ڈرانے والا بن جائے۔‘
ایک اور مقام پر ارشاد ربانی ہے:
قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ جَمِیْعاً الَّذِیْ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لا إِلَـہَ إِلَّا ہُوَ یُحْیِـیْ وَیُمِیْتُ فَآمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمَاتِہِ وَاتَّبِعُوہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ (الاعراف: ۱۵۸)
’کہہ دو اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، (اس اللہ کا ) جو زمین و آسمان کی سلطنت کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے،سو اللہ اور اس کے نبی امی پر ایمان لاؤ جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ یاب ہو جائو۔‘
نیز فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَنَذِیْرًا (سبا:۲۸)
’اور ہم نے تو آپ کو سب لوگوں کے واسطے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔‘
سیدنا جابر بن عبداللہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول معظمﷺ نے فرمایا:
’ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں: ایک مہینہ کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے؛ تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت کے لائق بنائی گئی ہے، پس میری امت کا جو شخص نماز کے وقت کو پالے تو اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے، میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے، مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے بھی جائز نہ تھا؛ مجھے منصب شفاعت عطا کیا گیا ہے اور تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘
الغرض یہ امر ناگزیر ہے کہ اسلام انسانی زندگی پر حکمرانی کرے اور ہر چھوٹے بڑے پر اس کا نظام و قانون نافذ ہو۔اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّہ (الانفال:۳۹)
’اور ان سے جنگ کرو تا آنکہ فتنے کا قلع قمع ہو جائے اور سارا دین اللہ کے لیے ہو جائے۔‘
چنانچہ اگر دین کا بعض حصہ اللہ کے لیے ہو اور کچھ حصہ غیر اللہ کے لیے تو اس صورت میں جدوجہد واجب ہوگی تا آنکہ پورے کا پورا دین اللہ رب العزت ہی کے لیے ہو جائے۔ اس لیے کفر و ایمان کا معرکہ،اسلام اور جاہلیت کی جنگ، حق اور باطل کا ٹکرائو، مومن اور کافر کی تفریق آپﷺ کی دعوت کی بنیادی خاصیت ہے، بلکہ یہ ہر نبی اور داعی الی اللہ کی دعوت کا مقصد ہے۔
جب نبی کریمﷺ نے بعثت کے بعد اپنی دعوت کا اعلان و اظہار کیا اور قریش مکہ آپﷺ کے مد مقابل کھڑے ہوگئے تو خلق خدا دو گروہوں یعنی مومن اور کافر میں بٹ گئی۔ اب ایک ایسے خطۂ ارض کا وجود ضروری تھا، جہاں دین الٰہی کو قائم و نافذ کیا جاتا۔چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر رسول مکرمﷺ نے مختلف قبائل کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا، تاآنکہ انصار کے ساتھ یہ معاملہ طے پاگیا کہ آپﷺ مدینہ منورہ تشریف لے جائیں گے، جسے دارالہجرت قرار دیا گیا۔ اللہ عزوجل نے اہل ایمان پر کفار کے علاقے سے ہجرت کرنا فرض کردیا۔ مہاجرین و انصار جمع ہوئے تو مدینہ اسلامی ریاست کا مرکز بن گیا۔ مدینہ کی جانب ہجرت کا فریضہ فتح مکہ تک برقرار رہا۔ بعد ازاں اہل کفر کے علاقوں سے ہجرت کا عمومی حکم باقی رہا۔ چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
’ہجرت اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک توبہ کی مہلت ختم نہیں ہوتی۔ اور توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا۔‘
سیدنا عبداللہ بن سعدی سے مروی ہے کہ نبی مکرمﷺ نے فرمایا:
‘جب تک دشمن سے جنگ جاری ہے، ہجرت کا سلسلہ اختتام پذیر نہ ہو گا۔’
مذکورہ حدیث میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت اس زمانے تک باقی ہے جب تک دشمن سے لڑائی ہوتی رہے گی۔
بہرحال اس طرح مختلف خطہ ہائے زمین ایک دوسرے سے ممتاز ہوگئے اور ہر علاقے کے مخصوص احکام وجود میں آگئے، جو مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ فقہائے اسلام نے انہیں مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔ چنانچہ بعض ارباب علم نے ابواب جہاد کے ضمن میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور کسی نے ’سیر ومغازی‘ کے تحت ان پر بحث کی ہے۔ ایک گروہ نے ان مسائل کو سیاست شرعیہ اور خراج کے ذیل میں درج کیا ہے تو دوسرے نے اس موضوع پر مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔کچھ علماء نے ان میں سے کسی ایک نکتہ کو علیحدہ تالیف میں تحقیق و تفحص کا ہدف ٹھہرایا ہے۔
دارالاسلام اور دارالکفر کی تقسیم کے دلائل
علمائے سلف و خلف کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ دنیا میں دو ’دار‘ ہیں یعنی دارالاسلام اور دارالکفر۔ یہ ایک اصیل اور مضبوط تقسیم ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ پر اساس پذیر ہے، جیسا کہ سطور ذیل سے واضح ہوگا۔
قرآني دلائل: قرآن شریف کی متعدد آیتیں اس پر دلالت کرتی ہیں۔
۱۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْإِیْمَانَ مِن قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ إِلَیْہِمْ
(الحشر:۹)
’اور جو ان کے آنے سے پہلے ایمان لا چکے اور یہاں (مدینہ میں )مقیم تھے۔ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘
مفسر قرآن، امام ابن کثیر اس آیہ طیبہ کی تفسیر میں رقم فرماتے ہیں:
’مراد یہ ہے کہ یہ دارالہجرت میں مہاجرین سے پہلے ہی سکونت پذیر تھے بلکہ بہت سے مہاجروں سے پہلے حلقہ بگوشِ ایمان ہو چکے تھے۔‘ ۱؎
۲۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِن قَوْمِہِ لَنُخْرِجَنَّکَ یَا شُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا مَعَکَ مِن قَرْیَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (الاعراف:۸۸)
’اس کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ! ہم تم کو اور جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آجائو۔ اس نے کہا: کیا جبکہ ہم اس سے نفرت کرتے ہوں تب بھی ؟‘
نیزارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّـکُم مِّنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا فَأَوْحَی إِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہْلِکَنَّ الظَّالِمِیْنَ (ابراہیم: ۱۳)
’اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یا تو ہم تمہیں اپنی سر زمین سے نکال کر رہیں گے یا تمہیں ہماری ملت میں پھر واپس آنا پڑے گا۔ تو ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔‘
ان آیتوں میں ’قریہ‘اور’ ارض‘ کی نسبت کفار کی طرف کی گئی ہے، یعنی کافروں کی بستی اورسر زمین۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے شہروں اور علاقوں میں ان کفار کے احکام چلتے ہیں نیر امرو نہی اور غلبہ و نفاذ کے پہلوؤں سے انہی کا سکہ رواں ہے۔ یہی دارالکفر کی حقیقت ہے۔
۳۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلآئِکَۃُ ظَالِمِیْ أَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِیْ الأَرْضِ قَالُواْ أَلَمْ تَکُنْ أَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیْہَا فَأُولٰٓـئِکَ مَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَسَاء تْ مَصِیْرًا (النساء: ۹۷)
’جن لوگوں کی جان فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے، وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ وہ جواب دیں گے: ہم تو اس ملک میں بالکل کمزور ومجبورتھے۔ وہ کہیں گے: اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟۔‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا جَاء کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ اللّٰہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِہِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُن (الممتحنۃ:۱۰)
’اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی تحقیق کرو، اللہ تو ان کے ایمان سے اچھی طرح واقف ہی ہے، پس اگر تم ان کو مومنہ پائو تو انہیں کفار کی طرف نہ لوٹاؤ۔ نہ وہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں۔‘
ایک اور مقام پر ارشاد ربانی ہے:
وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَا لَکُم مِّن وَلَایَتِہِم مِّن شَیْء ٍ حَتَّی یُہَاجِرُوْا
(الانفال:۷۲)
’اور جو لوگ ایمان لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی، تمہارا ان سے کوئی رشتۂ ولایت نہیں تا آ نکہ وہ ہجرت کریں۔‘
یہ آیات ہجرت کے وجوب پر دلالت کناں ہیں۔ کتاب و سنت میں جب ہجرت کا ذکر مطلق طور پر آتا ہے تو اس سے مسلمان کا دارالکفر سے دارالاسلام میں منتقل ہونا مراد ہوتا ہے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
سَأُرِیْکُمْ دَارَ الْفَاسِقِیْنَ(الاعراف: ۱۴۵)
’میں تم کو عنقریب فاسقوں کا گھر دکھلاؤں گا۔‘
اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نبوي سے دلائل
نبی کریمﷺ کی کئی احادیث میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں
۱۔ سیدنا یزید بن الحصیب الاسلمی فرماتے ہیں جب رسول مکرمﷺ کسی شخص کو سریہ یا لشکر کا قائد بنا کر روانہ فرماتے تو اسے خاص اس کی ذات سے متعلق تقوی کی وصیت فرماتے اور اس کے ساتھ ہی دیگر مسلمانوں کے بارے میں خیر و بھلائی کی تلقین کرتے اور یہ ہدایت دیتے کہ‘اللہ کا نام لے کر اور اسی کی خاطر جنگ کرو۔ جو اللہ کا انکار کرتے ہیں ان سے قتال کرو۔ جہاد کرو مگر خیانت نہ کرو، نہ بدعہدی کرو، نہ مثلہ کرو،نہ بچوں کو قتل کرو۔ جب مشرکوں سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو ان کو تین باتوں کی طرف دعوت دو۔پھر اگر وہ (ان میں سے پہلی شرط یعنی قبول اسلام کو) مان لیں تو اسے قبول کرو اور اپنے ہاتھ ان سے روک لو۔ اس کے بعد ان کو اس امر کی طرف بلاؤ کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے ملک میں چلے آئیں اور ان کو بتائو کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو انہیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں۔ اگر وہ اپنے وطن سے(قبول اسلام کے بعد) نکلنے پر آمادہ نہ ہوں تو انہیں کہہ دو کہ وہ اَعرابی (دیہاتی،بدو ) مسلمانوں کی طرح ہیں، اللہ کا جو حکم مسلمانوں پر چلتا ہے وہی ان پر لاگو ہو گا البتہ ان کا مال غنیمت یا فے میں کوئی حصہ نہ ہو گا، الا یہ کہ وہ بھی اہل اسلام کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کر دیں تو ان سے جزیہ طلب کرو، اگر وہ جزیہ دینا منظور کر لیں تو مان لو اور لڑنے سے باز رہو۔ لیکن اگر وہ جزیہ بھی نہ دیں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے جنگ کرو۔‘۲؎
امام محمد بن حسن شیبانی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:
وادعوھم الی التحول الی دارالاسلام…
’تم انہیں یہ دعوت دینا کہ وہ دارالاسلام میں منتقل ہو جائیں۔‘
۲۔ صحیح بخاری میں باب کراھیۃ السفر بالمصاحف الی أرض العدواس امر کا بیان کہ دشمن کی سرزمین میں قرآن کریم لے کر سفر کرنا ناپسندیدہ ہے کے زیر عنوان اور صحیح مسلم میں باب النہي أن یسافر بالمصاحف الی أرض الکفار اذا خیف وقوعہ بأیدیھم ’اس مسئلہ کی وضاحت کہ مصاحف قرآنی کے ساتھ اہل کفر کے علاقوں میں سفر ممنوع ہے۔ جبکہ یہ اندیشہ ہو کہ قرآن کے نسخے ان کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ ‘کے تحت سیدنا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہ کی یہ روایت بیان ہوئی ہے:
’رسول اکرمﷺ نے قرآن شریف کو لے کر دشمن کی سر زمین کا سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘۳؎
دوسری روایت یوں ہے:
’نبی اکرمﷺ اس سے روکا کرتے تھے کہ قرآن کے ساتھ دشمن کے علاقے کا سفر کیا جائے کیونکہ اس میں یہ خدشہ ہے کہ دشمن اسے حاصل کر لے گا۔‘ ۴؎
۳۔ بہز بن حکیم اپنے والد او رپھر دادا کے حوالے سے رسول مکرمﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ’ہر مسلمان (کا مال و جان وغیرہ ) دوسرے مسلمان پر حرام ہے، وہ دونوں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ عزوجل کسی ایسے مشرک کا جو اسلام قبول کرلے کوئی عمل قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پاس نہ آجائے۔‘ (نسائی)
ہجرت سے متعلقہ تمام احادیث دارین کے فرق و امتیاز کو اجاگر کرتی ہیں جیسا کہ ذکر کی گئی احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
۴۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے آخری حج کے موقع پر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کے پاس منی میں تشریف لائے تو مجھے بھی ملے۔ بعد ازاں انہوں نے سیدنا عمر رضي اللہ عنہ سے کہا (جبکہ وہ لوگوں سے خطاب کرنے والے تھے ):
’اے امیرالمومنین !موسم حج میں معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے، ہر طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور شور و غل بہت ہوتا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ اپنا ارادہ ترک کردیں اور مدینہ پہنچ کر( خطاب فرمائیں )،کیونکہ وہ دارالہجرت اور سنت کا مستقر ہے اور وہاں سمجھ دار، معزز اور صاحب عقل لوگ رہتے ہیں۔‘ اس پر عمر رضي اللہ عنہ نے جواب دیا:
’تم ٹھیک کہتے ہو، مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلی فرصت میں لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے ضرور کھڑا ہوں گا۔‘ (صحیح بخاری )
۵۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنہ نے فرمایا:
’بے شک رسول معظمﷺ ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما مہاجرین تھے کیونکہ انہوں نے مشرکین کو چھوڑا تھا۔ انصار میں سے بھی کچھ لوگ مہاجر تھے کیونکہ اُس زمانے میں مدینہ ’دار شرک‘ تھا۔ (مدینہ کے یہ مہاجر ) لیلہ العقبہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔‘
( نسائی)
۶۔ سیدنا ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ اپنی ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’جب میں نبی اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو میں نے راستے میں یہ شعر کہا:
یا لیلۃ من طولھا و عنائھا، علی أنھا من دار الکفرۃ نجّت
ہے پیاری گو کھٹن اور لمبی ہے میری رات پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات
دوران سفر میرا غلام مجھ سے بچھڑ گیا۔ جب میں رسول اللہﷺ کے پاس پہنچا اور آپ کے دست مبارک پر بیعت کی،ابھی میں آپﷺ کے پاس ہی بیٹھا تھا کہ میرا غلام بھی پہنچ گیا۔ رسول کریمﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابو ہریرہ یہ رہا تیرا غلام ! میں نے عرض کیا: یہ آزاد ہے، میں خوشنودی رب کی خاطر اسے پروانہ آزادی بخشتا ہوں۔‘(بخاری)
۷۔ سلیمان بن بریدہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضي اللہ عنہ نے سلمہ بن قیس کو ایک لشکر کا سربراہ بنا کر بھیجا تو ان سے فرمایا:
’جب مشرک دشمنوں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان کو تین باتوں کی طرف بلاؤ: سب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ مسلمان ہو جائیں اور اپنے ہی علاقے میں رہنا پسند کریں تو ان پر لازم ہے کہ اپنے مالوں سے زکوۃ دیں۔‘۵؎

۸۔ زیر بحث مسئلہ سے متعلق اس معاہدہ صلح سے بھی رہنمائی ملتی ہے، جو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور اہل حیرہ کے مابین طے پایا تھا۔ اس میں مرقوم تھا کہ
’جو شخص بوڑھا اور کام کرنے سے عاجز ہے، یا کسی آفت کا شکار ہو چکاہے، یا غنی تھا لیکن کسی وجہ سے مفلس و قلاش ہو گیا ہے اور اس کے ہم مذہب اسے صدقہ دیتے ہیں تو اس سے جزیہ ساقط ہے۔ اس کے اہل و عیال کا خرچ مسلمانوں کے بیت المال سے دیا جائے گا۔ لیکن یہ سہولت اس وقت تک ہے جب تک وہ دارالہجرت اور دار الاسلام میں سکونت پذیر ہے۔ اگر وہ دارالہجرت اور دار الاسلام سے نقل مکانی کرے اور کسی اور علاقے میں جا بسے تو اس صورت میں اس کے اہل وعیال کے نفقہ کی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *