وینڈی کے تنازعہ میں مسلمانوں کو گھسیٹنے کی غلط سعی

اکثریتی سماج میں بہت سی باتوں کو لے کر عجیب طرح کی کشمکش پائی جاتی ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیںہے، بلکہ ماضی سے لے کر حا ل تک ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اس سے نجات پانے کے طریقے بھی عجیب ہی قسم کے نکالے گئے ہیں۔ لیکن بیماری کا یہ کوئی دیر پا علاج نہیں ہے۔ اپنی بیماری کو دور کرنے کا یہ کوئی صحت مند طریقہ نہیںہے۔کہ یا تو بیماری کے وجود سے ہی انکار کر دیا جائے یا یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ ہم تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھے مگر دوسروں نے ہمارے اندر یہ بیماریاں پھیلا دی ہیں۔ فرقہ پرست اور شدت پسند عناصر کی طرف سے اپنی کمیوں پر پردہ ڈالتےہوئے بیماری کے علاج کا ایک طریقہ یہ بھی نکالا گیا ہے کہ اس سے توجہ ہٹاتے ہوئے دوسری طرف کر دیاجائے۔ اس کا نمونہ اکثریتی سماج میں جاری روایات اور کرداروں کی ماہر امریکی مصنفہ وینڈی ڈونگر کی The Hindusپر بحث و گفتگو اور اس کی اشاعت پر روک لگانے کے جواز کے لیے غیر متعلق طور سے سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Versesاور اس کے متعلق ہندوستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے ا ختیار کردہ موقف کا حوالہ دیاجارہا ہے۔ ہم توقع کر رہے تھے کہ The Hindu: An Alternative Historyکی اشاعت پر روک لگانے کے جواز پر حوالے کے ساتھ بتایا جائے گا کہ مصنفہ نے اکثریت کے سماج میں رائج جن روایات اور کہانیوں کو بنیاد بنا کر اپنی کتاب تحریر کی ہے وہ غلط ہیں، اور ہندو سماج کی توہین و تضحیک کے لیے من گھڑت باتوں کا سہارا لیا گیا ہے، ایسا نہ کرکے غیر متعلق طور پر یا تو یہ کہا جا رہا ہے کہ مصنفہ نے کرسچن مشنری کے زیر اثر کتاب لکھی ہے یا اسلام اور مسلمانوں کے رویے کو زیر بحث لایا جاتاہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ تاکہ اصل مسئلہ پر بحث و مذاکرہ کے بجائے رخ دوسری طرف ہوجائے ، اس عمل میں یہ سوچ کارفرما ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے نظریے کے مطابق، روایات اور عظیم شخصیات کے بلند کردار اور تقدس کو پیش کیاجائے تاکہ ذہن کی پوری آمادگی، پاکیزگی اور عظمت کے تصور کے ساتھ لوگ ان کی طرف رجوع کر سکیں۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اکثریتی سماج میں مذہبی، سماجی، روایات اورعظیم شخصیات کے متعلق مطلوبہ تقدس اور عظمت کو بنائے رکھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، مثلاً وینڈی نے اپنی کتاب (ص۱۲۳۔۱۲۴) میں جس یمی کی اپنے سگے بھائی یم سے جنسی تعلق بنانے کی خواہش کی بات کہی ہے ۔اس کی کہانی رگ وید میں موجود ہے۔ اس کے ہوتے یہ کیسے کہا جاسکتاہے کہ ہندوؤں کی توہین و تضحیک کی گئی ہے۔ یہ تو اپنی بیماری اورکمزوری کو دور کرنے کے بجائے غلط طور پر دوسروں کو مجرم ٹھہرانے والی بات ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہندو اکثریت کا خدا، کائنات اور انسان اور ان کے متعلق تعلیمی و فکری رہنمائی کرنے والی شخصیات سے متعلق نظریہ مختلف ہے۔ آج کی تاریخ میں ہندو اکثریت کے کچھ لوگ اپنے دیوی، دیوتاؤں اور مقدس شخصیات کے حوالے سے جس توہین و تحقیر کی بات کر رہے ہیں، پہلے اس کا کوئی تصور نہیں تھا۔ جب کہ اسلامی تاریخ وروایات میں توہین و تحقیر کے سلسلے میں واضح احکام ہیں۔ اس واضح فرق کے تناظر میں رشدی، تسلیمہ نسرین اور وینڈی ڈونیگر کی کتابوں سے یکساں سطح پرموازنہ قطعی بے معنی ہے۔ ہمیں وینڈی کی حمایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر اسلام اور مسلمانوں کو بحث میں لایا جاتا ہے تو فرق کو واضح کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ رشدی نے جس طرح قصۂ غرانیق کے بے بنیاد حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے ،ا سکا کوئی جواز نہیں ہے۔ صحیح حوالے اور تسلیم شدہ واقعہ پر بحث کو مسلمانوں نے کبھی برا نہیں مانا ہے۔ غلط تنقید و تبصرہ کا علمی اسلوب میں جواب دیا ہے۔ قصہ غرانیق کو ثابت شدہ بات قرار دینا بے علمی اور جہالت ہے۔ جیسا کہ دیویندر سروپ نے آر ایس ایس کے ہفت روزہ ترجمان پانچ جنیہ(23فروری2014) میں تحریر کیا ہے۔ قرآن اور مستند روایات حدیث میں صحیح سند سے واقعہ غرانیق کا کوئی ذکر نہیںہے، ہمارا دیویندر سروپ اور ان کے حامیوںکو چیلنج ہے کہ پورے اسلامی ذخیرہ سے اس معنی کی کوئی روایت دکھائیں جس کا حوالہ سلمان رشدی نے دیا ہے۔ کمزور درجے کی روایت میں بھی وہ بات نہیں ہے، جس کوبنیاد بنا کر رشدی نے اپنا ناولThe Satanic Versesلکھا ہے۔ جب کہ وینڈی ڈونیگر نے جس کا اپنے بھائی سے جنسی تعلق قائم کرنے کی بات کا حوالہ دیا ہے وہ رگ وید کے متن میں پورا بیان موجو دہے۔
ہندوستان میں تین سو کے قریب رامائن لکھی گئی ہیں بہت سی رامائنوں کو ہم نہیںدیکھ سکے ہیں، اس کے متعلق رامانجن نے اپنی کتاب ’’تین سو رمائن‘‘ میں بہت کچھ لکھا ہے۔ یہ کتاب راقم السطور کے پاس ہے۔وہ اس سلسلے کے بڑے محقق تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں دیناناتھ بترا صاحب نے جذباتی اورہنگامہ خیز ماحول بنا کر دہلی یونیورسٹی سے رامانجن کی مذکورہ کتاب کو کورس سے نکلوادیا تھا جب کہ تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے رامانجن کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ مگر یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے سنگھ کے لوگوں کی دھمکی سے متاثر ہو ان کے من موافق اقدام کیا تھا۔ اس سے حوصلہ پاکر دیناناتھ بترا نے وینڈی کی کتاب The Hindusکے خلاف ہندوستانی تہذیب وروایت کے تحفظ کے نام پر محاذ کھول دیا۔ اب انہوں نے وینڈی کی دوسری کتاب on HInduismکی اشاعت روکنے کے لیے بھی ناشرکو دھمکی آمیز نوٹس دے دیا ہے۔
اصل بات تو یہ ہے کہ الگ الگ علاقو ں کے لحاظ سے بھارت کی مٹی میں مختلف قسم کی فصلیں اگتی ہیں۔ ان سے صرف مخصوص موقف اور دھرم رکھنے والے ہی متاثر ہوں یہ ضروری نہیں ہے۔(پنجاب کیسری،17فروری2014) اس کے ذکر وحوالہ کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ شاستروں اور مختلف روایات کو نظر انداز کرکے اپنے ذہن و معیار کے مطابق ہندؤوں اور ہندوتو کی توہین کا حوالہ دے کر ہنگامہ کرنا کوئی نئی بات نہیںہے۔ لیکن اس سے بات نہیں بن سکتی ہے کیونکہ وہ کتابیں ہندو اشاعتی اداروںسے بڑی تعداد میں شائع ہو کر لوگوںکے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہیں، جن میں وہ روایات اور کہانیاں درج ہیں جن کے حوالہ سے دینڈی ڈونیگر اور دوسرے لکھنے بولنے والے باتیں کرتے اور لکھتے ہیں ۔دلائل سے ان کا تجزیہ اور تنقید و تردید کے بغیر یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ ہندؤوں اور ان کے دیوی دیوتاؤں کی توہین کی جاتی ہے ۔جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں ایسا نہیںہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلم اہل علم دلائل کے ساتھ مفروضہ مبینہ کہانیوں کی تردید کر کے اصل صورت حال کو سامنے لاتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں راجپال کی کتاب’رنگیلا رسول‘ کے جواب میں مولاناثناء اللہ امرتسریؒ کی ’’مقدس رسولؐ‘‘اور رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ کے جواب میں مرحوم رفیق زکریا کی ’حضرت محمدؐ اور قرآن‘ اور ڈاکٹرماجد علی خاں کی ’’مقدس آیات‘‘ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ہر معاملہ میں اسلام اور مسلمانوں کو گھسیٹنا غلط ہے، سیدھے سیدھے اس پر بحث ہونی چاہیے کہ حوالہ صحیح ہے یا نہیں۔ اصل سوال سے گریز اور صحیح جواب سے فرار غیر ضروری طور پر اسلام اور مسلمانوں کو بحث میں گھسیٹنے کا صاف مطلب ہے کہ شدت پسند ہندوتو وادی عناصر کا کیس کمزور ہے اور وہ بات کو غلط رخ پر لے جا کر کچھ اور مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ (13/3/14انقلاب)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *