تاکہ سندرہے

مصر کا اجتماعی سزائے موت پر اڑیل رویہ
جرمنی نے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سیکڑوں لوگوں کو اجتماعی طور پر
موت کی سزا دینا جمہوری اصولوں کا مذاق بنانے جیساہے
قاہرہ(یواین آئی): مصر نے ممنوعی تنظیم اخوان المسلمین کے اراکین کو اجتماعی سزائے موت دیے جانے کے معاملہ پر دیگر ممالک کی تلخ تنقیدوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اپنے ملک کے قانونی نظام میں مداخلت قرار دیا ہے۔ مصر کے وزیر قانون نائر عثمان نے کل یہاں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم مصر کے قانونی نظام کی آزادی کی وکالت کرتے ہیں۔ اور قانونی معاملہ میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو خارج کرتے ہیں۔ چاہے یا یہ مداخلت ایک ملک کی جانب سے ہورہی ہو یا تنظیم کی طرف سے۔ یہ ہمارے لئے قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ کی مخالفت کرنے کا قانونی طریقہ ہے۔ اور جج بھی ایک انسان ہوتا ہے۔ اور وہ بھی غیر ارادتاً غلطی کر سکتا ہے۔ یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ اخوان المسلمین کے اراکین کے خلاف کسی خصوصی عدالت میں خصوصی جج کے ذریعہ سماعت نہیں کی جارہی تھی۔ بلکہ ان کے خلاف عام عدالت میں معاملہ چل رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن لوگوں کو سزا سنائی گئ ہے ان میں سے 608 لوگ سزا سنانے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔ جب یہ لوگ عدالت میں موجود ہوں گے تو ان کے خلاف معاملہ کی سماعت پھر سے کی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی اخوان المسلمین کے سربراہ اور چھ سو بیاسی اراکین کو موت کی سزا سنائے جانے کی امریکہ اور جرمنی نے سخت لہجے میں مخالفت کی تھی۔ جرمنی نے اس حکم کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے مصر کے سفیر کو طلب کیا تھا۔ جرمنی نے مصر سے ان لوگوں کو سماعت کا موقعہ دیے جانے کی گذارش کی ہے۔ جرمنی نے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں لوگوں کو اجتماعی طور پر موت کی سزا دینا جمہوری اصولوں کا مذاق بنانے جیسا ہے۔ مصر میں مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پیشِ نظر مصر کے حکام اپنے ملک کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ جرمنی نے مصر سے موت کی سزا کو رد کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔دوسری طرف امریکہ نے بھی اخوان المسلمین کے اراکین کو ایک ساتھ موت کی سزا دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہ مصر کو اس طرح کی کارروائی پر روک لگانی چاہیے۔(روزنامہ انقلاب 2مئی 2014ء)
چہ خوب! جن کو سزا سنائی جا رہی ہے وہ عدالت میں موجود ہی نہیں، ان کو دفاع کا حق بھی نہیں، صرف دو سماعتوں میں بغیر جرم کے سزا بھی سنا دی گئی اور اس کو آزاد عدالتی نظام قرار دیا جارہا ہے۔ جمہوری صدر کا تختہ پلٹنے میں ساتھ دینے والا مغرب اور ہزاروں معصوموں کے قتل کے لئے جواز پیش کرنے وال میڈیا اس واقعہ پر گھڑیالی آنسو بہاکر یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ بری الذمہ ہوگئے۔ اس کو کہتے ہیں ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی آئے چوکھا۔ مگر زمانہ بہت بے رحم صراف ہے۔ بہت جلد حالات کی رگڑ کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کردے گی۔ ان شاء اللہ (وحدت جدید)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *