اخوان اور حماس کے خلاف سعودی اقدامات

چند روز قبل سعودی حکومت نے اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ اس سلسلے میں 24 مارچ 2014ء کو وائس آف امریکہ نے خبر دیتے ہوئے کہا: ’سعودی عرب کی حکومت نے عرب دنیا کی سب سے منظم اور بڑی اسلام پسند جماعت ’اخوان المسلمین‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔‘ آگے چل کر خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’سعودی عرب کی حکومت عالم عرب کی منظم ترین اسلام پسند جماعت اخوان المسلمین سے بھی خائف ہے، جس کے نظریات کو عرب، خصوصاً خلیجی ممالک کے حکمران اپنے اقتدار کے لیے خطرہ گردانتے ہیں۔ اخوان المسلمین، عرب ممالک میں جمہوری طرز حکومت کے قیام کی خواہش مند ہے، جسے موروثی بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کا شکار عرب معاشروں کے عوام کی قابل ذکر تعداد کی حمایت حاصل ہے۔‘
’عرب ممالک میں 2011ء میں شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک کے بعد کئی ممالک بشمول سعودی عرب میں بھی ’اخوان المسلمین‘ کی پذیرائی اور مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سعودی حکمران خاندان تشویش میں مبتلا ہے۔ سعودی عرب کے سابق اتحادی اور مصر پر کئی عشروں تک حکومت کرنے والے مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی 2011ء میں برطرفی کے بعد عالم عرب کے اس گنجان ترین ملک میں ہونے والے تمام انتخابات میں ’اخوان المسلمین‘ نے کامیابی حاصل کرکے اقتدار سنبھالا تھا۔ تاہم اخوان کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے سے قبل ہی مصر کی فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، جس کی سعودی عرب اور اس کے اتحادی خلیجی ممالک نے بھرپور حمایت کی تھی۔‘
یاد رہے کہ قبل ازیں مصر کی فوجی حکومت نے بھی اخوان المسلمین اور فلسطین کی حریت پسند تنظیم حماس کو بھی خلاف قانون اور دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ سعودی عرب نے بھی حماس کے خلاف مصری حکومت کی طرح اقدامات کئے ہیں۔ سعودی عرب کو اپنے اقدامات میں بحرین اور متحدہ عرب امارات کی بھی حمایت حاصل ہے۔ البتہ عالم عرب میں سعودی اقدامات کی وجہ سے ایک واضح تقسیم پیدا ہوگئی ہے۔ خاص طور پر یہ تقسیم خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ چنانچہ 24 مارچ ہی کو روزنامہ جنگ نے رائٹرز کے حوالے سے یہ خبر دی کہ:
’سعودی عرب کی جانب سے مصر کی سیاسی تنظیم اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنے کے اقدام کے بعد خلیجی ممالک میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ سعودی عرب کے اس اقدام سے ان ممالک میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے، جہاں اندرونی سیاست میں اخوان المسلمین کا گہرا اثر ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے سعودی عرب کی حمایت کی جبکہ کویت نے تشویش کا اظہار اور معاملے کے حل میں ثالثی کی پیشکش کی۔‘ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کویت کی طرف سے اس نرم رویے کی وجہ اس کی پارلیمینٹ میں موجود اخوان المسلمین کا موثر گروہ ہے۔
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے خلیجی ریاست بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے پاکستان کی سرزمین پر اخوان المسلمین کے بارے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا تھا، لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ واپسی پر انھیں سعودی دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا اور انھوں نے اخوان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا اور منامہ میں اپنے بیان میں کہا کہ اخوان المسلمین ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو منامہ کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اخوانی فکر کے خلاف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے موقف کے حامی ہیں۔ ان کا یہ بیان ’ٹویٹر‘ پر شائع ہوا۔ یاد رہے کہ بحرینی عوام کے احتجاج کو کچلنے کے لیے حکمران خاندان کو سعودی فوج کی حمایت حاصل ہے۔
اخوان اور حماس کے خلاف سعودی عرب اور اس کی حامی ریاستوں کے اقدامات کے دوررس نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ دن بدن سعودی عرب سنی انقلابی تحریکوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا مرکز بنتا چلا جا رہا ہے اور اس کے لیے صرف چند مقامی شیوخ حکمرانوں اور چھوٹی چھوٹی خاندانی بادشاہتوں کی حمایت باقی رہ گئی ہے۔ اس سلسلے میں خود سعودی عرب کے زیر اثر سمجھے جانے والے ٹی وی چینل العربیہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ:
’اخوان کوئی معمولی تنظیم نہیں جو کسی ایک ملک تک محدود ہو اور اسے بیک جنبش قلم ختم کر دیا جائے۔ یہ دنیا کے 72 ممالک میں پھیلی ہوئی 10 ملین متحرک ارکان پر مشتمل عالمگیر جماعت ہے۔ یوں تمام عرب ممالک میں اس کے بڑے بڑے حامی موجود ہیں۔ عرب حکومتیں اخوان کے حامیوں کو چن چن کر ٹھکانے لگانے کی بھی کوششیں کرتی رہی ہیں، لیکن خود حکومتوں کی صفوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جنھیں آسانی سے ہٹانا ممکن نہیں۔‘
عبدالقیوم فہمید نے اپنے ایک مقالے میں ’تنازعہ کی بنیاد کہاں سے پڑی‘ کے زیر عنوان بجا طور پر لکھا ہے: ’2011ء کے اوائل میں تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور پھر شام میں اٹھنے والی بغاوت کی تحریکوں کی حمایت تو تمام خلیجی اور دوسرے ممالک کی جانب سے کی گئی، مگر جب یہ تحریکیں عرب ممالک میں ’سیاسی اسلام‘ کے حامیوں اور اخوانی فکر کے لوگوں کو اقتدار تک پہنچنے کا موجب بننے لگیں، جب تیونس میں زین العابدین کی جگہ اسلام پسند راشد الغنوشی کی تحریک ’النہضہ‘ مصر میں حسنی مبارک کے فرسودہ نظام کی جگہ اخوان المسلمین کی، حزب الحریہ والعدالۃ اور لیبیا میں کرنل قذافی کے جبر کے شکار اخوانیوں کو اقتدار ملنا شروع ہوا تو خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔‘ یہاں یہ امر لائق توجہ ہے کہ راشد الغنوشی کی النہضہ بھی اخوان المسلمین ہی کی ایک شاخ ہے۔ اسی طرح مراکش میں بھی اقتدار میں آنے والی بڑی جماعت کا تعلق بھی اخوان المسلمین سے ہے۔
یہ درست ہے کہ مختلف جگہوں پر تحریک کا رُخ موڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی طاقتیں بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، جو زیادہ نمایاں طور پر مصر میں فوجی حکومت کو برسراقتدار سامنے لانے میں نظر آیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوامی تحریک دم توڑ گئی ہے بلکہ اس تحریک کے اثرات سعودی عرب اور دیگر ملکوں میں بھی خطرے کی گھنٹی کے طور پر محسوس کیے گئے ہیں۔ مصر کی اخوان حکومت کو قطر کی حمایت حاصل تھی، لیکن موجودہ فوجی حکومت کو سعودی عرب کی امداد حاصل ہے۔ یہ امر دونوں حکومتوں کے مابین آویزش کی بنیاد بن گیا۔ لہٰذا جب سعودی عرب کے اقدام کے خلاف قطری ٹی وی الجزیرہ نے رپورٹیں دینا شروع کیں تو قطر اور سعودی عرب کے مابین تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا۔
خطے کی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین جانتے ہیں کہ سعودی عرب اس وقت کس پریشانی سے گزر رہا ہے۔ شام میں اس کی منشاء پوری نہیں ہوسکی اور شام پر فضائی حملے کا ارادہ امریکہ نے آخری مرحلے میں اس وقت منسوخ کر دیا جب اسے یقین ہوگیا کہ شام میں حکومت کی تبدیلی کے نتیجے میں انتہا پسند عناصر برسراقتدار آئیں گے، جو آخر کار خطے میں مزید انتہا پسندی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ امریکہ کے اس اقدام کی وجہ سے سعودی عرب ایک عرصے تک امریکہ سے ناراض رہا، لیکن اخوان المسلمین کے خلاف اس کے اقدامات نے عالم عرب ہی میں نہیں بلکہ اس کے باہر بھی اس کی مخالفت کے دائرے کو وسیع کر دیا ہے۔
برطانیہ میں اخوان المسلمین کے راہنما محمد غانم نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین، مصر میں فوجی حکام کی حمایت کرتے ہیں اور وہ کسی بھی طرح کی جمہوریت کے حق میں نہیں ہیں۔ انھوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسلامی بیداری کی مخالفت کیے جانے اور ان ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے اپنے شہریوں پر دباؤ اور گھٹن کا ماحول بنائے رکھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حکومتیں اپنے ملکوں میں جمہوریت، آزادی بیان اور انسانی حقوق کے احترام کی قائل نہیں ہیں۔ اسی لیے یہ حکومتیں مصر میں فوجی بغاوت کی حمایت کرتی ہیں۔ مصر میں بغاوت مخالف اتحاد کے رہنما نے بھی خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں سے کہا کہ وہ مصر کی موجودہ عبوری حکومت کے لئے جس کو فوج کی حمایت حاصل ہے، اپنی مالی اور سیاسی امداد بند کردیں۔ اس درمیان مصر میں اخوان المسلمین کی سیاسی شاخ انصاف اور آزادی پارٹی کے ایک رکن نے کہا کہ سعودی عرب کے ذریعے اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آل سعود کی حکومت کی بنیاد کمزور پڑگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود کو اپنی بادشاہت خطرے میں پڑتی نظر آرہی ہے اور اس کے لیے وہ کوشش کر رہی ہے کہ ملک کے داخلی بحران اور ملک کی صورتحال پر عوام کی جانب سے ہونے والی تنقیدوں کے پیش نظر رائے عامہ کے ذہنوں کو گمراہ کرے۔
ان سعودی اقدامات کی مخالفت کا سلسلہ عرب دنیا کے باہر بھی جاری ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں جماعت اسلامی اور ہندوستان میں جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر گروہوں کی طرف سے اخوان المسلمین کے خلاف سعودی اقدامات کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں دارالعلوم ندوۃ العلماء نے بھی سعودی عرب کے ان اقدامات کی مذمت کی ہے۔ مرکزی جماعت علماء اور آل انڈیا دینی مدارس بورڈ نے بھی سعودی عرب کے اخوان المسلمین اور حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر سخت تنقید کی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر جلال الدین عمری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اخوان المسلمین کی تحریک اسلامی بنیادوں پر استوار ہے، لہٰذا اس پر پابندی عائد کرنے سے مسلمانوں کے جذبات ضرور مجروح ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمین ایک بین الاقوامی اصلاحی تنظیم ہے اور حماس اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے والی تنظیم کا نام ہے۔ ہندوستان کے عالمی مسلم فورم کے چیئرمین مولانا عیسٰی منصوری نے بھی سعودی اقدامات کی مذمت کی ہے۔
پاکستان کے ممتاز دانشور پروفیسر شمیم اختر نے اپنے ایک حالیہ مقالے میں لکھا ہے: ’کیا سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات میں سیاسی پارٹیوں کا قیام، حق بالغ رائے دہی اور آزاد عدلیہ کا کوئی تصور ہے؟ وہ آگے چل کر مزید لکھتے ہیں: ’ان سلاطین، شیوخ و امراء اور ان کے شہزادوں کی رنگ رلیاں تو مونٹی کارلو اور لاس ویگاس کے جوا خانوں میں دیکھی جاسکتی ہیں، جب کہ ان کے محلات بیورلے ہلز میں ان کی لوٹ کھسوٹ کی غمازی کرتے ہیں۔ کیا اخوان کا کوئی راہنما یا حماس کا کوئی ادنٰی کارکن اس طرح لہو و لعب میں مبتلا رہتا ہے، جیسے یہ بگڑے ہوئے شہزادے؟‘
ان تمام حقائق کے پیش نظر یہ توقع کرنا کہ سعودی عرب کی بادشاہت اور اس کے زیر اثر دیگر چھوٹی چھوٹی بادشاہتیں اب تا دیر قائم رہیں گی، احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطٰی میں مسئلہ فقط سعودی عرب اور ایران کے مابین اختلاف کا ہے یا مسئلہ شیعہ سنی کا ہے یا پھر عرب عجم کا ہے، وہ یا تو رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے درپے ہے یا پھر حقائق سے بے خبر۔ کون نہیں جانتا کہ اخوان المسلمین اور حماس انقلابی نقطۂ نظر رکھنے والے اہل سنت کی تنظیمیں ہیں، جو عرب دنیا کے عوام میں وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ یہ تنظیمیں اور ان کے زیر اثر عوام اگر سعودی عرب کے خلاف ہیں تو مسئلہ عرب و عجم یا شیعہ سنی کا کہاں رہا؟ کہنا تو یہ چاہیے کہ عرب ہوں یا عجم، سعودی شاہی خاندان کے طرز عمل سے ہر جگہ مسلمان نالاں ہیں۔ جیسا کہ ہمارے خطے کی جماعت اسلامی کی قیادت اخوان المسلمین کے خلاف سعودی اقدامات کی مخالفت کر رہی ہے۔ یہ صورتحال اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالم اسلام میں کس طرح کی تبدیلیاں دستک دے رہی ہیں۔ ایسے میں ڈیڑھ ارب ڈالر ’تحفے‘ کے طور پر وصول کرکے ان ریاستوں سے فوجی معاہدے کرنا اور تزویراتی بندھنوں میں بندھنا کہاں کی دانش مندی ہے؟
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *