دینی مدارس کا گرتا معیارِ تعلیم اسباب و علاج

مدارس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ سندھ میں عربوں کی آمد کے ساتھ ہی ہندوستان میںعربی و اسلامی تعلیم کی بنیادیں مستقل طور پر قائم ہوگئیں۔۵۸۰ھ میں شہاب الدین غوری کے ذریعے اجمیر کی فتح کے بعد کثرت سے مدارس قائم ہوئے۔یہ ہندوستان کے اولین مدارس تھے۔ ان ہی سے عوام الناس میں علم پھیلا۔
اس وقت فارغینِ مدارس ہی کتاب و سنت کا درس دیتے ، مثالی کردار پیش کرتے ، عدالتی دستاویز پڑھتے، لوگوں کی جائیداد تقسیم کرتے اور ان کے اختلافات کو حل کرتے تھے۔ وہ آج کے فارغین کی طرح صرف نکاح خواں ،میلاد، جنازہ پڑھانے والے یا دو رکعت کے امام نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ عوام کی سیاسی ، سماجی اور اقتصادی زندگی پر پوری نظر رکھتے تھے اور ان کی رہنمائی فرماتے تھے۔لیکن رفتہ رفتہ ان میں بھی زوال آتا گیا اور اپنی اہمیت کھوتے چلے گئے۔آج لاکھوں مدارس ہیں لیکن اپنے مقصد میںبہت کم کامیاب ہو رہے ہیں۔اس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سے چند خاص درج ذیل ہیں:
دین ودنیا میں تفریق: اہلِ مدارس میںتعلیم کے حوالے سے دین و دنیا کی تفریق پیدا ہو گئی اور وہ دنیاوی تعلیم کو غیر ضروری اور ضرر رساں سمجھنے لگے۔ دینی تعلیم کو لے کر جو عمل اختیار کیا گیا اس میں عبادات اور معاملات دونوں کے ساتھ ایک ہی رویہ اختیار کیا گیا اور کسی میں تبدیلی گوارہ نہیں کی گئی جب کہ معاملات کے اندر ہر زمانے اور ہر حالات میں جائز تبدیلی قبول کر لینا ضروری تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو زمانے میں ہو رہا وہ مدارس میں نہیں پڑھایا جا رہا اور جو مدارس میں پڑھایا جا رہا وہ زمانے میں نہیں ہو رہا ہے۔ایسے میں طلبہ و طالبات سے دنیا کی امامت اور رہنمائی کی توقع کیوں کر کی جاسکتی ہے؟
تقلیدی رویہ اور تنگ نظری: ہر مدرسہ اپنے مخصوص افکار و خیالات اور اجتہادات کو اپنے طلبہ وطالبات کے ذہنوں میں اس طرح سے بھر دیتا ہے کہ وہ اس سے آگے بڑھنے اور سوچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، ساتھ ہی سب کی اپنی الگ ترجیحات ، امتیازات اور لوازمات ہیں اور وہ ان کو انہیںکا مقلد بنانا چاہتے ہیں۔اسی لیے سر سیدؒ کا خیال تھا :
’’ مدارس سے فارغین کا دائرہ محدود ہوتا ہے ۔ نہ وہ آزادانہ سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز کو تنقیدی نگاہ سے پرکھ سکتے ہیں اور یہی چیز با مقصد زندگی کے لیے رکاوٹ بنتی ہے‘‘۔
دوسری چیز جو نقصان پہنچا رہی ہے وہ علماء کرام کا تقلیدی رویہ ہے۔ انہوں نے اپنے اجتہادات و تحقیقات کو وحی کا درجہ دے رکھا ہے۔اس کے خلاف وہ کچھ سننے کو تیار نہیں ہوتے۔اسی سے فکر و تحقیق اور ایجادات کا دروازہ بند ہوجاتا ہے ۔
اسلام میں کہنویت اور پاپائیت کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالی اور بندے کے درمیان کسی ثالث کی ضرورت نہیں لیکن اب علماء کرام کا احترام اس قدر حاوی ہو گیا ہے کہ بس جنت کا ٹکٹ انہیں کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی خیال کو’تقلیدیت‘ کی شکل میں علماء کرام نے بڑھاوادیا ہے ورنہ ان کو یہ اندیشہ ہے کہ جدید تعلیم کے پھیلائو سے ان کی قیادت کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ ہمارے مدارس کے ذمے داروں اور علماء کرام میں عموما نہ جانے کیوں تنگ نظری بہت ہوا کرتی ہے ۔ یہ لوگ کسی کو اپنے سے آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔مدرسہ میں رہ کر اگر کوئی طالب علم دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم جاری رکھنا چاہے تو اس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر وہ آپ کے’ من جملہ قوانین‘ کی پابندی کرتے ہوئے ایسا کر رہا ہے توآخر اس میں برائی کیا ہے؟ہاں یہ پیمانہ تب ضرور بدل جاتا ہے جب کسی ذمہ دار کا اپنا بیٹا یا بیٹی ایسا کرے۔۔۔۔
ان لوگوں کو کیتھولک عیسائیوں سے سبق لینا چاہیے جو اپنی درس گاہوںمیں جہاں مذہبی تعلیم دیتے ہیں وہیں دوسری طرف طالب علموں کو پوری چھوٹ رہتی ہے کہ وہ میڈیکل، سوشل ورک اور دوسرے جدید مضامین کی بھی تعلیم حاصل کریں ۔ اس طرح وہ ایک طرف اپنی قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور دوسری طرف انسانیت کی خدمت میں بھی حصہ لیتے ہیںاور سماج میں باعزت زندگی گزارتے ہیں۔
آپسی گروہ بندی اور انتشار:ایک چیز جس نے سب سے زیادہ مدارس کو برباد کیا ہے وہ انتظامیہ کی آپسی گروہ بندی اور انتشار ہے۔ اس سے اساتذہ بھی مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور ان کی صلاحیتیں پڑھانے کے بجائے ’جوڑ توڑاور چمچہ گیری ‘ کرنے میں لگتی ہیںاور وہ بھی عہدے یا سیاست کے دستر خوان پر ٹوٹ پڑنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔اس میں بڑے بڑے علماء کرام جن کی زبانیں اتحاداوردین ایمان کی باتیں کرنے میں نہیں تھکتی ، وہ بھی اس میں ملوث ہوتے ہیں ۔ ان سب کا اثر طلبہ و طالبات کی تعلیم پر ہوتا ہے۔
قدیم نصاب:اہلِ مدارس کے ذریعے نصاب میں تبدیلی کی بات بہت دنوں سے کی جارہی ہے ۔ اس پر توجہ بھی دی گئی ہے لیکن آج بھی بہت سے مدارس میں ماضی میں پڑھائے جانے والے مواد اور کتابوں سے اس قدر محبت کی جاتی ہے کہ وہ اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ۔
موجودہ نصاب طلبہ و طالبات میں فکری، علمی اور اجتہادی صلاحیتوں کو ابھارنے میں ناکام ہو رہا ہے۔اس نصاب سے ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جن میں مسلکی اختلافات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے ہیں ۔وہ خود کو مومن اور دوسروں کو کافر سمجھتے ہیں۔اس رویہ نے آپسی لڑائیوں کو اس قدر جنم دیا ہے کہ اپنی تباہی کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ اگر یہود و نصاریٰ اور ہنود اپنی سازشیں بند بھی کر دیں تو بھی ہم آپس میں لڑتے رہیں گے۔
ہر نصاب میں وقت کے لحاظ سے تبدیلی کی جانی چاہیے ۔ جمود سے ترقی نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جا سکتا ہے۔اگر مدارس اپنے نصاب میں نئے مضامین بھی شامل کر لیں تو اچھے اور خوش حال گھرانے کے بچے بھی تعلیم حاصل کرنے آئیں گے ورنہ عموما غریب طبقہ ہی ادھر کا رخ کرتا ہے اورشایداسی وجہ سے بعض گھرانوں کے بچوں کے بارے میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ دراصل یہ پڑھنے میں ’کمزور‘ تھا تو اس کو مدرسہ میں ڈال دیا۔کیا مدرسہ صرف کمزور بچوں کے لیے ہے؟
نصاب ایسا ہو کہ طلبہ و طالبات اپنے عہد سے با خبر رہیںاور گرد و پیش میں جو کچھ بھی سیاسی، سماجی، علمی، فکری، اقتصادی اور تکنیکی سطح پر ہو رہا ہو، انہیں اس کا علم ہو،تاکہ موجودہ دور میں پیش آنے والے مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کو متاثر کرنے والے ہوں ، نہ کہ دوسروں سے متاثر ہونے والے۔جیسا کہ عموما فارغینِ مدارس خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں جب کئی سال لگا کر دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹیوں اور کالجوں میں قدم رکھتے ہیں تو چند دن نہیں لگتے کہ پورے طور سے بدل جاتے ہیں۔لڑکوں کی داڑھی صاف اور لڑکیوں کے برقعے اتر جاتے ہیں اور شلوار جمپر کی جگہ جینس ٹی شرٹ آجاتی ہے۔ اس میں جہاں تربیت کی کمی ہے وہیں نصاب کی بھی کمی ہے۔
فرسودہ اور روایتی طریقۂ تدریس: سائنس اور ٹکنالوجی کے اس جدید دور کے باوجود مدارس میں آج بھی روایتی اور پرانے انداز میں تعلیم دی جاتی ہے۔ طلبہ و طالبات تو دور ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جن کو آج کے دور میں بھی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ یا دوسری ٹکنالوجی کا علم نہیں ہے۔ اساتذہ جن چیزوں سے چمٹے ہوئے ہیں ان کو چھوڑنے کو تیار نہیں، کیوں کہ اگر وہ وہاں سے ہٹے تو ان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔اس لیے وہ ان تبدیلیوں کو کیوں کر قبول کریں؟بقیہ رہ گیا طلبہ و طالبات کا نقصان تو ہونے دو ، آج کون اس کی پرواہ کرتا ہے۔لیکن ان سب کاواضح طور سے نفسیاتی اثر بچوں پر ہوتا ہے۔ایک مثال آپ کے سامنے ہے۔ جس کا مشاہدہ آپ لوگوں نے بھی کیا ہوگا۔
ایک ہی گھر سے دو بچے نکلتے ہیں اور ایک مدرسہ کا رخ کرتا ہے اس حال میں کہ بدن پر پرانا گندہ کپڑا ہے ، ناک بہہ رہی ہے ،ہاتھ میں میلا کچیلا بستہ ہے، رو رہا ہے اور کبھی کبھی تو ٹانگ کر زبردستی لے جایا جاتا ہے ۔وہیں اسی گھر سے دوسرا بچہ نکلتا ہے جو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھتا ہے ۔وہ صاف ستھرے کپڑوں میں، بال سلیقے سے جھڑے ہوئے، جوتے پالش کیے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ خوش خوش جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے کے دماغ میں اسکول کا ’ایک خوفناک ‘تصور بیٹھا ہوا ہے جو کہ اس کے لیے کسی جیل سے کم نہیں ہے ، جس میں روایتی استاد ،چھڑی اور سادہ سی کتاب ہے اور دوسرے کے ذہن میں اسکول ’ایک کھیل کود کی جگہ‘ جس میں دلچسپ اور رنگ برنگی کتابیں اور دوسرے کھیلوں کا تصور ہے۔
تنخواہ کا مسئلہ: موجودہ دور میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے لیکن آج بھی مدرسین کی تنخواہ عموماً چار سے چھ ہزار تک ہی ہوتی ہے۔معلمات کی تو اس سے بھی بری حالت ہے۔ بعض اسکولوں میں نصاب سے لے کر سب کچھ ایک ہونے باوجود معلمین اور معلمات کی تنخواہوں میں فرق کیا جاتا ہے جو کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ پھرآپ لاکھ عورتوں کے حقوق اور مساوات کا نعرہ بلند کرتے رہیں مگر اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کرنے سے قاصر رہیں گے اوریہ کہہ کر نہیں بچا جا سکتا کہ اچھی تنخواہ کے لیے مدرسے کے پاس بجٹ نہیں ہے۔اللہ تعالی کے فضل سے پوری قوم مدارس کی سرپرستی کر رہی ہے۔
غیر معیاری تنخواہ دینے سے دو نقصان ہوتے ہیں:
پہلا تو یہ کہ جب عموماً ارباب ِمدارس اور منتظمین عالی شان بنگلوں اور شاندار گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور باقی مدرسین کو ’غربت کے مذہبی فلسفے‘ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہیںتو اس سے دوسرے اساتذہ کرام میں بھی اس کی خواہش پیدا ہوتی ہے جو کہ فطری ہے پھر وہ بھی الگ سے اپناایک مدرسہ کھول لیتے ہیں۔
دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے پھر باصلاحیت اساتذہ اس میدان میں نہیں آتے۔اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی کہ ایسا نہیں ہے کہ با صلاحیت اساتذہ نہیں ہیں لیکن اقربا پروری اور ملوکیتی نظام آڑے آرہا ہے۔جس نے مدرسہ قائم کیا تو اب ہمیشہ کے لیے صدر اور ناظم اسی کے خاندان میں سے ہوں گے۔خواہ وہ اس کے اہل نہ ہوں۔ان سب کا نقصان طلبہ و طالبات کو اٹھانا پڑتا ہے۔
سہولیات کا فقدان: عموما لوگ مدرسہ قائم کر کے الگ ہو جاتے ہیں ۔یہ نہیں دیکھتے کہ کیسی تعلیم دی جارہی ہے ؟ مقصد حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟طلبہ و طالبات کس حال میں ہیں اور ان کو کیا سہولیات مہیا کی جارہی ہیں؟ مسجدیں اور دوسری عمارتیں عالی شان بنوائی جاتی ہیں لیکن ان کو اس بات کا خیال نہیں ہوتا کہ طلبہ وطالبات کو کھانا ڈھنگ کا ملتا ہے یا نہیں؟ رہائش ان کی مناسب ہے یا نہیں؟
طلبہ ان سے نہ تو مطالبات کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہ پوچھ سکتے ہیں کہ آخر کھانے کے لیے دو گھنٹہ لائن میں کیوں کھڑا رہنا پڑتا ہے؟اور یہ جو ہمارے نام پر چندہ جمع کر کے لایا جاتا ہے ، اس کو کہاں خرچ کیا جاتا ہے؟پھر یہی حضرات منبر پر کھڑے ہوکر حضرت عمر ؓ کے ’کرتے کی لمبائی والا‘ واقعہ پیش کرتے ہیں لیکن اس کا عملی نمونہ پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طلبہ بانیانِ مدارس ،انتظامیہ اور اساتذہ سے بد ظن ہو جاتے ہیں اور پھر عوام میں مدرسہ کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں ، جس سے امداد رک جاتی ہے اورعوام کا مدرسہ سے رشتہ منقطع ہوجاتا ہے۔اس سے نقصان ملت کا ہوتا ہے۔
اسی طرح لائبریری مدارس کی جان ہوتی ہے۔اس سے طلبہ و طالبات کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر استاد بہت اچھا نہیں بھی پڑھا رہا ہے تو وہ لائبریری کی مدد سے اس کمی کو دور کر سکتے ہیں۔اس کے باوجود بھی بہت کم مدارس میں اس پر توجہ دی جاتی ہے۔باوجود اس کے کہ وسائل کی کوئی کمی نہیں رہتی ۔
مدارس کا سرکاری گرانٹ پر ہونا: یہ بھی مدارس کی بربادی کاایک اہم سبب ہے۔ بزرگوں نے اس کو پہلے ہی سمجھ لیا تھا اسی وجہ سے ان لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا تھامگر آج بہت سے مدارس الحاق کرا رہے ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ رشوت دے رہے ہیں ۔ان مدارس میںاستاد کی تقرری کے لاکھوں روپئے رشوت میں دیئے جاتے ہیں اور اس کی آڑ اسلام کا پیغام عام کرنے کی بات کہی جاتی ہے۔ایسے ماحول میں جو طالب علم یہاں سے نکلے گا وہ کیسا ہوگا اور کیا کرے گا اس کا اندازہ ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔
آخری بات : ۱۱/۹ کے واقعہ نے مشرق و مغرب کے درمیان جو خلیج پیدا کی ہے اسے ختم کرنے کے لیے امریکی سینیٹ کی’گیارہ ستمبر‘ پر مقرر کردہ کمیٹی نے اپنی ۲۸ سفارشات میں سے ۲۴ سفارشات میں جس ’ حکمتِ عملی‘ کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا محور’’ تعلیم اور ذرائع ابلاغ‘‘ سے امتِ مسلمہ کے ذہن بلکہ روح کو تبدیل کرنا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ دستاویز تیار کی گئیں ہیں۔ پہلی دستاویز کا عنوان ہے: “Civil Democratic Islam:Partners, Resources and Strategies” جس کوCheryl Benard نے امریکہ کے مشہور’ تھنک ٹینک RAND‘کے لیے تیار کیا ہے ۔دوسری دستاویز کا عنوان ہے : “Changing Minds Winning Peace: A New Strategic Direction for U.S Public Deplomacy in the Arab and Muslim World” جسے Edward P. Dejerjianکی سربراہی میں تیار کیا گیا ہے ۔
ان دستاویز میں مسلمانوں کو چار بڑے گروہ میں تقسیم کیا گیا ہے : روایت پسند، بنیاد پرست ، سیکولر اور جدیدیت پسند ۔اس میںبنیاد پرست یعنی مدارس والوں کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے جس سے ان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے ان میں سے ’سیکولر افراد‘ کی حمایت کرنے اور انہیں وسائل فراہم کرنے اور بطور Project استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے ہماری طرف سے اس سلسلے میں کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔اگر ہم بیدار نہ ہوئے تو ان مدارس کا بھی وہی حشر ہوگا جو اسپین و غرناطہ کے مدرسوں کا ہوا ۔یہ چند حقائق ہیں جس پر قوم کے درد مند حضرات (اگر کہیں پائے جاتے ہیں )تو انہیں غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *