دنیا ہے تری منتظر روز مکافات

عالمی استعمار امریکی سربراہی میں دنیا ،خاص طور پر مسلم ممالک پر صرف سیاسی دبدبہ ہی قائم نہیں رکھناچاہتا بلکہ معاشی اور تہذیبی طور پر بھی اپنا تسلط رکھنا چاہتا ہے۔ اور اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ اسلام اور مسلمانوں کو سمجھتا ہے اسی لیے اس کی جارحیت کا اولین ہدف مسلم دنیا بنی ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ در اصل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے جو مرحلہ وار منصوبہ بندی کے ساتھ لڑ ی جا رہی ہے۔استعماری ممالک اتنی ساری کوششوں کے باوجود انسانی ضمیر اور مسلمانوں کی دینی حمیت و استقامت کو خریدنےاور دبانے میں ناکام رہے۔ اب عالمی سطح پر اس کا اظہار بھی ہو رہا ہے۔ افغانستان پر حملہ کے وقت امریکی صدر جارج بش نے اس کو صلیبی جنگ کا نام دیا تھا۔ اگرچہ عیسائیوں کے مذہبی سر براہ مسٹر پوپ نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ صلیبی جنگ نہیں ہے۔ مگر اس ننگی جارحیت کی مخالفت کے بجائے ان کی ہمدردیاں اور دعائیں مسٹر بش اور ڈک چینی جیسے ظالموں کو ہی ملتی رہیں۔ امریکی صدر نے بالواسطہ پوپ کی تردید کرتے ہوئے ان جنگی کارروائیوں کو خدائی فرمان کی تعمیل قرار دیا اور کہا کہ مجھے خدا نے القاعدہ(صدام) پر حملہ کا حکم دیا اور میں نے حملہ کر دیا۔ پھر مجھے خدا نے حکم دیا کہ میں القاعدہ(افغانستان) پر حملہ کروں تو میں نے اس پر بھی حملہ کر دیا۔ اس انداز گفتگو سے ان کی دماغی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس دریدہ بینی کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ جس پر بھی حملہ کرے گا اس کو خدا کی طرف سے سند جواز حاصل ہوگی۔ ادھر حال یہ ہے کہ امریکی ٹاور پر حملہ کی حقیقت پردۂ راز میں ہے اور امریکہ کے اندار اور باہر کروڑوں لوگ اس الزام کو درست نہیں مانتے کہ امریکی منارے (Twin Towers) ہوائی جہاز ٹکرانے سے زمین بوس ہو گئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا کے سربراہان افریشیائی ملکوں کو اپنی شکار گاہ سمجھتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ جیتنے کے بعد بھی ان کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ اپنی ’’مصنوعی جنتوں‘‘ کو(جنہیں وہ ترقی یافتہ ملک کہتے ہیں) آباد رکھنے کے لیےانہیں افریشیائی علاقوں خاص طور پر مسلم ملکوں کو لوٹنے اور برباد کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔وہ ان کے اموال اور اولاد کو اپنے لیے مباح سمجھتے ہیں۔ ا ن کی خود غرضی اور انسان دشمنی ایک جانی پہچانی حقیقت ہے۔ یہ ایک طرف انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں دوسری طرف حریف اقوام کے ساتھ جانور سے بدتر سلوک روا رکھتے ہیں۔ یہ دنیا کو اپنے معاہدات اور معیارات کا پابند بنانا چاہتے ہیں مگر خود کسی قانون اور قول و قرار کے پابند نہیں رہتے۔
امریکی استبداد کی فرد جرم انتہائی طویل اور دردناک ہے، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت اور انہیں پیشگی جارحیت کا نشانہ بنا کر جس طرح وہاں کی حکومتوں کو ہی نہیں معصوم شہریوں(معصوم بچوں، عورتوں اور بوڑھوں) کو بلک بلک کر مر جانے پر مجبور کیا گیا، اس کی مثال انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ عراق میں پانچ لاکھ بچے دوا اور غذا کے بغیر مر گئے ، تقریبا ًاتنی ہی تعداد افغانستان میں ہلاک ہو گئی اور دنیا کے تقریبا ًپچیس ممالک راست طور پر مغربی جارحیت کا شکار ہو چکے ہیں۔امریکہ ہی دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے ایٹم بم سب سے پہلے بنایا اور سب سے پہلے معصوم شہریوں پر اس کا استعمال بھی کیا۔ پہلا بم جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرایا جس میں دو لاکھ سے زائد انسان ہلاک ہو گئے اور اس سے زیادہ لوگ بے کسی اور بے چارگی کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے۔ جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود پہلے بم Little Boyکے ہیروشیما پر گرائے جانے کے ایک ہفتہ بعد دوسرا بم ناگاساکی کے شہر پر گرایا گیا جس سے کم و بیش مزیداتنا ہی نقصان نسل انسانی کو برداشت کرنا پڑا۔ اس سفاکیت کی داستان چند صفحات میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ یورپ اور امریکہ کے استعمار کی اعلانیہ مداخلت کے علاوہ خفیہ طور پر انجام دی جانے والی وحشیانہ حرکتوں کی تفصیلات مزید ہیں۔ قوموں کو باہم لڑانا، بیک وقت فریقین کو ہتھیاروں کی فراہمی، خفیہ معاہدات، نسلی و علاقائی و لسانی تعصبات بھڑکانا ، ملکوں کو سیاسی طور پر غیر مستحکم اور معاشی طور پر پس ماندہ بنانا یہ روز مرہ کا معمول ہے جسے سفارتی عیاریوں کے کاندھے پر سوار کرکے دوسرے ملکوں میں برآمد کیاجاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ فرعون ملک مصر میں جس طرح اپنی جھوٹی خدائی کادعویدار تھا، اسی طرح امریکہ اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کراپنی خدائی کا مدعی بنا ہوا ہے۔ دونوں کے الفاظ مختلف ہیں مگر مزاج مشترک ہے اور انجام بھی ۔اگر ایسا نہیں تو کیوں اس نے عراق پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اس جنگ میں جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ان کے ساتھ ہے۔ ‘‘آخر اس کا مطلب اس کے سوا اورکیا ہے کہ جسے زندہ رہنا ہے وہ ہمارے ساتھ رہے ورنہ۔۔۔
موجودہ مغربی استبداد کو دیکھتے ہوئے جس کو وہ خود بھی یک قطبی(Unipoler)دنیا کے نام سے یاد دلاتے رہتے ہیں، ہر دردمند دل میں یہ سوال اٹھا ہے کہ کیا ہمیشہ یہ ہی ہوتا رہے گا؟ کیا جمہوریت کے نام پر یوں ہی انصاف کا خون ہوتا رہے گا؟ کیا افریقہ و ایشیا کی قوموں کے حقوق یوں ہی پامال ہوتے رہیں گے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے زیر عنوان یوں ہی اسلام اور مسلمانوں کو تختہ مشق ستم بنایا جاتا رہے گا؟ کیا قیام امن او رطاقت کے توازن کی آڑ میں، کیمیائی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے جھوٹے الزام لگا کر جب چاہے کسی بھی ملک کو تاراج کیا جا سکے گا؟ بالفاظ دیگر دور حاضر کی فرعونیت یوں ہی اپنی جھوٹی خدائی کا اعلان کرتی رہے گی؟
ظاہربیں نگاہیں چاہے ان سوالوں کا کوئی امید افزا جواب تلاش نہ کر سکیں مگر جو لوگ اس حقیقت کو مانتے اور جانتے ہیں کہ یہ دنیا خود نہیں بن گئی بلکہ اس کا کوئی خالق و مالک ہے۔ یہ دنیا بنائی گئی ہے اور آپ سے آپ چل بھی نہیں رہی ہے بلکہ اٹل قانون کے تحت چل رہی ہے۔ ہر آغاز اپنے طے شدہ انجام تک پہنچتا ہے ۔عروج و زوال کے ضابطے مقرر ہیں۔ ماضی کے فرعون کو اگر یہ مہلت ملی تھی کہ وہ خدا کے بندوںکے گلے میں اپنی غلامی کا طوق ڈال سکے تو اس پر ایک ایسا دن بھی آیا تھاکہ وہ ڈوبتے ہوئے اس کی بندگی کا اقرار و اعلان کرے مگر اس کی توبہ قبول نہ ہو اور اس کی لاش نشان عبرت بنا کر آئندہ آنے والوں کے لیے محفوظ رکھ دی جائے۔ ایسے سب لوگوں کو یہ یقین بھی رہنا چاہیے کہ ہاں! ایک دین ایسا ضرور آئے گا جب انصاف اور انسانیت کے قاتلوں اور دین حق کے دشمنوں سے احتساب ہوگا۔ اور عہد حاضر کی فرعونیت اپنے انجام کو پہونچے گی۔
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظر ِ روزِ مکافا ت (علامہ اقبال)ؒ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *