تفرقہ بازی: اسباب اور سد باب

فرقہ پرستی نے ملک کو جس تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے قبل اس کے کہ میں اس پر، اس کے اسباب اور سد باب پر اپنے خیالات کااظہار کروں ،میں آپ کی خدمت میں کلام مجید میں موجود اللہ تعالی کے چند فرمودات پیش کرنا چاہتا ہوں، جن میں اللہ تعالی نے ہمیشہ آپس میں میل وملاپ، محبت اور خلوص کا حکم دیا ہے اور مذہب میں نفاق پیدا کرنے سے سخت منع کیا ہے۔
(۱)’’اور سب مل کر اللہ کی ہدایت اور دین کے رشتہ کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی اور اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۱۰۳)
(۲) ’’اللہ کے رسولؐ کے کردار میں تمہارے لیے ایک اعلی مثال ہے،ہر اس شخص کے لیے جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہو اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو‘‘
(سورۃ الاحزاب:۲۱)
(۳) ’’مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحمت کی جائے‘‘۔ (سورۃ الحجرات:۱۰)
(۴)’’اور اللہ اور اس کےر سول کے احکامات کی پابندی کرو اور آپس میں نفاق نہ ڈالو، ایسا کروگے تو تم بزدل اورکمزور ہو جاؤگے۔‘‘ (سورۃ الانفال:۴۶)
عثمانی خلافت جو کئی صدیوں تک نہ صرف مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز رہی تھی بلکہ اپنے زمانہ کی ایک عالمی طاقت بھی تھی۔ اس طاقت کو بھی قومیت پرستی کے طوفان نے تتر بتر کر دیا تھا۔ خلافت کا خاتمہ ہوتے ہی چاروں طرف قومیت پرستی کی زہریلی ہوائیں چلنے لگیں اور عالم اسلام کا اتحاد سیاسی طو رپر قائم نہ رہ سکا۔ ہمارے عرب بھائیوں پر اس زہر کا ااثر سب سے زیادہ ہوا اور وہ اپنی ناسمجھی اور غیروں کے دھوکہ میں آکر چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں بٹ گئے۔ انڈونیشیا سے مراکش تک ہر ایک کی زبان پر قوم پرستی کا ہی نعرہ تھا، جس کے طفیل عالم اسلام کی سیاسی وحدت بکھر کر رہ گئی۔ بڑے بڑے قوم پرست افراد نام نہاد ہیرو بن کر منظر پر نمودار ہوگئے۔ ناصر، سوئیکارٹو، بوقبیہ تو بڑے بڑے قوم پرست’’ہیرو‘‘ قرار پائے مگر قریب قریب ہر جگہ ہی یہ زہر آلود آندھی چلی اور اسلامی ممالک کے رگ و پے میں سرایت کرکے دشمنان اسلام کا کام آسان کر گئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تاریخ انسانی کا شاید سب سے بڑا ظلم اور فریب فلسطین کے باشندوں کے ساتھ کیاگیا۔ ساری دنیا سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں زبردستی بسا دیا گیا اور صدیوں سے رہنے والے فلسطین کے باشندوں کو نکال باہر کیا گیا۔یہ کام برطانوی سامراج کی براہ راست نگرانی اور کھلی امداد سے کیاگیا۔ اس کے جواز میں دلیل یہ گھڑی گئی کہ چونکہ ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں پر مظالم کیے تھے اس کے معاوضہ کے طور پر ان ’’مظلومین‘‘ کے لیے ایک ’’وطن‘‘ اہل فلسطین سے غصب کرکے فراہم کیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ عرض کرنے کا منشا یہ ہے کہ قومیت پرستی کی زہر آلود ہواؤں میں ہمارے برصغیر کے مسلم رہنماؤں نے اسلامی اخوت کے اصول پر ایک آزاد ریاست حاصل کرکے دکھا دی۔ گویا دریا کے بہاؤ کے خلاف انہوں نے اپنی جدوجہد کا رخ کیا اوراپنے خلوص نیت اور حکمت و دانش سے یہ کارنامہ سرانجام دیا کہ دنیا کے نقشہ پر ایک آزاد اسلامی ریاست کو قائم کرکے دکھادیا جس کی بنیاد اسلامی نظریہ پر رکھی گئی ۔ یہ کارنامہ ایسے وقت میں انجام پایا جب دنیا میں ہر جگہ وطنیت اور قوم پرستی کے نظریات عروج پر تھے۔
لیکن آج اس ریاست اور اس معاشرہ کی صورتحال کیا ہے؟ آج کی صورتحال یہ ہے کہ شاید دنیا میں کسی ملک سے بڑھ کر ہمارے ہاں فرقہ پرستی اور مذہبی تفرقہ عروج پر ہے اور طرح طرح کے فرقے ہمارے درمیان پیدا ہو گئے ہیں۔ صرف مذہبی فرقوں پر بس نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ لسانی، نسلی، علاقائی، معاشی اور تہذیبی بنیادوں پرمسلسل اس معاشرہ کو تقسیم در تقسیم سے دوچار کیا جارہا ہے۔ شاید ہی کوئی قابل ذکر گروہ بچا ہو جو اپنے کو ان خانوں میں بانٹ کر نہ رہتا ہو اور اپنے مسلمان یا ۔۔۔ ہونے کی شناخت ہی پر اکتفا کرتاہو۔ مذہبی فرقوںکا حال دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کیا یہ وہی ملت ہے جس کو ملت بیضا کانام دیاگیاتھا؟ قرآن نے اس کو خیر امت قراردیا تھا؟ رحمۃ اللعالمین نے اس کو آفاقی انسانی پیغام عطا کیا تھا؛ توڑنے کے بجائے انسانوں کے دلوں کو جوڑنے کا منصب آپ نے اس کے سپرد کیاتھا؟ آج حیرت ہوتی ہے کہ اس ملک میں بسنے والوں کو حضرت علامہ اقبالؒ نے یہ درس دیا تھا کہ :
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
کیا اپنی تقسیم در تقسیم فرقہ بندیوں کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے عظیم فکری رہنما شاعر اسلام نے ہمیں متنبہ کیا تھا ۔افسوس ہے کہ ہم نے سب کچھ بھلا دیا۔ علامہ اقبالؒ کو کیا کہئے ہم نے تو خود قرآن اور سنت نبوی کی دائمی تعلیمات تک کو پس پشت ڈال دیا۔ اپنے آپ کو فرقوں میں بانٹ کر ہم اپنی شناخت اور شخیصت گم کرنے میں لگ گئے۔ اپنے کرتوتوں سے ہم نے ملت بیضہ کا روشن چہرہ ہی مسخ کرنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
’’اس(اللہ)نے تمہارا نام پہلے بھی مسلم رکھا تھا اور اس دور میں بھی‘‘(سورۃ حج:۷۸)
یعنی ہم تو اس کتاب کو ماننے والے ہیں جس کا کہنا ہے کہ نہ صرف تمہارا نام اللہ نے مسلم رکھا بلکہ تم سے پہلے آنے والے رسولوں کی امتوں کا نام بھی اس نے مسلم ہی تجویز کیا تھا۔ چنانچہ ارشاد باری ہے:
’’ابراہیم نہ یہود ی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو ایک سچے وفادار اور کھرے مسلمان تھے۔‘‘
(سورہ آل عمران)
اب ذرا غور فرمائیے۔ جو دین یہ سکھاتا ہو کہ حضرت ﷺ کے ماننے والوں کی طرح ان سے پہلے انبیا اور رسولوں کو ماننے والے سب مسلمان ہیںاور بھائی بھائی ہیں، اس دین کے اندر رہنے والوں کی شناخت کیا مسلم کے سوا کچھ ہو سکتی ہے؟ کچھ نہیں ہو سکتی۔ ہمارےپاس اس سوال کا کوئی جواب ہی نہیں کہ اللہ تعالی نے تمہارا نام مسلم رکھا تھا تو تم اپنے کو شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، سلفی کیوں کہتے تھے؟ اگر قیامت میں ان فرقہ پرستی کے علمبرداروں سے یہ پوچھا گیا تو وہ کیا جواب دے سکیں گے؟
غالباً قرآن مجید کی کوئی سورت اس بات کی یاد دہانی سے خالی نہیں کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں، کدھر جانا ہے اورکیا ہمیں کرنا چاہیے اورکیاہمیں نہیں کرناچاہیے۔ کامیابی اور فلاح کاراستہ کیا ہے، ناکامی اور بربادی کے راستے کون سے ہیں؟ دن رات ہم قرآن پڑھتے ہیں، سنتے ہیں لیکن ہماری عقل پر ،دماغ اور دل پر تعصبات نے، حرص و طمع نے، حسد اور بغض نے، کینہ پروری نے، تکبر اور خودغرضی نے پردے ڈال رکھے ہیں۔ ہمیں قرآن میں وہی نظر آتاہے جو ہم تعصب کی آنکھ سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ا سکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قرآن پڑھنے اور سننے کے باوجود ہم اپنی گمراہی میں ڈوبے رہتے ہیں بلکہ ان گمراہیوں اور غلط کاریوں پر فخر کرتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روئے زمین پر سب سے اچھی جگہ مسجد ہے، یہ وہ مقام ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی اور روحانی زندگی کی بڑی امتیازی علامت ہے۔ اس مقام سے ہیآفاقی انسانی اخوت اسلامیہ کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ہر مسجد کا ایک روحانی رشتہ مسجد حرام سے قائم ہے۔ مسجد میں جانے والا ہر مسلمان اس سمت کھڑا ہو کر اللہ کو یاد کرتا ہے جو اللہ کے گھر کی سمت ہے مگر افسوس صد افسوس !کہ اس مسجد کے تقدس کو ہم نے کس طرح پامال کیا ہے، آ ج ہم نے اس کو فرقہ پرستی کا مرکز بنا دیا ہے۔
جو جگہ ہمارے آپس کے روحانی رشتوں کو مستحکم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی اس سے ہم نے انتشار اور منافرت کا کام لیا۔ اب مسجدیں فرقوں کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں، یہ شیعوں کی مسجد ہے تو وہ سنیوں کی، یہ بریلویوں کی ہے اور وہ اہل حدیث کی ۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ مسجدیں سب کی سب اللہ کی ہیں:’’اور بے شبہ سب مسجدیں اللہ کی ہیں۔‘‘(سورۃ جن:۱۸) لیکن ہم نے اللہ کی مسجدوں کا کیا حشر کیا ہے؟ ہم نے ان کو اپنی گروہی ،فرقہ وارانہ تفرقہ بازی کی علامت بنا لیا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ بہت سی مسجدوں پر نمایاں طور پر لکھ دیاجاتا ہے کہ یہ مسجد فلاں فرقہ کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے دینی تعلیم کے اداروں کو بھی فرقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ہر فرقہ کے مدارس الگ، ان مدارس کی تنظیم الگ، ان کے عہدیدار الگ ، ان کی سرگرمیاں الگ تھلگ اور افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک فرقہ ہی پر بس نہیں ہوتا بلکہ فرقہ کے اندر بھی کئی کئی گروہ بن جاتے ہیں اور مسلسل بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی بستیوں میں بھی ایک فرقہ کی کئی کئی مسجدیں ہیں ، متعدد مدرسے کھلے ہوئے ہیں۔ اس بات سے یہ بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ دین یا فرقہ کے بجائے محض ذاتی اغراض کی خدمت کے لیے کام ہو رہا ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایک چھوٹی سی بستی میں کس کس فرقہ کی کئی کئی مسجدیں اور متعدد مدارس کھلے ہوں۔ ایک موٹی سی بات ہے کہ اگر وسائل کو یکجا کیاجائے تو ایک بہتر ادارہ وجود میں لایا جاسکتا ہے لیکن ایسا اکثر ہوتا نہیں۔ ایک محلہ میں کبھی کبھی تو ایک ہی کوچہ میں ایک سے زیادہ مسجدیں اور مدرسے کھل جاتے ہیں۔ یوں کچھ لوگوں کی ذاتی اغراض تو پوری ہوتی ہوں گی مگر اسلامی اخوت، اتحاد اور یکجہتی کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ معمولی نقصان نہیں ہے ۔ اس سے قوم کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم اس درد ناک انجام سے کیوںدوچار ہورہے ہیں؟
اس سوال کا جواب مشکل بھی ہے او رآسان بھی۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ جواب کے دو پہلو ہیں ایک آسان اور دوسرا قدرے مشکل۔ مشکل جواب تو یہ ہے کہ اس معاشرہ میں جو انحطاط آیا وہ ایک دن میں نہیںآیا، رفتہ رفتہ آیا ہے اور اس کے اسباب بھی بہت سے ہیں۔ عمومی طور پر یہ انتحطاط ہم سب کی غفلت ہی سے آیا ہے۔ غفلت کے بھی کچھ اسباب ہیں لیکن ان کی وضاحت تفصیل طلب ہے پھر کسی موقع پر اس پر بات ہوگی۔
آسان جواب اس سوال کا یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے مسلسل اس شعبے کونظر انداز کیا ہے۔ ہمارے حکمران طبقہ نے کبھی مذہب کو اہمیت نہیں دی۔ جس مذہب کے نام پر ملک حاصل کیا اس مذہب ہی سے منہ موڑ لیا، اس کے اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کی۔ اس کی اقدار کو کبھی سر بلند نہیں کیا، نہ مذہب کو اس طبقہ نے اپنا مسئلہ سمجھا بلکہ اس کو نیچ او رکمین لوگوں کا مشغلہ سمجھ کر اپنے آپ کو اس شعبے ہی سے بالاتر سمجھا اور یہ رویہ انہوں نے سوچ سمجھ کر کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض سامراجی روایات کی اندھی تقلید میں کیا ۔بلکہ اس بارے میں وہ سامراج سے بھی آگے نکل گئے کیوں کہ برطانوی سامراج نے مذہب کے بارے میں جو پالیسی بنائی تھی وہ سوچ سمجھ کر بنائی تھی۔ ہمارے نام نہاد پالیسی سازوں نے ہمیشہ بندر کی طرح گورے صاحب کی نقالی ہی کی ہے اور اب بھی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب ایک نجی مسئلہ بنا دیا گیا ۔ جب حکمرانوں نے اس میدان سے فرار اختیار کیاتو یہ میدان ہرایک کی قسمت آزمائی کے لیے خالی رہ گیا۔ اہل لوگ، مخلص حضرات اور متفق علما کی تعداد کم ہوتی گئی، نااہل ،کم علم اور غرض مندوں کو بھرپور مواقع ملتے چلے گئے اور وہ فرقہ پرستی کا کاروبار پھیلاتے گئے کیونکہ فرقہ پرستی میں کسی ہنر، قابلیت یا کردار کو دیکھنے کے بجائے محض فرقہ وارانہ تعصب کی بنیاد پر بیٹھے بٹھائے اعلی منصب حاصل کرنا آسان ہے۔ دوسری صورت میں بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ علم دین حاصل کرنے اور اپنا کردار قابل تقلید بنانے میں تو محنت بھی درکار ہوتی ہے، جدوجہد اور قربانی بھی کرنی پڑتی ہے۔ بڑی طویل اور صبر آزما کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اس میدان میں قدم جمانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کار انبیا ءہے کوئی معمولی پیشہ تو نہیں۔ مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں کی مسلسل مجرمانہ غفلت کی وجہ سے یہ اعلی اور ارفع منصب نااہلوں کے ہاتھوں میں بازیچۂ اطفال بنا ہوا ہے۔ ہمارے حکمران ایسی گہری نیند سو رہے ہیں کہ اب بھی جاگنے کے آثار نظر نہیں آتے۔ اللہ تعالی ہی سے دعا کرنی چاہیے کہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور وہ اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھیں اور دین اسلام کی سربلندی، فروغ ، اس کی تعلیم و تربیت اور ان کے مراکز مسجدوں اور مدرسوں کا انتظام اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔
بہت سے لوگ اس مسئلہ پر ایک لا حاصل بحث میں پڑے رہتے ہیں اور اپنی دانست میں بڑا عالمانہ، تجزیہ کرکے نتیجہ نکالتے ہیں کہ فرقہ پرستی کی جڑیں خدانخواستہ خود مذہب اسلام یا اس کی تعلیمات میں ہی کہیں پائی جاتی ہیں۔ یہ انتہائی جہالت کی بات ہے۔ دین اسلام انسانوں کو خدائے واحد کی پرستش کی بنیاد پر جوڑنے والا مذہب ہے۔ اس کی بنیادایسے نبی کی تعلیمات ہیں جو رحمت للعالمین بنا کر بھیجے گئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب اسلام دنیا میں ایک غالب قوت بن کر ابھرا تو اس کے زیر سایہ تمام اقوام، قبائل، علاقے، نسلیں مل کر ایک عالمگیر برادری کی شکل اختیار کرگئے پھر جوں جوں اسلام سے تعلق کمزور ہوا، آپس کے اختلافات ابھرنے لگے۔ آج بھی تفرقہ بازی اس لیے پھیلی ہے کہ دین اسلام کے اصل سرچشمہ قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے دوری اختیار کر لی اور ہمارے قائدین اور اعلی حکام نے بھی اپنے فرائض سے مسلسل غفلت برتی ہے۔
فرقہ پرستی کی جو وبا پھیلی ہے اس کو سمجھنے کے لیے کسی گہرے فلسفہ یااعلی حکمت کی ضرورت نہیں۔ ایک بڑی سادہ اور منطقی وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم لوگ اللہ تعالی اور اس کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے۔ ذرا سوچئے کہ ایک خاندان کے افراد کے درمیان پیار، محبت اور باہمی وفاداری کا رشتہ کس بنیا دپر قائم ہوتا ہے اور پروان چڑھتا ہے؟ صرف ایک بنیاد پر ،اور وہ بنیا دہے ماں باپ کے ساتھ اولاد کا تعلق، آپس کی شفقت اور احترام کا رشتہ۔اگر یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو خاندان کو ٹوٹ پھوٹ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ مغربی معاشرے میں خاندان کی تباہی ہمارے سامنے کی بات ہے اور اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ اگر باہمی محبت کمزور ہو گئی اور ہر ایک اپنی ہی فکر میں رہے گا تو خاندان کی وحدت ضرور پارہ پارہ ہو گی۔
دین اسلام سے وابستہ افراد کے باہمی تعلق کی بھی یہی اصل بنیاد ہے یعنی اللہ اور رسولﷺ سے محبت۔ سارا قرآن اور سب احادیث اس بات کو بار بار ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت، ہماری آپس کی یکجہتی اور اخوت کی اصل بنیاد ہے۔ جب یہی بنیاد کمزور پڑگئی تو کوئی وجہ باقی نہیں رہتی کہ ہم ایک دوسرے کو بھائی بھائی سمجھیں اور آپس کے معمولی اختلاف کو پس پشت ڈال دیں۔ آج ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے، کیا ہم اللہ اور رسول سے ویسی محبت کرتے ہیں جیسی صحابہ کرام کرتے تھے؟ اس محبت کے کرشمہ نے مدینہ کی ریاست اور معاشرہ کو وحدت کی لڑی میں پرودیا تھا۔ صدیوں کی خاندانی، قبائلی، نسلی اور لسانی دوریاں اور دشمنیاں ختم ہو کر مواخات میں بدل گئی تھیں۔ تاریخ انسانی میں مواخات جیسا معجزہ نہ پہلے رونما ہوا نہ بعد میں۔ یہ معجزہ اسی محبت کا فیض تھا جو مدینہ کے مسلمانوں کو مکہ کے بے گھر مہاجروں کے ساتھ مواخات کرنے پر آمادہ کر رہی تھی۔ آج دراصل تعلیم و تربیت اور ابلاغ و تبلیغ کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے بڑھ کر اسی جذبہ محبت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالی کے نہایت واضح احکامات او رہمارے رسولﷺ،صحابہ کرام کی سنہری مثالوں اور لاتعداد مسلمان امراء، حکمرانوں کے فقید المثال کرداروں، اولیائے کرام کی عملی زندگیوں کے درخشاں ابواب کی روشنی میںبھی یہ نفاق، یہ فرقہ پرستی کیوں؟ یہی نہیں بلکہ اس اللہ کے مذہب یعنی مذہب اسلام کے نام پر دوسرے مسلمانوں کو واجب القتل قرار دینا اور بے رحمی سے قتل کرنا کیوں؟ ترمذی(حدیث ۲۵۸۴) میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے حدیث نبوی منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’اور بیشک نبی اسرائیل ۷۲ گروہوں میں بٹ گئے تھے اور میر ی امت ۷۳ گروہوں میںبٹ جائے گی اور سوا ئے ایک فرقہ یا گروہ کے سب جہنم میں جائیں گے۔ صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سا گروہ ہے؟ آپ نے فرمایاجو اس راستہ پر قائم رہے گا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘ یہی حدیث نبوی ابوداؤد(نمبر۵۰۳/۵۰۴) میں موجودہے۔ کیا ہمارے علما ءدین اللہ تعالی کے فرمودات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے ناواقف ہیں؟ نہیں !دیندار، خوف خدا رکھنے والے پوری طرح واقف ہیں اور اس پر عمل پیرا بھی ہیں ،مگر دھوکے باز، شعبدہ باز، مفاد پرست ان چیزوں سے تو ناواقف ہیں لیکن اس میں ضرور ماہر ہیں کہ اسلام کے نام پر سیدھے سادے عوام کو بے وقوف بنا کر ،بہکا کر ان سے بھیانک اور غیر اسلامی کام کرائیں، قتل و غارتگری کرائیں اور امن تباہ کریں۔
یہ تمام لعنت ہم پر اس وجہ سے ہے کہ ہمارے نام نہاد علماء جنہوں نے اسلام کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے وہ اللہ کے احکامات کونظرانداز کرکے اپنی من مانی باتیں مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی خاطر پھیلا رہے ہیں۔ کتنے ہی بے گناہ ان کے اعمال کی وجہ سے قتل ہوں ان کی آنکھ پر شل نہیں آتی، یہ اللہ تعالی کا ارشاد بھول جاتے ہیں کہ ’’اگر کسی ایک بے گناہ کوقتل کیا تو یہ پوری انسانیت کا قتل ہے اور اگر ایک شخص کی جان بچائی تو گویا پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘(سورۃ مائدہ:۳۲) اور وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ’’اگر کوئی کسی مسلمان کو قصداً ہلاک کرے تو اس کا مقام جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور بہت شدید عتاب اس پر نازل ہوگا۔‘‘(سورۃ نساء:۹۳) ہمارے سامنے ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی ایک جیتی جاگتی سنہری مثال ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں اپنے رسول صلی اللہ علے وسلم کی سیرت جو امن، افہام و تفہیم، محبت، خلوص، باہمی مدد کی عکاسی کرتی ہے، کی تقلید کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:’جس نے میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت(تقلید) کی گویا اس نے میری اطاعت کی۔‘‘(سورۃ نساء:۸۰) پھر سوال یہ ہے کہ یہ تفرقہ، یہ نفاق، یہ نفرت، یہ خود غرضی کیوں اپنالی گئی ہے؟! یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے ہمیں دنیا میں ذلیل و خوار کردیا ہے۔اگر ہم اپنے رب اور اس کے احکامات کی پیروی نہ کریں گے تو اسی طرح ذلیل وخوار ہوتے رہیں گے۔ خدارا اب بھی وقت ہے سنبھل جائیے اور اپنی عاقبت اور امت مسلمہ کا مستقبل بچائیے اور کیا یہ فرقہ واریت کے موجد علما ءاللہ رب العزت کے اس انتباہ(احکامات) کو بھول گئے ہیں۔
(۱)’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو نا جو متفرق ہو گئے اور کھلے احکام آنے کے بعد ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر (قیامت کے دن)شدید عتاب و عذاب ہوگا۔‘‘ (سورۃ عمران:۱۰۵)
(۲)’’اور نہ ان لوگوں میں ہونا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود فرقے فرقے ہو گئے اور سب فرقے اسی میں خوش ہیں جو انہوں نے اپنا لیا ہے۔‘‘ (سورۃ روم:۳۲)
(۳) ’’جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈال دیا اور کئی گروہوں میں بٹ گئے آپ(صل اللہ علیہ وسلم) کا ان سے کوئی تعلق نہیں، پس ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔‘‘
(سورۃ انعام:۱۶۰)
ان تمام احکامات الٰہی کے باوجود مسلمان فرقوں میں بٹ گئے، ایک دوسرے کے خلاف تعصب کی بنیاد پر کفر کے فتوے دینا شروع کر دیے اور دنیا میں تو ذلیل وخوار ہوئے ہی ہیں اپنی عاقبیت بھی خراب کر لی ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *