حقوق العباد

لوگوں کی خدمت
حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :کسی مسلمان کا دل خوش کردینا بڑے ثواب کا کام ہے۔ اگر بھوکا ہے تو کھانا کھلاؤ۔ اس کے پاس کپڑے نہ ہوں تو کپڑے پہنادو، اس کی کوئی ضرورت ہو تو پوری کردو۔(مسلم)
جو شحص کسی کو نیک کام بتائے تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کرنے والے کوملے گااور اللہ تعالی اس بات کو بہت پسند کرتا ہے کہ مسلم یا غیر مسلم مصیبت زدہ کی مدد کی جائے۔ روایت :حضرت انسؓ(بخاری)

راستے کا حق
حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ ہم حضور ﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں گئے۔ لوگوں نے قیام گاہ کی جگہوں کو تنگ کر دیا اور استہ بند کر دیا۔ حضور پاکﷺ نے ایک آدمی بھیج کر اعلان کرایا’’جو شخص قیام گاہ میں تنگی پیدا کرے یا راستہ بند کرے گا تو اس کو جہاد کا ثواب نہ ملے گا‘‘۔(مسلم)

بیمار کی عیادت
رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’اللہ عزو جل قیامت کے دن کہے گا اے آدم کے بیٹے!میں بیمار ہوا تھا تو تونے میری عیادت نہیں کی۔‘‘تو وہ کہے گا’’اے میرے رب میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو رب العالمین ہے۔ ‘‘ تو اللہ تعالی فرمائے گا’’تجھے علم نہیں میرا فلاں بندہ بیمار پڑا تھا تو تو نے اس کی عیادت نہیں کی کیا تجھے خبرنہ تھی کہ اگر تو اس کی عیادت کو جاتا تو اس کے پاس مجھے پاتا۔‘‘ روایت:حضرت انسؓ(مسلم)
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’بیمار کی عیادت کرو، بھوکے کوکھانا کھلاؤ اور قیدی کی رہائی کا انتظام کرو۔‘‘(مسلم)
مسلمان کا خون ،مال و آبرو
حضورپاکﷺ نے اپنے آخری حج میں (جس کے بعد آپﷺ دنیا سے تشریف لے گئے) امت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’سنو! اللہ نے تمہارا خون اور مال و آبرو محترم قرار دیا ہے جس طرح تمہارا یہ دن ،مہینہ اور یہ شہر محترم ہے۔ سنو! کیا میں نے تم کواللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیا؟ ‘‘لوگوں نے کہا:’’ہاں،آپ ﷺ نے پہنچا دیا۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا:’’اے اللہ! تو گواہ رہنا کہ میں نے امت کوپیغام پہنچا دیا۔ ‘‘یہ بات آپﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔ پھر فرمایا:’’دیکھو! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم مسلمان ہو کر آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔‘‘روایت ابن عمرؓ(مسلم)
حضرت جریر ابن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی نماز قائم کرنے زکوۃ دینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ:’’تو مسلمانوں کو آپس میں رحم کرنے ،محبت کرنے اور ایک دوسرے کی طرف جھکنے میں ایسا دیکھے گا جیسا کہ جسم کا حال ہوتا ہے کہ اگر ایک عضو میں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو جسم کے بقیہ اعضا بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔ ‘‘پھر آپﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست کرکے بتایا۔روایت حضرت ابوہریرۃؓ
رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ،نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی کسی پریشانی کو دور کرے گا تو اللہ تعالی قیامت کے دون اس کی پریشانی دور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘روایت حضرت انسؓ(بخاری)

غیر مسلم شہریوں کے حقوق
رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’جو مسلمان کسی معاہد(غیر مسلم شہری) پر ظلم کرے گا یا اس کا حق مارے گا یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ(یعنی جزیہ جو مخصوص قسم کا حفاظتی ٹیکس ہوتا ہے) ڈالے گا، یا اس کی کوئی چیز لے لے گا تو میں خدا کی عدالت میں مسلمان کے خلاف دائر ہونے والے مقدمہ میں اس غیر مسلم کا وکیل بن کر کھڑا ہوں گا۔‘‘ روایت:حضرت انسؓ(ابوداؤد)
اسلام نے غیر مسلموں کو جس قدر حقوق دیے ہیں اور ان کو پامال کرنے والے مسلمانوں کے لیے جس قدر کڑی سزا تجویز ہی نہیں کی بلکہ عملاً دی ہے ،اس کی مثال دنیا بھر کے کسی مذہب میں نہیں ملتی۔

حفاظت جان
اسلام نے اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں(ذمی یا اہل الذمہ) کے خون کی قیمت مسلمان کے خون کے برابر رکھی ہے۔ اگر کوئی مسلمان غیر مسلم کو قتل کرے گا تو اس کا قصاص اسی طرح لیا جائے گا جس طرح مسلمان کو قتل کرنے کی صورت میں لیاجاتا ہے۔ نبی کریمﷺ کے زمانے میں ایک مسلمان نے ایک غیر مسلم کو قتل کیا تو آپﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:’’اپنے ذمی کا دفاع کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں۔‘‘(روایت: حضرت ابن عمرؓ)
حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ میں قبیلہ بکر بن وائل کے ایک مسلمان نے حیرہ کے ایک عیسائی کو قتل کر دیا۔ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے حوالہ کیا جائے۔ چنانچہ وہ مقتول کے وارثوں کو دے دیا گیا۔ اور انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔(مواہب الرحمن)
حضرت علی المرتضیٰؓ کے زمانہ میں ایک مسلمان ایک غیر مسلم کے قتل میں گرفتار ہوا۔ ثبوت مکمل ہونے کے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ مقتول کے بھائی نے آکر عرض کیا’’میں نے خون معاف کیا‘‘، مگر آپ مطمئن نہ ہوئے اور فرمایا ’’شاید ان لوگوں نے تجھے ڈرایا دھمکایا ہے۔ ‘‘ا س نے جواب دیا ’’نہیں مجھے خون بہا مل چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے قتل سے میرا بھائی واپس نہیں آئے گا‘‘ تب آپؓ نے قاتل کو رہا کیا اور فرمایاکہ ’’جو کوئی ہمارا ذمی ہو اس کا خون ہمارے خون کی طرح اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔‘‘ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا:’’انہوں(غیر مسلموں) نے ذمی بننا قبول ہی اس لیے کیا ہے کہ ان کے مال ہمارے مال کی طرح اور ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہو جائیں۔ اسی بناپر اگر مسلمان کسی ذمی کو بلا ارادہ قتل کرے تو اس کی دیت بھی وہی ہوگی جو مسلمان کو خطا ء ً قتل کر نے پر لازم ہوتی ہے۔‘‘(درمختار)

فوجداری قانون
تعزیرات کا قانون ذمی اور مسلمان کے لیے یکساں ہے اور اس میں دونوں کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی وہی ذمی کو بھی دی جائے گی۔ ذمی کا مال مسلمان چرا لے یا مسلمان کا ذمی چرالے ،دونوں صورتوں میں سزا ملے گی۔ ذمی کسی مرد یا عورت پر بدکاری کی تہمت لگائے یا مسلمان ایسا کرے دونوں صورتوں میں ایک ہی حد قذف جاری ہوگی۔ اسی طرح بدکاری کی سزا بھی ذمی اور مسلمان کے لیے یکساں ہے۔

دیوانی قانون
دیوانی قانون بھی ذمی اور مسلمان کے لیے یکساں ہے اور دونوں کے درمیان کامل مساوات ہے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کے ارشاد ’’اموالہم کاموالہم‘‘ کے معنی ہی یہی ہیں کہ ان کے مال کی ویسی ہی حفاظت کی جائے گی جیسی مسلمان کے اپنے مال کی ہوتی ہے اور دیوانی حقوق ہمارے اور ان کے برابر ہوں گے۔ اس مساوات کا طبعی لازمہ ہے کہ دیوانی قانون کی رو سے جتنی پابندیاں مسلمان پر عائد ہوتی ہیں وہی سب ذمی پر بھی عائد ہوںگی۔
تجارت کے جو طریقے ہمارے لیے ممنوع ہیں وہی ان کے لیے بھی ہیں۔ سود جس طرح ہمارے لیے حرام ہے ان کے لیے بھی ہے۔ البتہ ذمیوں کے لیے صرف شراب اور سور کا استثناء ہے۔ وہ شراب بنانے، پینے اور بیچنے کا حق رکھتے ہیں اور انہیں سور پالنے، کھانے اور فروخت کرنے کے بھی حقوق حاصل ہیں۔ اگر کوئی مسلمان ذمی کی شراب یا اس کے سور کو تلف کردے تو اس پر تاوان لازم آئے گا۔ درالمختار میں ہے’’مسلمان اس کی شراب اور اس کے سور کی قیمت ادا کرے گا اگر وہ اسے تلف کردے۔‘‘
(درالمختار،ج۳،ص۲۷۳)
تحفظ عزت
ذمی کو زبان یا ہاتھ پاؤں سے تکلیف پہنچانا ، اس کوگالی دینا، مارنا پیٹنا یا اس کی غیبت کرنااسی طرح ناجائز ہے جس طرح مسلمان کے حق میں یہ افعال ناجائز ہیں۔ درالمختار میں ہے’’اس کو تکلیف دینے سے باز رہنا واجب ہے اور اس کی غیبت اسی طرح حرام ہے جیسی مسلم کی غیبت حرام ہے۔‘‘
(ج۳،ص۲۷۴)
شخصی معاملات
ذمیوں کے شخصی معاملات ان کی اپنی ملت کے قانون(یعنی پرسنل لاء) کے مطابق طے کیے جائیںگے۔ اسلامی قانون ان پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے لیے شخصی معاملات میں جو کچھ ناجائز ہے وہ اگر ان کے مذہبی وقومی قانون میں جائز ہو تواسلامی عدالت ان کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح یا بلا مہر کے نکاح یا زمانہ عدت کے اندر نکاح ثانی یا محرمات کے ساتھ نکاح اگر وہ جائز رکھتے ہوں تو ان کے لیے یہ سب افعال جائز رکھے جائیں گے۔
البتہ اگر کسی مقدمہ میں فریقین خود اسلامی عدالت سے درخواست کریں کہ شریعت اسلام کے عین مطابق ان کا فیصلہ کیاجائے تو عدالت ان پر شریعت نافذ کرے گی۔ نیز اگر شخصی قانون سے تعلق رکھنے والے کسی معاملہ میں ایک فریق مسلمان ہوتو پھر فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا مثلاً کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان سے نکاح میں تھی اور اس کاشوہر مر گیا تو اس عورت کو شریعت کے مطابق پوری عدت وفات گزارنی ہوگی۔ عدت کے اندر نکاح کرے گی تو اس کا نکاح باطل ہوگا۔
مذہبی رسوم
مذہبی مراسم اور قومی شعائر کو پبلک میں اعلان واظہار کے ساتھ ادا کرنے کے متعلق اسلامی قانون یہ ہے کہ اہل الذمہ خود اپنی بستیوں میں تو ان کو پوری آزادی کے ساتھ کر سکیں گے البتہ خالص اسلامی آبادیوں میں حکومت کو اختیار ہوگا کہ انہیں اس کی آزادی دے یا ان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد کردے۔ خالص اسلامی آبادیوں سے مراد وہ مقامات ہیں جو اصطلاح شرح میں ’امصار المسلمین‘ کہلاتے ہیں۔ اس لفظ کا اطلاق صرف ان مقامات پر ہوتاہے جن کی زمین مسلمانوں کی ملکیت ہو اور جن کو مسلمانوں نے اظہار شعائر اسلام کے لیے مخصوص کر لیا ہو۔(بدائع ،ج۷،ص ۱۱۳) امصار المسلمین میں ذمیوں کی جو قدیم عبادت گاہیںہیں انہیں توڑا نہیں جا سکتا۔ وہ ٹوٹ جائیں تو انہیں اسی جگہ دوبارہ بنا لینے کا حق ہے۔ مسلمان تاجروں کی طرح ذمی تاجروں کے اموال تجارت پر بھی ٹیکس لیاجائے گا انہیں نظام تعلیم تو وہی قبول کرنا ہوگا جو ریاست پورے ملک کے لیے بنائے گی لیکن جہاں تک اسلام کی مذہبی تعلیم کا تعلق ہے اس کے پڑھنے پر وہ مجبورنہ کیے جائیں گے۔ انہیں پورا حق ہوگا کہ ملکی درس گاہوں میں یاخود اپنی مخصوص درس گاہوں میں اپنے مذہب کا مستقل انتظام کریں چند مخصوص مناصب کے سوا وہ تمام ملازمتوں میں داخل ہونے کے حق دار ہوں گے اور اس معاملہ میں ان کے ساتھ کوئی تعصب نہ برتا جائے گا۔
مخصوص مناصب سے مراد ایسے مناصب ہیں جو اسلام کے اصولی نظام میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مناصب کی فہرست کافی غوروخوض کے بعد ماہرین کی ایک جماعت بنا سکتی ہے۔ ہم ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن خدمات کا تعلق پالیسیوں کی تشکیل اور محکموں کی رہنمائی سے ہے وہ سب کلیدی اہمیت رکھنے والی خدمات ہیں اور ایک اصولی نظام میں ایسی خدمات صرف انہی لوگوں کو دی جا سکتی ہیں جو اس کے اصولوں پر اعتقاد رکھتے ہوں۔ ان کی خدمات کو مستثنیٰ کرنے کے بعد باقی تمام نظم و نسق میں بڑے بڑے عہدوں پر بھی اہل الذمہ اپنی اہلیت کے لحاظ سے مقرر کیے جاسکتے ہیں۔
معاشی کاروبار اور پیشے
صنعت وحرفت، تجارت، زراعت اور دوسرے تمام پیشوں کے دروازے غیر مسلموں کے لیے بالکل کھلے رہیں گے۔ ان میں مسلمانوں کو ایسی رعایت حاصل نہ ہوگی جو غیر مسلموں کو نہ حاصل ہو اور غیر مسلموں پر کوئی پابندی عائد نہ کی جا سکے گی جو مسلمانوں کے لیے نہ ہو۔ ہر شہری کو خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم اس کو معاشی میدان میں جدوجہد کا مساویانہ حق ہوگا۔
جنگ یرموک میں جب رومیوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں ایک زبردست فوج جمع کی تو مسلمانوں کو شام کے تمام مفتوحہ علاقوں کو چھوڑ کر ایک مرکز پر اپنی طاقت سمیٹنی پڑی تو حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنے امراء کو لکھا کہ جو کچھ جزیہ و خراج تم نے ذمیوں سے وصول کیا ہے انہیں واپس کر دو اور ان سے کہو کہ ’’اب ہم تمہاری حفاظت سے قاصر ہیں اس لیے ہم نے جو مال تمہاری حفاطت کے معاوضہ میں وصول کیا تھا اسے واپس کرتے ہیں۔‘‘ اس حکم کے مطابق تمام امراء فوج نے جمع شدہ رقوم واپس کر دیں۔ بلاذری اس موقع پر غیر مسلم رعایا کے جذبات کا حال لکھتا ہے کہ جب مسلمانوں نے حمص میں جزیہ کی رقم واپس کی تو وہاں کے باشندے نے یک زبان ہو کر کہا کہ ’’تمہاری حکومت اور انصاف پسندی ہم کو اس ظلم و ستم سے زیادہ محبوب ہے جس میں ہم مبتلا تھے۔ اب ہم ہرقل کے عامل کو اپنے شہر میں ہرگزگھسنے نہ دیں گے تا وقتیکہ لڑ کر مغلوب نہ ہو جائیں۔‘‘(فتوح البلدان،ص۱۳۷)
جانوروں کے حقوق
رسول اللہﷺ کا گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا جس کی پیٹھ اس کے پیٹ سے مل گئی تھی توآپﷺ نے فرمایا: ’’ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ان پر اچھی حالت میںسوار ہو اور اچھی حالت میںان کو چھوڑو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے جہاں ایک اونٹ بندھا ہواتھا جب اونٹ نے حضور پاکﷺ کو دیکھا تو غمناک آواز نکالی اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضور پاکﷺ اس کے قریب گئے او رشفقت سے اس کی کوہان اور دونوں کنپٹیوں پر ہاتھ پیرا تو اس کو سکون ہو گیا۔ آپﷺ نے پوچھا ’’اس اونٹ کا مالک کون ہے ،یہ اونٹ کس شخص کا ہے؟‘‘ تو ایک انصاریؓ نوجوان آیا اور اس نے کہا ’’اے اللہ کے رسولﷺ یہ اونٹ میرا ہے‘‘ آپﷺ نے فرمایا:’’کیاتواللہ سے نہیں ڈرتا، اس بے زبان جانور کے بارے میں جسے اللہ نے تیرے اختیار میں دے رکھا ہے؟ یہ اونٹ اپنے آنسوؤں اور اپنی آواز کے ذریعہ مجھ سے شکایت کر رہا تھا کہ تو اس کو بھوکا رکھتا ہے اور مسلسل کام لیتا ہے۔‘‘(ریاض الصالحین)
)پہلی قسط دسمبر2013 کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *