انتخابی سیاست کا رنگ بدلتا منظر نامہ

انتخاب کا جادو سر چڑھ بول رہا ہے ۔انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آتی جارہی ہے سیاسی منظر نامے میں نت نئے رنگ شامل ہوتے جارہے ہیں۔ اس میں سب سے تازہ اورانوکھا اضافہ رام ولاس پاسوان کا بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملالیناہے۔ ایک ماہ قبل انہوں نے یہ اعلان کرکے مسلمانانِ ہند کو خوش کردیا تھا کہ اب ان کے ایک ہاتھ میں کانگریس کا ہاتھ اور دوسرے میں لالو کی لالٹین ہوگی جس کی روشنی میں وہ زعفرانی تاریکی کا پردہ چاک کردیں گے۔ لیکن اب یہ حال ہے کہ ان کا ہاتھ راج ناتھ کے ساتھ ہے اور سر مودی کے چرنوں میں ہے۔جن سادہ لوح لوگوں نے سیکولر سیاسی جماعتوں سے بڑی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں ان کے لئے رام ولاس پاسوان تازیانۂ عبرت ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ آخر یہ کیا ہوگیا؟ گجرات فساد کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دینے والے واحدسیکولررہنما نے مسلمانوں کی پیٹھ میں ایک ایسے وقت میں چھرا گھونپا جبکہ ان میں اورفسطائیت کی ننگی تلوار میں صرف سوا نیزے کا فاصلہ رہ گیاہے۔
لیکن جو لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستانی سیاست کی بنیاد کا پتھرسیکولرزم یعنی ابن الوقتی ہے اور اس گندے تالاب میں جو جس قدر بڑا سیکولر ہےوہ اتنا ہی بڑا موقع پرست بھی ہےان کے لئے رام ولاس پاسوان کی قلا بازی میں کوئی حیرت کی بات نہیں بلکہ یہ آنے والے حالات کا پیش خیمہ ہے۔ پاسوان نے مسلمانوں کو دھوکے میں رکھنے کے بجائےبروقت اپنے پتے کھول دئیے اس لئے لائق شکر و تحسین ہیں ۔ رام ولاس پاسوان کا ایک ننھا ساخاندان ہے اور ایک چھوٹی سی پارٹی ہے اس لئے انہوں نے لالو اور کانگریس سے پانچ نشستوں کا مطالبہ کیا۔ ایک اپنے لئے دواپنے اہل خانہ یعنی بھائی اوربیٹے کیلئے اور دو پارٹی کے اہلکاروں کیلئے کس قدر معقول مطالبہ تھا! ترازو کے دونوں پلے برابر تھے اور درمیان کا کا نٹا وہ خود تھے۔ کانگریس نے کہا اپنے علاوہ دو جمع دو چار کی کیا ضرورت؟ صرف دو لے لو۔ چاہو تو دونوں پارٹی والوں کو دے دو یا اعزہ و اقارب کو ہدیہ کردو نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک دونوں میں برابر برابر تقسیم کردو۔
پاسوان جی گھاگ اور حقیقت پسندسیاستدان ہیں۔ انہیں پتہ ہے تین نشستوں پر لڑنے کا مطلب ایک پر کامیابی ہے۔ ان میں سے کم از کم ایک ایک تو نتیش اور بی جے پی والے لے ہی جائیں گے اور پھر اکیلا چنا کیا خاک بھاڑ جھونکے گا۔ نتیش کمار کے فراق میں پریشان بی جے پی نے سوچا موقع اچھا ہے۔ ویسے بھی سارے بہار میں لڑنے کیلئے اپنے پاس امیدوار نہیں ہیں اس لئےکیوں نہ پاسوان کو اپنے ساتھ شریک کرلیا جائے۔ انہوں نے کہا دو نشستوں کو لے کرکانگریس اور لالو سے تمہارا جھگڑا ہے تو ایسا کرتے ہیں کہ پانچ تو ہم اپنی جانب سے دئیےدیتے ہیں اور دو ان دونوں کی جان کا صدقہ ہے ۔ رام ولاس پاسوان کی تو گویا لاٹری لگ گئی ۔وہ گجرات کے فسادات کو بھلا کر فسطائی خیمے میں داخل ہو گئے اور ان قیاس آرائیوں کو سچ ثابت کردیا کہ ۲۰۰۲ءمیں استعفیٰ کا بنیادی سبب کوئلہ اور معدنیات کی وزارت کاچھن جانا تھا، گجرات کافساد توبس ایک بہانہ تھا۔جولوگ پاسوان کے پالہ بدلنے کو ہوا کے رخ کی تبدیلی کا نام دے رہے ہیں انہیں شاید یاد نہیں کہ گزشتہ انتخاب سے قبل بھی انہوں نے پہلی یو پی اے سرکار کو خیرباد کہہ کر اپنے آپ کو ازخود برباد کرلیا تھا۔ کوئی بعید نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کوپھر ایک بار دوہرائے۔
کانگریس کی آج کل عجیب حالت ہے کہ نت نئی ٹھوکروں کے سبب وہ دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے اس کے باوجود اس کی عقل ٹھکانے نہیں آرہی ہے۔ آندھرا پردیش میں اس نے ایک بڑا جوا کھیلا اور کم از کم تلنگانہ کی حد تک اس میں کامیابی بھی حاصل کی لیکن اب اس کا فائدہ اٹھانے کے بجائے اس کی مٹی پلید کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ کبھی تو ٹی آرایس کے باغیوں وجئے شانتی وغیرہ کااپنی پارٹی میں استقبال کرکے سونیا گاندھی راج شیکھرراؤ کی دلآزاری کردیتی ہیں ،تو کبھی جئے رام رمیش جیسے ناعاقبت اندیش مرکزی وزیر حیدرآباد میں جاکر اعلان کردیتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر تقسیم کے خلاف تھے نیز تلنگانہ کی عوام پر احسان جتاتے ہوئے فرماتے ہیں ہم نے تمہیں حیدرآباد دے دیا اب اور کیا چاہئے۔ گویا یہ ان کے ابا حضور کی میراث تھی جو انہوں نے تلنگانہ والوں کو خیرات کردی۔ اس طرح ایک طرف بی جے پی دشمنوں کو دوست بنارہی ہے تودوسری جا نب کانگریس دوست کو دشمن بنانے پر تلی ہوئی ہے ۔
جہاں تک بی جے پی کاسوال ہے راج ناتھ تو یقینا ً کبھی مسلمانوں کو قریب کرنے کیلئے معافی مانگنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں تو کبھی پاسوان کو اپنے جال میں پھنسالینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن نریندر مودی کا رویہ ان کے باکل بر عکس ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پنجاب میں بی جے پی کا سب سے مقبول چہرہ نوجوت سنگھ سدھو ہے۔ میڈیا سے لے کر انتخابی میدان تک ہر جگہ اس نے بی جے پی کا ڈنکا بجایا ہے۔نہ صرف وہ خود رکن پارلیمان ہے بلکہ اس کی اہلیہ نوجوت کوربھی رکن اسمبلی ہے اس کے باوجود مودی کے لدھیانہ میں ہونے والے خطاب عام سے سدھو حیرت انگیز طریقہ پرغائب تھا ۔ جب اس سے پوچھا گیا تو وہ بولا مجھے دعوت ہی نہیں دی گئی تو میں کیسے جاتا؟ اخبار نویسوں نے جب ریاستی صدرمکل شرما سے دریافت کیا کہ سدھو کو دعوت کیوں نہیں دی گئی تو جواب ملا پارٹی کی نشست میں ارکانِ جماعت کو دعوت کی کیا ضرورت ؟ انہیں ازخود آنا چاہئے۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں حضرات جھوٹ بول رہے ہیں اور اپنی اوٹ پٹانگ بات کو گھما رہے ہیں ۔ سچی بات سدھو کی اہلیہ نے کہہ دی کہ سدھوکی مقبولیت کے پیش ِ نظر اس کےتئیں پارٹی کے لوگ حسدوکینہ کا شکار ہیں ۔
نریندر مودی کی فطرت اور طریقۂ کار سے جو لوگ واقف ہیں ان کیلئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ۔ مودی نے جس طرح اپنے بچپن کے دوست ہرین پنڈیا کو قتل کروایا؛ اپنے پیش رو کیشو بھائی پٹیل کو رسوا کیا ؛ اپنے وزیر داخلہ گوردھن جھڑپیہ کا بیڑہ غرق کیا؛ اپنے حریف سنجے جوشی کوپارٹی سے ذلیل کرکے نکلوایا اور اپنی ہی پارٹی کے صدر نتن گڈکری کو ٹھکانے لگوایا؛ اسے دیکھ کر سدھو کی حالت پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے ۔ مودی نے آندھرا میں کانگریس کے رویہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا وہ بچے کی ولادت کے وقت ماں کو مار دیتی ہے۔ لیکن اس کا اپنا حال یہ ہے کہ مادرِ رحم میں اسقاطِ حمل کرواکر اپنے حریفوں کا خون کردیتا ہے۔ سنگھ پریوار میں ہر کوئی اس سے دہشت زدہ ہے اس لئے کوئی اس کو آنکھ نہیں دکھاتا۔ ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتر پردیش بی جے پی میں ایک سے بڑھ کر ایک دھرندر سیاستدانوں کے ہوتے ہوئے وہاں کا نگراں گجرات کا بدنامِ زمانہ سابق وزیر داخلہ امیت شاہ ہو جائےجسے ایک زمانے میں عدالت نے گجرات سے تڑی پار کردیا تھااورجوہنوزمختلف جرائم میںمطلوب ہے؟
نریندر مودی کو اپنی پارٹی میں کسی پر اعتماد نہیں ہے اور خوداپنے آپ میں بھی خوداعتمادی کا فقدان ہے اسی لئے ابھی تک اس نے اپنے حلقۂ انتخاب کا اعلان نہیں کیا۔ وہ اس بات کا فیصلہ نہیں کر پارہا ہے کہ لکھنؤ سے انتخاب لڑے یا نہ لڑے؟ حالانکہ اٹل جی اب وہاں سے انتخاب لڑنے کا دعویٰ کرنے سے رہے اس کے باوجود وہ چاہتا ہے اپنے محفوظ ترین حلقۂ انتخاب گاندھی نگر سے میدان میں کودے لیکن وہاں مسئلہ اڈوانی جی کا ہے ۔ اڈوانی جی ویسے تو خاصے بوڑھے ہو چکے ہیں لیکن وزیراعظم بننے کا ارمان ہنوز جوان ہے۔ انہیں اب بھی امید ہے کہ اگر بی جےپی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر جائے اور اکثریت محروم رہ جائے۔ اس صورت میں اگر دیگر جماعتیں مودی پر اتفاق نہ کریں تو اٹل جی کی طرح ان کے بھاگ(تقدیر) کھل سکتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے یہ پیشن گوئی کی ہے کہ اس بار بی جے پی کو سب سے زیادہ اور کانگریس کو سب سے کم نشستیں ملیں گی لیکن یہ نہیں کہا کہ بی جے پی کو اکثریت حاصل ہو جائیگی اس لئے کہ اگر ایسا ہو جائے تو ان کو کو ن پوچھے گا؟
اڈوانی جی۲۰۰۴ ء اور۲۰۰۹ءمیں وہاں سے انتخاب لڑ چکے ہیں لیکن ان دونوں انتخابات کے نتائج میں یہ فرق ہے کہ دوسری مرتبہ انہیں اپنے حریف کانگریسی امیدوار سے ایک لاکھ ووٹ کم ملے تھے ۔ اس وقت اڈوانی جی کو احساس ہوگیا تھا کہ مودی کے زیر اثر مقامی یونٹ ان کا خاطر خواہ تعاون نہیں کررہی ہے ۔اس لئے پہلی مرتبہ اڈوانی جی کا سارا خاندان میدان میں اترا ہوا تھا ۔ اس وقت تو خیر مودی کے خواب ریاست کی حد تک محدود تھے اب تو وزیر اعظم بننے کے سپنے سجا رہا ہے اگر اڈوانی جی نے گاندھی نگر سے انتخاب لڑنے کا اپنا ارادہ نہیں بدلا تو آخری عمر میں ان کی ضمانت ضبط ہوگی ہی ہوگی۔اڈوانی جی کی بھلائی اسی میں ہے کہ چپ چاپ لکھنؤ سے الیکشن لڑیں مگر امیت شاہ سے ہوشیاررہیں۔ (مضمون لکھے جانے کے بعد یہ تماشہ سب نے دیکھ ہی لیا کہ گاندھی نگر سے ہار جانے کے خوف سے اڈوانی نے بھوپال سے لڑنے کی ضد کی اور بالآخر بڑی فضیحت اورغالباً سنگھ کی یقین دہانی کے بعد آمادہ ہوئے)
اس بار لال کرشن اڈوانی کی حالت قابلِ رحم بنی ہوئی ہے۔ دوسال قبل مارچ ہی کے مہینے میں جب ممتا بنرجی نے ریلوے بجٹ کے موقع پر ہنگامہ کھڑا کردیا تو بی جے پی وسط مدتی انتخاب کے سپنے سجانے لگی تھی ۔ اڈوانی جی نےغیر رسمی انتخابی بگل بجا دیا تھا اور بدعنوانی کے خلاف ملک گیر یاترا پر نکل کھڑے ہوئے تھے ۔وہ ایسا زمانہ تھا جب آئے دن یو پی اے کے نت نئے گھپلے منظر عام پر آرہے تھے ، مہنگائی آسمان کو چھورہی تھی اور منموہن کی بے حس سرکار گھوڑے بیچ کر سورہی تھی۔ اڈوانی جی نے موقع غنیمت جانا اور وی پی سنگھ کی طرح بدعنوانی کے مسئلہ پر عوام کو غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دے کر انتخاب جیتنے کا منصوبہ بنایا۔اگر ملک کا سیاسی منظر نامہ نہ بدلتا تو بی جے پی بدعنوانی کا شور مچا رہی ہوتی اور مہنگائی کا رونا رورہی ہوتی اور اس کے جواب میں کانگریس والے فرقہ واریت اور فسطائیت کی دہائی دےرہے ہوتے اورنہایت روکھا پھیکا انتخاب ہو جاتا ۔ ممکن ہےیو پی اے کسی طرح مرتے پڑتے پھر کامیاب بھی ہوجاتی لیکن قدر ت کو منظور تھا کہ اس گناہِ بے لذت کے ذریعہ عوام کی تفریح کاکچھ سامان کر دیا جائے۔
اڈوانی جی اپنی یاترا گجرات سے نکالنا چاہتے تھے لیکن اسی وقت مودی نے سدبھاؤنا کا ناٹک شروع کرکے اس کی ہوا نکال دی ۔ جب یاترا کرناٹک میں پہنچی اور وزیراعلیٰ یدورپاّ بدعنوانی کے الزام میں جیل بھیج دئیے گئے اور وہیں سے اڈوانی جی کے ستارے گردش میں آگئے۔ کرناٹک میں بی جے پی منقسم ہو گئی اور اس کی جنوبِ ہند میں پہلی ریاستی حکومت شکست فاش سے دوچار ہو گئی۔ یہ انتخابی سیاست کا پہلا دلچسپ موڑ تھا ۔ اس کے بعدنتن گڈکری پر بدعنوانی کے سنگین الزامات لگے اور اس کا بیڑہ غرق ہوا۔ یہ دوسرا دلچسپ پڑاؤ تھا ۔ اتر پردیش کے ریاستی انتخاب میں بی جے پی کا چوتھے نمبرپر آنا ایک اور سیاسی جھٹکا تھا گویا بی جے پی کو یکے بعد دیگرے مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے میں موقع غنیمت جان کر نریندر مودی ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہوگیا اور پھر ایک بار منظر بدلنے لگا ۔ نتیش کمار نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر اس کو منہ کے بل گرا دیا لیکن پھر ہندوستا ن کےپانچ ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے دو میں اپنا اقتدار قائم رکھااور راجستھان میں کانگریس کو کراری شکست سے دوچار کردیا اس طرح گویا ہوا کا رخ بدلنے لگا ۔ کانگریس پر بی جےپی کا پلہ بھاری ہونے ہی لگا تھا کہ اروند کیجریوال نے رنگ میں بھنگ مچا دیا ۔
دہلی کے انتخابی نتائج نے بی جے پی کی لگام کھینچ لی۔ وقتی طور پر مودی دل برداشتہ ہو کر احمد آباد واپس آگیا اور قومی ذرائع ابلاغ پر اروند کیجریوال کا جھاڑو چھا گیا۔عام آدمی پارٹی نے بدعنوانی اور مہنگائی کا مسئلہ بی جے پی سے چھین لیا ۔میڈیا کی چمک دمک سے مودی کو محروم کردیااور اس کا رنگ اچانک پھیکا پڑ گیا ۔اب پھر انتخاب دو قطبی خطِ مستقیم کے بجائے مثلث میں تبدیل ہو گیا ۔ کانگریس جو نریندر مودی کی زہریلی کرشمہ سازیوں کا جواب نہیں دے پارہی تھی اس کا تریاق عآپ کی صورت میں سامنے آ گیا ۔ اس سے قطع نظر کہ قومی سطح پر عام آدمی پارٹی کس قدر اثر انداز ہو سکے گی اس میں شک نہیں کہ اس نے ذرائع ابلاغ میں نریندر مودی کی زبان پر لگام لگائی ہے۔کیجریوال نے جس طرح سے مودی، مکیش اور میڈیا پرہلہ بولا ہے اس کا جواب دینے سے بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی قاصر ہیں۔
اس دوران جتنے بھی سروے وقتا ً فوقتا ً سامنے آتے رہے ان میں بی جے پی اور کانگریس سےزیادہ نشستوں پر دیگر جماعتوں کے مجموعے کو کامیاب بتلا یا گیا لیکن یہ غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی جماعتوں کی بھیڑ نہ متحد ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔اس لئے کہ علاقائی جماعتوں کے اس زمرے میں آپسی مسابقت کے سبب کبھی بھی اتحاد و اتفاق نہیں ہو سکتا ۔ جن ریاستوں میں صرف ایک طاقتور علاقائی جماعت ہے وہ بآسانی تیسرے محاذ میں شامل ہو سکتی ہے مثلاًاڑیسہ میں بیجو جنتا دل، کرناٹک میں جنتا دل ایس، آسام میں اے جی پی یا کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور کیرالہ میں سی پی ایم وغیرہ ۔ پنجاب میں بھی یہی صورتحال ہے لیکن اکالی دل این ڈی اے میں شامل ہے۔تلنگانہ کی ٹی آرایس یو پی اے کا حصہ ہے۔
جن ریاستوںمیں ایک سے زیادہ علاقائی جماعتیں مضبوط ہیںوہ ایک دوسرے کی حریف بھی ہیں ایسے میں کوئی ایک ہی تیسرے محاذ کا حصہ بن سکتی ہے دوسرے کو مجبوراً باہر رہنا پڑتا ہے۔ مثلاً اتر پردیش کی ایس پی یا بی ایس پی میں سے کوئی ایک آئیگی ،دوسری چھوٹ جائیگی۔ بہار میں نتیش کمار اور لالو ایک ساتھ تیسرے محاذ میں نہیں آسکتے۔بنگال میں دایاں محاذ اور ممتا کے درمیان سانپ اور نیولے کا رشتہ ہے ۔تمل ناڈو کے روایتی دشمن ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کےبیک وقت تیسرے محاذ میں کیوںکرجمع ہوسکتے ہیں۔مہاراشٹراورہریانہ کی صورتحال اس طرح ہے کہ ایک ہنڈیا میںدوسری پیالے میں شامل ہے۔ اس طرح غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی جماعتیں تین خیموں میں تقسیم ہیں ؛تیسرا ، چوتھا محاذ اور عام آدمی پارٹی۔اس انتشار کے ماحول میں آخری نتیجہ کیا نکلے گا یہ کوئی نہیں جانتا لیکن اتنا ضرورہے کہ۲۰۱۴ء کا انتخاب اپنے تحیرو استعجاب نیز رنگا رنگی کے سبب تادیر یاد رکھا جائیگا۔(یہ بھی ممکن ہے کہ بقو ل منی شنکر ایر ؔ اس انتخاب کے صرف چھ ماہ بعد دوبارہ انتخاب ہو اور مجبوراً عوام انہیں کو دوبارہ لے آئیں جن کووہ پہلے کھدیڑ چکےتھے) ویسے بقول محسن بھوپالی اس کھیل میں یہ بھی ہوتا ہے کہ ؎
نیرنگئِ سیاستِ دوراںتودیکھئے منزل انہیںملی جوشریکِ سفرنہ تھے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *