وحدت امت کے دشمنوں کے عزائم وپلان

اللہ رب العالمین نے بنی نوع انسانی کو ایک نفس واحد سے تخلیق فرما کر ان کو انسانیت کی بنیاد پر ایک کل بنادیا۔ اس کل کی مزید تقسیم ان کے رویہ پر منحصر ہے کہ کون سا گروہ اللہ واحد کی بندگی اختیار کرتا ہے اور کون سا گروہ اس کا انکاری ہوتاہے؛ اس کے لیے ساجھی اور شریک ٹھہراتا ہے۔ ان دونوں گروہوں کے انسان ہونے کے ناطہ کچھ ضرورتیں ایک ہیں مگر اپنی راہیں الگ الگ متعلق کرنے کی بناپر زندگی کا مقصد اور تقاضے بدل جاتے ہیں۔ اس بنا پر دونوں گروہ الگ الگ اجتماعیت ہو جاتے ہیں۔ انسان اپنی تاریخ کے ہر دور میں اجتماعیت پسند اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ قدیم ترین قبائلی طرز زندگی سے لے کر آج تک انسان کسی نہ کسی نوعیت کی اجتماعی زندگی گزارتا آ رہا ہے۔ ان کے درمیان قدر اتصال یا اشتراک Binding Value or Factor علاقہ، رنگ، نسل،زبان، اعتقاد کچھ بھی رہا ہو مگر وہ اسی کی بنیاد پر اپنی اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی کرتے ہیں۔ اسلام میں یہ کام عقیدہ کرتا ہے یا یہ کہ نقطہ اتصال و ربط اتحاد عقیدہ ہے۔ جس کی بنیاد توحید، رسالت اور آخرت ہے۔ اس عقیدہ کے ماننے والوں کو ایک منظم اجتماعیت کے تحت امیر کی امارت میں زندگی گزارنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اس سے بغاوت کو جرم مانا گیاہے۔ مل جل کر ایک امیر کے تحت اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع لازم قرار دیا گیا اور اس کو ایک بڑی نعمت قرار دیا گیا۔ اللہ پاک نے فرمایا:
’اللہ کی رسی کو مل کر پکڑ لو اور فرقہ فرقہ نہ بن جاؤ‘ (آل عمران:۱۰۳)
’اللہ کا یہ احسان یاد کرو کہ تم کیسی عظیم انسانی نعمت سے سرفراز کیے گئے جب کہ تمہارا یہ حال تھا کہ تم بالکل بکھرے ہوئے اورایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اللہ نے تم سب کو باہم ملا دیا اور اللہ کی اس نعمت کے سبب تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔‘ (آل عمران:۱۰۳)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے خطبوں میں بکثرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے:
’جماعت بن کر رہو کیونکہ جب کوئی تنہا اورالگ رہتا ہے تو شیطان اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔ جب کہ دو انسان بھی مل کر جماعتی قوت و اتحاد کے ساتھ رہنے سے شیطان ان سے دور رہتا ہے۔ ‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
’فرقہ بندی سے دور رہو اس لیے کہ متفرق و متفرد انسان شیطان کے لیے ویسا ہی ہو جاتاہے جیسے اپنے ریوڑ سے بچھڑی بکری بھیڑئیے کے لیے۔ خبردار جو شخص مسلمانوں میں اس تفریق کا داعی ہو تم اسے قتل کر دو خواہ وہ میرے اس عمامہ کے نیچے ہی کیوں نہ ہو۔ ‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’ اہل اسلام کی جماعت ومرکزیت کو لازم پکڑو جو جماعت سے متفرق و منفرد رہے گا وہ جنہم میں دھکیل دیاجائے گا۔ اللہ کی مدد و تائید کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی۔‘
قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے سورہ حجرات میں جماعت مسلمین میں اتحاد، امارت اور ڈسپلن پر زور دے کر فرمایا:
’اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرادیا کرو پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ اگر لوٹ آئے تو انصاف کے ساتھ صلح کرادو اورعدل کرو بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘
(الحجرات:۹)
قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ایک اور مقام پر فرمایا:
’حقیقت میں جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے تو اے نبی! آپ کا ان سے کوئی رشتہ نہیں۔‘ (انعام:۱۵۹)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس آیت سے مراد کون لوگ ہیں؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا کہ اس سے مراد امت میں تفرقہ ڈالنے والے گمراہ لوگ، بدعتی اور خواہش نفس کے بندے ہیں۔ اے عائشہ میں ان سے اعلان برات کرتا ہوں۔ وہ مجھ سے الگ ہیں۔
اسلام میں اجتماعیت کے قیام اور اس کی بقا پر جتنا زور دیا گیاہے اگر اس پر نگاہ ڈالی جائے تو ملت اسلامیہ پر حددرجہ افسوس ہوتا ہے کہ اتنی عظیم الشان ذمہ داریاں اور بوجھ کے تعلق سے ہمارے عوام اور خواص خصوصاً اہل اقتدار اور مسند نشینوں کا رویہ کتنا غیر ذمہ دارانہ اور بسا اوقات مجرمانہ رہاہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس اجتماعیت کے استحکام اور بقا کے لیے مستقل نظم نماز پنج گانہ، نماز جمعہ، نماز عیدین، نماز جنازہ، نماز استسقاء، حج مبارک، زکوۃ کی ادائیگی کا اجتماعی نظم، حج کی ادائیگی ایک امیر کے تحت ادائیگی کا حکم فرمادیا اوریہ اختیاری نہیں بلکہ ضروری ہے۔ اس نظم سے خروج کی اجازت بھی نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے جدا جدا نظم قائم کر لیں۔ اور ملت نے جب سے اس نظم سےجس درجہ انحراف کیا اسی درجہ میں اسے ذلت، غلامی اور محکومی بھگتنی پڑی ہے۔ ہماری تاریخ اس پر گواہ ہے۔ جس امت کو اللہ تبارک و تعالی دنیا میں اپنی مرضی کے اظہار اور غلبہ کی ذمہ داری اور خوش نصیبی عطا کرنے والا ہواس کے استحکام، اتحاد اور اخوت کا نظم بھلا وہ کیوں نہیں کرے گا؟
اختلاف اور انتشار شیطان کا محبوب ترین اور موثر ترین ہتھیار ہے۔ یہ اللہ تعالی کی مصلحت اور مشیت ہے کہ امت کے لیے عظیم فتنوں میں مال کی محبت، موت سے کراہت کے علاوہ باہمی جدال و قتال کی آزمائش مختص ہو گئی ہے۔ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خون پسینہ اور نالۂ نیم شبی کی گاڑھی کمائی، امت مسلمہ، کے لیے خود اللہ تبارک و تعالی نے اپنے محبوب کی دعا کوکہ: میری امت میں میرے بعد جدال و قتال نہ ہو، کو مصلحت خاص کے تحت ٹال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردن نہ مارنے لگنا اس کا مجھے اندیشہ ہے۔ اس آزمائش کی مصلحت جو بھی ہو مگرامت مسلمہ کے ایک ایک فرد عام و خاص کو اس بات کی آگاہی ہونی چاہیے کہ اس امت کے لیے اصل خطرہ فقر و فاقہ یا اللہ کا عذاب عمومی نہیں بلکہ مال سے محبت اور آپسی انتشار اور اختلاف ہوگا۔ احادیث مبارکہ میں فرمایا گیا کہ تین آدمی جنگل میں ہوں تب بھی اپنا امیر مقرر کر لیں۔ فرمایا: بغیر عذر بلا جماعت گھر پر نماز پڑھنے والوں کے گھروں کو جلادوں۔ فرمایا: جو آدمی بالشت بھر بھی جماعت سے نکل گیا اس نے شیطان کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیا۔ امیر کی اطاعت،اجتماعیت کا احترام اور رائے کے اختلاف کے باوجود سیسہ پلائی دیوار کی طرح معرکۂ حیات میں اپنا رول ادا کرنے کا کام امت مسلمہ جب تک کرتی رہی، اس نے تمام عالم میں ایک مکمل انقلاب کی بنیاد رکھ دی۔ جس کے برکات سے دنیا آج مستفید ہو رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔
آئندہ سطور میں ہم مختصرا امت مسلمہ واحدہ کو میدان جنگ میں شکست دینے کے بجائے امت مسلمہ میں کالی بھیڑیں، منافقین اور زر خرید ایجنٹوں کے ذریعہ شکست دینے کی مستقل شیطانی مہم پر نظرڈالیں گے۔ قرآن پاک میں دشمنان اسلام کی خفیہ اور اعلانیہ سازشوں کا بارہا ذکر آیاہے۔ سورہ آل عمران میں اسی طرح کے سازشی ذہن کے خبث باطن کو ظاہر کیا گیاہے:
’اور اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہاکہ جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ تا کہ یہ لوگ بھی پلٹ جائیں۔‘(آل عمران:۷۲)
مسلمانوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی جماعت کے درمیان منافقین و مشرکین نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ہی طرح طرح کی فتنہ پردازیاں،دھوکہ بازی، میدان جنگ سے عین وقت پر فرار، جہاد کے دوران مدینہ میں افواہ بازیاں، صحابہ کرام کے درمیان پرانی جنگوں، رقابتوں، عصبیتوں کو بھڑکانے کا کام پوری تندی سے چھیڑدیا تھا جو آج تک پوری شدت اور سائنس اور دولت کی بدولت مزید ہلاکت خیزیوں کے ساتھ جاری ہے۔ پوری تاریخ منافقت اور ملی انتشار و اختلاف پر نظر ڈالنا ممکن نہیںہے۔ مگر یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ابو جہل اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کے زمانہ سے آج رینڈ کارپوریشن اورفورڈ فاؤنڈیشن، دین دیال اپادھیائے انسٹی ٹیوٹ کی سازشوں کے مرکزی نکات پر نظر ڈال لی جائے۔ ان نکات میں ۱۷؍۱۸ویں صدی کے بڑے انگریز سازشی جاسوسوں ٹی ای لارنس(T E Lawrance) (لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور) اوراسی زمانہ کے مشہور جاسوس ہمفرے (Humphry) پر شائع مواد سے مدد لی گئی ہے۔
٭ مسلمانوں میں عصبیتوں اور نفرتوں کو جنم دینا۔ اس کے لیے نسل،علاقہ، زبان، مسلک، رسوم و رواج اور قبل از اسلام کی تہذیب کو رواج دینا۔
٭ اسلامی عقیدہ سے متعلق شکوک و شبہات کو جنم دینا۔ جس کے لیے پورا ایک علم استشراق(Orientalisim)کے نام پر وجود میں آگیا۔
٭ جدید سائنسی معلومات کے غیر قطعی مفروضات کے ذریعہ ملت میں بنیادی عقائد پر ضرب لگانا جیسے کہ ارتقاء کی تھیوری کے نام پر انسان کو بندر کی اولاد بتانا وغیرہ۔
٭ مسلم ممالک میں بے چینی اور اختلاف پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش۔ جاسوسوں اور زر خرید ایجنٹوں جیسے غلام احمد قادیانی، لارنس آف عربیہ، ہمفرے، مصطفی کمال پاشا، زر خرید علما کی مدد سے کی گئی اور مزید شدت سے کی جارہی ہے۔
٭ صحیح الفکر اور مخلص علما اور مراجع پرالزام تراشی کرکے عوامی بیزاری پیدا کرنا۔
٭ مدارس الازہر، نجف، کربلا اور استنبول، دہلی میں اپنے نو آبادیاتی علاقوں کی وزارت سے منسلک افسروں کو علما کی شکل میںبھرتی کرکے ان کے ذریعہ مسلکی اختلاف وانتشار کو بڑھاوا دینا تاکہ یہاں سے فارغین بھی اسی گروہی طبیعت کے ساتھ ملت کے رہنما بن کر ملت میں اختلاف وانتشار کا سبب بنیں۔
٭ وجوب جہاد کے عقیدہ کو کمزور کرنا اوریہ ثابت کرنا کہ جہاد صرف ابتداء اسلام کے زمانہ کے لیے تھا۔ آج اس کی ضرورت نہیں۔ اس کام کے لیے زمین کے ہر کونے پر لوگوں کو تیار کیا گیا۔ اسکی سب سے بڑی مثال غلام احمد قادیانی تھا۔ جس نے صاف طور پر ہندوستان میں حکومت انگلشیہ کی تعریف کی اور اس کے آدمیوں نے عرب، افریقہ،یورپ، سنٹرل ایشیا ہر جگہ مسلمانوں میں عقیدہ اور فکر کی گمراہی کی آبیاری کی اور یہ سب تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس سلسلہ کی ایک دستاویزی شہادت ۱۸۷۰ء کی وہ رپورٹ ہے جو برطانوی مدبروں، سیاست دانوں، ممبران پارلیمنٹ اور مسیحی رہنماؤں پر مشتمل افراد نے تیار کی تھی جسے ’ہندوستان میں انگریزی حکومت کی آمد‘(The Arrival of Britisht Empire in India ) کے نام سے شائع کیاگیا ہے۔ ’ہندوستان کی آبادی کی اکثریت اندھا دھند اپنے پیروںPeersیعنی روحانی نمائندوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اسی کام کے لیے ایک ایسا آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں جو اسی بات کے لیے تیار ہو کہ اپنے لیے ظلی نبی ہونے کا اعلان کر دے تو لوگوں کی بڑی تعداد اسی کے گرد جمع ہو جائے گی۔ اگریہ مسئلہ حل ہو جائے تو ایسے شخص کی نبوت کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایاجا سکتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی غداروں کی مدد حاصل کرکے ہندوستانی حکومتوں کومحکوم بنایا ہے۔ لیکن اب جب کہ ہم ملک کے کونے کونے پر اقتدار جمالیاہے ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے ملک میں داخلی بے چینی پیدا نہ ہو سکے۔‘
اس کے علاوہ ۱۸۷۱ء میں ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر نے ۱۸۵۷ء کے جہاد آزادی ہندوستان میں مسلمانوں کے رول، عقیدہ جہاد، تصور مہدی اور مسیح کی آمد کے بارے میں مختلف فرقوں کی آرا پر مشتمل کتاب ’ہندوستانی مسلمان‘(The Indian Muslim)میں لکھا’جہاد ہی کا وہ نظریہ ہے جو ان کے شدید جوش، تعصب، تشدد اور قربانی کی خواہش کی بنیاد ہے۔ اس قسم کا عقیدہ انہیں ہمیشہ حکومت کے خلاف متحدکر سکتا ہے۔‘(دی انڈین مسلمانز)
۱۹۳۵ء میں پنڈت جواہرلعل نہرو نے قادیانت کی تائید وحمایت میں بیان دیئے جس میں انہوں نے کہا:
’ترکی میں کمال اتاترک نے کچھ اصلاحات کیے ہیں وہاں کے مسلمانوں نے اسے قبول کیا ایسے ہی یہاںاس ملک میں اگرمرزا غلام قادیانی نے کچھ اصلاحات کیے ہیں تو ان کو قبول کرنے میں کیا حرج ہے؟
ایک دوسرے ہندو رہنما ڈاکٹر شنکرداس نے اخبار وندے ماترم میں لکھا ’ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کیے بیٹھے ہیں وہ دن رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔ اس تاریکی اور مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محب وطن کو ایک ہی امید کی کرن دکھائی دیتی ہے وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اورآخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں کی نہیں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام، کرشن، گیتا،وید سے اٹھ کر قرآن اور عربی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اسکا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمدؐ میں اس کی عقیدت کم ہوتی جاتی ہے اس کے علاوہ جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان تھی، اب وہ خلافت قادیان میں آجاتی ہے۔ اور مکہ مدینہ اسکے لیے روایتی مقامات مقدسہ رہ جاتے ہیں۔ ہر احمدی کے دل میں ہندوستان کے لیے پریم ہوگا کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا صاحب بھی ہندوستانی تھے۔(فتنہ قادیانیت کے خلاف علامہ اقبالؒ کے قلمی جہاد کے دو اہم معرکہ،مولانا انصار اللہ قاسمی، ندائے شاہی، مراد آباد، دسمبر۱۰۱۲)
٭ ماہنامہ الفرقان لکھنو کے گزشتہ سال ۲۰۱۳ء کے ایک شمارہ میں لندن کے مضافات کے ایک ایسے مدرسہ کی تفصیل بلکہ معائنہ اور مشاہدہ کی رپورٹ درج ہے جس میں تمام مسلم شناختوں کے ساتھ طلبا موجود تھے اور قرآن، حدیث، عربی اور مسلکی اختلافات کے بارے میں علم حاصل کر رہے تھے مگر تمام طلبا اور پڑھانے والے غیر مسلم انگریز تھے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ سازش کتنی گہری اور ہمہ گیر ہے تاکہ امت کو پارہ پارہ کیا جا سکے۔
دور جدید میں خاص طور پرحقوق نسواں، جمہوریت، لبرل روادار طبقہ اور کٹر وبنیاد پرست طبقہ، سیاسی اور صوفی اسلام کے نام پر، زہد اور صوفیت کے نام پر دنیاوی مسائل سے لا تعلقی پیدا کرکے عیاروں اور مکاروں کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینا وغیرہ نکات پوری تندہی سے امت مسلمہ میں پھیلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ امت میں زیادہ سے زیادہ فکری انتشار بڑھے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں ماریں، جسکا اندیشہ خود پیغمبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر کیا تھا۔ مصرمیں جس طرح سارے نام نہاد لبرل، ماڈرن، اور دنیا سے، ملت کے مسائل سے لاتعلق استحصال پسند علما مل کر سیاسی اسلام کے نام پر اسلام پسندوں کا قتل عام اور قید و بند و تعذیب کا شکار کر رہے ہیں، اس کے پیچھے کون ہے؟ شام میں بشار الاسد کی مخالفت کرنے کے باوجود اس پر حملہ نہ کرنے والے مسلمانوں کو ہی ایک دوسرے کے ذریعہ قتل وغارت گری میں مصروف کارکیوں رکھے ہوئے ہیں؟ اس ایجنڈہ پر اسرائیل، روس، امریکہ، چین سب کیوں متفق ہیں؟ بنگلہ دیش میں ملت کو منتشر کرنے کے لیے ایجنڈہ کہاں سے مل رہاہے؟ باہر سے جمہوریت کا ڈھونگ کرنے والے اپوزیشن کے مکمل بائیکاٹ اور 22%پولنگ کو جمہوریت کی جیت بتار ہے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ملت کا ہی ایک طبقہ اسے صوفی ازم مان کر بے گناہوں کے قتل عام کو انسانیت کی خدمت بتا رہاہے۔ ملت کے ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ سے لڑانے کے لیے اور اسلام کی روح حریت اور انصاف و عدل کو کچلنے کے لیے اس مادہ پرستانہ دور میں چند لوگو ں کو خرید کر بڑی بڑی کانفرنس کراکر (غلام احمد قادیانی کی طرح) ملت میں شک و شبہ، انتشار اور فتنہ و فساد کو ہر ملک میں بھڑکایا جارہا ہے۔ وکی لیکس کے بانی جولین اسانجے نے امریکی حکومت کے سفارت کاروں کے دنیا بھر سے جو احکامات، اطلاعات بھیجی ہیں ان سے یہ سازش پوری طرح سامنے آ جاتی ہے۔ کیایہ بات قابل غور نہیں ہے کہ افغانستان، عراق، پاکستان ہر جگہ پر مسلک کے لوگ صدیوں سے نسبتاً خوش گوار حالات میں رہتے چلے آ رہے تھے۔ مگر امریکی اور یورپی عمل دخل کے بعد ہی کیوں وہاں مسلکی قتل و غارت گری شروع ہوئی۔ کیوں پہلے عراق میں شیعہ مقامات مقدسہ یا شیعہ اکثریتی بازار میں بم دھماکہ ہوتا ہے پھر سنی اکثریتی علاقہ میں دھماکہ ہوتاہے۔ پھر پاکستان میں مزارات دھماکہ کی زد میں آتے ہیں؛ جماعت اسلامی کے رہنماؤں پر قاتلانہ حملہ ہوتے ہیں؛ پھر تبلیغی مراکز پر حملہ ہوتے ہیں؟ ہر فرقہ یا مسلک کی مرکز عقیدت کو نشانہ کون بنا رہا ہے؟ اس کا ناقابل تردید ثبوت دی ہندو دہلی کی 8/3/13کی اشاعت سے مل جاتاہے:
’برطانوی اخبار گارجین اور بی بی سی عربی کی کھوجی مہم میں بتایا گیا ہے کہ عراق حملہ کے دوران وزیر دفاع رمسفیلڈ نے خاص طور سے کرنل جیمس ایٹلی کو بلوایا۔ جس کو 1980ء میں ایل سلواڈور کی خانہ جنگی کے دوران اپوزیشن میں تفرقہ ڈالنے کی مہارت تھی۔ رمسفیلڈ نے 2003-06کے دوران اسی کرنل کو عراق میں تعینات کیا۔ اس کا کام تھا سنی مزاحمت کاروں کے مقابلہ شیعہ مزاحمت کاروں کی حمایت اور پکڑے گئے لوگوں سے معلومات اگلوانا۔ اس کام میں کرنل کاف سین کو بھی کام پر لگایاگیا۔ انہوں نے عراقی جنرل منظر الاسماری کے ساتھ مل کر تعذیبی تفتیشی مراکز جنرل عدنان ثابت کی دیکھ ریکھ میں چلائے۔ ایک مرکز میںآٹھ لوگوں کی ٹیم ہوتی تھی جسمیں ایک ایک افسر اور باقی تفتیش کار ہوتے تھے۔ قیدیوں کو کرنٹ لگانا،الٹا لٹکانا، ناخن اکھاڑنا،نازک مقامات پر چوٹیں مارنا ان کاطریقہ تھا۔ پھر ان سنی مسلمانوں کو ٹی وی پر ’انصاف کے ہاتھوں دہشت گرد‘ کے عنوان سے دکھایا جاتا تھا۔ جس میں وہ اپنے اوپر ٹاچر کی تفصیلات بتاتا تھا۔ یہ تفتیشی مراکز آگے چل کر ’موت کے دستہ‘ (Death Squad)تبدیل ہو گئے۔ جس کے نتیجہ میں عراق کی سڑکوں پر اوسطاً روزانہ ۱۰۰ لاشیں یاماہانہ ۳۰۰۰ لاشیں ملتی تھیں۔(دی ہندو دہلی گارجین لندن کے تعاون سے 8/3/13)
ہندوستانی سنگھی سیاست داں سبرامنیم سوامی جو ہارورڈ میں پڑھاتے تھے اور اسرائیل اور آر ایس ایس سے قریبی تعلقات ہیں، انہوں نے بی جے پی کو مشہور زمانہ مشورہ دیا کہ ’بی جے پی اگر الیکشن 2014ء جیتنا چاہتی ہے تو اسے (۱)مسلمانوں کو منشتر کرنا ہوگا(۲)ہندؤوں کو متحد کرنا ہوگا۔ اور مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس معاملہ میں ہمارا ساتھ دے گا۔ (اس فرقہ کا نام بھی لیا ہے)
اس ایجنڈہ پر قدیم زمانہ سے ہی عمل ہو رہا ہے، حکومت چاہے جس کی ہو جیسا کہ پنڈت نہرو کے خط سے ظاہر ہے۔ ہمارے ملک میں ہونے والے واقعات اور رحجانات خصوصاً مسلمانوں کے لحاظ سے روزانہ حالات دگرگوں کرنے کی سازش میں یہ حربہ خصوصا ًاہمیت رکھتا ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرح سے تقسیم کرو۔ خصوصا مسلکوں کی آڑ میں اور ایک دو گروہوں کو پوری طرح اپنی سرپرستی مہیا کراؤ۔ راجستھان میں گہلوت صاحب کی حکومت کی تشکیل میں صرف ایک مخصوص مسلک کے لوگوں کو حج کمیٹی، وزارت وغیرہ دی گئی۔ وہاں اسی مسلک کی ایک نوزائیدہ تنظیم سے گزشتہ سال 2013ء میں ایک سرحدی مقام پر سیرت کانفرنس کراکر مسلکی زہر اگلوایا گیا۔ اس فرقہ وارانہ نفرت سے بھر پور پروگرام کے بعد حکومتی اہلکار دوسرے فرقہ کے کارکنان سے مل کر مشورہ دیتے رہے کہ آپ علی گڑھ کے قریب کے رہنے والے فلاں مولوی صاحب کو بلوا کر اس تقریر کا جواب دیجئے۔ 23/4/13کے ہمارا سماج دہلی کے شمارہ میں پہلی خبر کی سرخی اس طرح ہے:
’مسلک کے نام پر بہنے والی ملک میں خون کی ندیاں
بھارتی مسلمانوں کے مابین مسلکی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کے لیے صہیونی طاقتوں نے بنایا خفیہ منصوبہ
وزارت داخلہ کے پاس خفیہ اطلاعات موجود‘
پوری رپورٹ میں نامہ نگار سلیم خاں نے نہایت تفصیل سے بتایا کہ بھگوا تنظیم کی شمولیت کے ساتھ یہ مہم شروع کی گئی ہے۔ راجدھانی دہلی میں کئی خفیہ میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ ملک میں حساس مقامات کی نشان دہی کر کے مہروں نے نفرت پھیلانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ دہلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں کئی راؤنڈ میٹنگ ہو چکی ہے۔ وغیرہ(ہمارا سماج،23/4/14)
مالیگاؤں دھماکہ میںملزم کرنل پروہت نے ہی مسلمان لڑکوں کو بہکا کر انہیں قبرستان میں شب برات کے رات دھماکہ کرنے کو کہا تھا۔ اس سے وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، تب آر ایس ایس کی ٹیم کو دھماکہ پرلگایاگیا۔ ویسے یہ بھی یاد رہے کہ اپنی گرفتاری کے وقت کرنل پروہت عربی سیکھ رہا تھا۔ ان سب حقائق کے پیچھے اصل منشا جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عمومی میڈیا جس طرح مسلمانوں کی مسلکی کشمکش کوبڑھا چڑھا کر پیش کرتاہے وہ کسی سے چھپا نہیںہے۔ اس کا ایک نمونہ ہندوستان کے سب سے ماڈرن،لبرل، سیکولر اور سب سے زیادہ بکنے والے اخبار ٹائمس آف انڈیا ایران-امریکہ ایٹمی معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے اداریہ میں لکھا:
’امریکہ سے ایران کے اختلافات حل ہو جانے کے بعد دنیا میں شیعہ، سنی طاقتوں اور یہودیوں مسلمانوں کے درمیان طاقت کا نیا توازن ابھرے گا۔۔۔نئی دہلی کو بھی موقع ہوگا کہ وہ ان ممالک سے زیادہ سختی سے مذاکرات کر سکے جو اس معاہدہ سے متاثر ہوں گے سوال صرف یہ ہے کہ کیا نئی دہلی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مطلوبہ عزم وارادہ رکھتاہے۔‘
(ٹائمس آف انڈیا، دہلی اداریہ26/11/13)
راشٹریہ سہارا کے مالک کے اسرائیل سے خوش گوار تعلقات راز نہیں ہیں۔ اس وقت یہ اخبار ہندوستان میں سب سے زیادہ ایڈیشن نکال رہا ہے۔ انقلاب کو دینک جاگرن کے مسلم دشمن مالکوں نے خرید کر کئی شہروں سے اس کے ایڈیشن نکال دیے ہیں۔ آزاد ہند بھی کسی لالہ جی نے خرید لیا ہے۔ لکھنو کا قومی خبریں بھی گپتاجی کا ہے او ردہلی، دہرہ دون، لکھنو سے نکلنے والا حالات وطن بھی گپتا جی کا ہے صحافت کا رحجان بھی مسلکی معاملات میں رپورٹنگ سے لے کر تجزیہ تک ایک مخصوص فرقہ کی ہی نمائندگی کرتا ہے۔ بقیہ اکا دکا اخبارات ہیں جو شاید بازار کے تقاضوں اور مجبوریوں کے باوجود ملت میں انتشار کی سپاری نہ لے رہے ہوں۔ جس طرح اردو اخبارات کے صحافیوں نے امریکی صدر بُش کی دعوت پرامریکہ کا دورہ کرکے اپنی فوٹو اپنے ہفت روزہ اخباروں اور ماہناموں میں شائع کرائی ہیں وہ اردومیڈیا کے رویہ کا پتہ دے رہی ہیں۔ بات بہت تلخ ہے مگر کسی بھی اخبار خصوصا ًہفت روزہ کو پندرہ روزتک غور سے پڑھ لیجئے سب معلوم ہو جائے گا کہ تھالی میں گھی کدھر ڈھال دیکھ رہا ہے۔ حالیہ انتخابات کے آخری دن دہلی کے کئی اردو اخباروں میں مودی کی فوٹو کے اشتہار صفحہ اول پر لگائے تھے۔
مساجد پر قبضہ کی شر انگیز مہم
ہر جماعت اور فرقہ کو کہیں سے بالواسطہ یابلاواسطہ بتایا جارہاہے کہ مسلمانوں میں اثر ونفوذ کی اصل جگہ مساجد ہیں۔ اس لیے مساجد و منبر پر قبضہ کرو۔ ہمارا سماج کی رپورٹ میں بھی اس کا ذکر ہے کہ کس طرح ممبئی میں اہل سنت کہلانے والے تبلیغی مساجد پر زور زبردستی اور طاقت کے بل پر قبضہ کرناچاہتے ہیں اور یہی تبلیغی حضرات اپنے حلقہ اکثریت میں دوسروں کو مارپیٹ اور طاقت کے استعمال اور بد زبانی کانشانہ بناتے ہیں۔ دہلی کے شاہین باغ کی مسجد میں تبلیغی حضرات کا رویہ کوئی شاذ مثال نہیں ہے، پورے مغربی یوپی بلکہ ہر تبلیغی اکثریتی علاقہ میں یہی حال ہے۔ بلکہ یہ تو خود دیوبندی علما تک کو درس قرآن نہیں کرنے دیتے۔ جہاں جہاں زور چلتا ہے درس قرآن یا کسی بھی غیر تبلیغی دینی سرگرمی میں رکاوٹ طاقت کے ذریعہ ڈالتے ہیں۔ مسجدوں پر قبضہ کی یہ جنگ ہر جگہ کشمکش اور نزاع کی وجہ بن رہی ہے۔ پہلے جہاں سب مسلک کے لوگ عبادت اور ذکر کر لیتے تھے؛ ہر ایک کی تقریرہو جاتی تھی، اب وہاں بھی غالب گروہ اجارہ داری Monopolyکی ذہنیت سے کام لے کر درس قرآن تک پر پابندی بلکہ تراویح کے ترجمہ تک پر پابندی لگا دیتا ہے۔ اگر قرآن بھی اس ملت کے لیے نقطہ اتحاد نہیں بن سکتا؛ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی تعلیم بھی نہیں بن سکتی؛ تو پھر ہم نے کلمہ کسی بات کا پڑھا ہے؟ اکرام مسلم کے نام کے نام پر اب صرف اپنی تنظیم اور جماعت کا اکرام رہ گیا ہے اور اس کو مزید شدت سے حکومتوں کے تعاون سے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
NGOs
امت کے انتشار میں بڑا رول بیرونی سرمایہ سے چلنے والے غیر سرکاری ادارہ این جی اوزہیں جودرحقیقت بیرونی طاقتوں کی بالواسطہ فنڈنگ سے مسلم ممالک میں جہالت، غریبی، بھکمری، صحت، حقوق نسواںکے نام پر اربوں ڈالر کی ہیر پھیرکررہے ہیں۔ حال یہ ہے کہ ماضی میں جو کام عیسائی مشنری کرتے تھے، وہ کام مسلمانوں میں اعتبار بناکر گھس پیٹھ کرنے کا کام این جی او زکر رہے ہیں۔ خصوصا حقوق نسواں کے نام پر ملت کی نئی نسل اور پختہ عمر دونوں کے دلوں ودماغوں میں اسلام کی تعلیمات کے تعلق سے شک، شبہ، بغاوت کے جذبات بھڑکاتے جا رہے ہیں۔ تعلیم نسواں کے نام پر مغربی عریاں تہذیب کو رواج دیاجا رہا ہے اور ایک ایسا مشتعل ذہن بنایا جا رہا ہے جو خود دین سے متصادم ہے اور دین کی اشاعت کی ہر کوشش سے متصادم ہے۔ مغربی اسلام دشمن طاقتیں ان این جی او کو فراخ دلی سے امداد دیتی ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹر شکیل کی رہائی تک امریکہ نے پاکستان کی ۳۳ ملین ڈالر کی مدد روک دی تھی۔
اسلام کی ڈیڑھ ہزار سالہ عروج و زوال کی تاریخ میں ہر فیصلہ کن موڑ پر ہمیں کھلم کھلا دشمنوں کے مقابلہ آستین کے سانپوں نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عباسیوں کے خلاف ہلاکو خان کو بغداد پر حملہ کرنے کی دعوت دینے والا بھی کلمہ گو تھا جس کے نتیجہ میں بغداد بے مثال بربادی اور قتل و غارتگری کا شکار ہوا۔ ایک کروڑ چھ لاکھ مسلمان مقتول ہوئے اور علمی، تہذیبی، سیاسی نقصانات کا خمیازہ آج تک امت مسلمہ بھگت رہی ہے۔ فرڈیننڈ کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے غداری کرنے والا بھی مسلمان تھا جس کے نتیجہ میں غرناطہ کی بربادی کا منظر دیکھا گیا۔ شہید ٹیپو سلطان کے ساتھ غداری کرنے والا اور سراج الدولہ کے ساتھ غداری کرنے والا بھی دشمنوں سے یہی سوچ کر ملا تھا کہ میں بچارہوں گا، جو لوگ لڑ رہے ہیں وہ مارے جائیں گے اور مجھے تو انعام واکرام سے نوازا جائے گا۔ مگر آج ان غداروں اور ملت میں انتشار پیدا کرنے والوں کو کون اچھے نام سے یاد کرتا ہے؟انہیں باطل کے ذریعہ دیے جانے والے انعامات اور جاگیریں کہاں ہیں؟ سب سے عبرتناک بات تو آخرت کا انجام بد ہے جو کہ ہمیشہ ہمیشہ کا مقدر ہوگا۔
آج ملت میں ایسے گھناؤنے رول ادا کرنے والوں کی کھیپ کی کھیپ تیار کی جا رہی ہے کیونکہ یہ دور مادہ پرستی اورمادہ سے شدید عشق کادور ہے۔ دشمنانان اسلام کے نوبل انعام، یونسیکو، یونیسیف کے برانڈ ایمبیسڈر، ڈالر، یورو، ریال، دینار کی کشش آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسری طرف اہل حق اور عام مخلص مومنین کے حق میں ماحول دن بدن سخت اور آزمائشوں سے بھرا ہوا بنایا جا رہا ہے۔ مجبورا ًدباؤ کے تحت طالع آزما اور زیادہ امیدیں رکھنے والے ملت کے افراد بآسانی اپنے ضمیر و ایمان کا سودا کر رہے ہیں۔ اس طرح کے حالات کی پیشین گوئی احادیث دجال میں پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کر دی گئی ہے۔
اب انہی آزمائش میں کھرا اترنے کی ذمہ داری امت مسلمہ پر ہے کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کاراستہ اپنا کر، جھگڑوں، انتشار سے پرہیز کرتے ہوئے صبرکے ساتھ منزل آخرت کی کامیاب کے حصول کے لیے رواں دواں رہیں اور راستہ پر کھڑے ہر گمراہ کرنے والے شیاطین انس و جن کے وساوس اور مکاریوں سے محتاط رہیں۔
امت مسلمہ کا اتحاد عالم انسانیت کے لیے انصاف، عدل، امن کے لیے ہے۔ یہ اتحاد بندوں کو اپنا غلام بنانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی بندگی میں لانے کے لیے ہے۔آج شاید وہ حالات ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی ہے کہ وقت آئے گا کہ دین پر چلنا ایسا ہوگا جیسا مٹھی میں انگارہ لینا۔ ایسے حالات میں راہ حق پر جمے رہنا اللہ تعالی کی طرف سے عظیم لافانی اجر وکامیابی کے حصول کا یقینی ذریعہ ہے۔
اللہ ہر مسلم کو اس سعادت کے حصول کے لیے متحد ہو کر محبت اور رحمت کے ساتھ جد وجہد کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *