خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کا سازشی پس منظر

اس پس منظر میں ضروری ہے کہ ان ریشہ دوانیوں پر نظر ڈالی جائے جن کے ذریعہ اسرائیل کے قیام سے 30سال قبل خلافت عثمانیہ کے خلاف سازشوں کا جال بنا گیا تھا۔
پہلی عالمی جنگ کا سلسلہ 1914میں شروع ہوا تھا۔ جو 1918میں ترکی اور جرمنی کی شکست پر ختم ہوا۔ اس جنگ میں ایک طرف برطانیہ اوراس کے حواری تھے تو دوسری طرف قیصر جرمنی اور ترکی کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کی افواج صف آرا تھیں۔ جنگ کے خاتمہ کے بعد ترکی میں اسلام پسند قوتوں کا بتدریج زوال ہوتا گیا اور مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں دہریوں کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کی شکل میں نکلا۔ ناقدین کی نظر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد تاریخ اسلام کا بدترین اور دردناک سانحہ شاید 1923میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کی صورت میں نمودار ہوا کیوں کہ ترکی میں خلافت جیسی بھی تھی، اس کے خاتمہ نے ملت اسلامیہ کی رہی سہی مرکزیت کو ختم کرکے رکھ دیا۔یہی وجہ تھی کہ ہندوستان کے مسلمان خلافت عثمانیہ کے خاتمہ پر تڑپ اٹھے اور علی برادران محمد علی جوہر اور شوکت علی نے تحریک خلافت شروع کی، اس کا اثر کتنا پڑا، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہندوستان کے گلی کوچوں میں یہ شعر پڑھا جاتا تھا:
بولی اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پر دے دو
کہا جاتا ہے سلطان عبدالحمید کے دور حکومت میں یہودیوں کے ایک وفد نے خلیفہ سے ملاقات کی تھی۔ یہ 19ویں صدی کے اواخر کی بات ہے۔ اس زمانے میں خلافت عثمانیہ بے حد کمزور ہو چکی تھی۔ ترکی کی مالی حالت خستہ تھی۔ حکومت بھی مقروض تھی۔ اس وفد نے خلیفہ سے کہا تھا کہ اگر آپ بیت المقدس اور فلسطین ہمیں دے دیں تو ہم خلافت عثمانیہ کا سارا قرضہ اتار دیں گے اور مزید کئی ٹن سونا دیں گے۔ اس گئے گزرے خلیفہ عبدالحمید کی دینی حمیت دیکھئے کہ اس نے وہ جواب دیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ خلیفہ نے اپنی پاؤں کی انگلی سے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
’اگر اپنی ساری دولت دے کر تم لوگ بیت المقدس کی ذرا سی مٹی بھی مانگو گے تو ہم نہیں دیں گے۔‘
اس وفد کا سر براہ ایک ترکی یہودی قرہ صوہ آفندی تھا۔ بس پھر کیا تھا، خلافت عثمانیہ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ چنانچہ چند برسوں بعد جو شخص مصطفی کمال پاشا کی طرف سے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کا پروانہ لے کر خلیفہ عبدالحمید کے پاس گیا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ یہی ترک یہودی قرہ صوہ آفندی ہی تھا۔ خود مصطفی کمال پاشا بھی یہودی النسل تھا۔ اس کی ماں یہودن تھی اور باپ ترکی قبائلی مسلمان تھا۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ترکی میں نوجوان ترکوں کا غلبہ شروع ہو گیا۔ یہیں سے Young Turksکی اصطلاح نکلی، جنہوں نے مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں اسلام پسندوں پر مظالم ڈھائے، علما ءکا قتل عام کیا، نماز کی ادائیگی اور تمام اسلامی رسومات پر پابندی لگا دی۔ عربی زبان میں خطبہ، اذان اور نماز بند کر دی گئی۔ مساجد کے اماموں کو پابند کیا گیا کہ وہ ترک زبان میں اذان دیں، نماز ادا کریں اور خطبہ پڑھیں۔ اسلامی لباس اتروا کر عوام کو یورپی کپڑے پہننے پر مجبور کیا گیا۔ مصطفی کمال پاشا اور اس کے ساتھی نوجوان ترکوں نے ترکی میں اسلام کو کچلنے کے لیے جتنی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا، اس کی مثال روس اور دیگر کمیونسٹ ملکوں کے علاوہ شاید کہیں ملے۔
خلافت عثمانیہ کے اندورن ملک یہودیوں نے جو سازشی جال پھیلایا تھا، اس کی ایک جھلک دکھلانے کے لیے خلیفہ عبدالحمید کا ایک تاریخ خط پیش کیا جاتا ہے جو انہوں نے اپنے شیخ ابوالشامات محمود آفندی کو اس وقت لکھا تھا جب انہیں خلافت سے معزول کرکے سلانیکی میں جلا وطنی اور قید تنہائی پر مجبور کیا گیا تھا۔ اس خط کے مندرجات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ کے نظٓم خلافت کی بیخ کنی کے لیے صہیونی طاقتوں نے کیسی سازشیں کی تھیں اور ان سازشوں میں کون شریک تھا؟ خلیفہ عبدالحمید کے خط کا اردو ترجمہ پیش ہے:
“میں اتنہائی نیاز مندی کے ساتھ طریقہ شاذلیہ کے اس عظیم المرتبت شیخ ابو الشامات آفندی کی خدمت میں بعد تقدیم احترام عرض گزار ہوں کہ مجھے آپ کا 22مئی 1913کا لکھا ہوا گرامی نامہ وصول ہوا۔
جناب والا! میں یہ بات صاف صاف بتانا چاہتا ہوں کہ میں امت مسلمہ کی خلافت کی ذمہ داریوں سے از خود دست بردار نہیں ہوا، بلکہ مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یونینسٹ پارٹی (Unionist Party)نے میرے راستے میں بے شمار رکاوٹیں پیدا کر دی تھیں۔مجھ پر بہت زیادہ اور ہر طرح کا دباؤ ڈالا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں، مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں اور سازشوں کے ذریعہ مجھے خلافت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یونینسٹ پارٹی، جو نوجوان ترک (Young Turks)کے نام سے بھی مشہور ہے، نے پہلے تو مجھ پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالا کہ میں مقدس سرزمین فلسطین میں یہودیوں کی قومی حکومت کے قیام سے اتفاق کرلوں۔ مجھے اس پر مجبور کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ لیکن تمام دباؤ کے باوجود میں نے اس مطالبے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ میرے اس انکار کے بعد ان لوگوں نے مجھے ایک سو پچاس ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ سونا دینے کی پیشکش کی۔ میں نے اس پیشکش کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ ایک سو پچاس ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ سونا تو ایک طرف، اگر تم یہ کرۂ ارض سونے سے بھر کر پیش کرو تو بھی میں اس گھناؤنی تجویز کو نہیں مان سکتا۔ 30سال سے زیادہ عرصے تک امت محمدیہ کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اس تمام عرصے میں، میں نے کبھی اس امت کی تاریخ کو داغدار نہیں کیا۔ میرے آبا و اجداد اور خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں نے بھی ملت اسلامیہ کی خدمت کی ہے، لہٰذا میں کسی بھی حالت اور کسی بھی صورت میں اس تجویز کو نہیں مان سکتا۔ میرے اس طرح سے صاف انکار کرنے کے بعد مجھے خلافت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے سے مجھے مطلع کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ مجھے سلانیکی میں جلاوطن کیا جا رہا ہے۔ مجھے اس فیصلے کو قبول کرنا پڑا، کیوںکہ میں خلافت عثمانیہ اور ملت اسلامیہ کے چہرے کو داغ دار نہیں کر سکتا تھا۔ خلافت کے دور میں فلسطین میں یہودیوں کی قومی حکومت کا قیام ملت اسلامیہ کے لیے ا نتہائی شرم ناک حرکت ہوتی اور دائمی رسوائی کا سبب بنتی۔
خلافت ختم ہونے کے بعد جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ میں تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں سر بہ سجود ہوں اور ہمیشہ اس کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اس رسوائی کا داغ میرے ہاتھوں نہیں لگا۔ بس اس عرض کے ساتھ اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔ (والسلام)
(22/ایلول1329،(عثمانیہ کلینڈ رکے مطابق) ستمبر 1913)
ازملت اسلامیہ کا خادم: عبدالحمید بن عبد المجید

خلیفہ عبدالحمید کے اس خط کا بغور مطالعہ کرنے سے بہت سے حقائق سامنے آتے ہیں: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالی کی ذات پر غیر متزلزل یقین تھا۔ انہوں نے یہودیوں کی اتنی بڑی مادی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ کو اپنے عہد میں داغ دار ہونے سے بچائے رکھا۔ اہل اللہ اور اہل علم سے انہیں گہرا قلبی تعلق تھا۔ تزکیہ قلب اور روح کے لیے باقاعدہ سلسلہ شاذلیہ سے وابستہ تھے۔ یہود اور مغرب کی سامراجی طاقتوں کے سامنے عزم اور استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ اپنے دور خلافت میں یہودیوں کو سرزمین فلسطین میں قطعہ زمین کسی بھی قیمت پر خریدنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک ترکی میں خلافت عثمانیہ قائم رہی، اس وقت تک استعماری قوتوں کا فلسطین میں یہودی مملکت کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔
مسلمانوں اور یہودیوں کی کشمکش
مسلمانوں اور یہودیوں کی کشمکش یوں تو بہت پرانی ہے۔ لیکن نئے انداز میں اس کا آغاز 1897میں ہوا، جب یہودی اکابرین نے خفیہ طور پر جمع ہو کر طے کیا کہ خلافت عثمانیہ پر کاری ضرب لگائی جائے، کیوں کہ ان کے عزائم کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ عالم اسلام کی مرکزیت تھی۔چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق خلیفہ سلطان عبدالحمید کی خدمت میں ایک عیارانہ درخواست پیش کی گئی کہ ہمیں فلسطین میں ایک خطۂ زمین دیا جائے۔ ہم اس کی بڑی سے بڑی قیمت دینے کے لیے تیار ہیں۔ زیرک سلطان نے یہودیوں کے عزائم کو بھانپ کر ان کی درخواست رد کر دی۔ بس پھر کیا تھا، سلطان کے خلاف ملک کے اندر اور باہر زہریلے پروپگنڈے کی مہم شروع کر دی گئی۔ عیسائی حکومتیں پہلے ہی خلافت عثمانیہ سے خار کھائے بیٹھی تھیں۔ ان کی فوجی طاقت اور یہودیوں کی خفیہ سازشوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مرکزیت ہمیشہ کے لیے ختم کردی گئی اور ترکی کے اندر مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں ایک تنظیم یونینسٹ پارٹی کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اس میںزیادہ تر بھولے ترک جوان شامل تھے۔ اس انجمن کے اجتماعات کے لیے فری میسن لاج تھے۔ فری میسن تحریک دراصل یہودیوں کے دماغ کی اختراع ہے۔ جس میں خاص طور پر ایسے لوگوں کو شامل کیاجاتا ہے، جن کا تعلق توکسی نہ کسی مذہب سے ہونا ضروری ہے، لیکن حقیقت میں وہ مذہب سے بے زار ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ بڑے بڑے لوگ جن کے بارے میں متعین طور پر معلوم ہے کہ وہ فری میسن تحریک کے سرگرم کا رکن تھے، ان میں مصطفی کمال پاشا بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم کے ہاتھوں خلافت عثمانیہ کا شیرازہ بکھیرا گیا اور استعمال کیا گیا مصطفی کمال پاشا کو۔ پھر عالم اسلام ایک ایسے انتشار کا شکار ہو گیا کہ آج تک بلاد اسلامیہ کے اتحاد کی تمام تحریکیں بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔
بہر حال 1923میں ترکی سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ یونینسٹ پارٹی برسراقتدار آگئی۔ آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کو اقتدار رسے بے دخل کر کے جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ترکی میں دہریوں کا راج ہو گیا۔ مذہب بے زار فوج کا بول بالا ہوگیا۔ اور ٹھیک 25سال بعد 15مئی 1948کو فلسطین میں یہودی مملکت اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے جس خلیفہ نے ہر طرح کی لالچ اور دھمکیوں کے باوجود یہودیوں کو فلسطین کی رتی بھر زمین دینے سے انکار کر دیا تھا، اسی فلسطین میں اسرائیل کو تسلیم کرکے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا مسلم ملک کوئی اور نہیں بلکہ اتاترک کا ترکی تھی۔
اسلام کا پھر بول بالا
یہ بات پہلے بھی بتائی جا چکی ہے کہ کمال اتاترک نے اسلام کو کچلنے کے لیے جتنی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا اور ترکی میں اسلام اور مسلمانوں کو جتنا نقصان ان کی ذات سے پہنچا، اتنا تو شاید روس میں کمیونسٹوں نے بھی نہ کیا ہوگا، لیکن 86سال تک کچلے رہنے کے بعد آج ترکی کے کونے کونے سے پھر ایک بار اللہ اکبر کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ پورے ترکی میں چھوٹی بڑی مساجد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ملک میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس کی ترقی میں اتاترک کے برسر اقتدار آنے کے بعد کمی آگئی تھی، لیکن آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔ ترکی میں اسلام پسندی کی سمت پہلی جرات مرحوم وزیر اعظم عدنان مندریس اور اس وقت کے صدر جلال پایار نے کی تھی اور اس وقت بدقسمتی سے فوج انتہائی طاقت ور تھی۔ جسے چاہتی گدی پر بٹھا دیتی، چنانچہ فوج نے حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ عدنان مندریس کو جیل بھیج دیا اور بدعنوانی کا الزام لگا کر جھوٹا مقدمہ چلا کر پھانسی پر لٹکا دیا۔ جلال بایار کو ضعیف ا لعمری کی بنا پر کچھ عرصے تک نظر بند رکھ کر رہا کر دیا گیا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعظم طیب اردگان کی طاقت ور موجودہ حکومت نے عدنان مندریس کو بدعنوانی کے تمام الزامات سے بری کرکے ان کے قومی وقار کو بحال کردیا ہے۔لیکن اس عمل سے ایک بے گناہ اسلام پسندو زیر اعظیم کی جان تو واپس نہیں آسکی۔ اس کے بعد پھر 90کی دہائی میں وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی قیادت میں اسلام پسند ویلفیئر پارٹی برسراقتدار آئی۔ اس نے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی اور مسجدوں کی تعمیر کی اجازت دے دی، چنانچہ محکمہ مذہبی امور کے مطابق1990میں پورے ترکی میں مساجد کی تعداد 65794ہو گئی۔ ملک کی تمام مساجد میں پنج گانہ نماز باقاعدہ ادا کی جانے لگی اورنتیجہ یہ نکلا کہ نماز جمعہ میں مساجد میں جگہ ملنا دشوار ہو گیا۔
اس وقت ترکی میں 54600امام اور 560دینی تعلیم کے مدارس ہیں۔ فوج 90کی دہائی میں طاقت ور تھی، اس لیے وزیر اعظم اربکان کو اقتدار سے سبک دوش ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک فوج کی حمایتی حکومتیں ایک کے بعد ایک اقتدار میں ا ٓتی اور جاتی رہیں، چنانچہ پچھلے پانچ عشروں میں ترکی میں چار منتخب شدہ حکومتوں کو فوجی انقلاب کے ذریعہ ہٹایا جاچکا ہے۔ البتہ ایک عظیم سیاسی اور جمہوری انقلاب کے ذریعہ پچھلے عام انتخابات میں ترکی کے اسلام پسند عوام نے پارلیمنٹ کی 550نشستو میں 341نشستیں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کو دلوا کر وزیر اعظم طیب اردگان اور صدر عبداللہ گل کو اقتدار کی باگ ڈور سونپ دی ہے، تاکہ وہ ترکی میں اسلامی نظام نافذ کر سکیں۔ صدر کی بیگم اسکارف پہنتی ہیں.
سازشوں کا سلسلہ جاری
ترکی میں اسلام کے احیا اور اس کے ساتھ ساتھ مغرب میں اسلام کی مقبولیت سے ظاہر ہے کہ صہیونیت کی زیر اثر طاقتوں کے ہوش اڑ گئے اور ان کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے، اس لیے اس طرح کا پروگنڈہ شروع ہو گیا ہے کہ برسراقتدار پارٹی اپنے پروگراموں کی تشہیر اور اپنی سرگرمیوں کے لیے ترکی میں مساجد کو استعمال کر رہی ہے۔ اسلام دشمن حلقوں کا الزام ہے کہ ترکی کے اوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی مذہب میں دلچسپی میں اضافہ سے بنیاد پرستی کو شہہ مل رہی ہے۔
چنانچہ مبینہ طور پر انقلاب لانے اور طیب اردگان کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک قوم پرست تنظیم ارگنکون سے تعلق رکھنے والے 88افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اردگان کی حکومت ترکی کے سیکولر تشخص کو ختم کرکے اسلامی اقدار کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے۔ دوسری طرف اس قسم کے بھی مسلسل الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ فوج بھی حکومت کا تختہ پلٹنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، لیکن فوج خود اس معاملے کی تفتیش کرے گی۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم طیب اردگان نے سرکاری وکیلوں سے کہا ہے کہ وہ مسلح افواج کے خلاف تحقیقات کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ضروری ہوا تو اس سازش میں ملوث افراد کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جائے گی۔ کیونکہ حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ برسراقتدار پارٹی کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کے سد باب کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
اب دیکھنایہ ہے کہ اندرون ملک دہریوں، عدلیہ وفوج اور بیرون ملک صہیونی اور مغربی طاقتوں کی سازشوں کے خلاف طیب اردگان کی اسلام پسند حکومت کتنی کامیاب رہتی ہے؟ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ترکی میں اسلام کے ا حیا کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ جاری رہے گا اور اسلام دشمن طاقتوں کا ناکامی کا منھ دیکھنا پڑے گا۔(ان شاء اللہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *