وحدت امت اہل قبلہ کی تکفیر اور فقہی اختلافات کی بنا پر ملت میں محاذ آرائی کے خلاف ایک مدلل اور مستند تحریر

کسی انسانی گروہ کو اس کی شامت اعمال کی بنا پر اللہ عزوجل گوناگوں طریقوں سے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ عذاب کی بد ترین شکل کی طرف اشارہ سورہ انعام کی آیت نمبر ۶۵ کے ایک حصہ میں یوں کیا گیا ہے:
اویلبسکم شیعا و یذیق بعضکم باس بعض
ترجمہ:’یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس کی)لڑائی کا مزہ چکھا دے۔‘ (ترجمہ مولانا فتح محمد صاحب جالندھری)
اس فرمان الٰہی کی تفسیر میں علامہ پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری حفظ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’اس کے علاوہ سخت تر عذاب یہ ہے کہ آپس میں انتشار اور بے اتفاقی کی وبا پھوٹ پڑتی ہے۔ ایک قوم کے فرزند، ایک ملت کے افراد مختلف ٹولیوں اور فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ کہیں مذہب وجہ فساد بن جاتا ہے اور کہیں سیاست باعث انتشار۔ اپنوں کی عزت اپنے ہاتھوں خاک میں ملا دینا بڑا کارنامہ تصور کیا جاتا ہے۔ اوروں کو رہنے دیجئے اپنے گھر کا حال دیکھئے۔ جب سے ہم نے صراط مستقیم سے انحراف کیا ہے ہم کن پستیوں میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ ایک خدا، ایک رسول، ایک کتاب اور ایک کعبہ پر ایمان رکھنے والے کس نفاق اور انتشار کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال زار پر رحم فرمائے۔‘ (تفسیر ضیاء القرآن جلد اول صفحہ ۵۶۶)
ایک شاعر نے اسی مفہوم کو یوں بیان کیا ہے:
ہر دل میں کدورتیں بھرتی ہیں محسنؔ یہ عذاب کی گھڑی ہے
بد قسمتی سے عذاب کی یہ گھڑی آ چکی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے چشم بینا دی ہے وہ اس لمحہ بہ لمحہ شدید تر ہوتے ہوئے عذاب کی ہولناکیوں کو دیکھ رہے ہیں اور اس کے جہنمی شعلوں کی تپش کو اپنے دل دردمند میں محسوس کر رہے ہیں۔ یہ رسالہ اسی محاذ آرائی کی آگ کو جس حد تک بھی ممکن ہو بجھانے کی ایک کوشش ہے اور اس کا واحد مقصد وحدت امت کو بحال کرنا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرے اور انہیں بھائی بھائی بنا دے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز
نہایت ضروری وضاحت
اس رسالہ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف اسلامی فرقوں کو نہ تو ایک دوسرے کی تکفیر کرنا چاہیے اور نہ ہی محض فقہی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز باجماعت سے احتراز کرنا چاہیے۔ لیکن واضح رہے کہ ایسے گروہ جو حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مدعی نبوت کے قائل ہوں، انہیں ہم اسلامی فرقوں میں شمار نہیں کرتے، کیونکہ وہ خود ہی ملت اسلامیہ سے خروج کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ یہ بات اگرچہ اظہر من الشمس ہے اور بظاہر یہ وضاحت غیر ضروری نظر آتی ہے لیکن چونکہ منفی سوچ رکھنے والے اصحاب بین الامت کی ہر کوشش کو غلط رنگ دینے کے عادی ہیں۔ اس لیے یہ وضاحت کر دی گئی ہے تاکہ ’فی سبیل اللہ فساد‘ کرنے والے لوگوں کو اس قسم کا کوئی موقع کم از کم ہماری طرف سے فراہم نہ ہو سکے۔ نیز جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی مسلمہ اسلامی فرقے کو کافر نہیں کہتے تو حاشا و کلا اس میں یہ امر متضمن نہیں ہے کہ ہم مختلف فرقوں کی گمراہیوں کا جواز پیش کر رہے ہیں۔ ہمارا مطلب تو یہ ہے کہ جو گمراہ ہے اس کو صرف گمراہ کہو۔ اس کی گمراہی کا رد کرو۔ لیکن کافر کہنے سے گریز کرو۔ کیونکہ بقول مولانا ثنا اللہ امرتسریؒ ہمارا اس باب میں مسلک وہی ہے جو امام المحتاطین اما م ابو حنیفہؒ کا ہے لا نکفر اہل القبلۃ۔
جب ہم نے وحدت امت کا پہلا ایڈیشن دوستوں کی خدمت میں پیش کیا تو جہاں اس کی موافقت اور مخالفت میں بہت سی آراء آئیں ہیں، وہاں سب سے بڑا اعتراض یہ آیا کہ اسلام کا دائرہ صرف فقہی اختلاف رکھنے والے مسالک تک محدود ہے اور جو لوگ اہل سنت سے مختلف عقائد رکھتے ہیں ان کے پیچھے نہ نماز جائز ہے اور نہ رشتے ناطے۔ مقصد یہ کہ عقائد کا اختلاف رکھنے والے لا نکفر اہل القبلۃ کی فہرست میں نہیں آتے۔ ہم نے اس کا از سر نو جائزہ لیا ہے۔ پہلے ایڈیشن میں بھی ایک دو آراء اس سلسلہ میں شامل کی گئی تھیں۔ لیکن اب تفصیل کے ساتھ اس سلسلہ میں صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ، ائمہ اہل سنتؒ اور فقہاءؒ کی آراء شامل کر رہے ہیں۔ یہ حوالے ان لوگوں کے ہیں جن پر مذہب اہل سنت کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ اور کوئی بھی اہل سنت ان میں سے کسی کی مخالفت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
آج سے کوئی نو سو سال پہلے امام غزالیؒ نے اسی مسئلہ پر اپنے ایک رسالہ ’التفرقہ بین الاسلام و الزنادقہ‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس رسالہ کی ایک تلخیص علامہ شبلی مرحوم نے اپنی کتاب الغزالی میں دی ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بعد الحمد والصلوۃ اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
واعتصموا بحبل اللہ جمیعا(آل عمران:۱۰۳)
ترجمہ: اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی)رسّی کو مضبوط پکڑے رہنا اور تفرقہ میں نہ ہونا۔
موضوع زیر بحث نہایت اہم اور حساس نوعیت کاہے۔ چونکہ ہم اس قسم کی باتوں کے سننے اور ان پر غور کرنے کے عادی نہیں ہیں لہٰذا کچھ احباب کے لیے یہ ناپسندیدہ ہوں گی۔ لیکن جس مقصد کو پیش نطر رکھ کر آپ سے مخاطب ہوں،اس کا تقاضا ہے کہ آپ تحمل سے بات سنیں اور پھر اس پر غور کریں۔ کیونکہ امت مسلمہ کی حیات و بقا کے لیے اس کا ذہن نشین ہونا اور اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ تو مسلمان صدیوں سے اپنی قوت ضائع کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے اور دین کے دشمنوں کو موقع فراہم کریں گے کہ وہ انہی سے کام لے کر امت مسلمہ کو تباہ و برباد کرتے رہیں۔
امت مسلمہ میں فروعی اختلافات ایک دو روز کا قصہ نہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ہی اختلافات نمودار ہو گئے تھے۔ لیکن اس دور میں اختلافات وجہ انتشار نہیں بنے۔ ان بزرگوں نے اتحاد برقرار رکھا۔ لیکن آج اختلافات کی فتنہ گری نے امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے میں اس واقعہ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جسے برصغیر کی ممتاز شخصیت مولانا ابو الکلام آزادؒ نے اپنی معروف کتاب ’تذکرہ‘ میں درج کیا ہے۔ فرماتے ہیں:’ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں نے تو ابھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن بھی نہ کیا تھا کہ امت میں فساد برپا ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا اختلاف پیغمبر کی (حقانیت کے)بارے میں نہیں ہوا بلکہ ان سے منسوب روایات کے بارے میں ہوا۔ یہودی کے الزام کو رد فرمانے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو بھی آئینہ دکھایا اور کہا تم ذرا اپنے گریبان میں تو جھانک کر دیکھو۔ فرعون کی غرقابی کے بعد تمہارے پاؤں سے بحیرۂ قلزم کا پانی ابھی خشک نہیں ہوا تھا۔ خود حضرت موسی علیہ السلام تمہارے درمیان موجود تھے کہ تم نے ایک قوم کو بچھڑے کی پوجا کرتے دیکھ کر حضرت موسی علیہ السلام سے تقاضا شروع کر دیا کہ ہمیں بھی ایسا خدا بنا کر دو جس طرح کا ان لوگو ںکا ہے۔یہ مطالبہ کر کے نہ صرف تم دین سے پھر گئے تھے بلکہ توحید کو بھی خیرباد کہہ دیا تھا۔
وقال لہ بعض الیہود:ما دفنتم نبیکم حتی اختلفتم فیہ فقال ع لہ: انما اختلفنا عنہ لافیہ۔ ولکنکم ما ما جفت ارجلکم من البحر حتی قلتم لنبیکم اجعل لنا الہا کما لہم الہۃ قال انکم قوم تجہلون
(نہج البلاغہ مع شرح الشیح محمد عبدہ مفتی الدیاو المصریہ، الجزء العانی ص۲۱۱)
حضرت علی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے بڑے قاضی ہیں۔ لہٰذا یہ انہی کا حصہ تھا کہ وہ اس قسم کے سوال کا ایسا مسکت جواب دیں۔
مولانا ابو الکلام رحمۃ اللہ نے اسی ترجمان القرآن میں سورہ طہ کی تفسیر میں ایک واقعہ رقم کیا ہے جو ہم سب کے لیے سبق آموز بھی ہے اور باعث عبرت بھی۔ مولانا آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ فقہائے مذاہب اربعہ مدون ہو گئے اور تقلید شخصی کا التزام ہو گیا۔ تو سوال پیدا ہوا کہ اماموں میں افضل کون ہے؟ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا امام شافعی رحمہ اللہ۔ اس قضیے سے فرقہ وارانہ بحث شروع ہو گئی اوراس بحث نے جنگ و قتال کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ ہلاکو خان کو اسلامی ممالک پر حملہ کرنے کی ترغیب خراسانیوں کے اس جھگڑے سے ملی تھی۔ ایک گروہ نے دوسرے کی ضد میں اسے حملے کی دعوت دی اور شہر کے پھاٹک وا کردیے۔ پھر جب تاتاریوں کی تلوار چلی تو اس نے نہ کسی شافعی کو چھوڑا اور نہ کسی حنفی کو۔
تاریخ اسلام کے اس سیاہ ورق سے کون آشنا نہیں جب شیعہ سنی مناقشت کی بدولت سقوط بغداد کا المناک سانحہ پیش آیا۔ عباسی خلیفہ مستعصم کے دور میں شیعہ سنی اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ ایک گروہ نے ہلاکوخان کو بغداد پر چڑھائی کی دعوت دی۔ اس نے مسلمانوں کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر اہل بغداد پر جو مظالم ڈھائے اور جو سفاکی کی اور غارت گری و خون ریزی روا رکھی اس کی داستان انتہائی المناک ہے۔ بغداد جو تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور مذہبی دنیا کا عظیم ترین شہر تھا، کھنڈرات کا ڈھیر بن گیا۔ صدیوں کے محفوظ علمی اور فنی ذخائر یا تو جلا دیے گئے یا دریا برد کر دیے گئے۔ تمدنی ترقی کاباب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
یوں اپنوں کی ذاتی مخالفتوں کے باعث امت مسلمہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ بہر حال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے اور نہ کسی کو گناہ گار یا بے گناہ ثابت کرنا ہے۔ بلکہ صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ مسلمانوں کی فرقہ پرستی کی لعنت نے ملت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
اور پھر یہ پروپگنڈہ کہ اسلام میں تہتر فرقے ہیں لہٰذا دین باقی نہیں رہا اور برباد ہو گیا ہے، اسلام کے دشمنوں کا پھیلایا ہوا ہے۔ اسلام بالکل محفوظ ہے۔ امت مسلمہ قرآن پر قائم ہے۔ لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکر نہیں ہیں۔ یہ تو ہماری نادانی اور حماقت ہے کہ کافروں کی بجائے ہم خود ہی پکار اٹھتے ہیں کہ کلمہ مٹ گیا اور ہم سب ہی کافر ہیں۔
آپ درخت کو دیکھتے ہیں۔ اس کی ایک جڑ ہوتی ہے۔ ایک تنا ہوتا ہے۔ شاخوں میں سے اوپر فضا میں جا کر کوئی مشرق کی طرف نکل جاتی ہے کوئی مغرب کی طرف۔ کیا اب وہ درخت کی شاخیں نہیں رہیں۔ اللہ تعالی نے بھی ہر فرد کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے اور وہ اپنی بساط کے مطابق مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
وہ کون سی شے ہے جو اسلام اور کفر میں وجہ امتیاز ہے۔ جو آدمی دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ اعلان کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے پیغمبر ہیں۔ ایمان نام ہے نبیؐ کو اللہ کا سچا پیغمبر تسلیم کر لینے کا۔ یہ اقرار اسے دائرۂ اسلام میں لے آتا ہے اور یہی اقرار اسے کافر سے الگ کر لیتا ہے۔ اگر کوئی بد نصیب دائرۂ اسلام کو پھلانگ کر اعلان کرتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول نہیں مانتا تو وہ اس انکار کی بنا پر کافر ٹھہرے گا۔ جو اقرار اسے دائرۂ اسلام میں لایا تھا۔ اس کا انکار اسے اسلام سے خارج کر دے گا اور وہ مسلمان نہیں رہے گا۔
جو لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی آخر الزماں مانتے ہیں۔ میں ان سب کو اپنے دینی بھائی تصور کرتا ہوں۔ میرے دل میں کسی کے خلاف بغض و عناد نہیں ہے۔ ہاں جن مسائل کو میں غلط سمجھتا ہوں ان کی علانیہ تردید کرتا ہوں۔ مگر کسی کو کافر نہیں کہتا۔ لوگ مساجد میں اذانیں دیتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں؛رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں؛ یہ سب مسلمان ہیں اور کسی کلمہ گو مسلمان کو کافر کہنا ایک بہت بڑا جرم ہے۔ جو لوگ کسی مسئلہ میں اختلاف کی بنا پر کسی کو کافر گردانتے ہیں وہ در اصل اسلام کے دشمن ہیں،دین کے خادم نہیں۔ کفار کی ایجنٹی کرنے والے ایسے ملایقیناً سزا کے مستحق ہیں۔ البتہ جس روز کوئی بدبخت کہہ دے کہ میں عیسائی یا ہندو ہوگیا ہوں، اس روز اسے کافر کہیے۔ لیکن اگر وہ قرآن کو مانتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا اور آخری نبی تسلیم کرتا ہے، حدیثوں پر بھی یقین رکھتا ہے تو کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے بارے میں احتلاف کی بنا پر وہ کافر نہیں ٹھہرے گا۔ ایک آدمی کسی حدیث کی صحت کے بارے میں شک کا اظہار کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرے راوی یا روایت کو صحیح سمجھتا ہے تو ایسا شخص اسلام کا سچا خادم ہے۔ کیونکہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق حصول علم کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ایک فرقہ ایک خاص حدیث کو صحیح سمجھتا ہے۔ دوسرے کو ضعیف سمجھ کر رد کر دیتا ہے تو اسے کفر اور اسلام کا جھگڑا کیسے کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی اسلام کو رد نہیں کر رہا ہوتا۔ آدمی کافر اس وقت ہوگا جب وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا انکاری ہوگا۔ حدیث کی تفہیم کے لیے سعی کرنے والا غلطی کر سکتا ہے لیکن کفر کے دائرے میں نہیں آتا۔ لہٰذا بلا وجہ کسی کو کافر کہتے رہنا کسی طور پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حدیثوں کے بارے میں اختلافات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بھی تھے۔ اس کی ایک مثال شیخین(بخاری و مسلم) کی یہ روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ اگر جنبی کو غسل کے لیے پانی نہ ملے تو وہ تیمم سے پا ک نہیں ہو سکتا۔ لیکن حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سفر تھے۔ انہیں غسل کی حاجت ہو گئی۔ پانی میسر نہ آ سکا۔ تو انہوں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لگائی۔ بعد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عمل کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا صرف اس قدر کر لینا کافی تھا( یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور چہرہ مبارک اور ہاتھوں پر مسح کیا) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے اس بیان کو تسلیم نہیں کیا اور کسی غیر واضح ضعف کے سبب جو ان کو روایت میں نظر آیا، انہوں نے اس کو رد کر دیا اور یہ روایت ان کے نزدیک دلیل نہ ٹھہری۔ اگر چہ بعد کے زمانہ میں بکثرت طریقوں سے یہ حدیث مشہور ہو گئی۔ اس کے ضعیف ہونے کا وہم ماند پڑ گیا اور لوگ اس پر عمل پیرا ہو گئے۔
اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ممکن ہے کہ صحابی تک کوئی حدیث پہنچی ہی نہ ہو۔ مثلاً امام مسلم رحمہ اللہ کی یہ روایت کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما عورتوں کو یہ حکم دیتے تھے کہ غسل کرتے وقت وہ اپنے بال کھولیں۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سنا تو تعجب فرمایا اور کہا کہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ عورتوں کو بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں وہ کیوں نہیں کہتے کہ عورتیں بال ہی منڈوالیں۔ حالانکہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں سے غسل کرتے تو میں اس کے سوا کچھ نہ کرتی کہ اپنے بالوں پر تین دفعہ پانی بہا لیتی۔ امام زہری رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ہند رضی اللہ عنہا کو یہ علم نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے استحاضہ کی حالت میں بھی نماز پڑھنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس لیے وہ اس حالت میں نماز نہ پڑھتیں اور ترک نماز کے غم سے رویا کرتیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلافات کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عمل کرتے دیکھا۔ لیکن اس عمل کی حیثیت کے تعین میں اختلاف ہو گیا۔ بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو کار ثواب خیال کیا اور بعض نے ایک امر جائز سمجھا۔ مثلا تحصیب (وادی محصب میں نزول)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر حج کے دوران ابطح وادی میں قیام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں قیام کرنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزیدک توکار ثواب ٹھہرا اور انہوں نے اسے حج کی سنتوں میں شمار کیا۔ جب کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک وہاں اترنا ایک اتفاقی امر تھا نہ کہ کسی ثواب کی خاطر۔
ان واقعات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو بتایا جائے کہ بظاہر اصحاب رضی اللہ عنہم کے درمیان انتہائی بُعد کے باوصف کسی نے دوسرے کو کافر تو کجا گمراہ اور جاہل بھی نہ کہا۔ لیکن آج کل نقطۂ نظر یا فہم کے معمولی اختلاف پر فورا کفر کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے۔ خدارا مفت میں جہان کے لوگوں کو تماشا نہ دکھائیے۔ اختلافات کے باوجود ہر کلمہ گو مسلمان ہے۔ ممکن ہے اس کی روایت ضعیف ہو یا وہ تحقیق کے دوران غلط نتیجے پر پہنچا ہو۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ غلط ہے تو تردید کریں مگر کافر تو نہ کہیں۔
اللہ تعالی کو اسلامی وحدت پسند ہے۔ اس وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ تعالی نے خود اس کا انتظام فرما دیا تاکہ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔ کیونکہ اس امت کو قیامت تک موجود رہنا ہے۔ اللہ تعالی نے کیا انتظام فرمایا، علامہ اقبال کی زبانی سنیے:
با رسول ما رسالت ختم کرد
نیز فرماتے ہیں:
تا نہ ایں وحدت زدست مارود
ہستیٔ ما با ابد ہمدم شود
لانبی بعدی ز احسانِ خداست
پردۂ ناموس دینِ مصطفیٰ ست
حق تعالی نقشِ ہر دعویٰ شکست
تا ابد اسلام را شیرازہ بست
گویا اللہ تعالی نی اپنا آخری نبی بھیج کر تکفیر کا دروازہ بند کر دیا ہے اور ختم نبوت کے صدقہ میں کافر ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ اب کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جس کو نہ ماننے سے کوئی کافر ہو جائے۔ مجدد آئیں۔ مہدی آئیں۔ ان کا آنا برحق۔ لیکن ان میں سے کوئی یہ دعوی نہیں کرے گا کہ اس کونہ ماننے والا کافر ہوگا۔ کیونکہ اب کوئی بھی اللہ کا نیا پیغام لے کر نہیں آئے گا۔ یہی تو اللہ کا احسان عظیم ہے کہ اس نے رسول اللہ پر سلسلۂ نبوت ختم کرکے تکفیر کے باب کو بند کر دیا ہے۔ آنے والے اسلام کی خدمت کریں گے۔ اللہ انہیں اس کا اجر دے گا۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مان لینے کے بعد یہ امت محفوظ ہو گئی ہے او رہم رسول خدا کو ماننے کے بعد دوسروں سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔
اس سلسلے میں پلے باندھنے کی بات یہ ہے کہ قانون ساز صرف حکم دیتا ہے۔ قانون کی وجہ یا ضرورت کی وضاحت وہ خود نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے بارے میں ہم غور وفکر کرتے ہیں۔ ہماری سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے اور دوسرے کو اس سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس اختلاف کی بنا پر کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔
حکم یہ ہے کہ جو شخص قرآن و حدیث کے مطابق نماز پڑھا رہا ہے اس کی اقتدا میں نماز ادا کرو اور اپنا اتحاد برقرار رکھو۔ ممکن ہے پڑھانے والے کی نماز قبول نہ ہو اور تمہاری ہو جائے۔ یا پڑھانے والے کی تو قبول ہو جائے اور تمہاری نہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو ظالم لوگوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اتحاد پارہ پارہ نہ ہو۔ ہمیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری نماز امام کی نماز کے ساتھ نتھی کر دی گئی ہے اور اس کی قبول نہ ہو تو تمہاری بھی نہیں ہوگی۔ اللہ تعالی ہر آدمی کی نماز الگ دیکھتا ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں ایسے جھگڑے اور فتنے پیدا نہیں ہوئے۔ خارجی پیدا ہوئے؛ سبائی آئے؛ شیعہ ہوئے، مگر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ جس روز ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا شیطان نے عید منائی کہ وہ کامیاب اور کامران ہوا۔ مسلمانوں میں اتحاد کا وسیلہ ٹوٹ گیا۔ جب نماز میں اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو شیطان کی مسرت بجا ٹھہری اور اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ مختلف فرقوں کے لوگ اپنے نفس کی پیروی میں بہت متشدد ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے؟
مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ علیہ نے ’معارف السنن‘ میں ایک واقعہ درج کیا ہے۔ ایک روز قاضی ابو عاصم حنفی رحمہ اللہ نماز مغرب کے لیے جا رہے تھے وہ القفال شافعی رحمہ اللہ کی مسجد میں داخل ہو گئے۔ جن سے مختلف مسائل کے بارے میں ان کے مباحثے اور مناظرے ہوا کرتے تھے۔القفال شافعی رحمہ اللہ نے قاضی ابو عاصم حنفی رحمہ اللہ کو مسجد میں داخل ہوتے دیکھا تو مؤذن سے کہا کہ آج اقامت ترجیع کے ساتھ(جس میں کلمات کو واپس دہرایا جاتا ہے)حنفی طریقے سے دی جائے۔ اذان کے بعد علامہ القفال شافعی نے ابو عاصم حنفی رحمہ اللہ سے نماز پڑھانے کی درخواست کے تو ابو عاصم حنفی رحمہ اللہ نے رفع یدین وغیرہ کے ساتھ شافعی طریقہ کے مطابق نماز پڑھائی۔
ان واقعات سے علمائے سلف کی دین سے محبت اور اخلاص کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ وحدت امت کے کس قدر حامی تھے۔
اس قسم کا ایک واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقبرہ کے قریب فجر کی نماز پڑھی تو دعائے قنوت (شافعی سارا سال فجر کی نمام میں قنوت پڑھتے ہیں) کو احتراماً ترک کر دیا او رکہا کہ کبھی ہم اہل عراق کے مسلک پر بھی عمل کرتے ہیں۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جس کا ذکر آگے آرہا ہے ) کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے چاند دیکھ لیا، مہینہ انتیس تاریخ کو ختم ہو گیا لیکن دوسرے مسلمانوں نے چاند نہیں دیکھا، قاضی کو بھی اعتبار نہیں آیا اور اس نے حکم دے دیا کہ روزہ رکھو تو عید کا چاند اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے باوجود وحدت امت کی خاطر آپ کو بھی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھنا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر روزہ افطار کرنے کا حکم دیا جائے تو افطار کرنا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصوم یوم تصومون والفطر یوم تفطرون والاضحی یوم تضحون، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالباني حدیث ۲۲۴ص۳۸۹
’جس دن دوسرے مسلمان روزہ رکھیں، تم بھی روزہ رکھو، اس وقت روزہ کھول دو جب دوسرے افطار کریں۔ جس روز لوگ قربانی کریں تم بھی کرو۔‘
گویا اگر اسلامی حکومت نے روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا ہے تو روزہ رکھو خواہ تم نے چاند اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اور اس وقت روزہ کھول دو جب دوسرے افطار کریں اور لوگوں کے ساتھ ہی قربانی کرو۔ چنانچہ کئی دفعہ غلط دن حج ہو گیا۔ اللہ سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ حج اور قربانی کو قبول کرلے گا۔ اصل مقصد وحدت امت اور اطاعت خداوندی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو متحد رکھنے اور انتشار سے بچانے کے لیے جماعتی حکم پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔ اجتماعی عبادتوں میں جمہور مسلمانوں کا ساتھ دینا وحدت امت کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے کیونکہ انہیں امت میں انتشار مطلوب نہ تھا۔ مثلاً بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا فتوی تھا کہ وضو کر لینے کے بعد بالغ عورت کو ہاتھ لگ جانے پر وضو ٹوٹ جاتا ہے خوا ہ وہ ماں بہن ہی کیوں نہ ہو اور نیت کیسی بھی ہو، اسی طرح شرم گاہ کو چھو لیا تو وضو جاتا رہا۔ جسم کے کسی حصے سے خون بہہ نکلا تو وضوساقط ہو گیا حتی کہ بعض اونٹ کا گوشت کھا لینے کے بعد تجدید وضو کو ضروری گردانتے تھے۔ لیکن ان کے برعکس بعض صحابہ کے خیال میں ان اعمال کے سرزد ہونے کی صورت میں وضو پر کوئی اثر نہ پڑتا تھا۔ جن کا خیال تھا کہ ان اعمال سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، وہ وضو کر لیتے تھے اور جن کاخیال اس کے برعکس تھا وہ دوبارہ وضو کو ضروری نہ سمجھتے تھے۔ لیکن ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے تھے (آج کے دور میں ایسے امام کا بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے) کتنی پیاری بات ہے کہ اپنا مسلک نہ چھوڑو، دوسرے کے مسلک کو نہ چھیڑو۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سفر(حج) میں پوری نماز پڑھا کرتے تھے یعنی ظہر، عصر اور عشا کی چار رکعات پڑھتے تھے۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دوگانہ ادا کرتے تھے۔ اگر امام چار پڑھانے والا ہوتا تو سب چار پڑھ لیتے۔ اور اگر دوگانہ کا عقیدہ رکھنے والا امام نماز پڑھا رہا ہوتا تو چار رکعتوں کا اعتقاد رکھنے والے اس کے پیچھے نماز پڑھ لیتے۔ یہ اختلاف ان لوگوں کو ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے نہ روکتا تھا اور وہ اپنی نماز کو درست سمجھتے تھے۔
امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ نے منی میں چار رکعت نماز ادا کی۔ دوگانہ نہیں پڑھا۔ حالانکہ حج کے موقع پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہم دوگانہ پڑھتے تھے۔ بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار پڑھنا شروع کر دیا۔ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حسب سابق قصر ہی کرتے رہے۔تاہم جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع آیا تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں چار رکعتیں ہی پڑھیں۔ پوچھنے والے نے بظاہر اس تضاد کے بارے میں دریافت فرمایا تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا’امت میں اختلاف پیدا کرنا شر ہے۔ چار کیا؟ دو کیا؟ ان کا مسلک اپنی جگہ لیکن اس اختلاف کو وجہ انتشار بنانا درست نہیں‘
امام احمد رحمہ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے اختلاف کے باوجود حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں چار رکعتیں ہی پڑھیں۔مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں:
سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی جلد۱ حدیث ۲۲۴ صفحۃ ۳۹۱تا۳۹۳
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابو ذر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو مختلف فقہی مسالک کا بہانہ بنا کر ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور انتشار کو ہوا دیتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ دینی فہم رکھنے والا کون ہو سکتا ہے؟ ان کی عظمت کو تسلیم کرنے کے باوجود آج لوگ اس راستے پر چلنے سے اجتناب کیوں کرتے ہیں جس راہ پر چل کر انہوں نے وحدت ملت کو پارہ پارہ ہونے سے بچایا۔اگر وہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے تو آج ہم فقہی مسالک کے اختلافات کو ہوا دے کر دین کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ کاش سب لوگ اس پر غور کریں۔
اپنی اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ یہاں ایک جماعت موجود ہے اس جماعت سے منسلک لوگ باتیں اچھی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف وہی حق پر ہیں لیکن جب دوسرے مسلمانوں سے ملتے ہیں تو السلام علیکم نہیں کہتے اگر السلام علیکم کہہ دیا جائے تو جواب میں وعلیکم کہیں گے جیسے کسی کافر کو کہا جاتا ہے۔ مسجد میں آتے ہیں لیکن جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ انہیں اپنے اس طرز عمل پر خود غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ اس طرح اسلام کی خدمت کر رہے ہیں؟
اعمال کی ادائیگی میں جو اختلاف نظر آتا ہے، اس کی واضح توضیح ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے بہاول پور یونیورسٹی میں اپنے ایک خطبے کے دوران ایک واقعہ سنا کر پیش کی۔ ڈاکٹر صاحب مذکور کے پرائمری اسکول کے ایک استاد کا کہنا تھا کہ چونکہ اللہ تعالی کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ہر عمل کو زندہ رکھنا تھا چنانچہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کے عمل کو شیعہ اور مالکی حضرات کے ذریعہ محفوظ کر دیا۔ رفع یدین یا اس قسم کے چھوٹے چھوٹے دیگر اعمال کو دوسرے لوگوں کے ذریعہ قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ چونکہ مختلف لوگ مختلف اعمال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر ادا کرر ہے ہیں، اس لیے اس کو حدیث کی غلطی نہیں کہیں گے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جس طرح عمل کرکے دکھایا جس کسی نے جس طرح دیکھا اس پر عمل پیرا ہو گیا۔ لہٰذا فقہی مسائل کے فروعی اختلافات کو بنیاد بنا کر امت مسلمہ میں فساد برپا کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
علامہ البانیؒ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حجاز مقدس میں رمضان کے دوران وتر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرتے اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ امام دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیتا ہے اور ایک رکعت الگ پڑھتا ہے۔ جب کہ ان کا طریقہ وصل ہے یعنی تینوں ایک سلام سے پڑھتے ہیں اس ضمن میں عوام الناس کا تو ذکر ہی کیا۔ بڑے بڑے علماء اور زعماء کا یہی عمل ہے۔
علامہ البانی لکھتے ہیں کہ ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کہ عید باقی مسلمانوں کے ساتھ کر لو خواہ تمہارے حساب سے اس روز ابھی روزہ ہے۔ اور اگر امت نے فیصلہ کر لیا ہے۔قاضی نے حکم دے دیا ہے تو اپنی رائے چھوڑ کر باقی مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھو اگرچہ تمہیں یقین ہے کہ ابھی رمضان کا چاند نظر نہیں آیا۔ آخر اس میں کیا مصلحت تھی؟ جواب بالکل واضح ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت میں انتشار بالکل پسند نہ تھا۔ وہ امت کو جسد واحد کی مانند دیکھنے کے آرزو مند تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان باتوں سے اجتناب کریں جو امت میں انتشار پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو جوڑا جائے۔ توڑا نہ جائے؎
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
اس سلسلہ میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ جن کے بارے میں مداہنت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ کسی مسئلہ کے بارے میں نرمی اختیار کریں گے۔ (سعودی حکومت کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ اس نے ان کے فتاوی کو ۳۷؍جلدوں میں چھپوا کر مفت تقسیم کیا ہے) فرماتے ہیں:
ولہذا ینبغی للمأموم ان یتبع امامہ فیما یسوغ فیہ الاجتہاد فاذا قنت قنت معہ وان ترک القنوت لم یقنت(فتاوی ابن تیمیۃ جلد ۲۳)
مقتدی کو چاہیے کہ جس امام کے پیچھے نماز پڑھے اس کی پیروی کرے۔ اگر امام قنوت پڑھتا ہے (جس طرح حنفی اور حنبلی مسالک کے لوگ وتروں میں قنوت پڑھتے ہیں) تو قنوت پڑھے اور اگر امام قنوت نہیں پڑھتا (شافعی لوگ رمضان کے آخری پندرہ دونوں میں پڑھتے ہیں۔ مالکی سال بھر اس میں ایک دن بھی وتر میں قنوت نہیں پڑھتے) اور آپ اس کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو قنوت ترک کر دیں۔
حضرت امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک ہے جسم سے خون بہہ نکلنے پر بھی وضو باقی رہے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزیدک وضو باقی نہیں رہے گا۔ کسی نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوا ل کر دیا ’کہ آپ کا عقیدہ ہے کہ خون بہہ نکلے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر کسی کا خون بہہ نکلا اس نے صاف کر دیا لیکن دوبارہ وضو نہیں کیا تو آپ ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے؟
امام نے فرمایا کہ سید التابعین سعید بن مسیب رحمہ اللہ یا امام العصر امام مالک رحمہ اللہ نماز پڑھا رہے ہوں اور میں ان کی امامت میں نماز ادا نہ کروں؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ میرا مسئلہ میرے لیے ان کا ان کے لیے۔ لیکن میں ان کی اقتدا میں نماز ضرور پڑھوں گا۔
امام مالک رحمہ اللہ کا حوالہ اوپر آیا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب آپ نے چایس سال کی محنت سے موطا جیسی گراں قدر کتاب تالیف فرمائی جس میں اہل حجاز کی قوی احادیث اور مستند اقوال صحابہ وفتاوی تابعین جمع کر دیے اور اس کے بہترین فقہی ابواب قائم کیے۔ تو خلیفہ وقت نے جب اس کے چند نسخے کرا کے دوسرے شہروں اور ملکوں میں بھیجنے کا ارادہ کیا تاکہ لوگ اس فقہ پرعمل کریں اور پیدا شدہ اختلافات ختم ہو جائیں تو سب سے پہلے امام مالک رحمہ اللہ ہی نے اس خیال کی مخالفت فرمائی اور فرمایا’امیر المومنین! آپ ایسا نہ کریں لوگوں تک بہت سی باتیں اور احادیث و روایات پہنچ چکی ہیں اور ہر جگہ کے لوگ ان میں سے کچھ کو اپنا چکے ہیں۔ جس سے خود ہی فقہی اختلاف رونما ہو چکاہے اور اب اس اقدام سے مزید اختلافات پیدا ہو جائیں گے۔اس لیے انہوں نے اپنے لیے جو اختیار کر لیا ہے اسی پر انہیں آپ چھوڑ دیں۔‘ اور ایسا ہی ہوا۔ کسی ایک فقہ کو تمام امت پر مسلط کرنے کی یہ تجویز امام مالک رحمہ اللہ کے مشورہ پر خلیفہ وقت نے خود ہی مسترد کر دی۔
(اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب، مصنفہ ڈاکٹر طہ جابر فیاض العلوانی، مترجم ایم اختر، ص ۱۰۸-۱۰۹)
فقہی اختلافات کے سلسلہ میں مسلک اہل حدیث کے متبحر عالم حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ فروعی اختلافات کی حقیقت کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں:
’یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے اگر تبدیلی ممکن نہیں تو پھر یہ اختلاف کیسے ظہور پذیر ہوا جو آج ہم دیکھتے ہیں۔ مسلمان مختلف مکاتب فکر کے پیرو ہیں۔ اسی نماز ہی کو دیکھ لیں۔ اس میں کوئی آمین بالجہر کا قائل ہے تو کوئی آہستہ آمین کہنے پر مصر ہے۔ کسی نے حالت نماز میں ہاتھ سینے پر باندھ رکھے ہیں۔ کسی نے زیر ناف ہاتھ باندھنا ضروری قرار دے رکھا ہے۔ اور کسی نے سر ےسے باندھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ کچھ ایسے ہیں کہ رفع الیدین کرتے ہیں اور کچھ دوسرے نہیں کرتے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سارے کام فعلی ہیں اور سنت سے ثابت ہیں۔ باہمی فقہی اختلافات کے باوجود کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا فرض ہے اور پھر سنت بھی اس قسم کی ہے کہ اس کے ترک سے نماز ہو جاتی ہے۔ انور شاہ صاحب نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ اسی طرح اذان، اقامت کے مسائل ہیں۔ ان تمام مسائل میں اختلاف جواز کا نہیں بلکہ اختیار کا ہے۔ اور دونوں طرح جائز ہے۔ کوئی اس طرح کرے اور کوئی اس طرح کرے۔‘
(بحوالہ ص۹۱، درس صحیح بخاری، مرتبہ منیر احمد سلفی، طبع اول ۱۹۹۲ئ، اسلامک پبلیشنگ ہاؤس لاہور)
یہاں پر یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ لندن میں مقیم عرب طلبہ نے مولانا ابو الاعلی مودوی سے اپنے رسالے ’مجلۃ الغرباء‘ کے لیے نومبر ۱۹۶۸ء میں انٹرویو لیتے ہوئے سوال کیا کہ ’پاکستانی مسلمانوں کے اندر مختلف مذہبی تصورات پائے جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اختلاف مذاہب کے مسئلہ کو کس طرح حل کیا ہے؟‘ جواب میں مولانا موصوف نے دیگر تفاصیل کے علاوہ فرمایا ’رہے مختلف مذاہب کے اعتقادی اختلافات تو نہ وہ دور کیے جا سکتے ہیں نہ ان کو دور کرنا ضروری ہے۔ صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہر گروہ اپنے عقیدہ پر قائم رہے اور سب ایک دوسرے کے ساتھ رواداری برتیں۔ اس کے لیے ہم ملک میں مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔‘
(بحوالہ کتاب تصریحات، ص ۶۸۴، مرتبہ سلیم منصور خالد، طبع ششم مئی ۱۹۹۲ء)
رسالہ ہذا کی طبع اول کے بعد کئی اصحاب نے یہ رائے ظاہر کی کہ فروعی، فقہی اختلاف کی بات اور ہے لیکن جہاں عقیدے کا اختلاف ہو وہاں پر اسلام کے دائرے کو وسیع کرنا زیادتی کی بات ہے۔ ذیل میں چند حوالہ جات خاص اسی اعتراض کو مد نظر رکھتے ہوئے دیے جا رہے ہیں۔
مناظر اسلام مولانا ثنا اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا:
’کیا آپ مقلدین مذاہب اربعہ کو عموماً اور حنفیہ کو خصوصاً کافر کہتے ہیں۔ اور دائرہ اسلام سے خارج جانتے ہیں۔ اور کیا ان کے کفر کے متعلق آپ نے کوئی تحریر بھی شائع کی ہے۔‘ مولانا نے جواب میں لکھا ’مجھے اس سوا ل کا جواب دیتے ہوئے شرم آتی ہے کہ یہ سوال مجھ جیسے شخص سے کیوں پوچھا گیا جس نے کبھی کسی کے فتوے کفر پر دستخط نہیں کیے۔ کیونکہ میرااس باب میں وہی مسلک ہے جو امام المحتاطین امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے: لا نکفر اہل القبلۃ‘
(فتاوی ثنائیہ، جلد اول، ص ۳۶۳، بحوالہ ہفت روزہ اہل حدیث، ستمبر ۱۹۱۷ء)
مولانا احمد رضا صاحب بریلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب تمہید الایمان کے صفحہ ۸۰طبع اول پر یوں رقم طراز ہیں:
’ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔ جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے اور کلمہ اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔‘ فان الاسلام یعلو ولا یعلی
(بحوالہ کتاب انکشاف حق، مصنفہ مفتی محمد خلیل احمد خاں برکاتی قادری بدایونی، ص۸۶)
مشہور حنفی عالم ملا علی قاری رحمہ اللہ شرح شفاء جلد ۲، صفحہ ۷۲۵ پر فرماتے ہیں کہ
’مسلمین اہل تاویل اگرچہ وہ اپنی تاویل کتاب اللہ میں خطا پر ہوں پھر بھی ان کی تکفیر سے عند المحققین احتراز واجب ہے۔‘
(بحوالہ کتاب انکشاف حق، مصنفہ مفتی خلیل احمد خاں برکاری قادری بدایونی، ص ۸۳)
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے بصرہ اور کوفہ میں مناظرے کیے۔ عمر بھر دوسروں کی رائے کو رد کرتے رہے۔ لیکن فرمایا میں نے سب کو پرکھا ہے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے والے جملہ لوگ مسلمان ہیں۔ ان میں غلطیاں کرنے والے ضرور ہیں لیکن کوئی بھی کافر نہیں۔
چند اور حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
منہاج الطالبین کی شرح لکھتے ہوئے الشیخ محمد الخطیب الشربینی فرماتے ہیں:
واول نص الشافعی بتکفیر القائل بخلق القرآن بان المراد کفران النعمۃلاخراج عن الملۃ قالہ البیہقی وغیرہ من المحققین لا جماع السلف والخلف علي الصلوۃ خلف المعتزلۃ ومناکحتہم وموارثتہم
(مغنی المحتاج الی معرفۃ معانی الفاظ المنہاج،ص ۱۳۵، ج ۴شرح الشیخ محمد الخطیب الشربینی علی متن منہاج الطالبین للامام ابی زکریا شرف النووی، دار الفکر)
ترجمہ: امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول میں کہ ’قرآن کو مخلوق کہنے والا کافر ہے۔‘ کفر سے مراد کفران نعمت لی گئی ہے نہ کہ اسلام سے نکل جانا۔(یعنی ایسا شخص مسلم ہے۔ مگر اس کی یہ بات غلط ہے۔) یہ امام بیہقی رحمہ اللہ اور دوسرے محققین نے لکھا ہے اور یہ تاویل اس وجہ سے کی گئی ہے کہ سلف و خلف کا اجماع ہے کہ معتزلہ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔ ان کے ساتھ رشتہ ناطہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ مسلمان کی میراث لیں گے۔ اور مسلمان ان کا وارث ہو گا۔
حضرت پیر مہر علی شاہ رحمہ اللہ صاحب گولڑوی سے کون واقف نہیں ہے۔ آپ اپنے زمانہ کے اجل ترین عالموں میں سے تھے۔ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ آپ کا علمی جہاد تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ نے گول میز کانفرنس منعقدہ لندن میں شرکت کے لیے جانے سے قبل جس طرح اہم علمی مسائل کے حل کے لیے آپ سے استفادہ کیا، اقبالیات کے تمام طالب علم اس سے آگاہ ہیں۔ پیر صاحب رحمہ اللہ موصوف نے مسلمانوں کی تکفیر کے رد میں ایک رسالہ ’اعلاء کلمۃ اللہ‘ کے نام سے لکھا ہے۔ اس رسالہ میں سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
معلوم ہونا چاہیے کہ التزام کفر یہ ہے کہ ایک شخص نص کے مدلول کو نص کا مدلول سمجھتے ہوئے اور حکم شرعی کو حکم شرعی جانتے ہوئے انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے: میں جانتا ہوں یہ شارع علیہ السلام کا حکم ہے لیکن میں اس کو قبول نہیں کرتا۔ لزوم کفر یہ ہے کہ جہالت اور نادانی کے باعث غلط تاویل کی وجہ سے اس پر کفر لازم آتا ہے۔ پس ا لتزام کفر سے انسان کافر ہو جاتا ہےلیکن لزوم کفر سے اس پر کفر کا فتوی عائد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے فقہاء نے کلمات کفر ذکر کرنے کے بعد متکلم کے جہل کو عذر شمار کیا ہے۔ باقی جن فقہاء نے یکفر لکھ دیا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے کفر والا کام کیا ہے نہ یہ کہ وہ کافر ہو گیا ہے۔ بحر الرائق میں موجود ہے کہ جامع الفصولین میں طحاوی نے ہمارے اصحاب حنفیہ سے روایت کی ہے کہ آدمی کو ایمان سے اس چیز کا انکار نکال سکتاہے جس کے اقرار نے اس کو ایمان میں داخل کیا تھا۔
مسلمان کے کلام کو جب تک اچھے محل پر حمل کرنا ممکن ہو یا اس کے کفر میں اختلاف ہو خواہ ضعیف روایت ہی سے کیوں نہ ہو، کفر کا فتوی نہیں لگانا چاہیے۔ یہاں کفرکے جو الفاظ ذکر کیے گئے ہیں ان کے تکلم سے فورا کفر کا حکم لگانا درست نہیں۔ میں نے اس بات کا اپنے نفس پر التزام کیا ہے کہ ان الفاظ سے کسی مسلمان کو کافر نہ کہوں گا۔ بحر الرائق میں لکھا ہے کہ حق یہ ہے کہ جو کچھ مجتہدین سے ثابت ہے وہ حقیقت ہے اور ان کے سوا کسی دوسرے کے قول کی وجہ سے کفر کا فتوی دینا درست نہیں۔ اسی لیے ’فتح القدیر‘ باب البغاۃ میں محقق ابن ہمام نے لکھا ہے کہ خوارج کے بارہ میں مجتہدین سے عدم تکفیر مذکور ہے۔ باقی اکثر اہل مذہب کے کلام میں ان کی تکفیر مذکور ہے،لیکن وہ مجتہدین میں سے نہیں ہیں لہٰذا ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ در ا لمختارباب المرتد میںلکھا ہے کہ کفر لغت میں چھپانے کو کہتے ہیں اور شرعاً ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرنا جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ کفر کے الفاظ اہل فتوی نے نقل کیے ہیں۔ میں نے بھی اس مسئلہ میں ایک علیحدہ کتاب تالیف کی ہے۔ لیکن میں ا ن میں سے کسی لفظ سے بھی کفر کا فتوی دینا صحیح نہیں سمجھتا۔ ہاں اس صورت میں جس میں تمام مشائخ کا اتفاق ہو۔ بحر الرائق نے بھی کہا ہے میں نے اپنے نفس پر یہ التزام کیا ہے کہ کسی مسلمان کو ان الفاظ سے کافر نہ کہوں گا۔
بعض اہل کلام محدثین اور فقہا اعمال کے لحاظ سے تو ہر گناہ گارکو کافر نہیں سمجھتے مگر اعتقادات بدعیہ کی وجہ سے کافر کہتے ہیں۔ خواہ وہ اعتقاد رکھنے والا متأوِّل ہی کیوں نہ ہو اور اس بارے میں مجتہد مخطی اور غیرمخطی میں بھی فرق نہیں کرتے بلکہ ہر بدعتی کو کافر کہتے ہیں۔ یہ قول بھی خوارج اورمعتزلہ کے قریب قریب ہے۔ اہل بدعت اور اہل سنت میں یہی فرق ہے کہ اول الذکر ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں اور مؤخر الذکر غلط اعتقاد والے کو خطا کی طرف نسبت کرتے ہیں کافرنہیں کہتے۔۱ھ(بوارق)
علما کو چاہیے کہ اپنی تمام تر توجہ اور سعی کسب اقتضائے کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں صرف فرمائیں۔نہ یہ کہ عوام کالانعام کے کافر بنانے میں ہی پورے جوش کا اظہار کرتے پھریں۔ سراج المنیر میں ہے کہ اگر ایک مسئلہ میں بہت سے وجوہ کفر کے مقتضی ہیں اور صرف ایک وجہ کفر کو منع کرتی ہے تو مفتی کو مسلمان پر حسن ظن رکھتے ہوئے اسی ایک وجہ کی طرف میلان کرنا چاہیے۔ (اقتباسات ختم)
حضرت گولڑوی رحمہ اللہ ہی کے حوالہ سے پیر زادہ محمد بہاؤ الحق قاسمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’میں اکثر نماز عصرکے وقت حضرت گولڑوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ ایک روز حضرت کے مصاحب خاص مولانا محبوب عالم صاحب مرحوم نے میری طرف اشارہ کرکے حضرت سے کہا: ’اب کے تمام جماعتوں نے ان کے پیچھے نماز عید ادا کی ہے۔‘تو حضرت گولڑوی رحمہ اللہ نے مجھے مخاطب کرکے پنجابی زبان میں فرمایا: ’تسیں تے جامع المتفرقین نکلے۔‘ میرے لیے یہ وہ اعزاز ہے جس پر میں جس قدر فخر کروں، کم ہے۔ (رسالہ اسوۂ اکابر،ص ۳)
اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ’کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا‘ جیسی مقبول زمانہ نعت لکھنے والے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے والے لوگ کتنے عزیز تھے۔ حُبِ رسولﷺ کا ایک تقاضہ یہ بھی تو ہے۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
اہل تحقیق کو امام بخاری رحمہ اللہ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی طرح وسیع الصدر ہونا چاہیے اور اقتداء کے معاملہ میں اہل بدعت کو بھی بالکل نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
(ملاحظہ ہو فتاوی ابن تیمیہ مطبوعہ اہل نجد جدید، ص ۷۴، فتاوی سلفیہ مولانا محمد اسماعیل سلفی اسلامک پبلیشنگ ہاؤس، ۲، شیش محل روڈ، نزد داتا دربار لاہور)
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے:
وقال الحسن صل خلفہ وعلیہ بدعتہ۔ (باب امامۃ المفتون والمبتدع صحیح البخاری مع فتح الباری جلد۲ صفحۃ ۱۸)
قولہ والمبتدع ای من اعتقد شیئا مما یخالف اہل السنۃ والجماعۃ قولہ (وقال الحسن صل وعلیہ بدعتہ وصلہ سعید بن منصور)
ترجمہ: ’تو بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ، اس کی بدعت کا وبال اس کی گردن پر ہے۔‘
ابن حجر رحمہ اللہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’بدعتی وہ ہے جو اہل السنت والجماعت کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے۔‘
امام حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول کو سعید بن منصور نے ابن المبارک کی روایت سے ہشام بن حسان سے بیان کیا ہے کہ حسن بصری نے فرمایا: ’بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ کہ اس کی بدعت کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔‘
حضرت نافع رحمہ اللہ کا قول ہے:
وقال نافع کان ابن عمر یصلی مع الخشبیۃ والخوارج زمن ابن الزبیر وہم یقتتلون فقیل لہ اتصلی مع ہؤلاء ومع ہؤلاء وبعضہم یقتل بعضا۔ فقال من قال: حی علي الصلوۃ اجبتہ ومن قال حی علي الفلاح اجبتہ ومن قال حی علی قتل اخیک المسلم واخذ مالہ قلت: لا۔ رواہ سعید صفحۃ ۱۸۶ جلد۲ المغنی لابی محمد عبد اللہ بن احمد بن محمد بن قدامۃ مکتبۃ الریاض الحدیثۃ
ترجمہ: ’ابن عمر رضی اللہ عنہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں خارجیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ جب کہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کی خارجیوں کے ساتھ جنگ ہو رہی تھی۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ اور خوارج دونوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ حالانکہ ان کی آپس میں جنگ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’جو بھی حی علی الصلاۃ کہے گا میں اس کی آواز پر لیبک کہوں گا۔ جو بھی حی علی الفلاح کہے گا میں اس کے ساتھ آواز ملاؤں گا۔ لیکن جو کسی مسلمان بھائی کو قتل کرنے اور اس کا مال لوٹنے کے لیے پکارے گا میں اس کی بات نہیں مانوں گا۔‘
جمعہ اور عید کی نمازیں ہر ایک نیک و بد کے پیچھے پڑھی جائیں گی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ یہ نماز معتزلہ کے پیچھے پڑھ لیتے تھے۔ یہی عمل ان کے زمانے کے دوسرے علماء کا تھا۔ حوالہ متعلقہ حسب ذیل ہے:
(فاما الجمع والاعیاد فانہا فصلی خلف کل بر وفاجر وقد کان احمد یشہد ہامع المعتزلۃ و کذلک العلماء الذین فی عصرہ ( صفحۃ ۱۸۹ جلد۲ المغنی)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جوشخص جمعہ کی نماز کسی کے پیچھے پڑھنے کے بعد اعادہ کرے گا(دوبارہ پڑھے گا) وہ بدعتی ہے۔ اس روایت سے ظاہر ہے کہ فاسق یابدعتی کے پیچھے جمعہ اور عید کی نمازپڑھنے کے بعد اس کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔ اصلی عبارت حوالہ متعلق کی یوں ہے:
وروی عنہ انہ قال من اعادہا فہو مبتدع وہذا یدل بعمومہ علی انہالا تعاد خلف فاسق ولا مبتدع( صفحۃ ۱۸۹ المغنی)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے معمول کے متعلق روایت ہے:
وکان ابن عمر یصلی خلف الحجاج ونجدۃ احدہما خارجی والثانی افسق البریۃ وکان ابن عمر یقول الصلوۃ حسنۃ ما ابالی من شرکنی فیہا۔ (صفحۃ ۲۱۳ جلد۲ المحلی لابی محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم)
ترجمہ:’ابن عمر رضی اللہ عنہ حجاج اور نجدہ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، انمیں سے ا یک بدترین خلائق تھا اور دوسرا خارجی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے۔ مجھے اس سے کیا غرض کہ میرے ساتھ کوئی شریک نماز ہے۔
عبدالرزاق رحمہ اللہ نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے انہوں نے عقبہ رحمہ اللہ سے راویت کیا ہے:
وعن عبد الرازق عن سفیان الثوری عن عقبۃ عن ابی وائل: انہ کان یجمع مع المختار الکذاب وعن ابن الاشعث (۱)قال: ظہرت الخوارج علینا فسألت یحیی بن ابی کثیر فقلت یا ابا نصر کیف تری فی الصلوۃ خلف ہؤلاء قال القرآن امامک صل معہم ما صلوہا (بحوالہ کناب المحلی صفحۃ ۲۱۴جلد۴)
ترجمہ:’ابو وائل رضی اللہ عنہ مختار کذاب کے پیچھے جمعہ پڑھتے تھے۔ابو اشعث کی روایت ہے کہ خارجی ہم پر غالب آ گئے تو میں نے یحییٰ ابن کثیر رحمہ اللہ سے دریافت کیا ’اے ابو نصران کے پیچھے نماز کے بارے میںکیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا تیرا امام قرآن ہے۔ تو ان کے پیچھے نماز پڑھ جب تک وہ نماز پڑھیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے:
وعن الحسن ولا تضر المومن صلاتہ خلف المنافق ولا تنفع المنافق صلاتہ خلف المومن ( صفحہ ۲۱۴ ج ۴)
ترجمہ:مومن، منافق کے پیچھے نمازپڑھے تو اس کی نماز کا کوئی نقصان نہیں۔ اور منافق مومن کے پیچھے پڑھے تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
علی ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مما نعلم احدا من الصحابۃ رضی اللہ عنہم امتنع من الصلاۃ خلف المختار وعبید اللہ بن زیاد والحجاج ولا فاسق افسق من ہؤلاء (صفحہ ۲۱۴ ج ۴)
ترجمہ:’ہمارے علم میں کوئی صحابیؓ بھی ایسا نہیں جس نے مختار، عبید اللہ بن زیاد اور حجاج کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو۔ حالانکہ ان سے بڑھ کر کوئی فاسق نہیں۔‘
نزل الابرار من فقہ النبی المختار صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے
فتجوز امامۃ الرافضی والخارجی والمعتزلی والمقلد (صفحہ ۷۴۲ ج ۱)
رافضی، خارجی، معتزلہ اور مقلد کی اقتداء میںنماز جائز ہے۔
مولانا وحید الزماں حیدرآبادی نزل الابرار میں لکھتے ہیں:
ولیعلم ان ہناک فرقا بین الکافر والمکفر فمنا من کفر الروافض ومنا من کفر الخوارج فہم لیسوا بکافرین بل مکفرین بلسان البعض والکافر من کفرہ صریح ومتفق (صفحہ ۹۷ ج ۱)
ترجمہ:’یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ کافر اور مکفر میں فرق ہے۔ ہم میں سے بعض نے روافض کی تکفیر کی ہے اور بعض نے خوارج کی۔ تویہ کافر نہیں ہیں۔ بلکہ بعض نے ان کی تکفیر کی ہے(ان کی بعض باتوں کو کفریہ ٹھہرایا ہے۔)کافر وہی ہوگا جس کا انکار صاف ہو اور اس کے کفر پر اتفاق ہو۔‘
مولانا وحید الزماں رحمہ اللہ اسی کتاب کے دوسرے مقامات پر لکھتے ہیں:
ویصلی علي الملک الظالم السافک للدماء عسي اللہ ان یغفر لہ وعلي العصاۃ من المسلمین ولو کانوا اصحاب الکبائر والبدعات کالرفضۃ والخوارج والمعتزلۃ والجہمی (صفحہ ۱۷۴ ج ۱) ترجمہ:’ظالم اور خوں ریز بادشاہ کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ شاید اللہ اس کو معاف کر دے۔گناہ گار مسلمانوں کا جنازہ بھی پڑھا جائے گا اگر چہ وہ مرتکب کبیرہ ہوں یا بدعتی ہوں مثلاً روافض، خوارج اورمعتزلہ۔
ویجوز مناکحۃ المعتزلۃ والامامیۃ والجہمیۃ واہل البدعات لانا لا نکفر احدا من اہل القبلۃ
یعنی ’معتزلہ‘ امامیہ، جہمیہ اور بدعتی لوگوں سے رشتہ ناطہ جائز ہے۔ کیونکہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیںکرتے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولہذا کان الصحابۃ یصلون خلف الحجاج والمختار بن ابی عبید الثقفی وغیرہما الجمعۃ والجماعۃ فتاوی ابن تیمیۃ (صفحہ ۳۴۷ ج ۲۳)
’صحابہ رضی اللہ عنہم حجاج اور مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے پیچھے جمعہ اورجماعت کی دیگرنماز پڑھ لیتے تھے۔‘
انما فصح مثل ہذہ الصلوت خلف لائمۃ اہل البدع کالرافضۃ ونحوہم
(فتاوی ابن تیمیۃ صفحہ ۳۵۵ ج ۲۳)
’جمعہ اور عیدین وغیرہ کی نمازیں اہل بدعت مثلاً رافضی اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے پیچھے پڑھی جائیں گی۔
واذا کان الامام مبتدعا فانہ یصلی خلفہ الجمعۃ وتسقط بذلک (صفحہ ۳۶۱ ج ۲۳)
امام بدعتی ہو تو اس کے پیچھے جمعہ درست ہے اور وہ ادا ہو جائے گا۔
سطور بالا میں ہم نے مختلف فتاوی جمع کر دیے ہیں۔ صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ وحدت امت کے لیے اکابر نے کس طرح رواداری کاثبوت دیا۔ فرقہ معتزلہ اور جہمیہ وغیرہ پرانے فرقےہیں جو مورد عتاب اور محل غضب رہے ہیں۔ صاحب الدر المختار نے ان کی بابت سخت الفاظ لکھے۔ نماز کے مسائل بیان کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بدعتی ہیں۔ گیارہویں صدی ہجری میں دمشق کے علامہ محمد امین شامی نے رد المختار لکھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو پرھنے کے بعد فقہ حنفی کی کوئی اور کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں(اللہ ان کی قبرپر انوار کی بارش کرے)
علامہ صاحب نے اپنی شرح میں لکھا ہے کہ اکثر متکلمین اور فقہا نے صاحب در مختار سے اختلاف کیا ہے۔ جن لوگوں پر تند وتیز حملے کیے گئے ہیں وہ بھٹکے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان کے پیچھے نماز بھی پڑھی جائے گی، ان کاجنازہ بھی پڑھایاجائے گا اور ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی جائے گی۔ مرنے کے بعد جائداد کی تقسیم کے سلسلہ میں انہیں مسلمان شمار کیاجائے گا۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فتاوی میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ جہمیہ اور مرجیہ فرقوں کے لوگوں سے خلق قرآن کے عقیدہ کے بارے میں مناظرہ کرتے رہے۔ ان کے عقائد کی تردید میں کتابیں لکھیں۔ ان کے عقائد کو کفریہ کہا۔ لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کی بخشش کے لیے دعا کرتے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ومع ہذا فالامام احمد رحمہ اللہ تعالی ترحم علیہم واستغفر لہم لعلمہ بانہم لم یتبین لہم انہم مکذبون للرسول ولا جاحدون لما جاء بہ ولکن تاولوا فاخطاء واوقلدوا من قال لہم ذالک (فتاوی ابن تیمیۃ صفحہ ۳۴۹ ۳۴۸ ج ۲۳)
وحققہ الامر فی ذالک ان القول قد یکون کفرا فیطلق القول بتکفیر ویقال من قال کذا فہو کافر لکن الشخص المعین الذی قالہ لا یحکم بکفرہ حتی تقوم علیہ الحجۃ التی یکفر تارکہا (صفحہ ۳۴۹ ج ۲۳) وہکذا الاقوال التی یکفر قائلہا قد یکون الرجل لم تبلغہ النصوص الموجبۃ لمعرفۃ الحق وقد تکون عندہ ولم تثبت عندہ ولم یتمکن من فہمہا وقد یکون عرضت لہ شبہات یعذرہ اللہ بہا فمن کان من المؤمنین مجتہدا فی طلب الحق واخطا فان اللہ یغفر لہ خطاہ کائنا ما کان سواء کان فی المسائل النظریۃ او العلمیۃ ہذا الذی علیہ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وجماہیر أئمۃ الاسلام وما قسموا المسائل الی مسائل اصول یکفر بانکارہا ومسائل فروع لایکفر بانکارہا (صفحہ ۳۴۶ ج ۲۳)
امام صاحب فرماتے ہیںکہ ہماری نظر میں ان کی باتیں کفریہ ہیں مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ باتیں دین کے خلاف ہیں۔ تاہم انہوں نے تحقیق کے بعد جو کچھ سمجھا کہہ دیا۔ حالانکہ وہ نہ نبی کے منکر تھے اور نہ دین کے۔ شاید اللہ ان کا عذر قبول کرلے۔ اللہ کے ہاں رحمت کی کمی نہیں ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کسی کو روکنے کے لیے جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو یہ اس کی نادانی ہے کیونکہ رسول اللہﷺ کے کسی امتی کے لیے جنت کے دروازے بند نہیں ہوتے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شیعیت کے رد میں ایک کتاب تحریر کی ہے۔ اس کا نام منہاج السنۃ النبویہ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ ہے۔ اس کتاب کے بارے میں یہ کہہ دیناکافی ہے کہ اس موضوع پر یہ پہلی اور آخری کتاب ہے۔ بعد میں آنے والوں کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اسی سے خوشہ چینی کرکے کام چلاتے ہیں۔ امام صاحب جب بحث کے دوران اس بات پر پہنچے کہ خوارج حضرت عثمان رضی اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب کو کافر کہتے ہیں جب کہ شیعہ ان دونوں کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ باوجود ردکرنے کے امام صاحب نے پوری فصل لکھی جس میں فرمایا:
وقالوا ہذا ہو القول المعروف عن الصحابۃ والتابعین لہم باحسان وأئمۃ الدین انہم لا یکفرون ولا یفسقون ولا یؤثمون احدا من المجتہدین المخطئین لا فی مسئلۃ عملیۃ ولا علمیۃ قالوا والفرق بین مسائل الاصول والفروع انما ہو من اقوال اہل البدع من اہل الکلام من المعتزلۃ والجہمیۃ ومن سلک سبیلہم
(منہاج السنۃ صفحہ ۲۱/۲۰ ج۳)
واہل السنۃ لا یبتدعون قولا ولا یکفرون من اجتہد فاخطا وان کان مخالفا لہم مکفرا لہم مستحلا لدمائہم کما لم تکفر الصحابۃ الخوارج مع تکفیرہم لعثمان وعلی ومن والاہما واستحلالہم لدماء المسلمین المخالفین لہم۔ (منہاج السنۃ صفحہ ۲۳ ج۳) فالمجتہد المستدل من امام وعالم وحاکم وناظر ومناظر ومنت وغیر ذالک اذا اجتہد واستدل فاتقی اللہ ما استطاع کان ہذا ہو الذی کلفہ اللہ ایاہ وہو مطیع للہ مستحق للثواب اذا اتقاہ ما استطاع ولا یعاقبہ اللہ البتۃ الخ
(منہاج السنۃ صفحہ ۲۷ ج ۳)
’مسئلہ اصول کا ہو یا فروع کا، فقہ کا ہو خواہ عقائد کا اگر کسی نے مسئلہ کو سمجھنے کی جدوجہد کی تو گویا اس نے دین کو سمجھنے کی سعی کی۔لہٰذا وہ بھی اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرے گا خواہ وہ خارجی ہویا شیعہ۔ ان میں نہ کوئی کافر ہے نہ مرتد۔
علامہ عبد العلی رحمہ اللہ اصول فقہ حنفیہ کی کتاب مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت میں لکھتے ہیں:
وفی البحر الرائق حقق بتفصیل بلیغ ان تکفیر الروافض لیس مذہبا لأئمتنا المتقدمین وانما ظہر اقوال المتأخرین فالوجہ فی عدم تکفیرہم ان تدینہم اوقع فیما اوقع فہم انما وقعوا فیما وقعوا زعما منہم انہ دین محمدی وان کان زعمہم باطلا بیقین غیر مشروب باحتمال ریب فیہم وما کذبوا محمدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی زعمہم فہم غیر ملتزمین الکفر والتزام الکفر کفر دون لزومہ اما انکارہم للجمیع علیہ وان کان انکار جلی ونشاء من سفاہۃ لکن لیس انکارا مع اعترافہم انہ مجمع علیہ بل ینکرون کونہ کذالک لشبہۃ نشأت لہم وان کانت باطلۃ فی نفس الامر و ھی زعمھم ان امیر المؤمنین علیا انما بایع تقیۃ وخوفا وان کان ہذا الزعم منہم باطلا مما یضحک بہ الصبیان وامیر المؤمنین علي بر یءمن نحو ہذا التقیۃ الشنیعۃ واللہ ہو بریء لا ریب فی انہ بریء فہذہ الشبہۃ وان کانت شبہۃ شیطانیۃ وانما جراہم علیہم الوساوس الشیطانیۃ لکنہا مانعۃ عن التکفیر وانما الکفر انکار الجمع مع اعترافہ انہ مجمع علیہ من غیر تاویل وہل ہذا الاکما اذا انکر النصوص بالنص القطعی بتاویل باطل وہو لیس کفرا کذا ہذا۔ صفحہ ۲۴۴/۲۴۳
فرماتے ہیں کہ کوئی حدیث کو درست تسلیم کرتا ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کہتا ہے کہ (معاـذ اللہ )وہ جھوٹے ہیں تو وہ کافر ہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ میں نہیں مانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ایسا فرمایا تھا تو وہ راوی یا روایت کو رد کر رہا ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں۔ ہاں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوں اور کوئی یہ بات کہے کہ میں نہیں مانتا تو وہ کافر ہے۔ چونکہ بہت سی روایات کمزور اور ضعیف ہیں لہٰذا ان کو رد کرنے والا کافر نہیں ٹھہرے گا۔ ہم خود بعض فرقوں کی بیان کردہ حدیثوں کی صحت کا انکار کرتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی حدیث کی صحت کے بارے میں شبہ کا اظہار کرنے پر کوئی کافر نہیں ہوتا۔ جب تک وہ دیدہ دلیری سے یہ نہ کہہ دے کہ ہاں میں مانتا ہوں کہ قرآن میں یہ لکھا ہے لیکن میں نہیں مانتا یا حدیث کے بارے میں ایسے الفاظ ادا کرے لیکن اگر کوئی حدیث کی صحت کے بارہ میں شک کرتا ہے یا کوئی شخص کسی آیت کے مفہوم کے بارے میں اختلاف کرتا ہے تو اس کی تصحیح کرنا اور سمجھنا بہتر ہوگا نہ کہ اسے دائرۂ اسلام سے ہی خارج کر دیا جائے۔
امام غزالی رحمہ اللہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ فلسفی، دانشور اور علم کلام کے ماہر کے طور پر معروف ہیں۔ ان کی کتاب احیا علوم الدین، اہل علم میں بے حد مقبول ہے۔ امام صاحب کے دور میں بھی تکفیر کا طوفان برپا تھا۔ آج کی طرح اس وقت بھی بات بات پر کفر کے فتوی صادر ہوتے تھے۔ مخالفین کا جینا دوبھر تھا۔ یہاں تک کہ ایک معتزلی عالم ۲۵ سال تک اپنے گھر سے نہ نکل سکے۔ ایسے وقت میں امام صاحب نے نعرۂ حق بلند کیا اور مشہور رسالہ ’التفرقہ بین الاسلام والزنادقہ‘ تحریر کیا۔ تو سوسال پہلے لکھی جانے والی اس موضوع پر یہ پہلی تحریر ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ کی اس علمی واصلاحی کوشش کی اگرچہ ابتدا میں بہت مخالفت ہوئی۔ لیکن بقول علامہ شبلی رحمہ اللہ بالآخر یہ علم کلام کا مسئلہ بن گیا کہ اہل قبلہ جس قدر ہیں سب مسلمان ہیں۔ چنانچہ علم کلام کی تمام کتابوں کا خاتمہ اسی مسئلہ پر ہوتا ہے۔ ‘رسالہ ’التفرقہ بین الاسلام و الزنادقہ‘ کا خلاصہ مورخ اسلام علامہ شبلی نے اپنی کتاب ’الغزالی‘ میں نقل کیا ہے۔
اب شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا ذکر ہو جائے۔ کس کس کے حوالے دیں جن لوگوں کو اللہ تعالی نے بصیرت کے نور اور عقل سے نوازا ہے وہ چیختے رہے مگر جس طرح نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا معاملہ جوں کا توں رہا۔ پیٹ پرست ملاؤں نے لوگوں کا کچھ نہیں بننے دیا، نہ بننے دیں گے۔
میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
ہمارا خطیب امت کو ان باتوں میں الجھا کر لے ڈوبا جن سے اسلام کو تو کوئی نفع نہیں پہنچا آپس میں محاذ آرائیوں کی وجہ سے ہماری حکومتیں برباد ہو گئیں کافروں کا غلبہ ہو گیا لیکن ہمارے جھگڑے ختم نہ ہوئے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ’علم ودیانت کی کمی اور اغراض وا ہوا کی زیادتی‘ کے شکار فتوی فروش ملاؤں نے مسلمانوں کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ بہرحال بات ہو رہی تھی شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تو سنو! آپ اہل حدیث کہلاتے ہیں، وہ دیوبندی ہیں۔ آپ کے جد امجدتو شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ ہی ہیں۔ اس ملک میں سب سے پہلے یہی شخص ہیں جنہوں نے حدیث کو نمایاں کیا ہر بات کو واضح کیا ان کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کو تو معجزہ سمجھیں۔ جنہوں نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا انہیں کیا بتائیں واقعی اللہ تعالی نے ان کی زبان سے حجت تمام کر دی۔ ایک ایک مسئلہ کا فلسفہ بتایا۔ نواب صدیق الحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بارہ صدیوں تک لوگ حدیثوں کی شرحیں لکھتے رہے مگر فلسفۂ شریعت کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تو کیوں دیا؟ یہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے علاوہ کوئی بیان نہ کرسکا۔
اس کتاب میں وضو، نماز سے لے کر پوری شریعت کو کھول کر بیان کیا۔ اس میں بتایا گیا کہ خدا کے دین میں کوئی بات زبردستی داخل نہیں کی گئی ہر شے کے اندر فلسفہ موجود ہے۔
شاہ صاحب رحمہ اللہ نے کتاب مذکورہ میں ایک باب بعنوان ’اسباب اختلاف الفقہاء‘ قائم کیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں:
ومنہا ان اکثر صور الاختلاف بین الفقہاء لاسیما فی المسائل التی ظہر فیہا اقوال الصحابۃ فی الجانبین کتکبیرات التشریق وتکبیرات العیدین ونکاح المحرم وتشہد ابن عباس وابن مسعود والاخفاء بالبسملۃ وبآمین والاشفاع والایتار فی الاقامۃ ونحو ذلک انما ھو فی ترجیح احد القولین و کان السلف لایختلفون فی اصل المشروعیۃ وانما کان خلافہم فی اولی الامرین: وقد کان فی الصحابۃ والتابعین ومن بعدہم من یقرأ بالبسملۃ ومنہم من لا یقرؤہا ومنہم من یجہر بہا ومنہم لا یجہر بہا وکان منہم من یقنت فی الفجر ومنہم من لا یقنت ومنہم من یتوضأ من الحجامۃ والرعاف والقئ ومنہم من لایتوضأ من ذلک ومنہم من یتوضأ عن مس الذکر ومس النسآء بشہوۃ ومنہم من لا یتوضأ من ذلک ومنہم من یتوضأ مما مستہ النار و منہم من لا یتوضأ من ذلک ومنہم من یتوضأ من اکل لحوم الابل ومنہم من لا یتوضأ من ذلک ومع ہذا کان بعضہم یصلی خلف بعض مثل ما کان ابو حنیفۃ او اصحابہ والشافعی وغیرہم رضی اللہ عنہم ویصلون خلف ائمۃ المدینۃ من المالکیۃ وغیرہم وان کانوا لا یقرؤن البسملۃ لا سرا ولا جہرا وصلی الرشید اما ما وقد احتجم فصلی الامام ابو یوسف خلفہ ولم یعد وکان افتاہ الامام مالک بانہ لا وضوء علیہ وکان الامام احمد ابن حنبل یری الوضوء من الرعاف والحجامۃ فقیل لہ: فان کان الامام قد خرج منہ الدم ولم یتوضأ ہل یصلی خلفہ؟ فقال: کیف لا اصلی خلف الامام مالک وسعید ابن المسیب ویروی ان ابا یوسف ومحمدا کانا یکبران فی العیدین تکبیرا بن عباس لان ہارون الرشید کان یحب تکبیر جدہ۔
(حجۃ اللہ البالغۃ صفحہ ۱۵۸/۱۵۹ ج ۱)
اس کے ذیل میں لکھتے ہیں مثلاً کوئی عید کی سات اور پانچ تکبریں کہتا ہے کوئی حنفی تین بتاتا ہے کوئی وتروں میں قنوت پڑھتا ہے کوئی نہیں پڑھتا۔ کوئی بسم اللہ اونچی آواز سے کہتا ہے کوئی اونچی آواز سے نہیں کہتا۔وتر کوئی جوڑ کر پڑھتا ہے کوئی الگ۔شاہ صاحب رحمہ اللہ ان سب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے زمانے سے یہ باتیں چلی آرہی ہیں۔ اور کسی نے نہیں کہا کہ یہ جائز ہے اور یہ ناجائز سارے گروہ متفق تھے کہ سب باتیں جائز ہیں۔ ایک عمل ٹھیک ہے لیکن یہ ذرا زیادہ اچھا ہے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ عمل کیا اس لیے زیادہ اچھا ہے۔ وہ اختلاف ضرور کرتے تھے۔ لیکن سلف میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ عمل سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ دونوں عمل موجود تھے ہم سات اور پانچ تکبیریں کہتے ہیں۔ بسم اللہ! اگر کوئی حنفی امام تین تکبیروں سے عید پڑھا دے تو دکھ کس بات کا جب کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آسمان کے سورج کی طرح روشن روایت موجود ہے کہ جب وہ کوفہ میں حاکم تھے تو حنفیوں کی طرح تین تکبیروں سے عید پڑھاتے تھے۔ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس طرح سورج میں کوئی شک نہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا ذکر چھڑا ہے تو یہ بان کرنا مناسب ہوگا اور موضوع زیر بحث سے متعلق ہوگا کہ اٹھارہویں صدی میں جب ہندوستان کی مسلم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو رہی تھی۔ تو یہاں شیعہ سنی چپقلش اور محاذ آرائی پورے زوروں پر تھی، دونوں فرقے ایک دوسرے کو واجب القتل سمجھتے تھے؛ ان میں بلوے عام تھے۔
نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ معتدل مزاج لوگوں کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہو گیا تھا۔ مثلاً شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے جب ایک انتہا پسند سنی کے اصرار کے باوجود شیعوں کو کافر کہنے سے انکار کر دیا تو وہ خاصا برہم ہوا اور کہنے لگا یہ تو شیعہ ہے۔
(بحوالہ کتاب رود کوثر مصنفہ ڈاکٹر شیخ محمد اکرام)
تکفیر باز عالموں کو سوچنا چاہیے کہ وہ امت کو لڑا لڑا کر کیوں ہلاک کر رہے ہیں۔ قرآن مجید تو ایک بات لے کر آیا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔ مسائل ضرور سمجھائیں۔ پیار اور محبت سے درس دیں، وعظ کریں، مگر امت مسلمہ کو برباد نہ کریں۔ یہ جھگڑے ہمیشہ سے موجود تھے مگر سب لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔
اس سلسلہ میں ایک اور حوالہ پیش خدمت ہے۔ قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں چیف جسٹس تھے۔ ہارون الریشد نے نماز پڑھائی(اس دور میں خلیفہ نماز پڑھاتے تھے۔ آج کل کی طرح نہیں کہ امامت بھی نہیں کراتے) نماز اس حالت میں پڑھائی کہ اس نے وضو کے بعد سینگیاں لگوائیں۔ خون نکلوایا وضو نہیں کیا۔ قاضی صاحب کے مطابق وضو ٹوٹ گیا تھا۔ لیکن قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ نے خلیفہ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اور بعد میں اسے دہرایا نہیں۔ ہارون الرشید نے اس لیے ایسا کیا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے یہ فتوی دے رکھا تھا کہ اس طرح وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس لیے اس نے اس پر عمل کیا۔ قاضی صاحب رحمہ اللہ بھی چپ رہے کہ ہمارے مسلک کے بارہ میں کوئی وحی تو نازل نہیں ہوئی کہ ہمارا مسلک ہی درست ہے۔ دوسرا جو بہتر سمجھتا ہے اس پر عمل کرے۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ دونوں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ عیدین میں تین زائد تکبیریں ہیں۔ مگر جب نماز پڑھاتے تو سات اور پانچ تکبیریں کہتے۔ کیونکہ خلیفہ عباسی تھا۔ اور وہ اپنے دادا کے طریق کا پیرو کار تھا۔ اس لیے کہ ہارون الرشید کو اپنے دادا کا طریقہ پسند تھا۔ اس پر ان دونوں اماموں نے کہا کہ اس بات پر شور مچانے کا فائدہ؟ اگر خلیفہ اسی پر خوش ہے تو تسلیم! آخر یہ طریقہ بھی تو موجود رہا ہے۔
ان مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے (خدا کرے کہ بات واضح ہو گئی ہو۔ میرے اور آپ کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے) کہ امت مسلمہ کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم مشرق تا مغرب لہرا رہا ہے۔ کلمہ گو امت موجود ہے۔ کسی بستی میں بھی جائیں تو فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے مسلمان بھائیوں کی بستی سمجھیں۔ سوڈان جائیں، نائجیریا جائیں، دوسرے علاقوں میں جائیں۔ مالکی حضرات کو دیکھیں، ہاتھ کھلے چھوڑ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ رفع یدین نہیں کرتے کوئی برا نہیں مناتا۔ آپ انتظار کریں گے کہ سلام دونوں طرف پھیریں گے۔ مگر وہ صرف ایک بار السلام علیکم کہہ کر نماز ختم کر دیں گے۔
ایسی صورت حال دیکھ کر آپ پریشان نہ ہوں۔ دین اسلام میں بڑی وسعت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تمام فروعی مسائل کو بھلا کر تمام مسالک کا احترام کریں۔ جب تک کوئی فرد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہادی اور آخری نبی مان رہا ہے وہ آپ کا بھائی ہے۔ آپ کے خیال میں اگر کوئی فرد راہ راست سے بھٹکا ہوا ہے یا اس کے مسئلے کو آپ غلط تصور کرتے ہیں تو پیار محبت سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں۔ ہر فرقہ اپنے عقائد اور فقہ کی تدوین کر چکا ہے۔ کوئی ایک آدمی تو اپنا مسلک چھوڑ کر دوسرے مسلک کے گروہ میں شمولیت کر سکتا ہے۔ تمام کا تمام فرقہ نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وحدت امت کی خاطر ہم ایک دوسرے کی مساجد میں مل کر نماز ادا کریں۔ جنازوں میں شرکت کریں، آپس میں رشتے ناطے کریں، تاکہ بعدودر ہو۔ اور امت مسلمہ ایک جسد واحد بن جائے۔ اسی میں ہم سب کا بھلا ہے۔ یہی اسلام کا پیغام ہے۔ بصورت دیگر دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
مباحثوں اور مناظروں کا طریقہ تشحیذ ذہن اور تحقیق مسائل کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے لیکن مذہبی مناظروں کا جو طریق کار اپنایا جاتا ہے، وہ نامناسب ہے۔ کیونکہ ایک دوسرے کو لعن طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے، درشتی کا لہجہ اختیار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات دنگا فساد ہو جاتا ہے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور ہمیشہ کے لیے عداوت پیدا ہوتی ہے اور آئندہ اس منافرت وعداوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس طریق کار کو حمایت مذہب اور مدافعت اسلام کا نام دیا ہے۔ مگر درحقیقت اس سے خلق خدا تباہ ہوتی ہے۔ جو مذہبی پیشوا دوسرے کی اصلاح کا تمنائی ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ مخالف کو نرمی سے سمجھائے اور اسے نمود ونمائش اور اپنی برتری جتانے کی خاطر وجہ فساد بنانے کی کوشش نہ کرے۔ مشکوٰۃ شریف میں صحیح ترین حدیث ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد نے ایک خطا کار کے متعلق کہا کہ ’خدا کی قسم تو نہیں بخشا جائے گا۔‘ اس خود بینی کی بنا پر اس کی تمام نیکیاں برباد ہو گئیں اور اسے دوزخ میں ٹھونس دیا گیا۔ اس شخص نے دوسرے کو دوزخ کی وعید دے کر خود دوزخ خرید لی۔ جو لوگ کفر کے فتوے صادر کرتے ہیں ان کو ان باتوں پر غور کرنا چاہیے۔ حدیث شریف مذکور کی اصل عبارت ذیل میں دی جا رہی ہے۔
وعن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہﷺ ان رجلین کانا فی بنی اسرائیل متحابین احدہما مجتہد فی العبادۃ والاخر یقول مذنب فجعل یقول اقصر عما انت فیہ فیقول خلنی وربی حتی وجدہ یوما علي ذنب استعظمہ فقال اقصر فقال خلنی وربی ابعثت علی رقیبا فقال واللہ لا یغفر اللہ لک ابدا ولا یدخلک الجنۃ فبعث اللہ الیہما ملکا قبض ارواحہما فاجتمعا عندہ فقال للمذنب ادخل الجنۃ برحمتی وقال للآخر اتستطیع ان تحظر علی عبدی رحمتی فقال لا یا رب قال اذہبوا بہ الی النار رواہ احمد۔
خوف طوالت سے ہم مزید حوالہ جات درج نہیں کر رہے۔ جن لوگوں کو اللہ نے بصیرت دی ہے وہ لکھتے آرہے ہیں۔ ببانگ دہل کہتے آرہے ہیں کہ جو لوگ اللہ کو مانتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، قرآن کو کتاب ہدایت تسلیم کرتے ہیں، قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے ہیں،مسلمان ہیں۔ فروعی اختلاف کی بنا پر کسی کو فورا کافر قرارا دینا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ ان کے اس قسم کے فتووں سے خود ان کی اپنی نیکیاں برباد ہو سکتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے ادارے بنائے جائیں جہاں سے طالب علم کھلے ذہن لے کر نکلیں۔ وہ فسادی لوگوں کے آلۂ کار نہ بنیں۔ اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو دینی ادارے فساد کے اڈے بنے رہیں گے۔
آج دنیا بھر کی طاغوتی قوتیں اسلام کے خلاف محاذ آرا ہیں۔ کئی خطوں میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ خون مسلم کی ارزانی پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کا اتحاد وقت کی پکار ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مسلمان کفار کی فریب کاریوں کا شکار ہو کر آپس میں برسرپیکار ہیں۔ یوں دانستہ یا نادانستہ طور پر کفار کے عزائم کی تکمیل ہو رہی ہے۔ تبلیغی مساعی بے ثمر ثابت ہو رہی ہیں۔ خدارا ہوش میں آئیں۔ فرقہ بندی کر کے مسلمان امت کو کمزور نہ کریں۔ جو بھی کلمہ گو ہے اس کا احترام کریں۔
وما علینا الا البلاغ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *