کل ہند مہم’’وحدت امت رسولؐ‘‘

’ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم ِ دین یا ارشاد و تلقین یا دعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کے لیے قائم ہیں اوراپنی اپنی جگہ مفید خدمات بھی انجام دے رہی ہیں۔ ان میں بہت سے علماء، صلحا اور مخلصین کام کر رہے ہیں۔ اگر یہی متحد ہو کر تقیسم کار کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر اور امکانی حد تک باہم تعاون کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری جماعت کو اپنا دست و بازو سمجھے اور دوسرے کے کام کی ایسی ہی قدر کرے جیسی اپنے کام کی کرتی ہے تو یہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے نظام میں الگ رہتے ہوئے اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں اور ایک عمل کے ذریعہ اکثر دینی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہیں۔‘‘
مفتی اعظم مولانا شفیع عثمانیؒ، مفسر معارف القرآن(وحدت امت،ص۲۸-۲۹)
’’میں نےجہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوںتباہ ہو رہے ہیں، تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ایک ان کا قرآن چھوڑ دینا ،دوسرے ان کے آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی۔ اس لیے میں وہیں سے عزم کرکے آیا ہوں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیاجائے۔ بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کیے جائیں۔ بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدل کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔‘‘
شیخ الہند محمود الحسنؒ(اسیر مالٹا)
’’ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔ جب تک وجہ تکفیر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے اور کلمہ اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سے ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔‘‘
اعلی حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلویؒ(کتاب تمہید الایمان، طبع اول)
’’مختلف مذاہب(مسالک) کے اعتقادی اختلافات تو نہ دور کیے جاسکتے ہیں نہ ان کو دور کرنا ضروری ہے۔ صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہر گروہ اپنے عقیدے پر قائم رہے اور سب ایک دوسرے کے ساتھ رواداری برتیں۔ اس کے لیے ہم مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
(مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ،تصریحات)
’’شریعت کے مقاصد میں سے ایک مقصد لوگوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا ان کی صفوں کو یکجا کرنا اور ان کو ہراس چیز سے دور رکھنا ہے جو ان کی مجموعی اجتماعیت کو توڑ دے۔‘‘
(امام محمد بن ناصر الدین البانیؒ،رمضان اجتماعیت کی یاد دہانی)
’’صحابہؓ اور تابعینؒ کے زمانے سے یہ باتیں چلی آرہی ہیں اور کسی نے نہیں کہا کہ یہ جائز ہے اور یہ ناجائز۔ سارے گروہ متفق تھے کہ سب باتیں جائز ہیں۔ ایک عمل ٹھیک ہے لیکن یہ ذرا زیادہ اچھا ہے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ عمل کیا اس لیے زیادہ اچھا ہے وہ اختلاف ضرورکرتے تھے لیکن سلف میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ عمل سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔‘‘
(شاہ ولی اللہ دہلویؒ،حجۃ اللہ البالغۃ،ج۱)
’’وہ لوگ جو ہمارے سنی اور شیعہ بھائیوں میں اختلاف ونفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو دشمنان اسلام کے ساتھ باہم مل کر سازش کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے مسلمانوں پر غالب آنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ امریکہ اور روس کے آلۂ کار ہیں۔ مسلمان دنیا کے اس سرے پر رہتے ہوں یا دوسرے سرے پر ، ان کے درمیان پیدا کیے جانے والے افتراق سے ہمیں بیدار رہنا چاہیے۔‘‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *