برصغیر کے فقہی واجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ

۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت میں جب مجاہد آزادی کی پسپائی نے جنوب ایشیا کی سیاسی تقدیر کو برٹش حکمرانوں کے سپرد کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاجِ برطانیہ نے براہ راست اس خطے کی زمام اقتدار سنبھال لی تو یہ خطۂ زمین زندگی کے تمام شعبوں میں ہمہ گیر اور انقلابی تبدیلیوں سے دو چار ہوا اور بر صغیر کے مسلمانوں کے فقہی رجحانات بھی ان تبدیلیوں کی زد میں آئے بغیر نہ رہ سکے۔ تغیر و تبدل کا یہ عمل تاج برطانیہ کے نوے سالہ دور اقتدار میں مسلسل جاری رہا، مگر اس پر کچھ عرض کرنے سے پہلے ۱۸۵۷ء سے قبل کےفقہی دائروں اور رجحانات پر ایک نظر ڈالنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
۱۸۵۷ء سے پہلے برصغیر(پاک وہندو بنگلہ دیش و برما وغیرہ) کےقانونی نظام پر فقہ حنفی کی حکمرانی تھی اور اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں مرتب کیا جانے والا ’’فتاوی ہندیہ‘‘ قانون کی دنیا میں اس ملک کے دستور و قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ مسلم عوام کی اکثریت فقہ حنفی کی پیرو کار تھی حتی کہ قانون کی عمل داری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم بھی فقہ حنفی اور فتاوی عالمگیری کے ذریعہ ہی اس عمل میں درجہ بدرجہ شریک ہوتے تھے، البتہ اس اجتماعی رجحان کے ماحول میں کچھ مستثنیات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتا:
٭ امام ولی اللہ دہلویؒ نے جو خود اپنے ارشاد کے مطابق حنفی فقہ میں ’’مجتہد فی المذہب‘‘ کا مقام رکھتے تھے،فقہی حلقوں میں پائے جانے والے روایتی جمودکو توڑنے میں اس طرح پہل کی کہ فقہ حنفی کے اصولی دائرے کو قائم رکھتے ہوئے جزئیات میں اجتہادی عمل کی حوصلہ افزائی کی اور علما وفقہا پر زور دیا کہ وہ جزئیات و فروعات میں وقت کی ضروریات کے مطابق اجتہاد کے عمل کو آگے بڑھائیں اورمکمل جمود کے ماحول سے باہر نکلیں۔
٭ ۱۸۳۱ء کے معرکۂ بالاکوٹ کے بعد امام ولی اللہ دہلویؒ کی درس گاہ کے مسند نشین حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ اور حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلویؒ کے حجاز مقدس ہجرت کر جانے پر دہلی میںدرس حدیث کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے حضرت مولانا سید نذیر حسین دہلویؒ کی پیش رفت نے علما کی ایک جماعت کو فقہ اور تقلید کا راستہ ترک کرنے کے رخ پر ڈالا اور یہی تغیر آگے چل کر ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے ایک مستقل مکتب فکر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا جس میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ اور نواب صدیق حسن خانؒ کی مساعی کو کلیدی مقام حاصل ہے۔
٭ بمبئی کے ساحلی علاقوں میں شوافع کا وجود قدیم دو رسے چلا آرہاتھا اور فقہ شافعی کے پیروکار اس خطے میںمسلسل موجود رہے ہیں۔ میں نے لندن میںایک عالم دین دوست کے پاس فارسی زبان میں فقہ شافعی کی ما لا بد منہ(شافعی) دیکھی جو بالکل حنفی مالا بد منہ کی طرز پر اور اسی حجم میں ہے اور یہ مالا بد منہ بمبئی کے ان علاقوں میں فقہ شافعی کے متن کے طور پر پڑھائی جاتی رہی ہے۔
٭ بہت سے علاقوں بالخصوص لکھنؤمیں فقہ جعفریہ کے پیروکار بھی موجود تھے اور ان کے علمائے کرام اس فقہ کے دائرے میں ان کی راہ نمائی کر رہے تھے اور اب بھی مسلسل کر رہے ہیں۔
لیکن ان استثنائی رجحانات کے باوجود ملک کے عمومی ماحول پر اصول و فروع کے دونوں دائروں میں فقہ حنفی کی بالادستی تھی اور اس کا معیار اپنی تمام ترتفصیلات سمیت فتاوی عالمگیری ہی تھا۔
۱۸۵۷ء کے بعد تاج برطانیہ نے برصغیر کانظام براہ راست اپنے کنٹرل میں لے کر یہاں کا قانونی نظام تبدیل کیا اور عدالتوں میں فتاوی عالمگیریہ کی قانونی حیثیت کو ختم کرکے برٹش قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا تو اس خطے میں فقہ حنفی اور فتاوی عالمگیری کا قانونی حصار ٹوٹ گیا اور تمام فقہی رجحانات کو آزادانہ ماحول میںنئی صف بندی کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ نئی صف بندی اس خطے کے مسلمان عوام کی غالب اکثریت کی فقہ حنفی کے ساتھ وابستگی پر کچھ زیادہ اثرانداز نہیں ہو سکی، کیونکہ کم و بیش ڈیڑھ سو سال کا طویل عرصہ گزر جانے اوراس دوران فقہ حنفی کے دائرے سےہٹ کر علمی وفقہی پیش رفت کرنے والے مختلف حلقوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود پاکستان، بنگلہ دیش،برما اور بھارت کے مسلمانوں کی غالب اکثریت آج بھی فقہ حنفی سے وابستہ ہے، البتہ اس حقیقت سے انکار کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ غیر حنفی رجحانات نے اس دوران اپنے اہداف کے طرف خاصی پیش رفت کی ہے اور وہ ایک حدتک فقہی رجحانات پر بھی اثر انداز ہوئے ہیں۔
۱۸۵۷ء کے بعد فقہی رجحانات نے جو نئی کروٹ لی ہے، اسے ہم مندرجہ ذیل صورتوں میں بیان کر سکتے ہیں:
٭ فقہ حنفی کے روایتی حلقے میں دو الگ مکاتب فکر سامنے آئے ۔ ایک بریلوی مکتب فکر جس کے بانی مولانا احمد رضا خان بریلویؒ تھے اور دوسرا دیوبندی مکتب فکر جس کے امتیازی رخ کو متعین کرنے کا سہرا مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے سر ہے۔ ان دونوں مکاتب فکر میں بنیادی اختلاف بعض عقائد کی تعبیر و تشریح اور بعض علمائے کرام کی عبارات پر اعتراضات کی بنیاد پر ان کے خلاف مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اور ان کے رفقا کی طرف سے لگائے جانے والے کفر کے فتوے پر ہے ، جب کہ فقہی فتاوی میں دونوں کا بنیادی ماخذ فتاوی عالمگیر اور فتاوی شامی ہی چلا آرہا ہے۔ لیکن ایک فرق کسی حد تک بہرحال موجود ہے کہ دیوبندی مکتب فکر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اس اصلاحی تحریک کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ مکمل فقہی جمود کے دائرے سے نکل کر قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی تعلیمات اور ان سے استفادہ کے رجحان کو عام کیاجائے اور فقہ کو اس کے بعد مسائل واحکام کے تیسرے بڑے ماخذ کے درجے میںرکھاجائے ، جب کہ مولانااحمد رضا خان بریلویؒ اور ان کے رفقا نے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔
احناف کے یہاں ایک عرصہ تک اسلوب یہ رہا ہے اور کسی حد تک اب بھی ہے کہ کسی مسئلہ کی دلیل میںبنیادی طور پر فقہی جزئیہ پیش کیاجاتا ہے اور اس کی تائید میں قرآن کریم اور حدیث نبوی سے حسب ضرورت شہادت لائی جاتی ہے ۔ میری طالب علمانہ رائے میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے در اصل اس ترتیب کو بدلنے کی تحریک کی تھی۔ وہ فقہ حنفی کے دائرے سے بالکل نکل جانے کے حق میں نہیں تھے ، البتہ جزئیات وفروعات میں ضرورت سے زیادہ تصلب کے قائل نہیں تھے۔ میں بحمد للہ تعالی ایک شعوری حنفی ہوں اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒکے اس اسلوب کو زیادہ قرین قیاس او ر قرین انصاف سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک فقہائے احناف میں سے امام ابو جعفر طحاویؒ کا یہ اسلوب زیادہ آئیڈیل حیثیت رکھتا ہے کہ وہ کسی مسئلہ میں احناف کے موقف کی وضاحت یہ کہہ کر نہیں کرتے کہ امام ابو حنیفہ ؒ کا یہ فتوی ہے اور قرآن وحدیث اس کی یوں تائید کرتے ہیں، بلکہ وہ متعلقہ مسئلہ میں قرآن وحدیث سے تمام میسر آیات وروایات کو سامنے لاتے ہیں، ان سے پیدا ہونے والے ممکنہ پہلوؤں کاتعین کرتے ہیں، ان کا تجزیہ و تنقیح کرکے ترجیحات قائم کرتے ہیں اور پھر ایک پہلو کو ترجیح دے کر یہ کہتے ہیں کہ یہ بات جو انہوں نے قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے دلائل کے ساتھ ثابت کی ہے، امام ابوحنیفہؒ کا بھی یہی قول ہے۔
بہرحال یہ ایک ضمنی بات تھی جو درمیان میں آگئی ہے۔ ہم در اصل ۱۸۵۷ء کے بعد احناف کے دائرے میں سامنے آنے والے دو مکاتب فکر یعنی دیوبندی اور بریلوی کے فقہی رجحانات میں فرق کی بات کر رہے تھے جو اگرچہ عملاً زیادہ نمایاں دکھائی نہیں دیتا لیکن اس حد تک ضرور موجود ہے کہ دیوبندی مکتب فکر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصلاحی تحریک سے وابستگی کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے، مگر بریلوی مکتب فکر نہ صرف یہ کہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، بلکہ وہ اس قدیمی فقہی اور سماجی روایت کی مکمل نمائندگی کا دعویدار ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصلاحی تحریک سے قطع نظر برصغیر میں پہلے سے چلی آرہی تھی، البتہ فقہی دائروں میںاس اصولی ہم آہنگی اور عملی تنوع کے باوجود بعض عقائد کی تعبیر و تشریح اور بعض اکابر علما کی عبارات کی توجیہ وتطبیق میں دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کاشدید اختلاف آج بھی کفر و اسلام کا معرکہ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں اسی دائرے کے ایک اور فقہی رجحان کا تذکرہ بھی ضروری محسوس ہوتا ہے جسے فرنگی محلی مکتب فکر کے عنوان سے یاد کیاجاتاہے۔ علمائے فرنگی محل بھی حنفی تھے اور انہوں نے حنفی فقہ کی بہت علمی خدمت کی ہے اور یہ اعزاز انہی کے حصے میں جاتا ہے کہ درس نظامی کے نام سے جو نصاب تعلیم آج بر صغیر کے دیوبندی ،بریلوی بلکہ اہل حدیث مدارس میں بھی پڑھایا جاتا ہے، اس کا بنیادی ڈھانچہ فرنگی محل ہی کے ایک عالم دین ملا نظام الدین سہالویؒ کا طے کردہ ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد اس فقہی رجحان کی نمائندگی میں حضرت مولانا عبدالحی لکھنویؒ کا نام سب سے نمایاں رہا لیکن مولانا عبدالحی لکھنویؒ کے بعد اس فقہی مکتب فکر کو اس سطح کی کوئی علمی شخصیت میسر نہ آسکی جو اس کے الگ تشخص کو قائم رکھ سکتی، اس لیے یہ آہستہ آہستہ دیوبندی مکتب فکر میں ضم ہوتا چلا گیا۔
٭فقہ حنفی سے انحراف پر ایک نئے مکتب فکر کی بنیاد ۱۸۵۷ء سے پہلے ہی رکھی جا چکی تھی جب حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ کی حجازمقدس ہجرت کے بعد دہلی میں حضرت مولانا میاں نذیر حسین دہلویؒ نے تقلید ترک کرنے کااعلان کیا اور دہلی میں درس حدیث دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اہلِ حدیث حضرات اسی بنا پر اپنے اس مکتب فکر کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی اصلاحی تحریک کاتسلسل قراردیتے ہیں۔ اس مکتب فکر نے بعد میں باقاعدہ طور پر اپنے لیے ’’اہل حدیث‘‘ کا عنوان اختیار کیا اور اسی عنوان کے ساتھ یہ مکتب فکر اب تک کام کر رہا ہے، جب کہ حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ اور حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلویؒ کے تلامذہ میں حضرت مولانااحمد علی سہانپوریؒ اور حضرت مولانا مملوک علی نانوتویؒ کے حلقہ نے اپنا مورچہ دیوبند میں لگایا اورحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒکی اصلاحی تحریک کے تسلسل کو (بالخصوص فکری اور سیاسی محاذ پر)آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ دیوبند میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ۱۸۶۵ء میں جس مدرسہ کا آغاز ہوا، اس کے بانیوںمیںمولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانارشید احمدگنگوہیؒاور حاجی عابدحسینؒ نے اپنے اس نئے مدرسے میں، جو بعدمیں دارالعلوم دیوبند کے نام سے دنیا بھر میں متعارف ہوا، نصاب تعلیم کی بنیاد رس نظامی پر رکھی،لیکن اس میںحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمی اصلاحات اور سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے روحانی تربیتی ذوق کو بھی شامل کر لیا، چنانچہ ان تینوں کے امتزاج سے ایک مستقل فقہی مکتب فکر وجود میں آگیا جس کے اثرات وثمرات آج دنیا بھر میں بالخصوص برصغیر پاک وہندو بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علمی،دینی اور تعلیمی حلقوں میںنمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری طرف اہل حدیث مکتب فکر کادائرہ بھی برابر پھیلتا جا رہا ہے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں اس کے پیرو کار موجود ہیں۔ اہل حدیث مکتب فکر نے حنفی فقہ سے انحراف کرتے ہوئے الگ تشخص قائم کرنے کے لیے چند مسائل مثلاً ترک تقلید، فاتحہ خلف الامام،آمین بالجہر، رفع یدین، طلاق ثلاثہ اور دیگر بعض جزوی مسائل کو بنیاد بنایااور قرآن وحدیث سے اپنے ذوق کے مطابق ان کے دلائل پیش کرنا شروع کیے تو اس کے جواب میں حنفی بالخصوص دیوبندی علما نے بھی احادیث کی تدریس و تعلیم میں فقہ حنفی کے دفاع کا راستہ اختیار کیا۔ رفتہ رفتہ اس مبحث میں تشدد اور فتوی بازی بھی درآئی جس سے احادیث نبویہ کی تدریس میں فقہ حنفی کے مسائل اوراحکام کے اثبات یا ان کے رد نے ایک مستقل معرکہ کی صورت اختیار کر لی۔ اس کاآغاز حضرت مولانا میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ نے کیا۔اس کے جواب میں حضرت مولانا احمد علی سہانپوریؒ اور حضرت مولانارشید احمدگنگوہیؒ نے فقہ حنفی کے دفاع کا مورچہ سنبھالا اور پھر ایک طرف سے مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مولانا محمد جوناگڑھیؒ اور نواب صدیق حسن خانؒ جب کہ دوسری طرف شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ جیسے سربرآوردہ علمائے کرام اور ان کے تلامذہ نے اس علمی معرکہ آرائی کو ایسی مستقل حیثیت دی کہ آج بھی دینی مدارس میں صحاح ستہ کی تدریس و تعلیم میں اسی بحث و مباحثہ کا بازار گرم رہتا ہے۔
میری طالب علمانہ رائے میں اس بحث کے آغاز کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ اہل حدیث علمائے کرام کو اپنے الگ تشخص کے اظہار کے لیے اس کی ضرورت تھی جب کہ حنفی علما کے لیے فقہ حنفی کے دفاع کے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا ، مگر اب جب کہ دونوں کی طرف پوزیشن،موقف، دلائل اور علمی مباحث پوری طرح واضح ہو چکے ہیں، دورۂ حدیث کی تدریس میں دونوں فریقوں کا سارا زور انہی مباحث پر اس حد تک صرف ہوتے چلے جانا کہ باقی بہت سے ضروری مباحث نظر انداز ہو رہے ہیں،کم از کم میری سمجھ سے بالاتر ہے، لیکن بہرحال یہ صورت حال اب تک قائم ہے اور اس میں کسی بنیادی تبدیلی کے امکانات سردست دکھائی نہیں دے رہے۔
٭۱۸۵۷ء کے بعد ایک اور فقہی اور فکری مکتب فکر سامنے آیا جس نے فقہ کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کو بھی احکام و مسائل کاماخذ بنانے سے گریز کرتے ہوئے صرف قرآن کریم کو عقائد واحکام کی بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا۔ یہ سر سید احمد خان مرحوم کامکتب فکر ہے جس نے حدیث نبوی کو نہ صرف یہ کہ احکام و قوانین کامستقل ماخذ تسلیم نہیںکیا، بلکہ قرآن کریم کی تشریح میں بھی حدیث نبوی کو اتھارٹی ماننے سے انکار کر دیااور کامن سینس کی بنیاد پر قرآن کریم کی تشریح کو بنیاد بنا کر اسلامی عقائد اور احکام وقوانین کی ازسر نو تشریح و تعبیر کومطمح نظر بنا لیا۔ یہ مکتب فکر بھی موجود و متحرک ہے اور ہمارے دور میں اس کی نمائندگی میں چودھری غلام احمد پرویز صاحب نے سب سے زیادہ شہرت پائی ہے۔بعض حلقے علامہ محمد اقبالؒ کو بھی اسی مکتب فکر سے وابستہ قرار دیتے ہیں لیکن میری طالب علمانہ رائے میںیہ بات درست نہیںہے، اس لیے کہ علامہ اقبالؒ جس طرح جابجا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کاحوالہ دیتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں، اس کے پیش نظر انہیں حدیث نبوی کی حجیت کا انکار کرنے والوں یا اس کی حیثیت کو کم کرنے والوں میں شمار کرنا علامہ محمد اقبالؒ کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔
٭ایک اور فقہی رجحان اور علمی اسلوب بھی اس دوران سامنے آیا ہے جسے نظر انداز نہیںکیاجا سکتا۔ اس مکتب فکر نے فقہ سے بغاوت اور اس کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی افادیت کو تسلیم کیا، البتہ فقہ حنفی کی پابندی کو ضروری نہ سمجھتے ہوئے قرآن و سنت سے براہ راست استدلال اور اس کے بعد چاروں فقہی مذاہب مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی بلکہ ظاہری مذہب سے بھی حسب ضرورت استفادہ کو ترجیح دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا شبلی نعمانیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا حمید الدین فراہیؒ اور مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کو اسی زمرہ میںشمار کیاجاسکتاہے۔چند امتیازی مسائل سے ہٹ کر اہل حدیث علمائے کرام اور مفتیان کرام کا عمومی اسلوب بھی یہی ہے، لیکن بعض اکابر اہل حدیث علمائے کرام کی طرف سے فقہ کی مذمت اور اسے مطلقاً مسترد کر دینے کی واضح تصریحات کے باعث مذکورہ بالا اصحاب علم کا ان سے ہٹ کر ان کا تذکرہ میں نے ضروری سمجھا۔
یہ تو طالب علمانہ تاثرات ہیں، ان فقہی رجحانات کے بارے میں جو ۱۸۵۷ء کے بعد سامنے آئے اور جن کی کارفرمائی نہ صرف ۱۹۴۷ء تک قائم رہی بلکہ وہ اس کے بعد بھی ہمارے معاشرے میںموجود ہیں اور اپنے اپنے دائروں میں پوری طرف مصروف عمل ہیں۔ اب ہم آتے ہیں ان اجتہادی کوششوں اور اجتہادی مساعی کے اس ارتقائی عمل کی طرف جو ۱۸۵۷ء کے بعد شروع ہوا اورمختلف دائروں میںاجتہاد کے نام پر یہ عمل آج بھی جاری ہے لیکن ان عملی پہلوؤں پر گفتگو سے قبل ان مختلف فکری دائروں پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے جو ان اجتہادی کوششوں اور اجتہادی عمل کی بنیاد بنے۔
٭اجتہاد کا ایک فکری دائرہ تو یہ تھا اور اب بھی ہے کہ جس طرح یورپ میں مذہبی اصلاحات کی تحریک مارٹن لوتھر کی رہنمائی میں چلی اور اس نے بائبل کی تشریح میں پایائے روم اور چرچ کو فائنل اتھارٹی ماننے سے انکار کر کے پروٹسٹنٹ ازم کے عنوان سے مذہب کی تشریح نو بلکہ ری کنسٹرکشن کاراستہ اختیار کیا، اسی طرح ہم بھی پورے مذہبی ڈھانچے کی تشکیل نو کریں اور ماضی کے تمام اجتہادات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف قرآن کریم کی بنیاد پر اسلام کا نیااعتقادی، عملی اور اخلاقی ڈھانچہ طے کریں۔ اس گروہ کے نزدیک ’’اجتہاد‘‘ صرف اس انتہائی عمل کا نام ہے اور اس سے کم وہ کسی درجہ کے عمل کو اجتہاد تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
٭ اجتہاد کادوسرادائرۂ فکریہ سامنے آیا کہ فقہی مذاہب کے حصار کو ختم کرکے قرآن و حدیث سے براہ راست استنباط واستدلال کیاجائے، البتہ ثانوی درجہ میںکسی خاص فقہی مذہب کی پابندی نہ کرتے ہوئے بوقت ضرورت کسی بھی فقہی مذہب سے استدلال کر لیاجائے۔
٭اجتہاد کے نام پر ایک سوچ اور فکر یہ بھی پائی جاتی ہے کہ امت میں’’اجتہاد مطلق‘‘ کادروازہ بند ہو جانے کا جو نظریہ پایا جاتاہے،اسے مسترد کرکے فقہ کی تشکیل نو کاکام اسی ’’زیروپوائنٹ‘‘ سے دوبارہ شروع کیاجائے جہاں سے حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ نے اس کاآغاز کیاتھا۔
٭اجتہاد کا ایک نظریہ یہ بھی سامنے آیا کہ فقہ حنفی کے اصولی دائرے کو قائم رکھتے ہوئے فروعات و جزئیات میں دوسری مسلمہ فقہوں سے بوقت ضرورت استفادہ کیاجائے۔
٭ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اصول وفروع دونوں میں فقہ حنفی کی پابندی کو بہر صورت قائم رکھا جائے اورجہاں حالات اور ضروریات کاتقاضا ہو، وہاں فقہ حنفی کے اصولوں کے تحت ہی فروعات و جزئیات کے درجے میںاجتہاد کیاجائے۔
٭جعفری اور زیدی فقہ کے علمائے کرام کے یہاں ان دو فقہوں کے الگ اصول وضوابط ہیںجن کے تحت وہ اجتہادی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
٭بہت سے ذہنوں میں اجتہاد کے بارے میں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ اجتہاد کسی علمی، استنباطی اور استدلالی سعی وکاوش کانام نہیں، بلکہ پاپائے روم کی طرح کا کوئی صواب دیدی اختیار علمائے کرام کو حاصل ہے اور انہیں سوسائٹی کی ضروریات اور مطالبات کو پورا کرنے کے لیے یہ صواب دیدی اختیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کر نا چاہیے۔
یہ اجتہاد کے مختلف مفہوم ہیںجو مختلف حلقوںاور طبقات کے ذہنوں میںہیں اور ہر طبقہ ’’اجتہاد‘‘ کے ایک الگ اور مستقل مفہوم کاحامل ہے۔ ان تمام امور کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم ان عملی کاوشوں میں سے مثال کے طور پر چند ایک کا تذکرہ کرناچاہیں گے جن سے اس خطے کے مسلمان عوام نے ۱۸۵۷ء اور ۱۹۴۷ء کے درمیان عرصے میں استفادہ کیا:
٭ ۱۸۵۷ء کے بعد ایک عملی مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ حنفی فقہ میں جمعہ کی نماز اجتماعی طور پر ادا کرنے کے لیے یہ شرط ہے کہ امام حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ہو جب کہ دہلی کے اقتدار پر تاج برطانیہ کاقبضہ ہو جانے کے بعد کوئی مجاز حکومت موجود نہیں رہی تھی جو امام وخطیب کاتقرر کر سکے یا جس کا باضابطہ نمائندہ نماز جمعہ میں خطبہ و امامت کافریضہ سر انجام دے سکے تو اب نماز جمعہ کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ اس پر علمائے کرام نے اجتماعی طور پر یہ راستہ اختیار کیا کہ کسی امام پر مسلمانوں کی اکثریت کی رضامندی کواسلامی حکومت کی طرف سے تقرری کا قائم مقام قرار دیتے ہوئے اس شرط میںلچک پیدا کی اورجمعۃ المبارک کو ساقط کرنے کے بجائے اس کا تسلسل باقی رہنے دیا۔ یہ بلاشبہ ایک اجتہادی عمل تھا جو ۱۸۵۷ء کے بعد سامنے آیا جب کہ بعض حلقوں میں اس صورت میں جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ احتیاطاً ظہر کی نماز کی ادائیگی کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
٭ ملک کا قانونی نظام یکسر تبدیل ہوجانے کے باعث مسلمانوں کو سب سے زیادہ مشکل خاندانی معاملات مثلاً نکاح و طلاق اوروراثت و کفالت وغیرہ میں پیش آئی کہ ان خالص مذہبی معاملات میں غیر اسلامی قانون اور غیر اسلامی عدالتوں کے فیصلوں کو کیسے قبول کیاجا سکے گا؟ اس پر ایک طرف تو برطانوی حکومت نے یہ سہولت دے دی کہ مسلمانوں کے شخصی قوانین میں ’’محمڈن لا‘‘ یعنی اسلامی شرعی قوانین کی اہمیت کوتسلیم کیااور عدالتوں میں انہی قوانین کی پابندی کو لازمی قرار دیا، دوسری طرف علمائے کرام نے ایسے تنازعات میں ’’قضا‘‘ کا راستہ بند دیکھ کر ’’تحکیم‘‘ کے شرعی اصول کی طرف توجہ دی اور برصغیر کے مختلف علاقوں بالخصوص صوبہ بہار میں ’’امارت شرعیہ‘‘ یا اس سے ملتے جلتے ناموں کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا جس سے عام مسلمانوں کو یہ سہولت حاصل رہی کہ وہ اگر اپنے تنازعات کافیصلہ خالصتاً شرعی بنیادوں پر کرانا چاہتے ہیں تو وہ ایسے اداروں سے استفادہ کر سکیں۔
٭برطانوی استعمار کے قبضہ کے بعد برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے بہت سے اکابر علمائے کرام نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دورمیں ہی ہندوستان کو دار الحرب قرار دیکر آزادی کے حصول کے لیے جہاد کو شرعی فریضہ قرار دے دیاتھا اور اس فتوی کی بنیاد پر درجنوں مسلح تحریکوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جنگ لڑی ہے، لیکن ایک مرحلہ آیا کہ اس طریق کار پر نظر ثانی کی ضرورت پیش آئی توعلمائے کرام نے مسلح جدو جہد کاراستہ ترک کرکے پر امن سیاسی تحریک کا طرز عمل اپنایا اور حصول آزادی کے لیے پر امن سیاسی جد وجہد کو ہی ’’جہاد آزادی‘‘ کا قائم مقام قرار دے کر اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں اس کے لیے وقف کر دیں۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ بھی ایک اجتہادی عمل تھا جوبرصغیر کے علمائے کرام کی اجتہادی بصیرت کا آئینہ دار ہے۔
٭مرزا غلام احمدقادیانی نے نبوت کا دعوی کیا اور برطانوی استعمار کے زیر سایہ ایک نئی امت پروان چڑھائی گئی تو ان کے ساتھ معاملات اور معاشرتی تعلقات کے تعین کا مسئلہ درپیش ہوا۔ ایسی صورت میں فقہی احکام و قوانین کا ایک مستقل دائرہ موجود ہے جو ماضی کی اسلامی حکومتوں میں رو بہ عمل بھی رہا ہے، لیکن معروضی حالات میں ان احکام وقوانین پر عمل دشوار تھا۔ اس لیے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو علمائے کرام نے اجتماعی طورپر قبول کر لیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں پر فقہی احکام کا اطلاق کرنے کی بجائے انہیں مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم گروہ کے طور پر قبول کرکے ان کااس حیثیت سے معاشرتی درجہ طے کیاجائے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ بھی علمائے کرام کا اجتہادی عمل تھا جس پر وہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی قائم رہے اور قادیانیوں پر فقہی احکام کے اطلاق کا مطالبہ کرنے کے بجائے انہوں نے انہیں دستوری طو رپر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے پر قناعت کر لی۔
٭تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں شریک علمائے کرام کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی تو اس کی شرعی حیثیت اور اس کاشرعی ڈھانچہ کیاہوگا؟ اس کے بارے میں بھی فقہی احکام و قوانین کے مستقل ابواب موجود ہیں اورمغل بادشاہت اور عثمانی خلافت کے نظائر بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہیں لیکن یہ دونوں صورتیں دورجدید کے لیے قابل قبول نہیں تھیں، اس لیے علمائے کرام نے ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے فقہی احکام و قوانین کے من و عن اطلاق پر اصرار نہیں کیا بلکہ قرآن و سنت کی پابندی کی شرط کے ساتھ جمہوری حکومت کے تصور کو قبول کر لیا جو بلا شبہ ایک اجتہادی عمل تھا جس کے تحت قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے پاکستان میں جمہوری حکومت اور قرآن و سنت کی بالادستی کی یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد تحریک پاکستان میں شامل ہوئی اورقیام پاکستان کے بعد بھی قرارداد مقاصد، مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علمائے کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات اور ۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات کی صورت میں اسی اجتہادی سوچ اور عمل کو آگے بڑھایاگیا۔
یہ چند مثالیں اجتماعی اور قومی سطح کے ان اجتہادات کی ہیں جو ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کے درمیانی عرصہ میں اس خطے میں عملاً رونما ہوئے جب کہ جزوی اجتہادات کادامن بھی بہت وسیع رہا جس کامشاہدہ مختلف مکاتب فکر کے بیسیوں بڑے مفتی صاحبان کے فتاوی اورمراکز فتاوی کے علمی فیصلوں کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔ دارالافتاء کے نام سے قائم ان مراکز کا شمار سیکڑوں میں ہے مگر ان میں بیسیوں ایسے ہیں جو خود علمائے کرام اور علمی حلقوں کے لیے مراجع کی حیثیت رکھے ہیں اور ایسے علمی مراکز پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما میں مختلف فقہی مکاتب فکر اورمذاہب کے حوالے سے مسلسل مصروف کار ہیں۔ ان مراکز کے جاری کردہ ہزاروں بلکہ لاکھوں فتاوی کاجائزہ لیاجائے تو ان میں سیکڑوں ایسے فتاوی ملیں گے جن میں مفتیان کرام نے ماضی کے فتاوی سے ہٹ کر زمانے کی ضروریات کے پیش نظر اجتہادی راستہ اختیار کیا ہے، البتہ ان میں اجتہادی دائرہ وہی ہے کہ اپنے اپنے فقہی مذاہب کے دائرے میں رہتے ہوئے اسی کے اصولوں کی روشنی میںنئے فتوے دیے گئے ہیں جب کہ بعض فتاوی میں فقہی مذاہب کے حصار کوکراس کرنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھا گیا۔ مثال کے طو رپر دو مسئلوں کاحوالہ دیناچاہوں گا:
ایک یہ کہ رویت ہلال میںاختلاف مطالع کا اعتبار ہے یا نہیں؟ اس میں احناف متقدمین کا موقف شروع سے یہ چلاآرہاہے کہ اختلاف مطالع کا وجود تو ہے لیکن رویت ہلال میں شرعاً اس کا اعتبار نہیںہے اور کسی جگہ بھی چاند نظرآ جانے کے شرعی ثبوت اور مصدقہ خبر پر باقی سب مقامات پر روزے اور عید کا اعلان ضروری ہے یا کم از کم یہ ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے یہاں یہ پوزیشن بریلوی مکتب فکر کے بانی مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اور دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی مولانا عزیز الرحمن دیوبندی تک اسی طرح رہی ہے، لیکن اس کے بعد جب اختلاف مطالع کااعتبار کرنے کافتوی دیا گیا تو متقدمین احناف کے موقف اور فتاوی کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مفقودالخبرخاوند کی زوجہ کو نکاح ثانی کی اجازت کے بارے میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کے قول کے بجائے عمومی ضرورت کی بنا پر مالکیہ کے قول پر فتوی دیا گیا ہے۔ یہ دو مسئلے میں نے مثال کے طور پر ذکرکیے ہیں۔ اگر اس رخ پر گزشتہ صدی کے ذمہ دار مفتیانِ کرام کے فتاوی کاجائزہ لیاجائے تو سیکڑوں ایسے فتاوی مل جائیں گے جن میں یہ صورت اختیار کی گئی ہے اوریہ عمل محدود پیمانے پر ہی سہی ،مگر بہر حال اجتہاد ہی کاعمل ہے۔
٭مسلمانوں کے تنازعات و مقدمات کے شرعی قوانین کے مطابق فیصلوں کے لیے قضا ،تحکیم اور افتاء کے تین ادارے ہیں جن میں سے قضا کے پاس تنفیذ کی قانونی قوت اورتحکیم کے پاس اس کی اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے جب کہ افتاء کاکام صرف مسئلہ کی شرعی پوزیشن کو واضح کر دیناہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد ملک کے عمومی قانو نی نظام میں ’’قضا‘‘ کا شرعی ادارہ موجود نہیںرہا تھا، لیکن اندرونی طور پر نیم خود مختار مسلم ریاستوںمیں قضا کا یہ ادارہ بھی کام کرتا رہا ہے۔ مثلاً بہاول پور، قلات، سوات اور دیگر ایسی ریاستوں میں ان کے دائرۂ اختیار کی حدود میں قضا کاشعبہ قائم تھا اور ان میں فقہی احکام وضوابط کے مطابق ریاست کے مقررکردہ قاضی مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔ ان ریاستوں میں قضا کا یہ ادارہ ان کے پاکستان یابھارت کے ساتھ الحاق تک موجود رہاہے جب کہ تحکیم کے شعبہ نے مختلف علاقوں میں اس خلا کو بعض معاملات میں پر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سے ہٹ کر بعض خطوں میں ’’امارت شرعیہ‘‘ کاباضابطہ نظام بھی موجود رہا ہے، البتہ فتوی کا شعبہ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک برصغیر کے ہر علاقے میں اور ہر سطح پر قائم رہاہے جس سے عام مسلمانوں کو کسی بھی معاملے میں شریعت کا حکم معلوم کرنے کی سہولت حاصل رہی ہے اور مسلمانوں کی غالب اکثریت مسلسل اس سہولت سے استفادہ کرتی چلی آرہی ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *