لوہ پرش سردارپٹیل کے مسلم دشمن خیالات

۱۔ نومبر 1945میں انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما ممبئی کے میرین ڈرائیو پر چوپاٹی کے ساحل پر پرمکھ لال مفت لال ’’ہندو‘‘ سوئمنگ پول کا افتتاح کیا۔ اس وقت سے آج تک اسی سوئنمنگ پول(تیراکی کے تالاب) کے دروازے صرف ہندؤوں کے لیے ہی کھلے ہوئے ہیں۔ کسی بھی دوسرے فرقہ کا فرد یہاں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ افتتاح کرنے والے ممتاز کانگریسی رہنما کون تھے یہ جاننے کے لیے آپ کو بھارتیہ تاریخ کا بہت بڑا پنڈت ہونا ضروری نہیں ہے یہ رہنما نام نہاد ’’مرد آہن‘‘ (Iron Man)سردار بلبھ بھائی پٹیل تھے۔
۲۔گاندھی جی نے اپنے رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے پنڈت نہرو کو پٹیل پر ترجیح دی۔ اور انہیں ا پنا جانشین بنایا۔ آخر کیوں؟ اس کا آسان جواب ہے کہ وہ نہرو میں اپنی مذہبی غیر جانبداری کا عکس دیکھتے تھے جب کہ پٹیل کے قول و فعل سے فرقہ پرستی کی بو آتی تھی۔
۳۔ مرار جی دیسائی جو 1994میں پردھان منتری بنے وہ بھی پٹیل وادی تھے۔ 29نومبر1994میں ’’بھارت کی ایکتا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں انہوں نے کہا’’ہندؤوں کی اکثریت صاف دل اور وفا دار ہے حالانکہ یہی بات مسلم اکثریت کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔‘‘
۴۔آزاد ہندوستان کے پہلے گورنرسی راج گوپال آچاریہ بہت مذہبی خیالات کے آدمی تھے۔ مگر وہ صحیح معنی میں مذہبی تھے اور لوہ پرش کی نظروں میں ’’آدھا مسلم‘‘(Half Muslim) ۔ اسی لیے مسٹر پٹیل نے اسی بات کو یقینی بنایا کہ ان سےیا کسی بھی کانگریسی نیتا سےکئی گنا قابل انسانیت نواز رہنما کو کرسئ صدارت تک نہ پہنچنے دیا جائے ۔ اسی لیے ا نکے بجائے راجندر پرساد کو بھارت کا پہلا صدر بنایا گیا۔ جو کہ ایک ڈھکے چھپے فرقہ پرست تھے۔ اس مہم میں سردار پٹیل کا رول بہت اہم رہا ہے۔
21اگست1946کو راجا جی کو پٹیل کے ذریعہ خط میں لکھا گیا:’’یہاں پر نظام بالکل ختم ہو گیا ہے۔ اور اسے بحال کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں ہے میں نے سنا ہے مارے جانے والوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ مسلم لیگ کے لیے ایک اچھا سبق رہے گا۔‘‘
اپنے کانگریسی کارکن ساتھیوں کے ساتھ پٹیل کا رویہ بھید بھاؤ سے بھرا ہوا تھا۔ مسلم کانگریسیوں کے لیے ان کے دل میں ہمیشہ شک کی کیفیت رہی ۔ ٹرانکورکے دیوان سی پی راماسوامی کے ساتھ ان کے تعلقات دوستانہ رہے ۔ اس وجہ سے کہ وہ ہندو ا حیا پرست تھے۔
یہ پٹیل ہی تھے کہ جن کے کہنے پر گاندھی جی نے نہرو سے مولانا آزادکو بھارت کی پہلی کابینہ سے دور رکھنے کو کہا تھا۔
(The collected words of Mahatama Gandhi)
6جنوری 1948کو ایک بڑے عوامی اجلاس میں پٹیل نے آزاد کی وفاداری پر سوال اٹھاتے ہوئے آر ا یس ایس اور ہندو مہا سبھا کو کانگریس میںشامل ہونے کا دعوت نامہ دیا۔ یہ سوال اٹھاناشاید جرم نہ ہو کہ کیا پٹیل محض راشٹر وادی تھے یا ہندو راشٹر وادی؟
آرایس ایس کی حمایت کرتے ہوئے اسے دیش بھگت بتایا اور مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو وفادار نہیں انہیں پاکستان جانا پڑے گا۔ جو دو کشتیوں کی سواری کرر ہے ہیں انہیں ہندوستان چھوڑنا پڑے گا۔
پارٹی میںاپنی پکڑ مضبوط بنانے کے لیے نہرو کی غیر موجودگی میں انہوں نے کانگریس عاملہ میں ایک ریزولیوشن پاس کرایا جو آر ایس ایس کے ممبروں کی کانگریس میں شمولیت کو قانونی بناتا تھا۔ یہ ایک ایسے شخص کے ذریعہ کیا گیا شرمناک کام تھا جو اپنے آپ کو سیدھا اور بے لاگ بتاتا تھا۔ یہ سب نہرو کی غیر موجودگی میں ہوا۔
یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ محترم ’’مرد آہن‘‘ اس بات کے قائل تھے کہ مسلموں کو دہلی سے کھدیڑ دیا جائے۔ وہ مسلمان جو افراتفری اور گھبراہٹ کے عالم میں پاکستان چلے گئے تھے وہ واپس نہ آنے چاہیے۔ وہ مہاجرت کے مسئلہ پر بھی سخت تھے وہ پاکستان کو وارننگ دینا چاہتے تھے کہ اگر وہاں سے مسلم مہاجرین کا بھارت آنا نہ روکا گیا تو پوربی بنگال سے اتنی ہی تعداد میںمسلمان پاکستان بھیج دیے جائیں گے۔
نہرو کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے 2ستمبر1947کو لکھا لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو دہلی اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر پر امن طور سے گھومنے کیوں دیا جا رہا ہے۔
پولیس اور سول سرویسز میں مسلم آخر کیسے موجود ہیں؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *