اسیمانند:اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

سوامی اسیمانند نے دوسال قبل اعتراف جرم کرکے مسلمانوں کو خوش کردیا تھا اور مجھ جیسے لوگ بے ساختہ پکار اٹھے تھے’’ ببول کی شاخ پر گلاب کا پھول‘file:///C:/Users/Yaseen/Downloads/jews%20by%20mubashir.inp‘ لیکن اس طویل عرصے میں جبکہ نہ صرف خوشبوبلکہ ساری پنکھڑیاں اور پتے تک بکھر گئے اورچمن میں صرف خار ہی خار رہ گئے تو پھر ایک بار کارواں جریدے کی مدیر منتظم لینا گیتا رگھوناتھ کا ایک طویل مضمون بادِ نسیم بن کر نمودار کیاہوا کہ مسلمانوں کی باچھیں کھل گئیں ۔ اس مضمون کا عنوان ’’مومن‘‘ ہے ۔ دین اسلام کا نہیں بلکہ ہندودھرم کا شردھالو۔اس نئے مضمون میں سوائےاسیمانند کی جانب سے ان دھماکوں کو حاصل سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کے آشیرواد کے سوا کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ اس اعتراف کے سبب امت مسلمہ یکایک سکون کا سانس لیا اور اس کے ذریعہ کانگریس پارٹی کی تمام بے اعتنائیوں پر پردہ ساپڑگیا ۔ لوگوں کو ایسا لگنے لگا کہ دو سال سے سویا ہوا شیر بیدار ہوا چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ انصاف کی توقعات روشن ہونے لگیں۔ اس دوران افضل گرو، اجمل قصاب اور مرزہ حمایت بیگ کیلئے پھانسی کی سزاؤں کا اعلان تو سننے میں آیا تھا مگر کسی پروہت ، پرگیہ کندنانی یا بجرنگی کیلئے یہ الفاظ سننے کیلئے کان ترس گئے تھے ۔
نام نہاد دانشورانِ ملت پر اس مثبت اشارے کا اثر یہ ہوا کہ وہ چیخ چیخ کر اعلان کرنے لگے لو سنگھ پریوار کا دہشت گرد ہوناثابت ہوگیا۔ اس سے آگے بڑھ کرپر جوشسیاسی رہنما سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کی گرفتاری کا بچکانہ مطالبہ کرنے میں جٹ گئےحالانکہ سنگھ پریوار پر دہشت گردی کا الزامثابت کرنے کیلئے تو گاندھی جی کا قتل ہی کافی تھا اورسوچنے والی بات یہ ہے کہ جوکانگریسینامرد سرکارفرد جرم میں نامزدعاملہ کے رکن اندریش کمارکو قومی تفتیشی ایجنسی کے سامنے حاضر کرنے کی جرأت نہ کرسکی وہ بھلا آرایس ایس کے سربراہ کو کیا گرفتار کرے گی؟ آزادی کے ۷۰ سال بعد بھی ہم جمہوری نظام کا یہبنیادینقطہنہیںسمجھسکےکہاس میں اقلیتوں کی خوشامدکا شوروغوغا تو بہت ہوتا ہے مگر اس کی آڑ میں صرف اور صرف اکثریتی طبقہ کی ہی دلجوئی کی جاتی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس خبر کے باعث سنگھ کے اندر جو سراسیمگی پھیلی ہے اسی نے مسلمانانِ ہند کاپیمانۂ مسرت کو چھلکا دیا ہے۔
کارواں کےسرورق کی تحقیقی کہانی ویسے بالکل بے فائدہ بھی نہیں ہے ۔ دوسال کے طویل عرصے میں گیتا نےجس صبرو تحمل کے ساتھ طرح سوامی اسیمانند کےذہن کوکرید کرید کر اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ اپنے طویل مقالے کو دیگرمتعلقہ معلومات سے آراستہ کرکے جس خوبصورت انداز میں اس نے پیش کیا ہے وہ اپنے آپ میں ایک شاہکار ہے ۔ اس کے ذریعہ سے مسلمان اپنے دشمن کے ذہن کے اندر جھانک کر دیکھ سکتے ہیں ۔ اس کی نفسیات سے واقف ہو سکتے ہیں ۔ اس کے طریقۂ کار کو جان سکتے ہیں ۔اس کی کمزوریوں کا ادراک کرکےان سے فائدہ اٹھانے کی سبیل کرسکتے ہیں اوراس کی خوبیوں کو معلوم کرکے ان کا توڑ ایجاد کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ملت کو درپیش سنگین مسائل کا حل محض شکوہ شکایات یا مطالبات و مناجات سے نہیں ہوگااور نہ جذباتی نعرے و انتخابی جوڑ توڑکوئی خاص فائدہ پہنچائے گی بلکہ اس کیلئے دشمن کی حکمت عملی کا گہرائی سے مطالعہ کرکے دین حنیف کی روشنی میں اپنا لائحۂ عمل تیار کرنے اور اس پر اخلاص و ایثارکےساتھ عمل پیرا ہونا ناگزیر ہے۔
نابا کمار عرف اسیمانندکا جنم ایک گاندھی بھکت وبھوتی بھوشن سرکارکے گھر میں ہوا۔ رام کرشن مشن کے مؤسس و مشہور ہندومفکر رام کرشن پرمہنس جن کا نعرہ تھا ’’رستے الگ الگ ہیں ٹھکانہ تو ایک ہے‘‘کے گاؤں کمرپوکورکا یہ نونہال سب سے پہلے پرمہنس کے شاگردِ رشیدسوامی وویکانند سے متاثر ہوا ۔ مشن کے آشرم میں بھکتی گیت سنتے گاتےجوان ہوا ۔ یہ سارے عوامل سنگھی ذہنیت کے خلاف تھے اس کےوالدینکی بھی خواہش تھی کہ وہ مشن کے خدمتِ خلق کے کاموں میں اپنی زندگی کھپا دے مگراس سے علی الرغم اس نے سنگھ پریوار کیلئے اپنی زندگی وقف کردی اور اب موت کو گلے لگانے پر شاداں و فرحاں ہے؟ یہ انقلاب کیوں کر برپا ہوا؟ اس پیچیدہ سوال کاجواب مذکورہ مقالے میں پنہاں ہے۔ اسیمانند نے گیتا کو بتلایا کہ جب میرے والد کو پتہ چلا کہ میں اور میرا بھائی آرایس ایس کے نظریےسے متاثرہیں تو انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ دیکھو یہ تنظیم گاندھی جی کی قاتل ہے اس لئے میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس سے تمہیں خبردار کردوں ۔
گاندھیائی باپ کی پندو نصائح بیٹوں پر اثرانداز نہ ہو سکیں ۔ آریس ایس کے مقامی رہنماؤں سے متاثر ہو کر نابا کمار کا بڑا بھائی سنگھ کا ہمہ وقتی کارکن بن گیا۔آرایس ایس نے اپنا کام بڑھانے کی خاطر ایکناتھ راناڈے اوربنست کمار بھٹ کو ناگپور سے بنگال بھیجا تھا ۔ بھٹ کی خوش اخلاقی اور راناڈے کی ذہانت نے ایک اجنبی صوبے میں نوجوانوں کا دل جیت لیا تھا ۔ یہ سارے لوگ چونکہ سوامی وویکا نند کے مقلد تھے اس لئے ایکناتھ راناڈے نے ان نوجوانوں کو رجھانے کیلئے وویکا نند کی تعلیمات کا سہارا لیا ۔ راناڈے سوامی وویکا نند کی تعلیمات و خطبات پر ایک کتاب تصنیف کی اور نوجوانوں کے یہ سمجھایا کہ وویکا نند نے ہندو قوم کو مخاطب کرکے یہ نعرہ لگایا تھا کہ اٹھو! بیدار ہوجاؤ! اور اس وقت تک نہ بیٹھوجب تک کہ مقصد حاصل نہ ہوجائے ۔
راناڈے کے مطابق سوامی وویکا نند سیکولرخیالات کے حامل نہیں تھے بلکہ رام کرشن مشن نے سرکاری فنڈحاصل کرنے کیلئے ان کی تصویر کو مسخ کرکے انہیں سیکولر بنا دیا۔ رام کرشن مشن میں تمام مذاہب کے تئیں رواداری کا ماحول تھا۔ عید اور کرسمس کا تہوار بھی منایا جاتا تھا لیکن راناڈے نے سمجھایا کہ یہ روایت سوامی وویکا نند کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ وویکانند نے تو کہا تھا کہ ’’کسی فرد کے ہندو مذہب ترک کردینے سے نہ صرف ایک آدمی کم ہوتا ہے بلکہ ایک دشمن کا اضافہ بھی ہوجاتا ہے‘‘۔ اس انکشاف نے نابا کمار کو رام کرشن مشن سے پوری طرح بدظن کردیا ۔ اس کی فکر و نظر میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ اس نے پھر کبھی بھی مشن کا رخ نہیں کیا۔ اپنی ایم ایس سی کی پڑھائی چھوڑ کر وہ سنگھ کا ہمہ وقتی کارکن بن گیا۔ آرایس ایس کی اس حکمت عملی کا توڑ جب تک پیدا نہیں کیا جاتا اس وقت تک اسیمانند جیسےمخلص اور فعال نوجوانوں کو اس کے چنگل میں پھنسنے سے بچایا نہیں جاسکتا۔
اپنے نصب العین سے اسیمانند کے لگاؤ کا یہ عالم ہے کہ فی الحال اس پر سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ حیدرآباد کی مکہ مسجد اور اجمیر کی درگاہ میں بم دھماکوں میں قتل،مجرمانہ سازش اور بغاوت کے الزامات ہیں۔دہشت گردی کی ان وارداتوں میں کم از کم ۸۲بے گناہ ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ مالیگاؤں کے دونوں بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی اس پرہے لیکن اس کی باقائدہ فرد جرم میں اس کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر کل کو یہ بھی ہو جائے تو کل ملاکر ۱۱۹لوگوں کے قتل میں وہ شریک رہا ہے اس لئے اس کو موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ان دھماکوں کے علاوہ ڈانگ ضلع میں اس نے جو قتل غارتگری مچائی اور معصوم لوگوں کو تہ تیغ کیا اس کو تو سرے سے جرم ہی نہیں سمجھا گیا اس لئے کہ وہ سب دھرم کی رکشا کرنے کیلئے کیا گیا تھا ۔
اسیمانند کو نہ تو قتل و غارتگری پر کوئی افسوس ہے اور اس کیلئے ملنے والی سزا پر حزن و ملال ہے۔ جس فاسدنظرئیے کے مطابق اس نے زندگی گزاری اس پراسے فخر ونازہے۔ وہ کہتا ہے کہ جیل کے لوگ یہ نہیں جانتے کہ میں نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا؟ میں ان حملوں میں ملوث ہوں یا نہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ جو بھی اچھا ہی ہوا اور جس نے بھی کیا اچھا کام کیا۔ اسیمانند نے بلا کسی ندامت کے گیتا کو بتلایا اسی امبالہ جیل میں ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے کو موہن داس گاندھی کا قتل کرنے کے سبب پھانسی دی گئی اور یہیں ان آخری رسومات ادا کی گئیں۔وہ سینہ پھلا کر کہتا ہے کہ جس کمرے میں مجھے رکھا گیا ہے وہیں ناتھورام کے بھائی گوپال گوڈسے نے ۱۸ سال کی سزا کاٹ چکا ہے۔ اپنے انجام سے متعلق اس کی پیشن گوئی یہ ہے کہ میرے ساتھ جو بھی ہو وہ ہندوؤں کیلئے باعثِ خیر وبرکت ہوگا۔ لوگوں میں ہندوتوا کا جذبہ پیدا ہوگا۔
بظاہر اپنی گفتگو سےاسیمانندنے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے نہ کوئی افسوس ہے اور نہ وہ اپنی موت سے خوفزدہ ہے لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ گجرات کے شبری آشرم سے فرار ہو کر ہری دوارکے باہر ایک گمنام گاؤں میں فرضی نام سےروپوش نہ ہوا ہوتا بلکہ اندریش کمار کی مانند بے خوفی کے ساتھ دندناتا پھر رہا ہوتا۔اسیمانند کو جب ڈھائی سال قبل سی بی آئی کے اہلکاروں نے دھردبوچا تو دسمبر ؁۲۰۱۰ اور جنوری ؁۲۰۱۱ کے اندراس نے دہلی اور ہریانہ کی عدالتوں میں اپنے جرائم کے اعتراف کا فیصلہ کرلیا ۔ اس وقت اسے ۲۴ گھنٹے تک عدالتی حراست میں رکھا گیا تھا تاکہ سوچ سمجھ کر بغیر کسی دباؤ کے اپنا بیان درج کرائے ۔
اسیمانند نے اس وقت کسی وکیل کا تعاون لینے سے انکار کردیا تھا لیکن بعد میں اس بیان کے ذرائع ابلاغ میں آجانے سے وہ بدحواس ہوگیا اور ہندو دہشت گردی پر ذرائع ابلاغ میں چھڑ نے والی بحث نے اسے بے چین کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوماہ بعد وہ دباؤ کا الزام لگا کر اپنے بیان سے مکر گیا ۔ اب اس کے ساتھ سنگھ پریوار کی جانب سے مہیا کردہ وکلاء کی فوج تھی ۔ اس کے مطابق اس بیان کو فاش کرکے ہندتوا کو بدنام کرنے کی اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ گیتا کے ساتھ اپنی گفتگو میں اسیمانند نے تسلیم کیا کہ اس پر کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی تھی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مکر جانا تھا تو آخر اس نے اعترافِ جرم کیا ہی کیوں ؟ اس کی دو وجوہات اس نے بیان کیں اول تو یہ کہ پولس کو سب کچھ پتہ چل چکا تھا۔ تمام ہی مشتبہ لوگ پولس کے چنگل میں آچکے ہیں اور میں اس زنجیر کی آخری کڑی ہوں اور مجھے بھی دھماکوں کے الزام میں گرفتار کرہی لیا گیا ہےتو سوچا کہ سب کچھ بول دینے کا یہ اچھا موقع ہے ۔ دوسری وجہ اسیمانند نے یہ بتائی کہ مجھے پتہ تھا میں پھانسی پر لٹکا دیا جاؤں گا لیکن ویسے بھی بوڑھا ہو چکا ہوں۔
ان تفصیلات کو پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ تیسری سب سے اہم وجہ اسیمانند نے چھپالی ہے۔ ممکن ہے اسے خفیہ ایجنسیوں نے وعدہ معاف گواہ بنانے کا لالچ دے کر اعتراف کرالیا ہو لیکن جب اس نے دیکھا کہ اس کے بیان پر سیاست کی روٹیاں سینکی جارہی ہیں تو لامحالہ اسے اپنا بیان بدلنا پڑا اس لئے کہ اب اس کی حالت نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کی سی ہو گئی تھی۔ اس اعتراف جرم کو لے کر مکہ مسجد دھماکے میں گرفتار ایک نوجوان کلیم کا نام کافی زور شور سے گونجا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کلیم کی خدمت نےاسیمانند کا ضمیرکو جھنجھوڑکر رکھ دیا اس کا تغیرِقلب ہو گیا جو آگے چل کر اس کے اعتراف کا سبب بنا ۔ جب اس بابت اسیمانند سے پوچھا گیا تو اس نے اس واقعہ سےصاف انکار کردیا۔ وہ بولا کلیم کو پتہ تھا کہ وہ بھی اسی جیل میں ہے لیکن ان دونوں کی سرے سےملاقات ہوئی ہی نہیں۔ پولس نے ایک جھوٹی کہانی اڑائی جو بہت بڑی خبر بن گئی ۔ اسیمانند نے شرارتا ً مسکرا کرپوچھا کہ کیا وہ کسی مسلم نوجوان کے تعلق اس طرح کی بات کر سکتا ہے؟
اسیمانند کا دماغ کس قدر خراب ہے اس کا اندازہ اس خط سے لگایا جاسکتا ہے جو اس نے اعترافِ جرم کے بعدصدرِپاکستان کو لکھا ۔ اسیمانند نے اس خط میں لکھا تھا اس سے پہلے عدالت مجھے پھانسی پر لٹکا دے میں حافظ سعید، ملا عمر ، جہادی دہشت گرد رہنما اور پاکستان میں موجود جہادی دہشت گردوں کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں ۔ اس کیلئے یا تو آپ ان لوگوں کو میرے پاس روانہ کریں یا حکومتِ ہند سے کہہ کر مجھے اپنے پاس بلوائیں ۔ اس احمقانہ پیش کش سے قبل اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ایک خط صدرِ مملکت کو بھی قلمبند کیا تھا ۔ اگر اسیمانند اپنی پاکستان والی پیش کش ہندوستانی صدر کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے مطالبہ کرتا کہ سنگھ پریوار کے سارے دہشت گردوں کو میری خدمت میں بھیجا جائے تاکہ میں ان کی اصلاح کرسکوں تو کوئی بات بھی ہوتی لیکن جو خودسراپا اصلاح کا محتاج ہے وہ بھلا دوسروں کی اصلاح کیا کرے گا؟ اب اس کی اور اس کے چیلوں کی اصلاح کا سامان سوائے پھانسی کے پھندے کے کوئی اور نہیں ہے۔
اسیمانند ویسےخوش قسمت ہے جو جیل کی چہار دیواری میں محفوظ ہے وگرنہ باہر کی دنیا میں سنیل جوشی جیسے ہندو یودھا کو قتل کردیا گیاہے۔جب اسیمانند نے کرنل سری کانت پروہت سے اس کے متعلق دریافت کیا تو اسے بتایا گیا چونکہ اس نے ایک قبائلی رہنما اور ایک کانگریسی لیڈر کے بیٹے کا قتل کیا تھا اس لئے ممکن ہے اسے بدلے کی غرض سے قتل کردیا گیا ہو ۔ یہ نہایت احمقانہ دلیل سے جس سے اسیمانند نے اپنے آپ کو بہلا لیا۔ سنیل جوشی کے ساتھ رہنے والے گھنشیام ، استاد، میہول اور راج بھی اس کے قتل کی تاریخ سے لاپتہ ہیں۔ آخرالذکر دونوں ملزمین پر بسٹ بیکری میں ۱۴ بے گناہوں کو زندہ جلا کر مار دینے کا الزام بھی ہے۔ ان کے علاوہ ڈانگے اور کالسنگارے جو سمجھوتہ دھماکے میں براہِ راست ملوث ہیں دس لاکھ روپئے کے انعام کے باوجود کہیں نظر نہیں آرہے ۔ گمانِ غالب یہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو آرایس ایس نے اپنے لئے خطرہ جان کر سنیل جوشی کے پاس روانہ کردیا ہوگا ۔ کل کو اگر اسیمانند جی بھی باہر آتے ہیں تو ان کا بھی ٹکٹ کٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اس لئے اسی کی بھلائی اس میں ہے کہ پاکستان کے بجائے اپنے پریوار کی چنتا کرے ورنہ اس گھر کو گھر کے ہی چراغ سے آگ لگ جائیگی اور اس میں اس کا پنا بھی اوم سواہا ہو جائیگا۔
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *