فرقہ واریت، نیشنلزم اور اقبال کا تصور امت

اسلام اللہ تعالٰی کا پسندیدہ دین اور انسانیت کو ایک لڑی میں پرونے کا واحد ذریعہ ہے، جبکہ تفرقہ اور فتنہ پروری امت کی تقسیم اور دشمن کے مقابلے میں کمزوری کا اہم سبب ہے۔ اس بارے علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ ’اسلام ایک ہے اس کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں کوئی امتیاز نہیں ہے اسلام میں وہابی، شیعہ اور سنی نہیں ہیں۔۔۔ میں خدا، انسانیت، موسٰی علیہ السلام، عیسٰی علیہ السلام اور محمد (ص) کے نام پر فرقہ واریت کی مذمت کرتا ہوں۔‘ علامہ اقبال روح قرآن کے وارث اور آخری نبی (ص) کی ذمہ دار امت ہونے کے ناطے مسلمانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد (ص) کا ہمیں پاس نہیں
امت کو ایک ہو جانے کی تلقین کے ساتھ ساتھ فرقہ بندی اور طبقاتیت کو توہمات شمار کرتے ہوئے حکیم الامت فرماتے ہیں کہ ’فرقہ بندی اور طبقات کے بت توڑ کر ایک ہوجائیں۔ انسانیت کو توہمات سے نجات دلانے والے خود ان زنجیروں سے آزاد ہوجائیں۔ اسلام میں کوئی وہابی، سنی اور شیعہ نہیں۔ حق کی تعبیر و تشریح پر لڑنے کی بجائے حق کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہوجاو کہ حق خود خطرے میں ہے۔ جب حق خود خطرے میں ہو تو اس کی تاویلات پر مت لڑو۔ رات کی تاریکی میں چلتے وقت ٹھوکر کھانے کی شکایت کرنا بے معنی ہے۔ آو ہم سب مل کر آگے بڑھیں، طبقاتی امتیازات اور فرقہ بندی کے بت ہمیشہ کے لیے پاش پاش کر دیں، تاکہ اس ملک کے مسلمان ایک بار پھر ایک عظیم، بامعنی قوت کی صورت میں متحد ہوں۔‘
علامہ اقبال نے تو تین فرقوں سنی، شیعہ اور وہابی کے اتحاد پر زور دیا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف کئی نئے فرقے وجود میں آچکے ہیں، بلکہ یہ مختلف گروپوں میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جو ایٹمی قوت ہے۔ لسانی، مذہبی، فقہی، نسلی اور صوبائی لحاظ سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ فرقوں کے مزید گروپ بن چکے ہیں۔ یہ انتہائی پریشان کن اور افسوسناک صورتحال ہے، جس کی وجہ سے اسلام دشمن طاقتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں اور کشمیر و فلسطین کے معصوم و بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہی ہیں۔ افسوس کہ مذہبی اسکالر بھی قرآن اور سنت کے مطابق چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی حقیقت کے پیش نظر علامہ اقبال فرمایا کہ:
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
انگلستان میں جدید وطنیت کا تصور 17 ویں صدی کے آغاز سے ابھرا۔ امریکہ میں قوم پرستی کا تصور اٹھارویں صدی میں نمو پذیر ہوا۔ اب یہ تاریک رات کسی نہ کسی صورت میں تمام عالم کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ کہیں ذات پرستی کا سیل بیکراں انسانی قدروں کو بہا لے جا رہا ہے۔۔۔ کہیں نسل پرستی کا زہر جڑیں کاٹ رہا ہے۔ آج کے مسلمان حکمران بھی اسی سے متاثر ہو کر یہی نعرہ آلاپ رہے ہیں۔ کہیں رنگ و روپ کا طوفان سارے عالم کی بنیادیں مسمار کر رہا ہے۔ لیکن امت کی وحدت کا پیغامِ اقبال کے شعر و نثر میں جابجا ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے اور اس نقطہ کو علامہ اقبال کے افکار میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ اس تصور کا مرکزی نقطہ فرد و ملت کا ربط۔ قطرے کا قلزم ہونا۔ کوکب کا کہکشاں شمار ہونا۔ موتی کا لڑی میں پرویا جانا ہے۔ اور یہ بات بالکل بجا ہے کہ نفی قومیتِ جدیدہ اور اثباتِ ملتِ اسلامیہ علامہ اقبال کے پیغام کے دو پہلو ہیں۔ ایک سلبی اور دوسرا اثباتی ہے۔
فرقہ واریت کی طرح وطنیت اور قومیت کا بت بھی انسجام امت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اقبال کے نزدیک نیشنلزم کا ناسور مغرب میں پروان چڑھا اور مسلمان ممالک میں در آیا۔ قیام یورپ کے دوران مغربی تہذیب کے عمیق مطالعہ کے بعد اقبال نے جب یورپی قومیت کا پورے طریقے سے تجزیہ کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قومیت ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے غیر انسانی نظام ہے۔ انہوں نے اس کے عملی نتائج دیکھے تو انہیں یہ خدشہ ہوا کہ یہ جذبہ اسلامی ممالک کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ اس کی ایک مثال یہ تھی کہ جب ترکوں کے خلاف عربوں نے انگریزوں کو مدد دی تو انگریزی استعمار سمجھ گیا کہ یہ حیلہ کارگر ہے۔ انہی بنیادوں کے پیش نظر اقبال طویل مطالعہ اور مشاہدہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ وطنیت، وحدتِ ملت کے راستے کا پتھر ہے۔ آپ نے تصورِ قومیت کے نقصانات تفصیل سے بیان کیے اور تصور ملت واضح کیا۔
اقبال فرماتے ہیں: ’میں یورپ کے پیش کردہ نیشنلزم کا مخالف ہوں۔ اس لئے کہ مجھے اس تحریک میں مادیت اور الحاد کے جراثیم نظر آتے ہیں اور یہ جراثیم میرے نزدیک دور حاضر کی انسانیت کے لئے شدید ترین خطرات کا سرچشمہ ہیں۔ اگرچہ وطن سے محبت ایک فطری امر ہے، لیکن اس عارضی وابستگی کو خدا اور مذہب سے برتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
علامہ اقبال نے مسلمانوں میں عالمی تصور کو بیدار کیا۔ خود ساختہ نفرتوں کی حد بندیوں کو گرا دیا: قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں
حضرت حکیم الامت کے نزدیک مقصدِ تخلیقِ انسان، نظام اجتماعیت کے قیام اور اجتماعیت کا نظام صرف اور صرف دامن اسلام سے حاصل ہوتا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:’جو کچھ قرآن حکیم سے میری سمجھ میں آیا، وہ یہ ہے کہ اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح کا داعی نہیں، بلکہ عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے، جو اس کے قومی اور نسلی نقطہ نگاہ کو یکسر بدل کر اس میں خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کرے۔‘ اسی لیے فرماتے ہیں کہ وحدت اسلامیہ میں اپنی خودی، انفرادیت کو ضم کر دو کہ پھول کی پتیاں مل کے چمن بن جائیں۔
در جماعت خود شکن گرد خودی
تاز گل برگے چمن گرد خودی
علامہ اقبال دین اسلام کو انسانیت کی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو عالمی اسلامی حکومت کے عظیم ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اسلام ایک عالم گیر سلطنت کا یقیناً منتظر ہے، جو نسلی امتیازات سے بالاتر ہوگی۔ جس میں شخصی اور مطلق العنان بادشاہوں، سرمایہ داروں کی گنجائش نہ ہوگی۔ دنیا کا تجربہ خود ایسی سلطنت پیدا کر دے گا۔ غیر مسلموں کی نگاہ میں شاید یہ محض ایک خواب ہو لیکن مسلمانوں کا یہ ایمان ہے۔‘ آج ہم ڈیڑھ ارب کلمہ گو ہیں۔ 55 سے زائد آزاد مسلم ریاستیں ہیں۔ ایک تہائی دنیا کی آبادی مسلمان ہے، عظیم ذخائر ارضی، بحری، فضائی ہمارے پاس ہیں۔ لیکن مغرب کی پیروی، داخلی انتشار اور فروعی اختلافات کے باعث مسلمان اس مقصد کو بھلا چکے ہیں۔ خدا کرے کہ مسلمان بیدار ہوں اور انسجام امت کے قرآنی فریضہ کو انجام دینے کی فکر کرتے ہوئے علامہ اقبال کی آرزو کو پورا کریں:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *