کیا سیاست میں ہم صرف فائز فائٹنگ ہی کرتے رہیں گے؟

الیکشن قریب آتے آتے جیسے ترقی کا مکھوٹا اتار کر نفرت اور دشمنی کا اصل چہرہ اتنی جلدی سامنے آگیا ہے وہ ایک سوچی سمجھی پلاننگ کا ہی حصہ ہے کہ نفرت کا زہر پولنگ کے اتنا قریب گھولو کہ انتظامیہ کے لیے اس کے خلاف کچھ بھی کرنے کا فائدہ اور نہ کرنے کا فائدہ ان نفرت کے پرچار کوں کو ہی ملے۔ پولنگ سے عین پہلے جس طرح گائے کےگوشت کے کاروبار اور اس کے ایکسپورٹ کو مسئلہ بنایاگیا۔ پھر انتخابی منشور میں یکساں سول کوڈ اور دفعہ ۳۷۰ کو اچھالا گیا اور آخر میں رام مندر بھی آگیا۔ اس طرح سفید داڑھی، کالی داڑھی کا تال میل یوپی و پورے ملک میں اپنےبر ہم استر۔۔۔ یعنی نفرت اور افواہ بازی کی پناہ میں آگیا۔ دوسری طرح مسلمانوں کو بہکانے کے لیے آر ایس ایس کے فرنٹ کے ذمہ دار گریش جویال نے شمعون قاسمی اور صہیب قاسمی جیسے میر جعفروںکے ذریعہ مسلم دوستی کا مکھوٹا لگا کر مسلمانوں کو پولنگ سے دور رکھنے کی سازش پر عمل کر رکھا ہے۔ جب کہ اصل آر ایس ایس نے ۱۰۰ فیصد پولنگ کے لیے ہندوؤں کے اندر ٹارگیٹ مقرر کر رکھا ہے اور اس کے لیے اپنی ۴۲ ہزار شاکھاؤں اور لاکھوں ورکروں اور کروڑوں ہمدردوں کو کام پر لگا رکھا ہے۔ اسی سلسلہ میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے گجرات کے مسلمانوں کی معاشی خوشحالی، گجرات سے مسلمانوں کا بڑے پیمانہ پر حج بیت اللہ کے جانے کو بھی اپنی مسلم دوستی کے طور پر پیش کرنے کے لیے پندرہ منٹ کی دستاویزی فلم مسلم علاقوں میں دکھائی جا رہی ہے جب کہ سب جانتے ہیں کہ گجراتی ہندو ہوں یا مسلمان دونوں ہمیشہ سے ہی تجارتی مزاج اور تہذیب کے حامل رہے ہیں۔ اسلام کی ہندوستان میں آمد گجرات کے ساحل سے تاجروں اور علما کے ذریعہ ہی ہوئی۔ ظاہر ہے وہ تجارت پیشہ لوگ تھے کھیتی یا نوکری،دستکاریا صنعت کار نہیں تھے۔ اکثریت کا ذریعہ معاش تجارت ہی تھا۔ گجراتی اصل کے لوگ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ، امریکہ، افریقہ جہاں بھی وہ ہیں تجارت ہی کرتے ہیں اور ہر جگہ خوشحال اور عموماً دین دار ہوتے ہیں۔ ان کے دین کابرانڈ کچھ بھی ہو،حج اور عمرہ کرنے والوں میں ہندوستانی گجراتیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ یہ سب نریندر مودی کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے کیا؟ گجرات ہمیشہ سے ہی ہندوستان کی تمام ریاستوں میں ترقی اور آمدنی کے معاملہ میں آگے رہا ہے۔ اگرمودی یہ کہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے یہ ترقی ہوئی تو ا نہیں گزشتہ ۲۰ سالوں کے حجاج کا ریکارڈ دکھانا ہوگا کہ نریندر مودی کی حکومت سے پہلے مسلمانوں کی کتنی تعداد حج بیت اللہ کا شرف حاصل کرتی تھی۔ اور گزشتہ دس سالوں میں ان کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا، اسی طرح گجرات حکومت میں مسلمانوں کی حصہ داری کے فیصدکو بھی مودی کے احسان کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ کیا یہ صرف پچھلے دس سالوں کے درمیان ہی ہوا ہے؟ ایک طرف تو نفرت کے پریوار کا ایک حصہ مسلمانوں کا ہمدرد بن کر اچھی اچھی باتیں کرکے انہیں بے خطر کرکے پولنگ کے تئیں بے حس بنانے کی کوشش کر رہا ہے دوسری طرف نفرت پریوار کا ایک حصہ انتہائی شدید فرقہ وارانہ الیکشن مہم گھر گھر جا کر چلارہا ہے۔ امت شاہ جیسے ’سبق سکھانے‘ والے بیان دے رہے ہیں۔ ٹی وی اور اخبارات، اشتہارات کی آڑ میں مثلاً دلی پولنگ والے دن ’ٹائمس آف انڈیا‘ دہلی کی اشاعت میں مودی کے فل سائز سے لے کر پاسپورٹ سائز تک کے (۸)فوٹوگراف لگائے گئے۔
آج ۱۲؍۴؍۱۴ کے انڈین ایکسپریس میں ایڈیٹوریل کے علاوہ ایڈیٹوریل صفحہ کا بڑا مضمون خود شیکھر گپتا نے تقریبا ۲؍۳ صفحہ کا مودی کی برتری جتاتے ہوئے لکھا ہے۔ اس کے علاوہ تجزیاتی خبریں اور تحقیقی مضامین جس میں بی جے پی کو بڑھاوا دیا گیا ہے وہ الگ ہے۔ ٹی وی پر تو جیسے باڑھ آئی ہوئی ہے۔
ایسے ماحول میں امت مسلمہ کو اپنے پرانے مرض(دورزوال) کے یعنی وقتی اور ہنگامی تدابیر اختیار کرکے یا دوسروں کے بھروسہ بیٹھ کر اپنے مسائل کا حل کرانے کی مہلک اور مجرمانہ روش پر نگاہ ڈال کراس سے چھٹکارا پا لیناچاہیے۔ کیونکہ امت مسلمہ کواس ملک میںاپنی ایمانی شناخت کے ساتھ اگر رہنا ہے تو اسے آئندہ وقتوں میں انتہائی جارحانہ مذہبی؍نیشنلزم پر مبنی اکثریتی فرقہ پرستی سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ ہمارے آج کے مسلم شترمرغ دانشور جس طرح کہہ رہے ہیں کہ اس بار مسلمان متحد ہو کر۔۔۔ سیکولر امیدواروں کو Tactical Votingکے ذریعہ ہرا دیں، تو آئندہ پھر کبھی ہندتو والا چیلنج ابھر کر سامنے نہیںآئے گا۔ایسا ہم سے ۲۰۰۹ میں بھی کہا گیا تھا اور نتیجہ سامنے ہے کہ سیکولر سیٹوں نے کھلی لوٹ اور مہنگائی کے ذریعہ سب کو بیزار کر دیا اور مسلمانوں کو بھی آخری ۶ ماہ میںیاد کرکے اپنے گناہ بخشوانے کی ترکیب پر عمل کرنا پڑا۔ ان کے وزیر صاحب پوچھتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیا نہیں ملا؟ مگر یہ وزیر صاحب خود نہیں بتا سکتے کہ ۱۰ سالوں میں آخر کے ۹ ماہ قبل ہی ان کو یہ وزارت کیوں دی گئی؟ ایسے میں امت مسلمہ کیا صرف الیکشنی سیاست کے سہارے اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتی ہے۔ جب کہ دن بہ دن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پورے نظام(عدلیہ،انتظامیہ، میڈیا، سیکورٹی فورسز، خفیہ ایجنسیاں، تعلیمی ادارہ، سرمایہ دار، معاشی نظام وغیرہ) ہر جگہ مسلم دشمن ذہنیت کا نفوذ دن بہ دن بڑھتا جار ہا ہے۔ نیاتعلیم یافتہ طبقہ، نوجوان زیادہ سے زیادہ تہذیبی جارحیت اور مذہبی وطن پرستی جو کہ مسلم دشمنی کی بنیاد پر استوار کی جار ہی ہے۔ پورے یورپ اورامریکہ ہر جگہ جس طرح جارحانہ مذہبی وطن پرستی بڑھ رہی ہے اس سے ہمارا ملک بھی اچھوتا نہیں رہے گا۔ یہ توقع کرنا کہ تعلیم اور خوشحالی سے ذہنی کھلا پن اور وسعت ذہن پیدا ہوگی اسے آج کے ہندوستانی یافتہ معاشرہ کے ذہنی رجحانات خصوصاً مودی کی مقبولیت کے تناظر میں سمجھا جا سکتاہے۔ یورپ اور امریکہ سے زیادہ تعلیم کہاں ہوگی مگر ہر جگہ قدامت پسند ؍نیشنلسٹ پارٹیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ ہندوستان میں بھی جس طرح مسلم اور عیسائی نفرت کی بنیاد پر آر ایس ایس نے اپنی سماجی خلیج؍ذات پات کے نظام کو پاٹا ہے اس میں ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج اور سبق ہے۔ جس طرح دلت اور یادو، کرمی اپنے لیڈروں کو چھوڑ کر مودی کو ووٹ دے رہے ہیں اور نتیجتاً سماج میں مذہبی منافرت اور تعصب بڑھتا چلا جا رہا ہے اس مذہبی تعصب کو صرف سیکولر، ذات پات کی سیاست کی بنا پر دور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے مسلمانوں کو بڑے پیمانہ پر کم سے کم فرض کفایہ کے طور پر غیر مسلمین میں دعوت کے کام کو گنگا جمنی دعوت کے بجائے مکی مدنی کے دائرہ میں فٹ ہونے والی مقامی تہذیبی روایات والی دعوت کو عام کرنا ہوگا۔ آج ہم جتنے گروہوں اور اجتماعیتوں میں تقسیم ہو کر سیاست کر رہے ہیں اور بہت کم وقتی فائدہ ہو رہا ہے اگر اس کے ساتھ اتنی بڑی تعداد مستقل بنیادوں پر دین کی خالص دعوت کا فرض ادا کرنا شروع کر دے اور امت کے اندر دعوت کی اہمیت اور فرضیت کا مزاج پیدا ہو جائے تو یقینا ًحالات آج سے بہتر ہوں گے۔ آج غیر مسلم کا طبقہ اعلی ادنی سب ہمیں اپنا مخالف سمجھ کر دشمنی رکھتا ہے۔ مگر ہم دعوت کا کام شروع کریں گے تو مان لیں ۷۰ فیصد دشمن ہی رہیں گے مگر ۲۰فیصد غیرجانبدار یاکنارے بیٹھنے والے ہو سکتے ہیں اور ۱۰ فیصد دعوت حق کو قبول کر سکتے ہیں۔ یہ یقینی ہے کہ حالات آج سے خراب نہیں ہوںگے۔ جب ان کے اندر پھیلائی جا رہی بدگمانیوں، نفرتوں اور مسخ شدہ تاریخ کے مقابلہ دین کی حقیقی دعوت، اسلام کا معاشرتی،معاشی، نظام عدل اور انصاف سامنے آئے گا تو یقیناً ماحول میںمثبت تبدیلی آئے گی۔ جس کو کوئی میڈیا، کوئی سرمایہ دار آسانی سے پراگندہ نہیں کر سکے گا۔ اگر ہم اس ملک کو چھوڑ کرنہیںجاسکتے اور ہمیں اپنی ایمانی حیثیت بھی عزیز ہے تو اپنی نئی نسلوں تک دین کو منتقل کرنے کے ساتھ غیر مسلموں تک ان کے رب کا پیغام پہنچانے کا فریضہ بھی انجام دینا ہوگا۔ یہ ہندوستان میں امت مسلمہ کی مستقل حکمت عملی بھی ہوگی اور اللہ کی مدد کوبلانے کا اہم ذریعہ بھی ہوگا۔
اس کے ساتھ وقتی طو رپر جدید تعلیم کے محاذ پر اور خصوصاً نظام حکومت میں حصہ داری کو لے کر شرعی گنجائشوں اور حدود کو دھیان میں رکھ کر جدوجہد کرنی بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے درکار اداروں کاقیام بھی ضروری ہے جو کہ پرائمری سے لے کر اعلی ترین پیشہ وارانہ تعلیم پر مبنی ہو۔ ورنہ ہم کب تک دشمن کی انتہائی تیاریوں کے مقابلہ ہندوستان کی سیکولر روایات، گنگا جمنی تہذیب اور طبقاتی تقسیم پر بھروسہ کرکے اقتدار کے دلالوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہیں گے۔ ہم جس طبقاتی تقسیم اور ذات پات کے نظام پر بہت بھروسہ کرتے ہیں اس کے ٹھیکیدار لالو، کروناندھی، کاشی رام، شردیادو، پاسوان، ملائم، بہن جی اقتدار میں آکر کس طرح خود مسلمانوں کوبلیک میل کرنے لگ جاتے ہیں وہ ہم روزانہ دیکھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خود مسلمانوں میں طبقاتی کشمکش کو اشرف اور ارذل کے نام پر ہوا دینے سے نہیں چوکتے۔ ایسے میں ہم ان پر مکمل بھروسہ کیسے کر سکتے ہیں جب تک ہماری کوئی خود اپنی مکمل اورجامع پلانگ نہ ہو۔ کیا اس کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا ہے؟؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *