قرآن کاتصورامت

اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں لفظ ’امت‘ کے بارے میں جو مختلف آیات میں تصور دیا ہے اس کو انہی آیات کی روشنی میں سمجھنا امت مسلمہ کے فریضۂ منصبی کی ادائیگی کے لیے ناگزیر ہے۔ اللہ تعالی نے اس امت کو اقوام عالم کی صدارت کا منصب ادا کیا ہے دنیا کے انسانوں کی رہنمائی کے عظیم الشان منصب پر یہ امت فائز ہے۔ پوری انسانیت کو راہ راست دکھانا، کتاب وسنت کی تعلیم دینا اس کا بنیادی نصب العین ہے۔
امت کے معنی
امت قوم کے معنی میں نہیں بلکہ ایک رسول کی آمد کے بعد اس کی دعوت جن لوگوں تک بھی پہنچے وہ سب اس کی امت ہیں اور جب تک اس رسول کی دعوت و تعلیم موجود ہے اس وقت تک وہ سبھی اس کی امت ہی قرار پائیں گے۔
اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد رہتی انسانیت تک دنیا کے سارے لوگ آپ کی امت ہیں اور چونکہ قرآن قیامت تک کے لیے محفوظ رہے گا اس لیے آپ رہتی انسانیت کے رسول اور اور ساری انسانیت آپ کی امت ہے۔
ہر امت کے لیے رسول ہے
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سورہ یونس کی آیت ۴۷ میں فرمایا ہے۔۔۔
ولکل امۃ رسول(ہر امت کے لیے ایک رسول ہے۔)
شروع میں سب ایک ہی امت تھے
اللہ تعالی نے جب سے انسانیت کو پیدا کیا ہے اللہ نے اس کو صحیح راستہ کی ہدایت دے دی اور وہ ایک مدت تک سیدھے راستہ پر قائم رہی اور ایک امت بنی رہے۔ اللہ تعالی نے اس حقیقت کو سورہ بقرہ کی آیت ۲۱۳ میں واضح کیا ہے
کان الناس امۃ واحدۃ(شروع میں سب لوگ ایک ہی امت تھے)
جب لوگ نئے نئے راستے اور طریقے نکالنے اور نئے دین اور مذہب بنانے لگے تو اللہ تعالی نے نبی اور رسولوں کو بھیجنا شروع کیا تا کہ ان کو پھر سے سیدھے، سچے راستہ، حق اور اسلام کی طرف بلائیں اور پھر سے ان کو ایک امت بنا دیں۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پر نبیوں کے واقعات کے بعد اس حقیقت کو بیان کیا ہے۔ سورۃ الانبیاء آیت ۹۲،۹۳ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون وتقطعو امرہم بینہم کل الینا راجعون
(یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔ پس تم میری ہی عبادت کرو مگر لوگوں نے اس ہدایت کے باوجود اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا پلٹنا تو سب کو ہماری ہی طرف ہے)
سورہ المومنون آیت ۵۲،۵۳ میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وان ہدہ امتکم امۃ واحدۃ و انا ربکم فاتقون فتقطعو اسرہم بینہم زبرا کل حزب بما لدیہم فرحون
(اوریہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس مجھ ہی سے تم ڈرو مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اس پر وہ شاداں وفرحاں ہے۔)
اللہ تعالی نے ان آیات میں اس حقیقت کو پوری ا نسانیت کے سامنے رکھا کہ تم سب حقیقت میں ایک ہی امت اور ایک ہی ملت اور دنیا میں جتنے نبی اور رسول بھی آئے سب ایک ہی دین لے کر آئے اور وہ اصل دین جس کی بنیادی تعلیم توحید ہے کہ صرف اللہ تعالی ہی تمام انسانوں کا خالق مالک رب اور الہٰ ہے اور اکیلے اللہ ہی کی بندگی کی جانی چاہیے۔ چونکہ سارے نبی اس ایک عقیدہ پر جمع تھے اور یہی ان کی مشترک دعوت تھی اسی لیے سارے نبی زمانہ و مقام وغیرہ کے اختلاف کے باوجود فرمایا کہ ان سب کی ایک ہی امت ہے۔ اسی بنیادی چیز سے ہٹ کر انسانیت نے اپنے دین میں بگاڑ پیدا کر دیا اور نئے نئے دین پیدا کر لیے اور ان کی نسبت الگ الگ شخصیتوں سے کر لی اور انسانیت میں ملتوں اور مذہبوں کا انبار لگانا شروع کر دیا۔
رسول کی دعوت کو جھٹلانے پر امتوں پر عذاب آیا
اللہ تعالی نے انسانیت کی اصلاح کی خاطر اور اس کو امت واحد بنائے رکھنے کے لیے بے شمار ر نبیوں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ پھر ان کو جھٹلانے کے نتیجے میں ایسی قومیں اور بستیاں ہلاک کر دی گئیں۔ اللہ تعالی نے اس حقیقت کو بھی قرآن کے مختلف مقامات پر اچھے انداز میں بیان کیا ہے:
سورہ المومنون کی آیت ۴۴ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
ثم ارسلنا رسلنا تترا کلما جاء امۃ رسولہا کذبوہ فاتبعنا بعضہم بعضا و جعلناہم احادیث فبعدا لقوم لا یومنون
(پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اسے جھٹلایا اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتی کہ ان کو بھی افسانہ ہی نبا کر چھوڑا، پھٹکار ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔)
ہر امت کی ایک مدت ہے
اللہ تعالی کی کسی امت کے ساتھ اس کے ہلاکت کا فیصلہ ایک دم نہیں کرتا ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ رسول کی دعوت کے انکار کے ساتھ فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کر دے۔ اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ وہ ہر امت کو اس کی اجتماعی حیثیت میں سوچنے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے کافی وقت دیتا ہے۔ یہ مہلت صدیوں تک دراز ہوتی ہے۔ وہ مہلت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر وہ اس میں نہیں سنبھلتی ہے تو اللہ تعالی اپنا فیصلۂ عذاب اس پر مسلط کر دیتا ہے اور پھر اس میں ایک گھڑی کی بھی تاخیر یا تقدیم نہیں ہوتی، اس حقیقت کو اللہ تعالی نے سوہ یونس کی آیت ۴۹ میں اس طرح بیان کیا ہے:
لکل امۃ اجل اذا جاء اجلہم فلا یستاخرون و لا یستقدمون
(ہر امت کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے جب یہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی)
ہر امت میں اللہ تعالی نے رسول مبعوث کیے اور ان کی دعوت کو جھٹلانے والوں کی تعداد اکثریت میں تھی۔ اللہ تعالی نے ان کی اجتماعی ہلاکت کے ساتھ آخرت میں بھی ان کے خلاف حجت کے طور پر اللہ تعالی نے ان کے برے انجام سے ڈرایا ہے۔ اللہ تعالی نے سورہ نمل کی آیت ۸۳ میں فرمایا ہے:
و یوم نحشر من کل امۃ فوجا ممن یکذب بایاتنا فہم یوزعون
(اور ذرا تصور کرو اس دن کا جب ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ مرتب کیا جائے گا)
ہر امت کے لیے اس کا رسول حشر میں اس کا گواہ ہوگا
ہر امت کا رسول اپنی دعوت کے بارے میں بھی کہ وہ اس نے اپنے رب کی طرف سے کما حقہ پہونچا دی اسکی گواہی اللہ کی عدالت میں دے گا اور آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پوری امت کی طرف سے اس بات کی شہادت دیں گے۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کو سورہ النساء کی آیت ۴۱ میں بیان کیا ہے۔
فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنا بک علی ہولاء شہیدا
(اس وقت کے بارے میں سوچو کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تم کو (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو)گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔)
ابراہیم علیہ السلام اپنے آپ میں ایک پوری امت تھے
ہر رسول اپنی امت کے تئیں پوری ذمہ داری سے کارِ دعوت انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔ قوم کے انکار کے باوجود وہ بے جگری سے لوگوں کو زندگی کا سیدھا راستہ کی طرف رہنمائی کرتے رہیں چاہے ان کی قوم ایمان نہیں لائی اور انکار کرتی اور اپنے رسول اور ان کے ماننے والے کو ستاتی رہی۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا ذکر کرتے ہوئے اکیلے آپ کی شخصیت کے بارے میں اتنی بڑی بات کہی کہ وہ اپنے آپ ہی ایک پوری ا مت تھے۔ سورہ النمل کی آیت ۱۲۰ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا
(بے شک ابراہیم اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا) اللہ کا مطیع فرمان اور یکسر اکیلے ایک انسان نے وہ کام کیا جو پری امت کے کرنے کا تھا۔ اللہ تعالی نے اسی لیے آپ کو پوری انسانیت کا امام بنا دیا۔ سورہ البقرہ آیت ۱۲۴ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
قال انی جاعلک للناس اماما
(تو ابراہیم سے کہا کہ میں تم کو پوری انسانیت کا امام بنانے والا ہوں)
امت مسلمہ سے پہلے بنی اسرائیل بھی شہادت حق کے فریضہ پر فائزتھی
اللہ تعالی نے ہر امت میں دعوت کا کام انجام دینے کے لیے رسولوں کی بعثت کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی کئی رسولوں کی امتوں کو بھی یہ فریضہ انجام دینے کی ذمہ داری عائد کی۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالی نے سب سے زیادہ تذکرہ قوم بنی اسرائیل کا کیا اور اس کے اس فریضہ کی انجام دہی کی وجہ سے ہی اللہ تعالی نے جگہ جگہ اس کی فضیلت کو قرآن مجید میں بیان کیا۔سورہ البقرہ میں تین مقامات پر اللہ تعالی فرماتا ہے:
یا بنی اسرائیل اذکرو نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العالمین
(اے بنی اسرائیل یاد کرو ہماری نعمت کو جس سے میں نے تم کو نوازا تھا اور وہ یہ کہ میں نے تم کو دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی۔)
سورہ السجدہ کی آیت ۲۴۰ میں اللہ تعالی بنی اسرائیل کے بارے میں فرماتا ہے۔
و جعلنا منہم ائمۃ یہدون بامرنا لما صبرو ا۔۔۔
(اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین لاتے رہے تو ہم نے کے اندر ایسے امام پیدا کیے جو ہمارے حکم سے ہدایت و رہنمائی کا کام کرتے تھے۔)
رہتی انسانیت تک اللہ کی مرضی بتانے کے لیے اللہ تعالی نے بے شمار نبی اور رسول بھیجے اور کئی امتوں کو بھی اس فریضہ پر مامور کیا۔ اللہ تعالی نے ان تمام پچھلی امتوں اور ان کے رسولوں کے بارے میں سورہ البقرہ کی آیت ۱۳۴ اور ۱۴۱ میں فرمایا ہے:
تلک امۃ قد خلت لہا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون
(وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤگے وہ تمہارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔)
اخیرانسانیت کے لیے فریضہ شہادت حق کے لیے امت مسلمہ وجود میں لائی گئی
اللہ تعالی نے اب رہتی انسانیت تک شہادت حق کا فریضہ انجام دینے کی ذمہ دا ری آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب اس آخری امت امت محمدیہ؛ امت مسلمہ؛ امت خیر؛ امت وسط پر ڈال دی ہے اور اس کا تذکرہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جگہ جگہ کیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے وقت جہاں اللہ کے آخری رسول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی دعا فرمائی ساتھ ہی آپ کی یہ مبارک دعا بھی ’امت مسلمہ‘ کے حق میں ہزاروں سال پہلے کی گئی۔ سورہ البقرہ کی آیت ۱۲۸ میں اللہ تعالی نے یہ دعا بیان کی ہے۔
ربنا واجعلنا مسلمین لک و من ذریتنا امۃ مسلمۃ لک و ارنا مناسکنا وتب علینا انک انت التواب الرحیم
(اے ہمارے رب ہم دونوں (حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ اسلام) کو اپنا مسلم مطیع فرمان بندہ بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا جو تیری مسلم ہو ہم کو اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔)
اللہ تعالی نے اس ’امت مسلمہ‘ کے فریضۂ شہادت حق کو سورہ حج کی آخری آیت ۷۸ میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
وجاہدو فی سبیل اللہ حق جہادہ ہو اجتبکم وماجعل علیکم فی الدین من حرج ملت ابیکم ابراہیم ہو سمکم المسلمین من قبل و فی ہذا لیکون الرسول شہیدا علیکم وتکونوا شہداء علی الناس فاقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ واعتصموا باللہ ہو مولاکم فنعم المولی ونعم النصیر
(اور اللہ کے راستے میں ایسا جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالی اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم ہو جاؤ اللہ نے اس قرآن سے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا اور اس (قرآن) میں بھی تمہارایہی نام ہے تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم تمام لوگوں پر گواہ بن جاؤ پس تم کو چاہیے کہ نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط تھام لو وہ اللہ ہی تمہارا مولی و مالک ہے کیاہی اچھا ہے وہ مولی اور مالک اور کتنا اچھا ہے وہ مددگار۔)
اللہ تعالی نے امت مسلمہ کے اس فریضہ مذہبی کی طرف مندرجہ ذیل آیات میں بھی وضاحت کی ہے۔
سورہ البقرہ آیت ۱۴۳ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونو شہدآ ءعلی الناس و یکون الرسول علیکم شہیدا (اور ٹھیک اسی طرح ہم نے تم کو ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو)
سورہ آل عمران کی آیت ۱۱۰ میں اللہ تعالی نے صاف طور پر امامت انسانیت کے مقام سے بنی اسرائیل کو معزول کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آخری امت کے سپرد کر دیا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
کنتم خیر امۃ اخرجت۔۔۔
(اب دنیا میں تم سب بہترین امت ہو جو انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے پیدا کی گئی ہو تم اچھی نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو۔)
امت مسلمہ، امت وسط اور امت خیر کی عظیم ذمہ داری کی ادائیگی ہر سطح پرہے اس لیے اللہ تعالی نے سورہ آل عمران کی آیت ۱۰۴ میں فرماتا ہے:
ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر یامرون بالمعروف وینہون عن المنکر واولئک ہم المفلحون
(تم میں سے کچھ ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور جو یہ کام کریں وہی فلاح ونجات پانے والے ہیں۔)
اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالی نے بے شمار امتوں میں اچھے اچھے بہترین انداز میں اس امت مسلمہ کو نصیحت کی ہے اور اس لیے باہم متحد ہو کر تفریق اور انتشار سے پاک ہو کر یہ کام کرنے کی ہدایت کی ہے اور بنی اسرائیل کی بد عملیوں سے بچے رہنے کی تلقین کی ہے۔ ان امتوں میں دو آیات ہمیشہ پوری امت اور امت کا ہر فرد ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھے۔
سورہ آل عمران میں آیت ۱۰۳ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا
(اور تم سب مل کر اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ اور تفرقہ میں نہ پڑو)
سورہ شوری کی آیت ۱۳ میں پانچ اولی العزم رسولوں کے حوالہ سے اللہ تعالی نے امت مسلمہ کے فریضہ منصبی کی طرف دھیان دلایا اور کہا کہ اس کی ادائیگی میں بھی آپس میں اختلاف اور تفرقہ نہیں ہونا چاہیے۔
ان اقیمواالدین ولا تتفرقوا فیہ
(اس دین(اسلام) کو قائم کرو اور اس میں پھوٹ اور تفرقہ نہ ڈالو)
اللہ تعالی کے بے شمار ارشادات کے علاوہ اللہ تعالی نے نبی آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھی بے شمار احادیث رسول میں وحدت امت کے لیے اس امت مسلمہ کو تلقین کی ہے۔ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں، اجتماعیت کے ساتھ جڑے رہیں۔ تم پر جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا فرض ہے۔ مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کے مانند ہے جس کا ایک ایک جز دوسرے جز کو تقویت دیتا ہے۔ ان سب کے ساتھ آپ نے امت کے سلسلہ میں بہترین پیشین گوئی بھی فرمائی کہ اللہ تعالی میری امت کو یعنی امت محمدیہ کو ضلالت پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے اور جو جماعت سے الگ ہوا وہ آگ میں گیا۔
اللہ تعالی نے امت مسلمہ کے فریضہ منصبی کی ادائیگی کے لیے نہایت شدت کے ساتھ تفرقہ و اختلاف سے دور رہنے کی سخت تاکید کی اوراس جرم کی سخت سزا کی وعید بھی سنائی ہے۔ سورہ الانعام آیت ۱۵۹ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
ان الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعا لست منہم فی شیئ
(بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے تو اے نبی آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔)
حضرت عائشہؓ سے آپ نے پوچھا کہ اس آیت سے مراد کون لوگ ہیں پھر آپ ہی جواب دیا کہ اس سے مراد امت مسلمہ کے درمیان تفرقہ ڈالنے والے گمراہ لوگ، بدعتی اور خواہش کے بندے ہیں اور اے عائشہؓ میں ایسے تمام لوگوں سے اعلان برات کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے الگ ہیں۔
اللہ تعالی نے تمام نبیوں، رسولوں اور اب اس آخری امت یعنی امت مسلمہ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے۔ اللہ تعالی پوری امت مسلمہ کو اپنے اس عظیم فریضہ منصبی کی ادائیگی پورے خلوص اخلاص اور اتحاد کے ساتھ پوری انسانیت کےلئے ہمیشہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ربنااتمم لنا نورنا و اغفرلنا انک علی کل شی قدیر

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *