عدم اختلاف کا دور سعید

(عہد نبوت)
دور نبوی میں فقہی مباحث کا فقدان:
معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فقہ ایک فن کی طرح مدون نہیں تھی اور نہ اس وقت ا حکام کے باب میں بحث کا یہ طریقہ تھا جو اب ہمارے فقہا میں رائج ہے کہ وہ اپنی انتہائی دماغی قابلیتیں صرف کرکے دلائل کے ساتھ ایک ایک چیز کے علیحدہ علیحدہ امکان اور شرائط اور آداب بیان کرتے ہیں، مسائل کی فرضی صورتیں سامنے رکھ کر ان پر بحث کرتے ہیں اور جن کا حصر بیان کیا جا سکتا ہو ان کا حصر واضح کرتے ہیں، وغیرہ ذلک۔ اس کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ مثلاً وضو فرماتے اور صحابہ کرام آپ کا طریقۂ وضو دیکھ کر اسے اختیار کر لیتے، بغیر اس کے کہ حضرت ؐ اس بات کی توضیح فرمائیں کہ یہ وضو کا رکن ہے اور فلاں چیز اس کے آداب میں سے ہے۔ اسی طرح آپ نماز پڑھتے ،لوگ آپ کے نماز پڑھنے کا ڈھنگ دیکھ لیتے او راسی طرح خود پڑھنے لگتے۔ آپ نے حج ادا فرمایا، لوگوں نے آپ کے حج کرنے کے طریقے اور مراسم دیکھے، اور اسی طرح خود حج کرنے لگے۔
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عام طریقۂ تعلیم یہی تھا۔ آپ نے کبھی یہ توضیح نہیں فرمائی کہ وضو میں چار فرض ہیں یا چھ۔، اور نہ کبھی آپؐ نے یہ خیال کیا کہ ہو سکتا ہے کہ کبھی کوئی آدمی اعضائے وضو کو لگاتار نہ دھوئے اس لیے ایسے وضو کے ہونے یا نہ ہونے کا پیشگی حکم دے دینا چاہیے۔ اس قسم کی فرضی اور غیر واقعی صورتوں کے احکام کی بابت آپ نے شاذ و نادر ہی کبھی کچھ فرمایا ہے۔ دوسری طرف اصحاب رسول کا بھی یہ حال تھا کہ وہ اس طرح کی باتوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم سوال کرتے تھے، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
’’میں نے اصحاب رسول سے بہتر کسی جماعت کو نہیں پایا، انہوں نے رسول خدا ﷺکی پوری زندگی میں آپ سے صرف تیرہ سوال کیے جو سب کے سب قرآن میں مذکور ہیں: مثلاً
یسئلونک عن الشہر الحرام قتال فیہ(اے نبی یہ لوگ تم سے حرمت کے مہینوں میں جنگ کرنے کی بابت سوال کرتے ہیں)اور یسئلونک عن المحیض(تم سے حالت حیض کے احکام پوچھتے ہیں)وغیرہ اس کے بعد حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ’صحابہ صرف ان ہی مسائل کو پوچھتے تھے جو ان کے لیے نفع رساں ہوتے۔‘‘
حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ’’کسی ایسی بات کے متعلق سوال نہ کرو جو فی الواقع پیش نہ آئی ہو۔ کیونکہ میں نے عمر ؓبن الخطاب کو اس شخص پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا ہے جو اس طرح کے سوالات کرے‘‘ ۔
قاسمؒ نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’ تم لوگ ایسی چیزوں کی بابت سوال کیا کرتے ہو جن کی بابت ہم نے کبھی زبان استفسار نہیں کھولی۔ نیز تم ایسی باتوں کی کھود کیا کرتے ہو جن کے متعلق ہمیں کوئی علم وواقفیت نہیں۔ اور اگر ہم کو ان کے بارے میں کوئی علم ہوتا تو حسب فرمان نبوی ہم تمہیں ضرور بتا دیتے۔‘‘ [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس عالم کے منہ میںقیامت کے دن آگ کی لگام لگائی جائے گی جو کسی چیز کا علم رکھتا ہو مگر پوچھنے والے کو نہ بتائے۔]
عمر بن اسحاق کا قول ہے کہ ’’مجھ کو آدھے سے زائد اصحاب رسول سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ میں نے اس گروہ سے بڑھ کر کسی گروہ کو اینچ پینچ سے خالی اور تشدد سے مجتنب نہیں پایا۔‘‘ عبادہ بن بسر کندی سے یہ فتوی پوچھا گیا کہ ’’اگر کسی عورت کا ایسی جگہ انتقال ہو جائے جہاں اس کا کوئی ولی نہ ہو تو اس کوغسل کیوں کر دیاجائے گا؟ آپ نے جواب دیا کہ ’’میں ایسے لوگوں [مراد صحابہ کرام ؓ]سے ملا ہوں جو تمہاری طرح تشدد نہیں کرتے تھے نہ تم لوگوں کی طرح (فرضی ) مسائل کے متعلق سوالات کرتے تھے۔‘‘ (ان تمام آثار کو امام دارمی نے نقل کیا ہے)
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں استفتاء اور افتاء کا دستور صرف یہی تھا کہ لوگ پیش آمدہ واقعات کے متعلق آپ سے استفسار کرتے تھے اور آپؐ ان کا حکم بیان فرما دیتے۔ اسی طرح معاملات و مقدمات آپ کے سامنے پیش ہوتے اور آپ ان کا فیصلہ کر دیتے۔ لوگو ںکو اچھے کام کرتے دیکھتے تو ان کی مدح و منقبت فرماتے اور برے کام کرتے دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے۔

تاریخ اختلاف کا ابتدائی دور
(عہد صحابہؓ)
شیخین ؓ کا طرز عمل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ساری باتیں بالعموم اجتماعِ عام میں ہوتی تھیں یہی وجہ ہے کہ جب حضرات شیخین(ابوبکرؓ و عمرؓ) کو(اپنے زمانۂ خلافت میں)کسی مسئلہ میں حکم شریعت معلوم نہ ہوتا تو وہ دوسرے صحابہ ؓ سے دریافت فرماتے کہ کیا تم میں سے کسی نے اس امر کے متعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان سنا ہے؟ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے جب دادی کی وراثت کا مسئلہ پیش ہوا تو آپ ؓنے فرمایا کہ ’’میں نے اس کے حصہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺکا کوئی ارشاد نہیں سنا ہے، اس لیے میں اس کے متعلق اوروں سے پوچھتا ہوں۔‘‘ جب نماز ظہر آپ نے ادا کر لی تو لوگوں سے پوچھا کہ’’ کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دادی کے حق وراثت کے بارے میں کچھ فرماتے سنا ہے؟‘‘ مغیرہؓ بن شعبہ نے کہاکہ ’’ہاں! میں نے سنا ہے۔‘‘ پوچھا ’’کیا سنا ہے؟‘‘ جواب دیا کہ ’’رسول خدا نے دادی کو میت کے مال کا چھٹا حصہ دیا ہے؟‘‘حضرت ابوبکر ؓ نے پھر پوچھا ’’یہ بات تمہارے سوا اور کسی کو بھی معلوم ہے؟‘‘ محمد بن سلمہؓ نے کہا:’’مغیرہؓ صحیح فرماتے ہیں‘‘ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ نے اس عورت کو (جس کا معاملہ پیش ہوا تھا اس کے پوتے کے ترکہ میں سے ) چھٹا حصہ دے دیا۔
اس طرح کے ایک دو نہیں بے شمار واقعات ہیں جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ مثلاً ’’غرہ‘‘(جنین)حضرت عمرؓکے سامنے جنین کے خون بہا کا مسئلہ آیا تو چونکہ آپ کو اس کے بارے میںکوئی نص شرعی معلوم نہ تھی ا س لیے آپ نے صحابہ سے استفسار کیا، مغیرہ ؓابن شعبہ نے فرمایا کہ ’’پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خوں بہا ’’غرہ‘‘ مقرر کیا ہے ۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے اس کے مطابق فیصلہ دے دیا۔’’غرہ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کیا جائے یا جنین کے ولی کو پچاس دیناریا پانچ سو درہم دیئے جائیں۔وبا کے متعلق حضرت عبدالرحمن ابن عوفؓ کے بیان کردہ ارشاد نبوی کے مطابق فیصلہ فرمایا(حضرت عمرؓ کے واقعہ ٔسفر وشام کی طرف اشارہ ہے جب کہ آپ شام پر حملہ آور ہونے کے لیے لشکر لے جا رہے تھے اور راستہ میں معلوم ہوا کہ وہاں وبا پھیلی ہوئی ہے، تو لوگوں سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے کوئی بات طے نہیں ہو رہی تھی۔ جب حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے آکر یہ روایت بیان کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وبائی مقامات پر جانے سے منع فرمایا ہے ‘‘ تو یہ سن کر حضرت عمرؓ نے لشکر کو واپسی کا حکم دیا)۔
مجوسیوںکے معاملہ میں ان ہی عبدالرحمنؓبن عوف کی بیان کی ہوئی حدیث پر اپنے فیصلہ کی بنیاد رکھی[حضرت عمرؓ اپنے زمانہ خلافت میں مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے یہ بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیتے تھے تو آپ نے بھی ان پر جزیہ لگا دیا]۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ و معقلؓ بن یسارکی روایت سن کر جو ان کی رائے کے بالکل مطابق نکلی تھی از حد خوش ہوئے [یہ ایک ایسی عورت کا معاملہ ہے جس کا شوہر اس حال میں مر گیا تھا کہ نہ تو ابھی اس نے اس کا مہر مقرر کیا تھا نہ اس سے مقاربت کی تھی۔ اس واقعہ کی تشریح آگے آتی ہے۔]۔ حضرت ابو موسی اشعریؓ فاروق اعظم کے دروازے سے تین آوازے دینے کے بعد جب واپس جانے لگے تو آپ نے گھر سے نکل کر ان سے اس کی وجہ دریافت کی اور جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پیش کیا تو حضرت ابو سعید خدریؓ کی تصدیق کے بعد آپ نے اسے تسلیم کر لیا۔[حضرت ابو موسیؓ حضرت عمرؓ کے دروازے پر گئے اور جب تین بار آواز دینے کے باوجود کوئی جواب اندر سے نہ ملا تو واپس چلے، چند قدم گئے ہوں گے کہ حضرت عمرؓ نے خادم سے کہا کہ ان کو اندر بلا لو، مگر خادم نے باہر آکر ابو موسیؓ کو دروازہ پر نہ پایا۔حضرت عمرؓ نے ان کو پکارکر بلوایا اور واپس جانے کی علت پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جب تین آوازیں دینے کے باوجود اجازت نہ ملے تو دروازہ سے ہٹ جاؤ‘‘ حضرت عمرؓ نے کہا کہ اپنی اس روایت پر کوئی گواہ لاؤ ورنہ ٹھیک نہ ہوگا۔ چنانچہ حضرت ابو سعیدؓ خدری نے حضرت ابو موسیؓ کی توثیق کی تو حضرت عمرؓ نے اس کو تسلیم کر لیا۔](مترجم)
بنائے اختلاف:
مختصر یہ کہ آں حضرت ﷺ کا دستور مبارک بالعموم یہی تھا کہ آپؐ مسائل احکام و شرع مجامع عام میں بیان فرمایا کرتے تھے۔ اب ہر صحابی نے آپ کی عبادت کے ان ہی طریقوں اورآپ کے انہی فتووں اور فیصلوں کو یاد کر لیا جن کو اسے دیکھنے اور سننے کا موقع نصیب ہوا تھا۔ پھر اس نے ان میں سے ہر حکم کی، قرائن حال پر نظر ڈال کر، علّت متعین کی، اور موقع و محل کے ان قرائن و علامات کو سامنے رکھ کر، جو اس کے نزدیک تعیین علّت و مقصد کے لئے کافی اور اطمینان بخش تھے، کسی حکم کو مباح ٹھہرایا، کسی کو مستحب و منسوخ۔ اس باب میں ان لوگوں کا اعتماد صرف اپنے دل کے اطمینان پر تھا۔ استدلال کے (پُر پیچ منطقیانہ) طریقوں سے ان کے ذہن آشنا نہ تھے۔ جیساکہ تم سیدھے سادے دیہاتی باشندوں کو دیکھتے ہو کہ وہ آپس کی گفتگوؤں کا مطلب بآسانی سمجھتے ہیںاور ان گفتگوؤں کے اندر استعمال ہونے والے اشارات و کنایات اور تصریحات سے ان کی گفتگو کا مدّعا سمجھنے میں آپ سےآپ اس طرح طمانیت حاصل ہوتی جاتی ہے کہ ان کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
آغاز وجوہ اختلاف:
عہد رسالت تک تو لوگوں کا یہی حال رہا۔ اس کے بعد یہ حضرات صحابہ ؓ مختلف اطراف و ممالک میں پھیل گئے اور ان میں سے ہر ایک الگ الگ علاقے میں عوام کا رہنما بن گیا۔ اب ان کے سامنے زندگی کے بے شمار واقعات اور مسائل پیش ہونے شروع ہوئے، جن میں ان سے فتوے پوچھے جاتے۔ ہر صحابی اپنی منصوص معلومات یا اپنے استنباط کے مطابق ان کے جوابات دیتا اور اگر اس کو اپنے ذخیرۂ معلومات و استنباط میں کوئی چیز ایسی نہیں ملتی جس سے وہ مسئلہ کا جواب دے سکتا تو اپنی رائے سے اجتہاد کرتا اور اس علت کو معلوم کرتا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منصوص احکام کی بنیاد رکھی تھی، پھر جس مقام پر اس کو وہ علت نظر آتی وہاں وہی حکم لگا دیتا۔ مگر ایسے قیاسات کرتے وقت یہ لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کا لحاظ کرنے میں اپنے مقدور بھر کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ اب یہاں سے ان کے درمیان اختلاف کا آغاز ہوتا ہے، جس کی مختلف بنیادیں تھیں۔
(۱)حدیث نبوی سے واقفیت اور عدم واقفیت کا اختلاف:
پہلی بنیاد یہ تھی کہ بعض صحابہؓ کو کسی امر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم و ارشاد معلوم تھا۔لیکن دوسرے اس سے نابلد تھے۔ اس لیے انہوں نے مجبوراً اس مسئلہ میں اپنے اجتہاد سے کام لیا جس کی چند صورتیں یہ ہوتیں:
اولاً یہ کہ اجتہاد حدیث نبوی کے عین مطابق نکلا۔اس کی مثال وہ روایت ہے جس کو امام نسائی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ سے ایک ایسی عورت کے (حق مہر وغیرہ کے) بارے میں استفسار کیا گیا جس کا شوہر مہر مقرر کرنے اور اس سے مقاربت کرنے سے پہلے ہی وفات پا گیا تھا۔ آپ نے جواب دیا کہ ایسے معاملہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ مجھے معلوم نہیں۔لوگ مہینہ بھر ان کے ہاں آتے اور اصرار کرتے رہے کہ کوئی حکم بیان کر دیں۔ تب انہوں نے اجتہاد کرکے یہ فیصلہ دیا کہ اس عورت کو اتنا مہر ملنا چاہیے جتنا اس کی ہم مرتبہ عورتوں کا ہوا کرتا ہے، نہ کم نہ زیادہ۔ نیز اس کو عدت گزارنی ہوگی اور وہ شوہر کے ترکہ میں سے حصہ پائے گی۔ یہ سن کر حضرت معقل بن یسارؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بطور شہادت فرمایا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قبیلہ کی ایک عورت کے بارے میں ایسا ہی حکم دیا تھا۔‘‘ حضرت ابن مسعودؓ کو یہ معلوم کرکے ا تنی مسرت ہوئی کہ مشرف باسلام ہونے کے بعد سے اب تک ایسی مسرت ان پر کبھی بھی نہ طاری ہوئی تھی۔
ثانیاً یہ کہ دو صحابیوں میں کسی مسئلہ کے متعلق بحث ہوئی اور اس سلسلہ میں اس طریقہ سے کوئی حدیث نبوی سامنے آئی جس سے اس کی صحت کا ظن غالب ہوتا تھا۔ اس لیے مجتہد نے اپنے اجتہاد کو چھوڑ کر حدیث رسول کو اختیار کر لیا۔ مثال کے طور پر اس روایت کو لے لو جس کو ائمہ حدیث نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کے خیال میں ’’جو شخص طلوع صبح کے وقت جنبی رہا اس کا روزہ نہیں ہوتا۔‘‘ لیکن جب بعض ازواج مطہرات نے رسول اللہﷺ کا عمل اس خیال کے خلاف بیان کیا تو حضرت ابوہریرہؓ نے اپنے خیال سے رجوع کر لیا۔
ثالثاً یہ کہ اجتہاد کرنے والے صحابی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تو پہنچی مگر ایسے قابل اطمینان طریقے سے نہیں پہنچی کہ اس کے صحیح ہونے کا اسے گمان غالب ہوتا۔ اس لیے مجتہد نے روایت کو ناقابل اعتبار سمجھتے ہوئے اپنے اجتہاد ہی پر عمل کیا۔ اس کی مثال فاطمہؓ بنت قیس کی اس حدیث سے ملتی ہے جس کو اصحاب اصول (یعنی صحاح ستہ کے مؤلفین) نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے کہ فاطمہ نے حضرت عمرؓ کے روبرو آ کر کہا:’’مجھ کو تین طلاقیں دی گئی تھیں۔ رسول اللہﷺ نے نہ تو مجھ کو زمانہ عدت کا نفقہ دلایا اور نہ مکان‘‘۔ آپ ؓنے ان کی گواہی ماننے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ ایک عورت کے قول کی بنا پر کتاب نص الٰہی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ جس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہے یا غلط، تین طلاقیں پانے والی عورت کو نفقہ بھی ملناچاہیے۔ اور قیام گاہ بھی‘‘ نیز ان ہی فاطمہؓ بنت قیس کے قول’’لا نفقۃ لہا ولاسکنۃ‘‘ کو سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا فاطمہ کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اللہ کا خوف نہیں کرتی‘‘[قرآن مجید کی آیت ولا تخرجوہن من بیوتہن اور آیت اسکنوہن من حیث سکنتم من وجدکم سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلقہ عورت کو زمانہ عدت تک گھر سے نہیں نکالنا چاہیے۔ بلکہ شوہر کو لازم ہے کہ اتنے وقت کے لیے اس کے لیے مکان مہیا کرے پھر آیت وانفقوا علیہن سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ عورت کو زمانۂ عدت تک نفقہ بھی ملنا چاہیے۔ یہ آیات اپنے مفہوم میں بالکل مطلق اور عام ہیں ، ان میں طلاق رجعی والی عورت کی کوئی تخصیص موجود نہیں ہے ،اس لیے ان کا حکم ہر قسم کی مطلقہ عورتوں کے حق میں عام اور نافذ العمل ہوگا۔ حضرت عمرؓ نے قرآن کے اسی عموم کو سامنے رکھتے ہوئے فاطمہ بنت قیس کی روایت رد کر دی کیونکہ وہ آیات قرآنی کے خلاف پڑتی تھی۔ حضرت عمرؓ کے اس طرز عمل سے ہمیں ایک اہم اصول ہاتھ آتا ہے۔ ظاہر ہے فاطمہؓ صحابیہ تھیں۔ اصول حدیث کی رو سے ’’الصحابۃ کلہم عدول‘‘ سے خارج نہ تھیں لیکن اس کے باوجود جب قرآن کے متبادر مفہوم سے ان کی روایت ٹکرائی تو حضرت عمرؓ نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ احادیث میں صرف سند ہی قابل لحاظ شے نہیں ہے بلکہ متن بھی دیکھا جانا چاہیے۔ سند بالکل سلسلۃالذہب ہی کیوں نہ ہو پھر بھی حدیث میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔ سند کی صحت ہر حال میں صحت حدیث کو مستلزم نہیں۔ آخر فاطمہ بنت قیس کی روایت میں ضعف اسناد کا کون سا احتمال تھا(مترجم)]
دوسری مثال بخاری و مسلم کی اس روایت میں موجود ہے کہ ’’حضرت عمرؓ بن خطاب کے خیال میں اگر جنبی کو غسل کے لیے پانی نہ ملے تو وہ تیمم سے پاکی حاصل نہیں کر سکتا۔ حضرت عمارؓ بن یاسر نے ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم سفر تھا، مجھ کو غسل کی حاجت ہو گئی۔ لیکن پانی نہ پا سکا، اس لیے (تیمم کی خاطر) دھول میں لوٹ پوٹ لیا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اس کارروائی کا تذکرہ کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ تم کو صرف اتنا کر لینا کافی تھا، (یہ کہتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور ان کو اپنے منہ اوراپنے ہاتھوں پر مل لیا۔ حضرت عمرؓ نے عمارؓ کے اس بیان کو قبول نہیں کیا اور کسی پوشیدہ ضعف کی بنا پر جو ان کو اس روایت میں نظر آیا، ان کے نزدیک یہ روایت حجت نہیں ٹھہری۔ اگر چہ آگے چل کر دوسرے طبقہ میں یہ حدیث اور بہت سے طریقوں سے مشہور ہو گئی اور اس کے ضعیف ہونے کا گمان ماند پڑ گیا، اس لیے لوگ اس پر عمل پیرا ہو گئے۔
رابعاً یہ کہ اجتہاد کرنے والے صحابی کو حدیث سرے سے پہنچی ہی نہیں مثلاً مسلم کی یہ روایت کہ ’’حضرت ابن عمرؓ عورتوں کو یہ حکم دیتے تھے کہ وہ جب غسل کریں تو اپنے سر کے بال کھول لیں۔ حضرت عائشہؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے فرمایا تعجب ہے ابن عمر پر کہ وہ عورتوں کو بال کھول ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔اگر ایسا ہی ہے تو سیدھے سے یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ عورتیں اپنے سر ہی منڈا ڈالیں حالانکہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اپنے بالوں کے سلسلہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کرتی تھی کہ ان پر تین بار پانی بہا دیتی تھی (اور کبھی ان کو کھولتی نہیں تھی۔)‘‘
دوسری مثال اما م زہریؒ کے بیان کردہ اس واقعہ میں ہے کہ ’’ہندؓ کو یہ اطلاع نہ تھی کہ آنحضرت ﷺنے مستحاضہ کو استحاضہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، اس لیے وہ اس حالت میں نماز نہ پڑھتیں اور (ترکِ نماز کے غم سے) رویا کرتیں۔‘‘
(۲)فعل رسول کی تعیین نوعیت میں اختلاف:
اختلاف صحابہؓ کی دوسری بنیاد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کام کرتے تو سب نے دیکھا(مگر افکار بشری میں فطری تفاوت کی وجہ سے اس فعل کی نوعیت سمجھنے میں اختلاف ہو گیا)پھر کسی نے تو اس فعل کو عبادت سمجھا اور کسی نے اس کو صرف اباحت پر محمول کیا۔ مثلاً ’’تحصیب‘‘ یعنی سفر حج کے دوران ابطح کی وادی میں آنخصرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اترنا، جسے اصحاب اصول نے روایت کیا ہے۔ اب آپ کا یہ اترنا حضرت ابوہریرہؓ اور ابن عمرؓ کے نزدیک تو بحیثیت عبادت تھا، اس لیے یہ لوگ اس کو حج کی سنتوں میں شمار کرتے ہیں لیکن حضرت عائشہؓ اور ابن عباسؓ کے خیال میں یہ اترنا محض ایک اتفاقی امر تھا نہ کہ کسی سنت کے طور پر۔
دوسری مثال:
’’جمہور کے نزدیک خانۂ کعبہ کا طواف کرتے وقت’’رمل‘‘یعنی اکڑ کر چلنا سنت ہے، لیکن حضرت ابن عباسؓکا فرمانا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جو رمل کیا تھا وہ محض اتفاقی طور پر اور ایک عارضی سبب سے تھا، یعنی مشرکین مکہ کا یہ طعن کہ ’’مسلمانوں کو مدینہ کے بخار نے بالکل چور کر ڈالا ہے‘‘،اسی طعن کے جواب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اکڑ کر چلنے ا وقتی حکم دیا تھا ورنہ یہ فعل حج کی کوئی مستقل سنت نہیں ہے۔
(۳) وہم تعبیر کا اختلاف:
اختلاف کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ افعال رسول کے بیان کرنے میں لوگوں نے مختلف گمانوں سے کام لیا مثلاً اس حج کی نوعیت بیان کرتے وقت کسی نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا تھا، کسی نے کہا آپ نے حج قران ادا کیا تھا اور کسی کو یہ خیال ہوا کہ آپ کاحج حج افراد تھا[حج تمتع کی شکل یہ ہوتی ہے کہ آدمی حج کے مہینوں میں جا کر عمرہ ادا کرے اور سر منڈا کر احرام کھول دے، پھر ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو از سر نو حج کا احرام باندھے اورحج ادا کرے۔قران کی شکل یہ ہے کہ آدمی عمرہ اور حج دونوں کا احرام بیک وقت باندھے اور دونوں کو ادا کرکے احرام کھولے۔افراد صرف حج ادا کرنے کو کہتے ہیں جس کےساتھ عمرہ نہ کیا جائے]۔
اس کی دوسری مثال حضرت سعیدؓ بن جبیر کی یہ روایت ہے جس کو ابو داؤد نے نقل کیا ہے کہ :
’’میں نے (حضرت سعیدؓ نے) عبداللہ بن عباسؓ سے کہا کہ اے ابو العباسؓ یہ دیکھ کر مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام حج باندھ لینے کے بعد جو تلبیہ فرمایا تھا اس کے متعلق اصحاب رسول میں بیان اور رائے کا اتفاق موجود نہیں ہے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ میں اس واقعہ کی حقیقت سب سے بہتر جانتا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی حج ادا فرمایا، اس لیے لوگوں میں اس کی تفصیلات کے متعلق (قدرتی طور پر) اختلاف ہو گیا۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی خاطر مدینہ سے چلے اور جب مسجد ذی الحلیفہ میں آئے دوگانۂ احرام ادا فرمایا تو اسی جگہ کا احرام باندھا اور فوراً تلبیہ[تلبیہ حج یہ ہے :لبیک اللہم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک و الملک لا شریک لک(مترجم)] کیا۔ اس تلبیہ کی آواز کچھ لوگوں کے کانوں تک پہنچی جنہوں نے اس کو یاد کر لیا ۔ اس کے بعد آپ اونٹنی پر سوار ہو گئے جب اونٹنی آپؐ کو لے کر اٹھی تو آپٖ نے پھر تلبیہ کیا اور اس تلبیہ کو بھی کچھ لوگوں نے سنا۔ بات یہ تھی کہ لوگ مختلف گروہوں کی شکل میں خدمت رسالت میں چلے آتے تھے، پس ایک گروہ نے اونٹنی کے کھڑے ہونے کے وقت آپ کو تلبیہ کرتے سنا تو وہ یہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ صرف اس وقت کیا جب ناقہ آپ کو لے کر اٹھی ،پھر آنحضرت اس جگہ سے آگے بڑھے ،جب بیدا(نامی مقام) کی بلندی پر چڑھے تو آپ نے تلبیہ صرف اس وقت کیا جب بیدا کی بلندی پر چڑھ رہے تھے۔ حالانکہ بخدا آپ نے اپنی جائے نماز ہی پر حج کی نیت کر لی تھی اور جب آپ کو لے کر اونٹنی کھڑی ہوئی اس وقت بھی آپ نے تلبیہ کیا اور جب بیدا کی بلندی پر چڑھے اس وقت بھی کیا۔
(۴) سہو و نسیان کا اختلاف:
اختلاف صحابہ کی چوتھی بنیاد ان کی بھول چوک ہے(جو لازمۂ بشریت ہے) اس کی مثال حضرت ابن عمرؓ کے متعلق اس روایت میں موجود ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمرہ ماہ رجب میں کیا ہے۔‘‘ حضرت عائشہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا کہ ’’ابن عمر کو سہو ہو رہا ہے۔‘‘(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا)
(۵) ضبط مدعائے حدیث کا اختلاف:
پانچویں بنیاد اختلاف کی یہ ہے کہ بسا اوقات آپ جو کچھ فرماتے اس کے اصلی اور پورے مفہوم کو ہر شخص یکساں طور پر اپنی گرفت میں نہ لیتا۔ مثلاً جب حضرت ابن عمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کی کہ ’’میت کے پسماندگان کے نوحہ کرنے سے اس پر عذاب ہوتا ہے۔‘‘حضرت عائشہؓ نے ان کے یہ الفاظ سنے تو فرمایا کہ’’ابن عمرؓ نے ارشاد رسالت کو اس کے اپنے صحیح موقع و محل اور مدعا کے ساتھ محفوظ نہیں رکھا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کی قبر سے گزرے جس کے اعزہ رو دھو رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا یہ لوگ یہاں اس کا نوحہ وماتم کر رہےہیں اور وہ قبر میں مبتلائے عذاب ہے۔‘‘دیکھو کہ واقعہ کس طرح ایک خاص میت سے متعلق تھا لیکن حضرت ابن عمرؓ نے رسول اللہ کے اس مخصوص موقع بیان کو ذہن سے نکال دیا اور اعزہ کی گریہ وزاری ہی کو میت پر عذاب کی علت گمان کر بیٹھے، اس طرح اس بات کو انہوں نے ہر میت کے سلسلے میں ایک عام اصول کی حیثیت دے دی۔
(۶)تعیین علت کا اختلاف:
چھٹی بنیاد یہ ہے کہ احکام شرع کی علت معین کرنے میں حضرات صحابہؓ کی رائیں مختلف ہو گئیں جیسے جنازہ کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا مسئلہ۔ بعض صحابہ کا کہنا یہ ہے کہ ایسا فرشتوں کی تعظیم میں کیا جاتا ہے(کیونکہ ہر جنازہ کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں۔)تو اس خیال کے مطابق ہر جنازہ کے لیے کھڑا ہو جانا چاہیے، خواہ مومن کا جنازہ ہو یا کافر کا۔ لیکن بعض دوسرے حضرات کا خیال یہ ہے کہ یہ قیام، موت کے ہول کی وجہ سے ہے، تواس صورت میں بھی اٹھ کھڑے ہونے کا یہ حکم ہر جنازہ کے لیے عام ہوگا۔ لیکن کچھ صحابہ کا فرمانا یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا تو آپ کو اس بات سے تنفر ہوا کہ ایک یہودی کی لاش میرے سر سے اونچی ہو کر گزرے، اس لیے آپ کھڑے ہو گئے۔ اگر اس علت کو صحیح مانا جائے تو یہ قیام صرف جنازۂ کفار کے لیے مخصوص ہوگا۔
(۷)طرز تطبیق کا اختلاف:
ساتویں بنیاد صحابہؓ کا وہ اختلاف رائے ہے جو مختلف احکام شرع کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں پیش آیا۔ مثلاً یہ کہ جنگ خیبر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کی اجازت دی۔ بعد میں اس کی ممانعت کردی، پھر جنگ اوطاس کے زمانہ میں دوبارہ یہ رخصت عطا فرمائی اس کے بعد پھر اس سے روک دیا۔ اب حضرت ابن عباسؓ کا یہ کہنا ہےکہ ضرورت کی بنا پر یہ اجازت دی گئی تھی اور جب ضرورت جاتی رہی تو اجازت بھی واپس لے لی گئی ،مگر حکم اپنی جگہ باقی ہے۔ لیکن جمہور کا یہ کہنا ہے کہ متعہ کی رخصت بطور اباحت تھی جس کو ممانعت نے ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا۔
دوسری مثال:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجا کرتے وقت قبلہ رو ہونے سے منع فرمایا ہے۔ اس کے متعلق کچھ صحابہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ حکم بالکل عام اور غیر منسوخ ہے لیکن حضرت جابرؓ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرتے دیکھا۔ اس لیے ان کا خیال یہ ہے کہ آپ کے اس فعل نے اس پہلی ممانعت کو منسوخ کر دیا۔ اسی طرح حضرت ابن عمرؓ نے آنحضرت کو قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کرکے قضائے حاجت فرماتے ہوئے دیکھا تھا اس لیے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل سے لوگوں کے قول کی تردید فرمائی(جو کہتے تھے کہ قبلہ کی طرف پشت کرکے شرعا ًممنوع ہے) پھر کچھ لوگوں نے دونوں روایتوں میں مطابقت پیدا کرنے کی سعی کی۔ چنانچہ امام شعبی وغیرہ نے یہ رائے قائم کی کہ یہ ممانعت صرف کھلے میدانوں سے متعلق ہے، ورنہ اگر آدمی پاخانوں کے اندر ہو تواس کےلیے قبلہ کی طرف پشت یا رخ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن بعض دوسرے حضرات اس طرف گئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قو ل(جس میں ممانعت موجود ہے) اپنی جگہ بالکل قائم و ثابت ہے اور اس کا حکم عام ہے۔ رہ گیا آپ کا فعل تو ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کے مخصوصات میں سے ہو۔ اس طرح وہ فعل رسول قول رسول کا نہ منسوخ کرنے والا ہوگا نہ اس کو بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص کرنے والا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *