مسلمانوں کے اختلافات کے گیارہ مذموم اسباب

اہل حق کا اتحاد وقت کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی، اگر انہوں نے اتحاد نہ کیا تو اہل باطل انہیں ایک ایک کرکے ختم کر ڈالیں گے۔ کبھی ایک جماعت پر ہاتھ ڈالا جائے گا کبھی دوسری پر، کبھی ایک مدرسہ کو طوق سلاسل سے جکڑ دیاجائے گا اور کبھی دوسرے کو۔ اتحاد و اتفاق وقتی مجبوری ہی نہیں بلکہ اسلام کا دائمی حکم بھی ہے۔ دین اسلام نے اگر اتحاد و اتفاق کی تعلیم دی ہے تو اختلاف سے بچنے کی تلقین بھی کی ہے۔ اتحاد طاقت کا راز ہے اور اختلاف کمزوری کا سبب و علامت ہے۔ اتحاد سے شجاعت، ایثار اور محبت واخوت جیسے فخریات پیدا ہوتے ہیں اور اختلاف سے بزدلی ،خودغرضی، منافقت اور عداوت جیسی اخلاقی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ مگر یہ بات ابتدا ہی میں جان لیجئے کہ ہر اختلاف مذموم نہیں، اگر اختلاف حدود کے دائرہ میں ہو تو نہ صرف اسکی اجازت ہے بلکہ وہ امت کے لیے رحمت ہے۔ خود انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا یہ حال ہے کہ وہ اصول پر تو متحدرہے مگر فروع میں ان کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ جیسے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم الصلوۃ والسلام دونوں ہی نبی تھے اور باپ بیٹا بھی۔ لیکن کئی مسائل اور فیصلوں میں ان کا اختلاف ہوا، اس کے باوجود اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اسی اختلاف کے پس منظر میں دونوں علیہم الصلوۃ والسلام کی تعریف فرمائی۔
اصل میں انسانی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ مزاج کے اعتبار سے شدت پسند ہوتے ہیں اور کچھ سہولت پسند ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آسمان میں دو فرشتے ہیں ایک نرمی کا حکم کرتا ہے اور دوسرا سختی کا اور دونوں حق پر ہیں۔ ایک جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے میکائل علیہ السلام۔ اور دو نبی ہیں ایک نرمی کا حکم دیتا ہے اور ودسر ا سختی کا اور دونوں حق پر ہیں، ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور دوسرے حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ اور میرے دوساتھی ہیں ایک نرمی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا سختی کا اور دونوں حق پر ہیں۔ ایک حضرت ابوبکر ؓ اور دوسرے حضرت عمرؓ ہیں۔
انسانی مزاجوں، طبیعتوں اور عقل وفہم میں اختلاف کا نتیجہ، آراء اور رحجانات کے اختلاف کی صورت میں نکلتا ہے، امت کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جس میں اختلاف نہ ہوا ہو۔ صحابہ کرامؓ میں بھی اختلاف ہوا اور بعض اوقات یہ اختلاف بڑی شدت اختیار کر گیا لیکن ایک تو صحابہ کرامؓ میں اخلاص و للہیت انتہا درجہ کی تھی، دوسرے ان سب کا مقصد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تھا۔ اس لیے ہمیں ان میں سے کسی پر بھی طعن کی اجازت نہیں۔ صحابہؓ کے علاوہ تابعین، تبع تابعین، فقہا اور مجتہدین کے درمیان ہزاروں فقہی اور سیاسی مسائل میں اختلاف رہا ہے لیکن ان اختلافات کے باوجود وہ ایک دوسرے کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ یہ ان کے باہمی ادب و احترام کا ہی نتیجہ ہے کہ آج تک امت کے سمجھ دار لوگ ان کا تذکرہ ادب و احترام ہی سے کرتے ہیں اور کسی کو ان کی شان میں گستاخی کی جرات نہیں ہوتی۔ آپ نے کبھی کوئی ایسا حنفی دیکھا ہے جو امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ کو برا بھلا کہتا ہو؟ یا کوئی ایسا شافعی ،مالکی دیکھا جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام احترام سے نہ لیتا ہو؟
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر اختلاف نہ مذموم ہے نہ ممنوع۔ ایسا اختلاف جو اخلاص، للہیت اور اصولوں پر مبنی ہو ، اس کی نہ صرف یہ کہ شریعت نے اجازت دی ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ مذموم و ممنوع وہ اختلاف ہے جس کی بنیاد اخلاص و للہیت کے بجائے ریا اور نفسانیت پر ہو، اور جو شر اور فساد کا سبب بنے۔ یہی وہ اختلاف ہے جو ہلاکت اور تباہی کا ذریعہ بنتا ہے ،ایسا اختلاف جماعت، ملک کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے اور مختلف صورتوں میں عذاب کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ہوا اکھڑ جاتی اور کافروں کے حوصلے بلند ہونے لگتے ہیں۔
اگرچہ آج کل ہر شخص اپنے اختلاف کو اصولی اختلاف اور اخلاص پر مبنی قرار دیتا ہے لیکن اگر غور کیاجائے تو امت مسلمہ کی جماعتوں اور افرادکے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے گیارہ بڑے اسباب سامنے آتے ہیں۔ کاش!ہم ان اسباب سے چھٹکارا پا کر امت کو ’بنیان مرصوص‘(سیسہ پلائی ہوئی دیوار) بننے میں مدد کر سکیں۔
(۱) اختلاف کا پہلا سبب نفس پرستی ہے، جب افراد اور جماعتیں خدا پرستی کے بجائے نفس پرستی شروع کر دیتی ہیں تو تنازعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بہت سے گروہ اور ذمہ دار(لیڈر) ایسے ہیں جو محض اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے امت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہونے دیتے۔
(۲) اختلاف کا دوسرا سبب ضد اور عناد ہے جو کہ نفس پرستی کا ہی لازمی نتیجہ ہے۔ ہمارے ہاں بعض مسائل کا التزام صرف دوسروں کی ضد اور عناد میں کیا جاتا ہے۔
(۳) اختلاف کا تیسرا سبب حسد ہے، بہت سے بے وقوف دوسروں کی عزت اور شہرت کو دیکھ کر حسد،جلن کرتے ہیں اور پھر ان سے ’’اصولی‘‘ اختلاف شروع کر دیتے ہیں۔
(۴)چوتھا سبب تشخص ہے، یعنی یہ خواہش کہ ہم اپنے لباس، ٹوپی، عمامے اور جھنڈے کے رنگ اور ڈیزائن کے اعتبار سے دوسروں سے جدا وار ممتاز نظر آئیں اور ہم امت کے سمندر کی موجیں بن کر اسی میں کہیں گم نہ ہو جائیں۔ کاش وہ جان سکتے ہے کہ وہ ؎
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں
(۵) پانچواں اختلاف اجزاء اور رسموںپر اسرار ہے۔ بعض بھولے بھالے لوگ دین کے کسی ایک جزو اور خاندان کی ایک رسم کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ اسے کفر وایمان کے درمیان حد فاصل ٹھہرا لیتے ہیں اور اس کی خاطر ہر کسی سے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا حال ان اندھوں جیسا ہوتا ہے جن میں سے کسی نے ہاتھی کے کان کو، کسی نے سونڈ کو، کسی نے پیٹ کو، کسی نے ٹانگوں کو اور کسی نے دم ہی کو پورا ہاتھی سمجھ لیا ہے۔
(۶)چھٹا سبب خوش خیالی اور خوش فہمی ہے۔ ہر شخص اپنی کھال اور اپنے حال میں مست ہے۔اس کےذہن میں یہ بات کوٹ کوٹ کر بٹھا دی گئی ہے کہ صرف ہماری جماعت ہی دین کا کام کر رہی ہے، باقی سارے لوگ کھانے، پینے اور دین کی بنیادوں کی بیخ کنی میں مصروف ہیں۔
(۷) ساتواں سبب حد سے بڑھی ہوئی شخصیت پرستی ہے۔ ایسے لوگ اپنے حضرت کے فرمودات کے مقابلے میں قرآنی آیات اور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بھی ٹھکرا دیتے ہیں۔(نعوذ باللہ!)
(۸) آٹھواں سبب کم ظرفی اور تنگ ظرفی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک گروہ دوسرے گروہ کے وجود تک کو برداشت کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔
(۹)نواں سبب معاشی مجبوری ہے۔ بعض بدبخت امت کو اس لیے متحد نہیں ہونے دیتے کیونکہ اختلافی مسائل ہی انکا ذریعہ معاش ہیں، انہیں ان مسائل کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں۔ جاہل عوام میں ان کی طلب اور شہرت صرف اور صرف ان کی اختلافی تقریروں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جن کا وہ منہ مانگا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔
(۱۰) اختلاف کا دسواں سبب نسلی اور لسانی تعصبات ہیں ۔ اسلام دشمنوں نے ان تعصبات کو اس قدر ہوادی ہے کہ قرآن کریم کے جو اولین مخاطب تھے یعنی عرب ان کےذہنوں کو بھی ان تعصبات سے مسموم کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اور ان میں سے بعض نے کفار کے پروپگنڈے کے نتیجہ میں عجمی مسلمانوں کو عربوں سے کم ترسمجھنا شروع کر دیا ہے۔ افسوس کہ یہ تعصب بھی ان کے کسی کام نہ آسکا اور نہ ہی ان کے درمیان اتحاد کی مضبوط بنیاد ثابت ہو سکا اور آج وہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم ہو کر اپنی طاقت اور ہیبت گنوا بیٹھے ہیں۔
(۱۱) امت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا گیارہواں اور آخری سبب ملکی سرحد ہیں۔ جنہیں بعض وطن پرست ایمان سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جب کہ قرآنی حقائق اور نبوی فرمودات پر ایمانی نظر رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ ملکی، قومی، لسانی، نسلی، خاندانی، جماعتی،گروہی تعلقات اور شتوں سے کہیں زیادہ اہمیت ایمانی رشتہ کو حاصل ہیں۔
یہی رشتہ ہے جس نے فارس کے حضرت سلمانؓ فارسی، حبشہ کے حضرت بلالؓ، روم کے صہیبؓ، نینواں کے حضرت عداسؓ، غفار کے حضرت ابو ذر غفاریؓ، دوس کے طفیلؓ، بنو امیہ کے ابو سفیانؓ اور جعثم کے حضرت سراقہؓ کو بھائی بھائی بنا کر قیصر و کسری کے سامنے ایمان اور استقامت ،جرات و شجاعت کا مضبوط پہاڑ بنا کر کھڑا کر دیا تھا جس سے ٹکرا کر وقت کے فرعون اور نمرود اپنی موت آپ مر گئے تھے۔
اے کاش! ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر اہل حق اسی اتحاد کا مظاہرہ کر سکیں تاکہ دور حاضر کے دجال اور نمرود ناک رگڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *