کیا ہمارے اسلاف بھی ’’انتہا پسند دہشت گرد‘‘تھے؟

شیطان کے حامیوں نے جس طرح بڑی خوبصورتی سے یہود ونصاری کی آپسی خونریز جنگ کو نصاری ۔مسلم جنگ اور کروسیڈیا صلیبی جنگوں میں بدل دیاتھا، اب کمال ِ ہنر مندی سے اسلام کے خلاف جنگ کو ہنٹنگٹن Huntingtonکے تہذیبوں کے تصادم (اسلام ومغرب )کے بجائے اسلام اور اسلام کے درمیان اعتدال پسند اور انتہا پسند اسلام کے درمیان کشمکش میں بدل دیا ہے ۔اور اسکے لئے مرکز اسلام حجاز مقدس کے مقامات مقدسہ کے فرمانرواؤں اور ان کے پڑوسی خلیجی حکمرانوں بادشاہوں کو شیشہ میں اتارا گیا ہے اور یہ اپنے اپنے طریقہ سے دنیا بھر میں اپنی فرنچائزی اداروں ،تنظیموں ،تحریکوں کو ہمنوا بنارہے ہیں ۔اسکا صاف اثر مصر اور خلیجی علاقوں میں جاری ہونے والے حالیہ حکومتی انسان دشمن ، اسلام دشمن اعلانات ہیں ۔ان اعلانات کے ذریعہ اسلام کو نظام ِ زندگی کے طور پر پیش کرنے والی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندی عائد کر کے ان سے تعاون کرنا ،کسی بھی طرح سےمدد کرنا یا رکن بننا سب جرم قرار دیا گیا ہے ۔
موجودہ حکمرانوں اور نام نہاد علماء خلیج کے آباؤ اجداد وسلف نے 1928؁َ؁ـء سے آج تک جس اخوان کو ہر جگہ مدد دی، انہیں پناہ دی اسی اخوان اور حماس کو آج یہ ناخلف دہشت گرد قرار دے رہے ہیں ۔حالانکہ اخوان نے تب سے ابتک پالیسی یا طریقۂ کار دونوں میں کوئی بڑی خلاف ِ انسانیت تبدیلی نہیںکی ہے ۔جہاد انہوں نے اسرائیلی قبضہ کے خلاف بھی کیا تھا اور حماس تو اسرائیلی نا جائز قبضہ کے خلاف مزاحمت کی علامت ہی ہے اسے بھی دہشت گرد بتا دیا گیا ہے ۔مگر اسرائیلی ،صیہونی،امریکی ، فرانسیسی ایجنٹ کھلے عام اسلام مخالف تحریکات مثلاً قادیانیت وغیرہ کی سر پرستی کر رہے ہیں اسکے خلاف یہ سب شیوخ اور شاہ اور شاہ پرست علماء گونگے ہو جاتے ہیں کیونکہ آقا کی اجازت نہیں ہے ۔
شام میں ڈیڑھ لاکھ مسلمان شہید ہو گئے ،ملک تباہ وبرباد ہو گیا، 22لاکھ لوگ اردن ،مصر ، ترکی ،عراق ،لبنان ،افریقہ میں مہاجرین کی حیثیت سے بے کسی اور بے عزتی کی زندگی گذار رہے ہیں اور یہ مسلک اعتدال کے نام نہاد چیمپئین ان کے مسئلہ کا نہ سفارتی حل تلاش کر پائے اور نہ فوجی حل ۔ پڑوس میں افریقہ کے وسطی افریقی ملک میںہزاروں مسلمان تہہ تیغ کر دئیے گئے کیا ان کے بارے میں، ان پر ظلم کرنے والوں کے بارے میں، ان کو ہتھیار دینے والوں کے بارے میں ان نام نہاد مسلک اعتدال کے حامیوں کو کوئی اطلاع نہیں ہے ؟اُن کی داد رسی اِ ن سے نہیں ہو سکتی؟اسرائیل کے خلاف ان میں سے کسی کی بھی زبان نہیں کھلتی ہاں زکوۃخیرات کی کچھ رقم ضرور بھیج دیتے ہونگے ۔ان کا مسلک اعتدال بھی بڑا عجیب ہے؛ حماس کے خلاف مصری ظالموں فرعونیوں کی مدد8ارب ڈالر سے کرتے ہیں ۔حماس پر پابندی لگواتے ہیں ۔اسرائیل کے ایجنٹ سیاحوں کے بھیس میں، امریکی یوروپی ایجنٹ N.G.O.کے کارکنان کے بھیس میں دن رات کہیں سے بھی آسکتے ہیں،مگر فلسطینی دوا کے لئے بھی مصر نہیں جا سکتا ۔یہ ہے ان شاہوں اور شاہ پرست امامانِ حرمین شریفین کا حال ۔کیا اپنے ناموں کے بھاری بھرکم القاب و آداب کے بوجھ سے اور الفاظ کی جادوگری کے ذریعہ یہ اللہ پاک کو بھی دھوکہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں؟!!
مسلک اعتدال کیا ہے؟ اگر آپ لوگوں کی مرضی جمہوریت کے پیمانہ سے ناپتے ہیں تب بھی اور اسلامی شورائیت کے پیمانہ سے ناپتے ہیں تب بھی؛ اخوان اور حماس کے قتل ِ عام کے خلاف ہر طرح کی اعانت کیا مسلک ِ اعتدال ہے ؟اگر مصر اور فلسطین کی عوام یا اہلِ الرائے اخوان اور حماس سے بیزار ہیں تو یہ شاہ مسلکِ اعتدال کا بھرم رکھتے ہوئے اپنی دیکھ ریکھ میں یا رابطۂ عالم اسلامی کی دیکھ ریکھ میں وہاں انتخابات کرالیں آج ہی معلوم ہو جائیگا کہ عوام کس کو پسند کرتی ہے؟کیا اللہ کی ربوبیت وحاکمیت کا اعلان اور اسکے قیام کی جدوجہد انتہا پسندی ہے ؟کیا اللہ کی ربوبیت ،الوہیت ،حاکمیت کا انکار ہی اعتدال پسندی ہے ؟ورنہ اخوا ن یا نام نہاد انتہا پسندوں کا جرم کیا ہے ؟کیا عدل کا قیام انتہا پسندی ہے ؟اسکی کوشش کرنا انتہا پسندی ہے ؟اپنی ماؤں بہنوں کی عزتوں کا دفاع انتہا پسندی ہے ؟فحاشیت ،عریانیت ،جوا،خمار کے خلاف ، مخلوط غیر ضروری مجالس کے خلاف آواز اٹھانا انتہا پسندی ہے ؟افسوس اور غیرت کا مقام ہے کہ قادیانیت کے مرکز حیفہ کے خلاف شاہانِ خلیج کی زبانیں گنگ ہیں مگر قادیانیت اور ہر اسلام دشمن فکر کے خلاف سینہ سپر تحریکیں آج مجرم ،انتہا پسند اور دہشت گرد ٹھہرے ۔پھر ان دہشت گردوں کو 1928؁ء سے پناہ دینے والے آج کے شاہانِ خلیج کے آبائواجداد بھی دہشت گرد تھے کہ انہوںنے دہشت گردوں کو پناہ دی ۔
پھر جہادِ افغانستان سے تعاون کرنے والے خلیجی ،سعودی شاہان بھی دہشت گرد تھے! پھر قادیانیوں کے خلاف آوازاٹھانے والے ،انگریز جابروں ،فرانسیسی غاصبوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے جدوجہد کرنے والے کالا پانی جانے والے اکابرین ِ دیوبند بھی دہشت گرد تھے !
تحریک ریشمی رومال بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی تھی! انگریزوں کے خلاف پیر ضامن شہید ؒکی شہادت ،حاجی امداداللہ مہاجر مکی کی ھجرت اور جہاد بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی تھی ۔
افسوس یہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ کے مرکز کا ایجنٖٖڈہ اور الفاظ بھی اپنے نہیں ہیں ۔آج مرکزاسلام سے ہی اسلامی عقیدہ پر خوشنمادر آمد شدہ الفاظ کی آڑمیں ضرب لگائی جارہی ہے۔اور سب کچھ اہلِ علم ،اہلِ جبہ و دستار کے کاندھے پر شاہوں کی بندوق چلا کر کیاجا رہا ہے ۔مگر ہم سب کو اس کا یقین ہونا چاہئے کہ اللہ دلوں کے بھید اور نیتوں کا حال جانتا ہے اور روزِ قیامت اسکو آشکار بھی کریگا ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *